মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৩০ টি

হাদীস নং: ৩২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے اور اونٹ کے جوٹھے سے وضو کرنے کا بیان
(٣٢١) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر گھوڑے کے جو ٹھے میں کوئی خرابی نہیں سمجھتے تھے۔
(۳۲۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، وَعُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِسُؤْرِ الْفَرَسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے اور اونٹ کے جوٹھے سے وضو کرنے کا بیان
(٣٢٢) حضرت اشعث کہتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین گھوڑے کے جو ٹھے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۳۲۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّہُمَا لَمْ یَرَیَا بَأْسًا بِسُؤْرِ الْفَرَسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے اور اونٹ کے جوٹھے سے وضو کرنے کا بیان
(٣٢٣) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ جانور جس کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کے جو ٹھے سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۳۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کُلُّ دَابَّۃٍ أُکِلَ لَحْمُہَا فَلاَ بَأْسَ بِالْوُضُوئِ مِنْ سُؤْرِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑے اور اونٹ کے جوٹھے سے وضو کرنے کا بیان
(٣٢٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اونٹ، گائے اور بکری کے جو ٹھے میں کوئی حرج نہیں۔
(۳۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِسُؤْرِ الْبَعِیرِ وَالْبَقَرَۃِ وَالشَّاۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغی کے جوٹھے سے وضو کرنے کا بیان
(٣٢٥) حضرت حسن اس برتن سے وضو کے بارے میں جس سے مرغی نے پیا ہو، فرمایا کرتے تھے کہ اس پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے۔
(۳۲۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَنْصَارِیُّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الدَّجَاجَۃِ تَشْرَبُ مِنَ الإِنَائِ : یُکْرَہُ أَنْ یُتَوَضَّأَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٢٦) حضرت ابو قلابہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ بلی کے لیے برتن کو جھکا دیتے اور وہ اس سے پانی پیتی پھر آپ اسی پانی سے وضو فرما لیتے اور ارشاد فرماتے ” یہ تو گھر کا سامان ہے۔ “
(۳۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : کَانَ أَبُو قَتَادَۃَ یُدْنِی الإِنَائَ مِنَ السِّنَّوْرِ فَیَلَغُ فِیہِ ، فَیَتَوَضَّأُ بِسُؤْرِہِ وَیَقُولُ : إنَّمَا ہُوَ مِنْ مَتَاعِ الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٢٧) حضرت ابو قتادہ کی بہو حضرت کبشہ بنت کعب فرماتی ہیں کہ وہ حضرت ابو قتادہ کے لیے وضو کا پانی ڈال رہی تھیں کہ اتنے میں ایک بلی آئی وہ پیاسی تھی، چنانچہ حضرت ابو قتادہ نے برتن اس بلی کے لیے جھکا دیا۔ میں اس منظر کو تعجب سے دیکھنے لگی تو انھوں نے فرمایا ” بیٹی تعجب کیوں کر رہی ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے یہ تو تمہارے گھروں میں چکر لگانے والا جانور ہے۔
(۳۲۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الأَنْصَارِیُّ ، عَنْ حُمَیْدَۃَ ابْنَۃِ عُبَیْدِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ کَبْشَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ ، وَکَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِی قَتَادَۃَ ؛ أَنَّہَا صَبَّتْ لأَبِی قَتَادَۃَ مَائً یَتَوَضَّأُ بِہِ ، فَجَائَتْ ہِرَّۃٌ تَشْرَبُ ، فَأَصْغَی لَہَا الإِنَائَ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ! فَقَالَ : یَا ابْنَۃَ أَخِی أَتَعْجَبِینَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ ، ہِیَ مِنَ الطَّوَّافِینَ عَلَیْکُمْ، أَوْ : مِنَ الطَّوَّافَاتِ۔ (احمد ۵/۳۰۹۔ ابن ماجہ ۳۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٢٨) حضرت ابن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو وائل سے بلی کے جو ٹھے کا حکم دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۳۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنِ ابْنِ حَکِیمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ سُؤْرِ السِّنَّوْرِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٢٩) حضرت صفیہ بنت داب فرماتی ہیں کہ میں نے حسین بن علی سے بلی کے جو ٹھے کا حکم دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا ” وہ تو گھر کا ایک حصہ ہے “
(۳۲۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ الرُّکَیْنِ ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ دَابٍ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ عَنِ الْہِرِّ ؟ فَقَالَ : ہُوَ مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٠) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ بلی گھر کا ایک سامان ہے۔
(۳۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الْہِرُّ مِنْ مَتَاعِ الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣١) ایک مدنی شخص روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا۔ اس پانی میں بلی نے منہ مارا۔ وضو کرنے کے لیے تشریف لائے تو انھیں اس بارے میں بتایا گیا، انھوں نے فرمایا ” بلی تو گھر کا حصہ ہے “
(۳۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : وُضِعَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ طَہُورُہُ ، فَشَرِبَتْ مِنْہُ السِّنَّوْرُ ، فَجَائَ عَبْدُ اللہِ لِیَتَوَضَّأَ مِنْہُ ، فَقِیلَ لَہُ : إنَّ السِّنَّوْرَ قَدْ شَرِبَتْ مِنْہُ ، فَقَالَ : إنَّمَا ہِیَ مِنْ أَہْلِ الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں ” بلی کے جو ٹھے میں کوئی حرج نہیں “
(۳۳۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِسُؤْرِ السِّنَّوْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٣) حضرت محمد بن علی فرماتے ہیں ” بلی کے پس ماندہ سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ؟ وہ تو گھر کا حصہ ہے “
(۳۳۳) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَدَنِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ یَقُولُ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُتَوَضَّأَ بِفَضْلِ الْہِرِّ ، وَیَقُولُ : ہِیَ مِنْ مَتَاعِ الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٤) حضرت خالد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بلی نے حضرت ابو العلاء کے برتن میں سے پانی پیا تو انھوں نے اس کے پس ماندہ سے وضو کرلیا تھا۔
(۳۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَکْرَاوِیُّ ، عَنِ الْجَرِیرِیِّ ، أَوْ خَالِدٍ ، قَالَ : وَلَغَتْ ہِرَّۃٌ فِی إنَائٍ لأَبِی الْعَلاَئِ ، فَتَوَضَّأَ بِفَضْلِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٥) حضرت حسن بلی کے جو ٹھے کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۳۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِسُؤْرِ السِّنَّوْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٦) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب کبھی حضرت عباس بن عبد المطلب کے لیے وضو کا پانی رکھا جاتا اور وہ کسی کام میں مصروف ہوتے، اس دوران اگر بلی آ کر اس میں منہ مار لیتی تو وہ اس پانی سے وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
(۳۳۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یُوضَعُ لَہُ الْوَضُوئُ ، فَیَشْغَلُہُ الشَّیئُ فَیَجِیئُ الْہِرُّ فَیَشْرَبُ مِنْہُ ، فَیَتَوَضَّأُ مِنْہُ وَیُصَلِّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٧) حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ بلی گھر کا ایک سامان ہے۔
(۳۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ، عَنْ سُلَیْمِ بْنِ حَیَّانَ، عَنْ أَبِی غَالِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمامَۃَ یَقُولُ: الْہِرُّ مِنْ مَتَاعِ الْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٨) حضرت علی سے بلی کے پس ماندہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۳۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الضَّحَّاکِ الْہَمْدَانِیُّ ، عَنْ أُمِّہِ ، عَنْ مَوْلاَہَا عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْجَابِرِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ سُؤْرِ الْہِرِّ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٣٩) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ” بلی گھر میں چکر لگانے والے (جانوروں) میں سے ہے۔
(۳۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، وَعَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ، عَنِ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْہِرُّ مِنَ الطَّوَّافِینَ عَلَیْکُمْ ۔ أَوْ : مِنَ الطَّوَّافَاتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان حضرات کا بیان جنہوں نے بلی کے جوٹھے سے وضو کرنے کو جائز قرار دیا ہے
(٣٤٠) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بلی نے حضرت علقمہ کے گھر دودھ میں منہ مار دیا، گھر والے اس دودھ کو گرانا چاہتے تھے لیکن حضرت علقمہ نے فرمایا کہ اسے گرانا میرے دل پر گراں گزرتا ہے !
(۳۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَلَغَ ہِرٌّ فِی لَبَنٍ لآلِ عَلْقَمَۃَ ، فَأَرَادُوا أَنْ یُہَرِیقُوہُ ، فَقَالَ عَلْقَمَۃُ : إِنَّہُ لَیَتَفَاحَشُ فِی صَدْرِی أَنْ أُہَرِیقَہُ!۔
tahqiq

তাহকীক: