মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৩০ টি

হাদীস নং: ৫৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤١) حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ میں نے جبلہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت ابن عمر کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں گوشت کھا کر اور دودھ پی کر نماز پڑھتا ہوں اور وضو نہیں کرتا ؟ انھوں نے فرمایا ہاں سنا ہے۔
(۵۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَبَلَۃَ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ إِنِّیْ لَآکُلُ اللَّحْمَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ وَأُصَلِّی ، وَلاَ أَتَوَضَّأُ ؟ قَالَ: نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے وضو ٹوٹتا ہے جسم میں داخل ہونے والی چیز اور پاؤں پر لگ جانے والی گندگی سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۵۴۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : الْوُضُوئُ مِمَّا خَرَجَ ، وَلَیْسَ مِمَّا دَخَلَ ، وَلاَ مِمَّا أُوطِیَٔ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٣) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے وضو ٹوٹتا ہے، داخل ہونے والی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۵۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : الْوُضُوئُ مِمَّا خَرَجَ ، وَلَیْسَ مِمَّا دَخَلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٤) حضرت ابی کی بیوی حضرت ام طفیل فرماتی ہیں کہ حضرت ابی ثرید کھانے کے بعد کلی کر کے نماز پڑھ لیتے تھے۔
(۵۴۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَۃَ ، أَنَّہُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُبَیٍّ یُحَدِّثُ ، عَنْ أُمِّ الطُّفَیْلِ امْرَأَۃِ أُبَیٍّ ؛ أَنَّ أُبَیًّا کَانَ یَأْکُلُ الثَّرِیدَ وَیُمَضْمِضُ فَاہُ وَیُصَلِّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٥) حضرت ام حکیم بنت الزبیر فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ضباعہ کے یہاں تشریف لائے اور شانے کا گوشت تناول فرمایا۔ پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور آپ نے وضو نہیں فرمایا۔
(۵۴۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أُمِّ حَکِیمٍ ابْنَۃِ الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی ضُبَاعَۃَ ؛ فَنَہَسَ عِنْدَہَا مِنْ کَتِفٍ ، ثُمَّ خَرَجَ إلَی الصَّلاَۃِ ، وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ (احمد ۶/۴۱۹۔ طبرانی ۲۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٦) حضرت عبد العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے ابو السوار عدوی کو دیکھا کہ انھوں نے ثرید اور گوشت کھایا پھر وضو کئے بغیر نماز ادا فرمائی۔
(۵۴۶) حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا السَّوَّارِ الْعَدَوِیَّ أَکَلَ ثَرِیدًا وَلَحْمًا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں وہ برا کھانا ہے جس کے بعد وضو کیا جائے۔
(۵۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامٌ یُتَوَضَّأُ مِنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٨) حضرت عبد الاعلی فرماتے ہیں کہ ابن الحنفیہ ثرید کھاتے اور نبیذ پیتے پھر وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے تھے۔
(۵۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَأْکُلُ الثَّرِیدَ وَیَشْرَبُ النَّبِیذَ وَیُصَلِّی ، وَلاَ یَتَوَضَّأُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٤٩) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبیدہ کے پاس آیا۔ انھوں نے بکری ذبح کرنے کا حکم دیا، بکری ذبح کی گئی پھر آپ نے روٹی، دودھ اور چربی منگوائی ہم نے سب چیزیں کھائیں، پھر انھوں نے وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔ میرا ان کے بارے میں یہ گمان تھا کہ وہ وضو کرنا پسند کرتے ہیں لیکن شاید وہ دکھانا چاہتے تھے کہ وضو نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
(۵۴۹) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَبِیدَۃَ ، فَأَمَرَ بِشَاۃٍ فَذُبِحَتْ ، فَدَعَا بِخُبْزٍ وَلَبَنٍ وَسَمْنٍ فَأَکَلْنَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ، وَلَمْ یَتَوَضَّأْ ، فَظَنَنْت أَنَّہُ کَانَ أَحَبَّ إلَیْہِ أَنْ یَتَوَضَّأَ ، لَوْلا أَنَّہُ أَرَادَ أَنْ یُرِیَنِی أَنَّہُ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٥٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرتے ہوئے ہانڈی سے گوشت لے کر کھالیتے پھر بغیر وضو کئے اور بغیر پانی کو چھوئے نماز ادا فرما لیتے۔
(۵۵۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، وَعِکْرِمَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَمُرُّ بِالْقِدْرِ ، فَیَتَنَاوَلُ مِنْہَا الْعَرْقَ فَیُصِیبُ مِنْہُ ، ثُمَّ یُصَلِّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ ، وَلَمْ یَمَسَّ مَائً۔ (احمد ۶/۱۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٥١) حضرت محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن یزید گوشت اور ثرید کھاتے پھر بغیر وضو کئے نماز پڑھ لیتے تھے۔
(۵۵۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْخَطْمِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ یَزِیدَ یَأْکُلُ اللَّحْمَ وَالثَّرِیدَ ، فَیُصَلِّی وَلاَ یَتَوَضَّأُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(٥٥٢) حضرت ابو زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ کو دیکھا کہ وہ تنور میں بھونی جانے والی بکری کے پکنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابن عباس نے فرمایا اسے لے آؤ کہیں ہماری نماز خراب نہ ہوجائے (یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے) پس اسے نکالا گیا اور سب نے اسے کھایا۔ پھر حضرت ابوہریرہ وضو کرنے لگے تو حضرت ابن عباس نے پوچھا ” کیا ہم نے کوئی ناپاک چیز کھائی ہے ؟ “ اس پر حضرت ابوہریرہ نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں اور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں “ پھر سب نے نماز پڑھ لی۔
(۵۵۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ مَوْلَی ثَقِیفٍ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : شَہِدْت ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ وَہُمْ یَنْتَظِرُونَ جَدْیًا لَہُمْ فِی التَّنُّورِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَخْرِجُوہُ لَنَا لاَ یَفْتِنَّا فِی الصَّلاَۃِ ، فَأَخْرَجُوہُ فَأَکَلُوا مِنْہُ ، ثُمَّ إنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ تَوَضَّأَ ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَکَلْنَا رِجْسًا ؟! قَالَ : فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَنْتَ خَیْرٌ مِنِّی وَأَعْلَمُ ، ثُمَّ صَلَّوْا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٣) حضرت ابراہیم بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ نے مکھن کے ٹکڑے کھائے، پھر وضو فرمایا اس کے بعد آپ نے پوچھا ” کیا تم جانتے ہو میں نے وضو کیوں کیا ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کوئی ایسی چیز کھاؤ جسے آگ نے چھوا ہو تو وضو کرو۔ حضرت عمر شکر کھا کر وضو کیا کرتے تھے۔
(۵۵۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قَارِظٍ؛ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَکَلَ أَثْوَارَ أَقِطٍ ، فَقَامَ فَتَوَضَّأَ فَقَالَ : أَتَدْرُونَ لِمَ تَوَضَّأْت ؟ إنِّی أَکَلْت أَثْوَارَ أَقِطٍ ، سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تَوَضَّؤُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ، قَالَ ، فَکَانَ عُمَرُ یَتَوَضَّأُ مِنَ السُّکَّرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٤) حضرت ابو سفیان بن مغیرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام حبیبہ کے پاس گیا، انھوں نے مجھے ستو کا شربت پلایا پھر فرمایا ” اے بھانجے ! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
(۵۵۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ الأَخْنَسِ؛ أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی خَالَتِہِ أُمِّ حَبِیبَۃَ ، فَسَقَتْہُ شَرْبَۃً مِنْ سَوِیقٍ ، ثُمَّ قَالَتْ : یَا ابْنَ أُخْتِی تَوَضَّہْ ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تَوَضَّؤُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٥) حضرت ابو سفیان بن سعید اخنسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام حبیبہ کے پاس گیا، انھوں نے مجھے ستو کا شربت پلایا پھر فرمایا ” اے بھانجے ! وضو کرلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
(۵۵۵) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو سُفْیَانَ بْنُ سَعِیدٍ الأَخْنَسِیُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی خَالَتِی أُمِّ حَبِیبَۃَ فَسَقَتْنِی سَوِیقًا ، ثُمَّ قَالَتْ : یَا ابْنَ أُخْتِی تَوَضَّأْ ، فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : تَوَضَّؤُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔ (احمد ۶/۳۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٦) ایک مرتبہ مطر الوراق سے پوچھا گیا کہ حضرت حسن بصری نے یہ روایت کس سے لی ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو کیا جائے ؟ انھوں نے فرمایا انھوں نے یہ روایت حضرت انس سے، انھوں نے حضرت ابو طلحہ سے اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی ہے۔
(۵۵۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : قِیلَ لِمَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، وَأَنَا عِنْدَہُ : عَمَّنْ أَخَذَ الْحَسَنُ ، أَنَّہُ کَانَ یَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ؟ فَقَالَ : أَخَذَہُ عَنْ أَنَسٍ ، وَأَخَذَہُ أَنَسٌ عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، وَأَخَذَہُ أَبُو طَلْحَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (طحاوی ۶۹۔ احمد ۴/۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٧) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
(۵۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا قَالَتْ : تَوَضَّؤُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٨) حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اسے استعمال کرنے کے بعد وضو کرلو۔
(۵۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّہُ قَالَ : تَوَضَّؤُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ۔ (طبرانی ۴۸۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٥٩) حضرت ابو موسیٰ آگ پر پکی ہوئی چیز استعمال کرنے کے بعد وضو کرتے تھے۔
(۵۵۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ أَبَا مُوسَی کَانَ یَتَوَضَّأُ مِمَّا غَیَّرَتِ النَّارُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کا بیان
(٥٦٠) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس کی خدمت میں حاضر ہوا وہ موجود نہ تھے، میں بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ واپس آئے تو انتہائی غصہ میں تھے، فرمانے لگے میں اس (حجاج) کے پاس سے آ رہا ہوں، لوگوں نے کھانا کھایا اور بغیر وضو کئے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ ” اے ابو حمزہ ! کیا آپ ایسا نہ کیا کرتے تھے “۔ انھوں نے فرمایا ” ہم ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔
(۵۶۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فَلَمْ أَجِدْہُ ، فَقَعَدْتُ أَنْتَظِرُہُ ، فَجَائَ وَہُوَ مُغْضَبٌ ، فَقَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ہَذَا ، یَعْنِی الْحَجَّاجَ ، فَأَکَلُوا ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا ، وَلَمْ یَتَوَضَّؤُوا ! ، فَقُلْتُ : أَوَ مَا کُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ہَذَا یَا أَبَا حَمْزَۃَ ؟ قَالَ : مَا کُنَّا نَفْعَلُہُ۔ (عبدالرزاق ۶۷۰)
tahqiq

তাহকীক: