মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ৯২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو دھونا ضروری ہے
(٩٢١) حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر منی کے نشان کو دھویا کرتے تھے۔
(۹۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زُبَیدٍ ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رضی اللہ عنہما غَسَلَ مَا رَأَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات میں منی کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں پر لگی ہوئی دیکھتی تو کھرچ دیتی تھی۔
(۹۲۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : لَقَدْ رَأَیْتُنِی أَجِدُہُ فِی ثَوْبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَحُتُّہُ عَنْہُ ۔ تَعْنِی الْمَنِیَّ۔ (ابوداؤد ۳۷۵۔ مسلم ۲۳۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٣) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جنابت کے نشان کو کھرچ دیتے تھے۔
(۹۲۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مَصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَفْرُکُ الْجَنَابَۃَ مِنْ ثَوْبِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٤) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد جنابت کے نشان کو کھرچ دیتے تھے۔
(۹۲۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ؛ أَنَّہُ کَانَ یَفْرُکُ الْجَنَابَۃَ مِنْ ثَوْبِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ہمام ایک مرتبہ مہمان کے طور پر حضرت عائشہ کے ہاں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہ نے ان کے بارے میں حکم دیا کہ ایک زرد چادر ان کے لیے دی جائے۔ حضرت ھمام کو اس میں احتلام ہوگیا۔ انھیں شرم محسوس ہوئی کہ احتلام کے نشان کے ساتھ کپڑا واپس کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے کپڑے کو پانی میں ڈبو کر واپس کیا۔ حضرت عائشہ نے کپڑا دیکھا تو فرمایا انھوں نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کردیا ؟ ان کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے کھرچ دیتے، میں بھی بعض اوقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں سے اسے کھرچ دیا کرتی تھی۔
(۹۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ قَالَ : نَزَلَ بِعَائِشَۃَ ضَیْفٌ فَأَمَرَتْ لَہُ بِمِلْحَفَۃٍ صَفْرَائَ ، فَاحْتَلَمَ فِیہَا ، فَاسْتَحْیَی أَنْ یُرْسِلَ بِہَا وَفِیہَا أَثَرُ الإِحْتِلاَمِ ، فَغَمَسَہَا فِی الْمَائِ ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِہَا ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : لِمَ أَفْسَدَ عَلَیْنَا ثَوْبَنَا ؟ إنَّمَا کَانَ یَکْفِیہِ أَنْ یَفْرُکَہُ بِإِصْبَعِہِ ، رُبَّمَا فَرَکْتُہُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِی۔ (ترمذی ۱۱۶۔ مسلم ۱۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت ابن عمر کے پاس تھے۔ انھوں نے نماز پڑھنے کے بعد کپڑے کو رگڑنا شروع کردیا۔ پھر فرمایا کہ رات میں نے اسے تلاش کیا تھا لیکن یہ مجھے نہ ملی تھی۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ منی ہی تھی۔
(۹۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بَعْدَ مَا صَلَّی إذْ جَعَلَ یَدْلُکُ ثَوْبَہُ ، فَقَالَ : إنِّی طَلَبْت ہَذَا الْبَارِحَۃَ فَلَمْ أَجِدْہُ ، قَالَ مُجَاہِدٌ : مَا أُرَاہُ إِلاَّ مَنِیًّا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٧) حضرت ابو مالک اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ اگر صبح کے وقت میں منی کا نشان دیکھوں تو کیا کروں ؟ فرمایا اسے رگڑو اور جھاڑ دو ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں اسے دھویا کروں۔ فرمایا کہ دھونے سے اس کی بدبو میں اضافہ ہوگا۔ حضرت ابو مالک کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اگر وہ تر ہوتی تو اس کے دھونے کا حکم دیتے۔
(۹۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ : قُلْتُ لِلشَّعْبِیِّ : أَصْبَحْت وَفِی ثَوْبِی لُمْعَۃُ جَنَابَۃٍ ؟ قَالَ : اُعْرُکْہُ ثُمَّ انْفُضْہُ ، قَالَ : قُلْتُ : أَغْسِلُہُ ؟ قَالَ : تَزِیدُہُ نَتْناً ، قَالَ أَبُو مَالِکٍ : فَظَنَنْت أَنَّہُ لَوْ کَانَ رَطْبًا أَمَرَہُ بِغَسْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٨) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ منی کو اذخر کے ساتھ صاف کردو۔
(۹۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی الْمَنِیِّ قَالَ : امْسَحْہُ بِإِذْخِرَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٢٩) حضرت ابن عباس کپڑے پر لگی ہوئی منی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ تھوک کی طرح ہے اسے کپڑے یا اذخر سے صاف کردو۔
(۹۲۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ أَخبرنَا حَجَّاجٌ ، وَابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ فِی الْجَنَابَۃِ تُصِیبُ الثَّوْبَ ، قَالَ : إنَّمَا ہُوَ کَالنُّخَامَۃِ ، أَوِ النُّخَاعَۃِ ، أَمِطْہُ عَنْک بِخِرْقَۃٍ ، أَوْ بِإِذْخِرَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٣٠) حضرت ابن الحنفیہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ خشک ہو تو اسے کھرچ دو ۔
(۹۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ قَالَ : إِنْ کَانَ یَابِسًا فَحُتَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٣١) حضرت مجاہد کپڑے پر لگی ہوئی منی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے دھو لو یا اذخر سے صاف کرلو۔
(۹۳۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ فِی الْجَنَابَۃِ تُصِیبُ الثَّوْبَ ، قَالَ : یَغْسِلُہَا ، أَوْ یَمْسَحُہَا بِإِذْخِرَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٣٢) حضرت جبیر بن نفیر نے حضرت عائشہ کے پاس کسی کو بھیج کر پوچھوایا کہ جس کپڑے پر آدمی بیوی سے جماع کرتا ہے اس پر قرآن مجید کی تلاوت کرسکتا ہے ؟ فرمایا اس میں کیا رکاوٹ ہے۔ اگر کوئی چیز ہے تو اسے دھو لو اور چاہو تو کھرچ لو اور اگر تمہیں شک ہو تو پانی چھڑک لو۔
(۹۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ الْحَضْرَمِیِّ ؛ أَنَّہُ أَرْسَلَ إلَی عَائِشَۃَ یَسَأَلُہَا عَنِ الْمِرْفَقَۃِ یُجَامِعُ عَلَیْہَا الرَّجُلُ ، أَیَقْرَأُ عَلَیْہَا الْمُصْحَف ؟ قَالَتْ : وَمَا یَمْنَعُک مِنْ ذَلِکَ ؟ إِنْ رَأَیْتہ فَاغْسِلْہُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَاحْکُکْہُ ، وَإِنْ رَابَک فَرُشَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک منی کو کھرچنا ضروری ہے
(٩٣٣) ایک آدمی نے حضرت عمر سے سوال کیا کہ مجھے کپڑے پر احتلام ہوگیا اب میں کیا کروں ؟ فرمایا اگر وہ تر ہو تو دھو لو اگر خشک ہو تو کھرچ لو اور اگر نشان پوشیدہ ہوجائے تو اس پر پانی چھڑک لو۔
(۹۳۳) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی عَزَّۃَ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إنِّی احْتَلَمْتُ عَلَی طِنْفِسَۃٍ ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ رَطْبًا فَاغْسِلْہُ ، وَإِنْ کَانَ یَابِسًا فَاحْکُکْہُ ، وَإِنْ خَفِیَ عَلَیْک فَارْشُشْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٣٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ جماع کے ارادے سے بیٹھے اور دونوں کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
(۹۳۴) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا جَلَسَ بَیْنَ الشُّعَبِ الأَرْبَعِ ، ثُمَّ أَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ (احمد ۶/۱۳۵۔ ترمذی ۱۰۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٣٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ اگر میرے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسا ہوتا تو ہم غسل کیا کرتے تھے۔
(۹۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْیدِ اللہِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَقَدْ کَانَ ذَلِکَ یَکُونُ مِنِّی وَمِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَغْتَسِلُ۔
(احمد ۶/۱۶۱۔ ترمذی ۱۰۸)
(احمد ۶/۱۶۱۔ ترمذی ۱۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٣٦) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کے ارادے سے بیٹھے اور زور لگائے تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۳۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَہَدَہَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ (بخاری ۲۹۱۔ مسلم ۸۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٣٧) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ساتھ جماع کے ارادے سے بیٹھ جائے اور زور لگائے تو غسل واجب ہوگیا۔ انزال ہو یا نہ ہو۔
(۹۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ یُونُسُ : وَلاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ قَدْ رَفَعَہُ ، قَالَ : إذَا جَلَسَ بَیْنَ فُرُوجِہَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ اجْتَہَدَ وَجَبَ الْغُسْلُ ، أَنْزَلَ ، أَوْ لَمْ یُنْزِلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٣٨) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : إذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٣٩) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے شرم گاہ ملا لے تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ الْجُمَحِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إذَا اسْتَخْلَطَ الرَّجُلُ أَہْلَہُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : قالَتْ عَائِشَۃُ : إذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক: