মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৪৯ টি

হাদীস নং: ২৭১৫১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥٢) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن عبادہ کو پایا کہ وہ اپنے بلند مکان پر یوں ندا لگا رہے تھے : جو شخص چربی اور گوشت کو محبوب رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ سعد بن عبادہ کے پاس آجائے۔ راوی فرماتے ہیں : پھر اس کے بعد میں نے ان کے بیٹے کو یہ ندا لگاتے ہوئے پایا۔ اور میں زمانہ جوانی میں مدینہ کے راستہ میں چل رہا تھا کہ مجھ پر حضرت عبداللہ بن عمر کا گزر ہوا جو جنگل میں اپنی زمین کی طرف جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : اے جوان ! ذرا دیکھو کہ کوئی سعد بن عبادہ کے بلند گھر میں ندا لگا رہا ہے ؟ میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم نے سچ کہا۔
(۲۷۱۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَدْرَکْت سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ وَہُوَ یُنَادِی عَلَی أُطُمِہِ : مَنْ أَحَبَّ شَحْمًا ، ولَحْمًا فَلْیَأْتِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ ، ثُمَّ أَدْرَکْت ابْنَہُ بَعْدَ ذَلِکَ یَدْعُو بِہِ ، وَلَقَدْ کُنْت أَمْشِی فِی طَرِیقِ الْمَدِینَۃِ وَأَنَا شَابٌّ فَمَرَّ عَلَیَّ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ مُنْطَلِقًا إلَی أَرْضِہِ بالغابۃ ، فَقَالَ : یَا فَتَی ، انْظُرْ ہَلْ تَرَی عَلَی أُطُمِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ أَحَدًا یُنَادِی ، فَنَظَرْت فَقُلْت : لاَ ، فَقَالَ : صَدَقْت۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥٣) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ تو آپ روزانہ اونٹ ذبح کرتے تھے یہاں تک کہ آپ مدینہ کے قریب حرار مقام تک پہنچ گئے۔
(۲۷۱۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ قَیْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ارْتَحَلَ نَحْوَ الْمَدِینَۃِ وَمَعَہُ أَصْحَابٌ ، فَجَعَلَ یَنْحَرُ کُلَّ یَوْمٍ جَزُورًا حَتَّی بَلَغَ صِرَارَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥٤) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ جب شام ہوجاتی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اصحابِ صفہ کو صحابہ کے درمیان تقسیم فرما دیتے۔ پھر ایک صحابی ایک کو لے جاتے اور ایک صحابی دو لوگوں کو لے جاتے اور ایک صحابی تین لوگوں کو لے جاتے ۔ یہاں تک کہ آپ نے دس کا ذکر کیا۔ اور فرمایا : حضرت سعد بن عبادہ ہر رات کو ان میں سے آٹھ لوگوں کو لے کر لوٹتے اور ان کو رات کا کھانا کھلاتے۔
(۲۷۱۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا أَمْسَی قَسَمَ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ بَیْنَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَکَانَ الرَّجُلُ یَذْہَبُ بِالرَّجُلِ ، وَالرَّجُلُ بِالرَّجُلَیْنِ ، وَالرَّجُلُ بِالثَّلاَثَۃِ حَتَّی ذَکَرَ عَشَرَۃً ، قَالَ : وَکَانَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ یَرْجِعُ إلَی أَہْلِہِ کل لیلۃ بِثَمَانِینَ منہم یُعَشِّیہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض تھے۔
(۲۷۱۵۵) حَدَّثَنَا یَعْلَی ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ مِنَ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (بخار ی۳۲۲۰۔ احمد ۲۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان روایات کا بیان جو بخل کے بارے میں ذکر کی گئیں
(٢٧١٥٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں خیر کے اعتبار سے سب سے زیادہ فیاض تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سخاوت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب سے حضرت جبرائیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرتے تھے۔
(۲۷۱۵۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَیْرِ ، وَکَانَ أَجْوَدَ مَا یَکُونُ حِینَ یَلْقَاہُ جِبْرِیلُ۔

(بخاری ۱۹۰۲۔ مسلم ۱۸۰۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کا بیان
(٢٧١٥٧) حضرت سلمہ بن ابو یحییٰ انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک کو لکڑی کے ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔
(۲۷۱۵۷) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی، عَن سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی یَحْیَی الأَنْصَارِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَجْلِسُ إلَی سَارِیَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کا بیان
(٢٧١٥٨) حضرت مختار بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد کو لکڑی کے ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔
(۲۷۱۵۸) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : رَأَیْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَجْلِسُ إلَی سَارِیَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کا بیان
(٢٧١٥٩) حضرت ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع بن جبیر کو لکڑی کے ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔
(۲۷۱۵۹) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَن ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : رَأَیْتُ نَافِعَ بْنَ جُبَیْرٍ یَجْلِسُ إلَی سَارِیَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھنے کا بیان
(٢٧١٦٠) حضرت خالد بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید اللہ بن عبداللہ کو لکڑی کے ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔
(۲۷۱۶۰) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَن خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ قَالَ : رَأَیْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ یَجْلِسُ إلَی سَارِیَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو ستون سے ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتے تھے
(٢٧١٦١) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ستون سے ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتے تھے۔
(۲۷۱۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ : کَانَ إبْرَاہِیمُ لاَ یَجْلِسُ إلَی أُسْطُوَانَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو ستون سے ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتے تھے
(٢٧١٦٢) حضرت خالد بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا۔
(۲۷۱۶۲) حَدَّثَنَا مَعَن ، عَن خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ قَالَ : لَمْ أَرَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ یَجْلِسُ إلَی سَارِیَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستارے کے پیچھے اپنی نظریں لگانے کا بیان
(٢٧١٦٣) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ انصاری ہمارے مہمان بنے۔ اتنے میں ایک ستارہ ٹوٹ گیا تو ہم اسے دیکھنے لگے تو آپ نے ہمیں اس سے منع فرمایا۔
(۲۷۱۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : نَزَلَ عَلَیْنَا أَبُو قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ ، فَانْقَضَّ کَوْکَبٌ ، فَأَتْبَعْناہُ أَبْصَارَنَا ، فَنَہَانَا عَن ذَلِکَ۔ (احمد ۲۹۹۔ حاکم ۲۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستارے کے پیچھے اپنی نظریں لگانے کا بیان
(٢٧١٦٤) حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ جب ستارہ کو مارا جائے تو آدمی اس کے پیچھے اپنی نظر دوڑائے۔
(۲۷۱۶۴) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یُتْبَعَ الرَّجُلُ بَصَرَہُ الْکَوْکَبَ إذَا رمی بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستارے کے پیچھے اپنی نظریں لگانے کا بیان
(٢٧١٦٥) حضرت عبداللہ بن حارث سے بھی حضرت ابو قتادہ کا وہ ارشاد جو حضرت عاصم سے نقل کیا، منقول ہے۔
(۲۷۱۶۵) حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ ، عَن سُفْیَانَ ، عَن ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ مِثْلُ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَاصِمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستارے کے پیچھے اپنی نظریں لگانے کا بیان
(٢٧١٦٦) حضرت علی جب ٹوٹتا ہوا ستارہ دیکھتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! تو اس کو درست فرما اور اس کے ذریعہ درستگی فرما اور ہمیں بچا اس چیز کے شر سے جس کے یہ پیچھے ہے۔
(۲۷۱۶۶) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَقِیلٍ قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ عَلِیٍّ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ کَانَ إذَا رَأَی الْکَوْکَبَ مُنْقَضًّا قَالَ : اللَّہُمَّ صَوِّبْہُ وَأَصِبْ بِہِ ، وَقِنَا شَرَّ مَا یَتْبَعُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مکروہ سمجھے کسی چیز کے متعلق یوں کہنا۔ کوئی چیز نہیں
(٢٧١٦٧) حضرت غیلان بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت مطرف نے ارشاد فرمایا : تم میں کوئی ہرگز دو مرتبہ جھوٹ مت بولے کہ وہ کسی چیز کے متعلق یوں کہے : کوئی چیز نہیں، وہ کوئی چیز نہیں۔
(۲۷۱۶۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَن خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، عَن غَیْلاَنَ بْنِ جَرِیرٍ ، عَن مُطَرِّفٍ قَالَ : لاَ یَکْذِبَن أَحَدُکُمْ مَرَّتَیْنِ ، یَقُولُ لِلشَیْئٍ : لاَ شَیْئَ ، لَیْسَ بِشَیْئٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے بارے میں جس سے علم حاصل کیا جاتا ہے
(٢٧١٦٨) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن سیرین فرمایا کرتے تھے۔ یقیناً یہ علم دین ہے تم غور کرلیا کرو کہ تم اس کو کس سے حاصل کر رہے ہو۔
(۲۷۱۶۸) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَن مُحَمَّدٍ قَالَ : کَانَ یَقُولُ : إنَّ ہَذَا الْعِلْمَ دِینٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَہُ۔ (دارمی ۴۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مکروہ سمجھے یوں کہنے کو : گھر میں کوئی نہیں ہے
(٢٧١٦٩) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم مکروہ سمجھتے تھے یوں کہنے کو کہ گھر میں کوئی نہیں ہے اور فرماتے کہ : یوں کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ گھر میں کوئی شخص بھی موجود نہیں ہے۔
(۲۷۱۶۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَن مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ یَکْرَہ أَنْ یَقُولُ : لَیْسَ فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ ، وَلاَ بَأْسَ أَنْ یَقُولَ : لَیْسَ فِی الْبَیْتِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث کودوبارہ دہرانے کا بیان
(٢٧١٧٠) حضرت ایوب فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت سعید بن جبیر نے ہمیں حدیث بیان کی۔ میں نے کھڑے ہو کر آپ سے عرض کیا : آپ اس کو دوبارہ دہرا دیں۔ آپ نے فرمایا : میں ہر وقت دودھ دوھ کر پی نہیں سکتا۔
(۲۷۱۷۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ قَالَ : أَیُّوبُ قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ ذَاتَ یَوْمٍ حَدِیثًا فَقُمْت إلَیْہِ فَقُلْت : أَعِدْہُ ، فَقَالَ : إِنِّی مَا کُلُّ سَاعَۃٍ أَحْلِبُ فَأَشْرَبُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث کودوبارہ دہرانے کا بیان
(٢٧١٧١) حضرت عبد الجبار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن شھاب کو یوں فرماتے ہوئے سنا : حدیث کو دہرانا پتھروں کے اٹھانے سے زیادہ سخت ہے۔
(۲۷۱۷۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : تَرْدَادُ الْحَدِیثِ أَشَدُّ مِنْ نَقْلِ الْحِجَارَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: