মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৩০ টি

হাদীস নং: ৪০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں تانبے کا برتن استعمال کرنے کا حکم
(٤٠١) حضرت عبد خیر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز میں ہم حضرت علی کے ساتھ تھے جب انھوں نے نماز کا سلام پھیرلیا تو غلام سے پانی کا طشت منگوایا اور اس سے وضو کیا۔ دوران وضو اپنی انگلیوں کو کانوں میں داخل کیا پھر فرمایا ” میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یونہی وضو کرتے دیکھا ہے “
(۴۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ عَلِیٍّ یَوْمًا صَلاَۃَ الْغَدَاۃِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ دَعَا الْغُلاَمَ بِالطَّسْتِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَدْخَلَ إصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : ہَکَذَا رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں تانبے کا برتن استعمال کرنے کا حکم
(٤٠٢) حضرت عبداللہ بن زید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے تانبہ کے ایک برتن میں آپ کے لیے پانی رکھا تو آپ نے اس سے وضو فرمایا۔
(۴۰۲) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَہُ مَائً فِی تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ ، فَتَوَضَّأَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں تانبے کا برتن استعمال کرنے کا حکم
(٤٠٣) حضرت معاویہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں تانبے کے برتن میں وضو کروں۔
(۴۰۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ مُعَاوِیَۃُ : نُہِیت أَنْ أَتَوَضَّأَ فِی النُّحَاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں تانبے کا برتن استعمال کرنے کا حکم
(٤٠٤) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر تانبے کے برتن میں نہ پانی پیتے تھے اور نہ ہی اس میں وضو فرماتے تھے۔
(۴۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَشْرَبُ فِی قَدَحٍ مِنْ صُفْرٍ ، وَلاَ یَتَوَضَّأُ فِیہِ۔ (عبدالرزاق ۱۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں تانبے کا برتن استعمال کرنے کا حکم
(٤٠٥) حضرت مسلم ابی فروہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کو مسجد میں طشت سے وضو کرتے دیکھا ہے۔
(۴۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِی فَرْوَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی لَیْلَی یَتَوَضَّأُ فِی طَسْتٍ فِی الْمَسْجِدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں تانبے کا برتن استعمال کرنے کا حکم
٤٠٦) حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر تانبے کو ناپسند سمجھتے تھے اور اس سے وضو بھی نہیں کرتے تھے۔
(۴۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْن عُمَرَ ، أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الصُّفْرَ ، وَکَانَ لاَ یَتَوَضَّأُ فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤٠٧) حضرت جمیل بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو ایک چلو سے کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے دیکھا ہے۔
(۴۰۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ جَمِیلِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَر تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤٠٨) حضرت عبد خیر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی نے وضو فرمایا اور اس میں ایک چلو سے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک صاف فرمایا، پھر ارشاد فرمایا ” تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ایسا تھا،
(۴۰۸) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ ، وَقَالَ : ہَذَا وُضُوئُ نَبِیِّکُمْ صلی اللہ علیہ وسلم۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤٠٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو میں ایک مرتبہ پانی لیا اور اسی سے کلی بھی فرمائی اور ناک بھی صاف فرمایا۔
(۴۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، فَغَرَفَ غَرْفَۃً تَمَضْمَضَ مِنْہَا وَاسْتَنْشَقَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤١٠) حضرت راشد بن معبد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو ایک چلو سے کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے دیکھا ہے۔
(۴۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤١١) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد ہر مرتبہ ایک ہی چلو سے کلی کرتے اور ناک بھی صاف کرتے تھے۔
(۴۱۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَ یُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ بِمَائٍ وَاحِدٍ ، کُلَّ مَرَّۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤١٢) حضرت ابراہیم تیمی ایک چلو سے کلی کرتے اور ناک بھی صاف کرتے تھے۔
(۴۱۲) حُدِّثْت عَنْ ہُشَیْمٍ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤١٣) حضرت جعفر بن میمون ایک چلو سے کلی کرتے اور ناک بھی صاف کرتے تھے۔
(۴۱۳) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَیَّانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَیْمُونَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ مِنْ کَفٍّ وَاحِدَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
(٤١٤) حضرت محمد ایک چلو سے کلی کرتے اور ناک بھی صاف کرتے تھے۔
(۴۱۴) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّہُ کَانَ یَأْخُذُ الْمَضْمَضَۃَ وَالْاِسْتِنْشَاقَ مِنَ الْمَائِ ، مَرَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے دبر سے کیڑا نکلے اس کے وضو کا کیا حکم ہے ؟
(٤١٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جس کے دبر سے کیڑا نکل آئے اسے وضو کرنا ہوگا۔
(۴۱۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : یَتَوَضَّأُ إذَا خَرَجَتْ مِنْ دُبُرِہِ الدُّودَۃُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے دبر سے کیڑا نکلے اس کے وضو کا کیا حکم ہے ؟
(٤١٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایسے شخص پر وضو لازم نہیں۔
(۴۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ وُضُوئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے دبر سے کیڑا نکلے اس کے وضو کا کیا حکم ہے ؟
(٤١٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کے دبر سے کیڑا نکلے تو اسے وضو کرنا ہوگا۔
(۴۱۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا خَرَجَ مِنْ دُبُرِ الإِنْسَان الدُّودُ ، أَوِ الدُّودَۃُ فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے دبر سے کیڑا نکلے اس کے وضو کا کیا حکم ہے ؟
(٤١٨) حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ انسان کے اوپر کے نصف جسم سے کوئی چیز نکلے تو وضو نہیں اور اگر نیچے کے نصف سے کوئی چیز نکلے تو وضو ہے۔
(۴۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی خَلْدَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : مَا خَرَجَ مِنَ النِّصْفِ الأَعْلَی فَلَیْسَ عَلَیْہِ فِیہِ وُضُوئٌ، وَمَا خَرَجَ مِنَ النِّصْفِ الأَسْفَلِ فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے دبر سے کیڑا نکلے اس کے وضو کا کیا حکم ہے ؟
(٤١٩) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ایسا شخص وضو کرے گا۔
(۴۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو قُتَیْبَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : یَتَوَضَّأُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے دبر سے کیڑا نکلے اس کے وضو کا کیا حکم ہے ؟
(٤٢٠) حضرت موسیٰ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ میرے دبر سے کیڑا نکلا ہے، کیا میں وضو کروں گا ؟ انھوں نے فرمایا کہ تم وضو نہیں کروگے۔
(۴۲۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إبْرَاہِیمَ قُلْتُ : یَخْرُجُ مِنْ دُبُرِی الدُّودُ ، أَتَوَضَّأُ مِنْہُ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক: