মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৪৯ টি
হাদীস নং: ২৭১৩১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٢) حضرت داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری سے پوچھا : کہ میں نے سال میں اپنی بیوی کے لیے بیس درہم کی خوشبو خریدی کیا یہ اسراف ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ اسراف نہیں ہے۔
(۲۷۱۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَن حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَن دَاوُد قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : أَشْتَرِی لامْرَأَتِی فِی السَّنَۃِ طِیبًا بِعِشْرِینَ دِرْہَمًا أَسَرَفٌ ہَذَا ؟ قَالَ : لَیْسَ ہَذَا بِسَرَفٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٣) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا : جو چاہو پہنو اور جو چاہو کھاؤ۔ لیکن دو عادتوں سے بچنا ایک فضول خرچی اور دوسری فخر۔
(۲۷۱۳۳) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنَ مَیْسَرَۃَ ، عَن طَاوُوس ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : الْبَسْ مَا شِئْت وَکُلْ مَا شِئْت مَا أَخْطَأَتْک خِلَّتَانِ : سَرَفٌ ، أَوْ مَخِیلَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٤) حضرت محمد بن سوقہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر سے کسی آدمی نے مال ضائع کرنے کے متعلق پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : مال ضائع کرنا یہ ہے کہ اللہ رب العزت تجھے رزق عطا کریں اور تم اس کو ان کاموں میں خرچ کرو جو اللہ نے تم پر حرام کیے ہیں۔
(۲۷۱۳۴) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ ، عَن سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : سَأَلَہُ رَجُلٌ ، عَنْ إضَاعَۃِ الْمَالِ ، قَالَ : أَنْ یَرْزُقَک اللَّہُ رِزْقًا فَتُنْفِقُہُ فِیمَا حَرَّمَ عَلَیْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٥) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : خرچ کرو، اس کا بدل تمہیں مل جائے گا۔
(۲۷۱۳۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ الْعَوَّامِ قَالَ : قَالَ کَعْبٌ : أَنْفِقُوا لِخَلْفٍ یَأْتِیکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٦) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے میانہ روی کی وہ محتاج نہیں ہوا۔
(۲۷۱۳۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَن سُکَیْنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنِ الْہَجَرِیِّ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ۔ (احمد ۴۴۷۔ طبرانی ۱۰۱۱۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٧) حضرت یوسف فرماتے ہیں کہ حضرت ابو السریہ بن حسن نے ارشاد فرمایا : کھانے میں اسراف نہیں ہے۔
(۲۷۱۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَن یُوسُفَ ، عَنْ أَبِی السَّرِیَّۃِ بن الْحَسَنِ قَالَ : لَیْسَ فِی الطَّعَامِ إسْرَافٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضول خرچی کا بیان
(٢٧١٣٨) حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ جو ہم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے ہیں اس کی کیا حیثیت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مال تم اپنے گھر والوں پر بغیر اسراف اور بغیر کنجوسی کے خرچ کرتے ہو وہ اللہ کے راستہ میں شمار ہوتا ہے۔
(۲۷۱۳۸) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَن زِیَادٍ مَوْلَی مُصْعَبٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَأَلُوہُ : مَا نَفَقَتنَا عَلَی أَہْلِینَا ؟ فَقَالَ : مَا أَنْفَقْتُمْ عَلَی أَہْلِیکُمْ فِی غَیْرِ إسْرَافٍ ، وَلاَ تَقْتِیرٍ ، فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللہِ۔ (بیہقی ۶۵۵۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٣٩) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لالچ کرنے سے بچو : کیونکہ لالچ نے پہلے لوگوں کو قطع رحمی پر ابھارا انھوں نے قطع رحمی کی، بخل پر ابھارا انھوں نے بخل کیا اور بےحیائی پر ابھارا انھوں نے بےحیائی کی۔
(۲۷۱۳۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَن شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إیَّاکُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّہُ أَہْلَکَ مَنْ قَبْلَکُمْ أَمَرَہُمْ بِالْقَطِیعَۃِ فَقَطَعُوا ، وَبِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا ، وَبِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا۔ (ابوداؤد ۱۶۹۵۔ احمد ۱۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৩৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٠) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بخل اور ایمان کسی مسلمان آدمی کے اندر جمع نہیں ہوسکتے۔
(۲۷۱۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَن صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ ، عَن حُصَیْنِ بْنِ اللَّجْلاَجِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِیمَانُ فِی جَوْفِ رَجُلِ مُسْلِمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا؛ آدمی میں پائی جانے والی بری عادت : حد سے زیادہ کنجوسی اور دل دہلا دینے والی بزدلی ہے۔
(۲۷۱۴۱) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَن مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : شَرُّ مَا فِی الرَّجُلِ شُحٌّ ہَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ۔
(ابوداؤد ۲۵۰۳۔ احمد ۳۰۲)
(ابوداؤد ۲۵۰۳۔ احمد ۳۰۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٢) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تجھے اتنا اور اتنا مال عطا کروں گا۔ راوی کہتے ہیں۔ میں حضرت ابوبکر کے پاس آیا۔ اور میں نے کہا : آپ مجھ سے بخل کر رہے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : کون سی بیماری ہے جو بخل سے زیادہ خطرناک ہے ؟ تم نے مجھ سے ایک مرتبہ بھی نہیں مانگا مگر یہ کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں تمہیں عطا کر دوں گا۔
(۲۷۱۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ قَدْ جَائَ مَالُ الْبَحْرَیْنِ لَقَدْ أَعْطَیْتُک کَذَا وَکَذَا فَأَتَیْت أَبَا بَکْرٍ فَقُلْت : تَبْخَلُ عَنی ، قَالَ : وَأَیُّ دَائٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ؟ مَا سَأَلْتِی مِنْ مَرَّۃٍ إلاَّ وَأَنَا أُرِیدُ أَنْ أُعْطِیَک۔ (بخاری ۲۵۹۸۔ مسلم ۱۸۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٣) حضرت اسود بن ھلال فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں آ کر کہنے لگا : مجھے ڈر ہے کہ میں قرآن مجید کی اس آیت { وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ } کا مصداق نہیں بن پاؤں گا کیونکہ مجھ میں چیزوں کو خرچ کرنے کی طاقت نہیں بلکہ روکنے کی طاقت ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ بخل ہے اور بخل بدترین چیز ہے۔
(۲۷۱۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی عَبْدِ اللہِ فَقَالَ : خَشِیَتْ أَنْ تُصِیبَنِی ہَذِہِ الآیَۃُ {وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ} الآیَۃَ ، مَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أُعْطِیَ شَیْئًا أُطِیقُ مَنْعَہُ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ : ذَاکَ الْبُخْلُ ، وَبِئْسَ الشَّیْئُ الْبُخْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٤) حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ رب العزت کا ان پر غصہ ہوگا : بخیل شخص، احسان جتانے والا اور تکبر کرنے والا۔
(۲۷۱۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن کَہْمَسٍ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنِ ابْنِ الأَحْمَسِ قَالَ : قلْت لأَبِی ذَرٍّ : حَدِیثٌ بَلَغَنِی عَنک تُحَدِّثُہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ مِنْہُ وَقُلْتہ ، فَذَکَرَ ثَلاَثَۃً یَشْنَؤُہُمُ اللَّہُ : الْبَخِیلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُخْتَالُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٥) حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا مانگا کرتے تھے : ترجمہ؛ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل کرنے سے۔
(۲۷۱۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَن زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٦) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخل سے پناہ مانگتے تھے۔
(۲۷۱۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَن عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٧) حضرت عمر سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۲۷۱۴۷) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، عَن عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٨) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
(۲۷۱۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَن ہِشَامَ، عَن قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٤٩) حضرت طلحہ بن عبید اللہ بن کریز فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یقیناً اللہ رب العزت فیاض ہیں اور فیاضی کو پسند کرتے ہیں اور بلند اخلاق کو پسند کرتے ہیں اور اخلاق کی گراوٹ کو ناپسند کرتے ہیں۔
(۲۷۱۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عن حجاج ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ ، عَن طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ کَرِیزٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إنَّ اللَّہَ جَوَادٌ یُحِبُّ الْجُود، وَیُحِبُّ مَعَالِیَ الأَخْلاَقِ وَیَکْرَہُ سَفْسَافَہَا۔
(عبدالرزاق ۲۰۱۵۰۔ حاکم ۶۲۸)
(عبدالرزاق ۲۰۱۵۰۔ حاکم ۶۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৪৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥٠) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت سعد بن عبادہ کی طرف سے ایک پیالہ ملا تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہی گھومتا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی دعا میں یوں فرماتے تھے : اے اللہ ! مجھے مال عطاء فرما : اس لیے کہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا جاسکتا مگر مال سے۔
(۲۷۱۵۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَن یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ قَالَ : کَانَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ جَفْنَۃٌ تَدُورُ مَعَہُ حَیْثُمَا دَارَ مِنْ نِسَائِہِ ، وَکَانَ یَقُولُ فِی دُعَائِہِ : اللَّہُمَّ ارْزُقْنِی مَالاً فَإِنَّہُ لاَ یُصْلِحُ الْفِعَالَ إلاَّ الْمَالُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৫০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥١) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ دعا فرمایا کرتے تھے : ترجمہ : اے اللہ ! تو مجھے شکر کی توفیق عطا فرما اور عزت و بزرگی عطا فرما اور عزت و بزرگی حاصل نہیں ہوتی مگر کسی کارنامہ کی وجہ سے اور کارنامہ نہیں ہوتا مگر مال کے ذریعہ ۔ اے اللہ ! تھوڑا مال مجھے نفع نہیں پہنچا سکتا اور نہ میں اس پر مصالحت کرتا ہوں۔
(۲۷۱۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ کَانَ یَدْعُو اللَّہُمَّ ہَبْ لِی حَمْدًا وَہَبْ لِی مَجْدًا ، ولاَ مَجْدَ إلاَّ بِفِعَالٍ ، وَلاَ فِعَالَ إلاَّ بِمَالٍ ، اللَّہُمَّ لاَ یُصْلِحُنِی الْقَلِیلُ ، وَلاَ أَصْلُحُ عَلَیْہِ۔
(ابن سعد ۶۱۴۔ حاکم ۲۵۳)
(ابن سعد ۶۱۴۔ حاکم ۲۵۳)
তাহকীক: