মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ৯৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، وَعَنْ نَافِعٍ قَالاَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ : إِذَا خَالَفَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی کے آلہء تناسل کا سرا غائب ہوگیا تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إذَا غَابَتِ الْمُدَوَّرَۃُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اگر میری یہ کیفیت ہو تو میں غسل کروں گا۔
(۹۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ : أَمَّا أَنَا فَإِذَا بَلَغْتُ ذَلِکَ مِنْہَا اغْتَسَلْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٤) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، وَعَنْ غَالِبٍ أَبِی الْہُذَیْلِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلِیٍّ قَالَ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٥) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا آدمی لایا گیا جس نے یوں کیا (یعنی جماع کیا اور اسے انزال نہ ہوا لیکن اس نے غسل بھی نہ کیا) تو میں سزا دوں گا۔
(۹۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ أُوتِیَ بِرَجُلٍ فَعَلَہُ ، یَعْنِی : جَامَعَ ثُمَّ لَمْ یُنْزِلْ ، وَلَمْ یَغْتَسِلْ ، إِلاَّ نَہَکْتُہ عُقُوبَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٦) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ مہاجرین یعنی ابو بکر، عمر، عثمان، علی کا اس پر اجماع ہے کہ جس چیز سے کوڑے اور رجم لازم ہوتے ہیں اس سے غسل بھی واجب ہوجاتا ہے۔
(۹۴۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ قَالَ : اجْتَمَعَ الْمُہَاجِرُونَ ؛ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِیٌّ ؛ أَنَّ مَا أَوْجَبَ الْحَدَّیْنِ الْجَلْد ، وَالرَّجْم أَوْجَبَ الْغُسْلَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٧) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ شرم گاہوں کے ملنے سے قتل اور رجم لازم ہوتے ہیں تو کیا پانی کا برتن لازم نہیں ہوں گے ؟
(۹۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ یَقُولُ : یُوجِبُ الْقَتْلَ وَالرَّجْمَ ، وَلاَ یُوجِبُ إنَائً مِنْ مَائٍ؟
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ یہ چیز چار ہزار تو لازم کرتی ہے اور پانی کا برتن لازم نہیں کرتی ؟ یعنی بیوی سے ایسا اختلاط جس میں انزال نہ ہو۔
(۹۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ شُرَیْحٌ : أَیُوجِبُ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَلاَ یُوجِبُ إنَائً مِنْ مَائٍ ؟ یَعْنِی : الَّذِی یُخَالِطُ ، ثُمَّ لاَ یُنْزِلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٤٩) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ یہ چیز چار ہزار لازم کرتی ہے اور پانی کا برتن لازم نہیں کرتی۔ یعنی بیوی سے ایسا اختلاط جس میں انزال نہ ہو۔
(۹۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : قَالَ شُرَیْحٌ : یُوجِبُ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ ، وَلاَ یُوجِبُ إنَائً مِنْ مَائٍ ؟ یَعْنِی : الَّذِی یُخَالِطُ ، ثُمَّ لاَ یُنْزِلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٠) حضرت ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے پوچھا کہ غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے فرمایا شرم گاہوں کے ملنے سے اور منی کے نکلنے سے۔
(۹۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ قَالَ : سَأَلْتُ عَبِیْدَۃَ : مَا یُوجِبُ الْغُسْلَ ؟ قَالَ : الْخِلاَطُ وَالدَّفْقُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥١) حضرت عبیدہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۹۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٢) حضرت رفاعہ بن رافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عمر کے پاس حاضر تھے کہ ایک شخص وہاں آیا۔ کسی آدمی نے کہا اے امیر المؤمنین ! یہ زید بن ثابت ہیں جو لوگوں کو غسل جنابت کے بارے میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا انھیں میرے پاس لاؤ۔ وہ آئے تو حضرت عمر نے ان سے کہا ” اے اپنی جان کے دشمن ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کو اپنی رائے سے فتویٰ دیتے ہو ؟ “ انھوں نے کہا اے امیر المؤمنین ! خدا کی قسم میں نے ایسا نہیں کیا بلکہ میں نے اپنے ان محترم حضرات سے کچھ احادیث سنیں اور انھیں آگے بیان کردیا : حضرت ابو ایوب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت رفاعہ بن رافع۔ پھر حضرت عمر حضرت رفاعہ بن رافع کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ کیا تم ایسا کیا کرتے تھے کہ تم میں کوئی شخص عورت سے بغیر انزال کے جماع کرنے کے بعد غسل نہیں کرتا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایسا کرتے تھے لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حرمت یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے کوئی نہی وارد نہیں ہوئی۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کا علم تھا۔ حضرت رفاعہ نے فرمایا میں یہ نہیں جانتا۔
پھر حضرت عمر نے انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اور اس بارے میں ان سے مشورہ کیا سب لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس میں غسل نہیں ہے۔ لیکن حضرت معاذ اور حضرت علی نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اصحاب بدر ہو کر اختلاف کرتے ہو تو بعد کے لوگ تم سے زیادہ اختلاف کریں گے !
حضرت علی نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے خیال میں اس بارے میں ازواج مطہرات سے زیادہ علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس بارے میں حضرت حفصہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے لا علمی کا اظہار کیا، جب حضرت عائشہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا، اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر میں نے کسی آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ شرم گاہوں کے ملنے کے باوجود غسل سے اجتناب کرتا ہے تو میں اسے تکلیف دہ سزا دوں گا۔
پھر حضرت عمر نے انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اور اس بارے میں ان سے مشورہ کیا سب لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس میں غسل نہیں ہے۔ لیکن حضرت معاذ اور حضرت علی نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اصحاب بدر ہو کر اختلاف کرتے ہو تو بعد کے لوگ تم سے زیادہ اختلاف کریں گے !
حضرت علی نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! میرے خیال میں اس بارے میں ازواج مطہرات سے زیادہ علم کسی کو نہیں ہوسکتا۔ اس بارے میں حضرت حفصہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے لا علمی کا اظہار کیا، جب حضرت عائشہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا، اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر میں نے کسی آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ شرم گاہوں کے ملنے کے باوجود غسل سے اجتناب کرتا ہے تو میں اسے تکلیف دہ سزا دوں گا۔
(۹۵۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِی حُیَیَّۃَ ، مَوْلَی ابْنَۃِ صَفْوَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِیہِ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ ؛ قَالَ : بَیْنَا أَنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إذْ دَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، ہَذَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یُفْتِی النَّاسَ فِی الْمَسْجِدِ بِرَأْیِہِ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَیَّ بِہِ ، فَجَائَ زَیْدٌ ، فَلَمَّا رَآہُ عُمَرُ قَالَ : أَیْ عَدُوَّ نَفْسِہِ ، قَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِیَ النَّاسَ بِرَأْیِکَ ؟ فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، بِاللَّہِ مَا فَعَلْتُ ، ولَکِنِّی سَمِعْتُ مِنْ أَعْمَامِی حَدِیثًا ، فَحَدَّثْتُ بِہِ ؛ مِنْ أَبِی أَیُّوبَ ، وَمِنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، وَمِنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَی رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ فَقَالَ : وَقَدْ کُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِکَ ، إذَا أَصَابَ أَحَدُکُمْ مِنَ الْمَرْأَۃِ فَأَکْسَلَ لَمْ یَغْتَسِلْ ؟ فَقَالَ : قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ یَأْتِنَا مِنَ اللہِ فِیہِ تَحْرِیمٌ ، وَلَمْ یَکُنْ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِ نَہْیٌ ، قَالَ : ورَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعْلَمُ ذَاکَ ؟ قَالَ : لاَ أَدْرِی ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِجَمْعِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ ، فَجُمِعُوا لَہُ ، فَشَاوَرَہُمْ ، فَأَشَارَ النَّاسُ ، أَنْ لاَ غُسْلَ فِی ذَلِکَ ، إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ مُعَاذٍ ، وَعَلِیٍّ ، فَإِنَّہُمَا قَالاَ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : ہَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ بَدْرٍ ، وَقَدِ اخْتَلَفْتُمْ ، فَمَنْ بَعْدَکُمْ أَشَدُّ اخْتِلاَفًا ، قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِہَذَا مِنْ شَأْنِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِنْ أَزْوَاجِہِ ، فَأَرْسَلَ إلَی حَفْصَۃَ فَقَالَتْ : لاَ عِلْمَ لِی بِہَذَا ، فَأَرْسَلَ إلَی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : لاَ أَسْمَعُ بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِکَ ، إِلاَّ أَوْجَعْتُہُ ضَرْبًا۔ (احمد ۵/۱۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٣) حضرت ابی فرماتے ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۵۳) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَیْفِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الأَسْوَدِ الدِّیلی ، عَنْ عَمِیرَۃَ بْنِ یَثْرِبِی ، عَنْ أُبَیٍّ قَالَ : إذَا الْتَقَی مُلْتَقَاہُمَا مِنْ وَرَائِ الْخِتَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٤) حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کرے لیکن اسے انزال نہ ہو فرمایا اس پر غسل لازم ہے۔ میں نے کہا حضرت ابی تو اس کے قائل نہیں تھے۔ فرمایا انھوں نے وفات سے پہلے رجوع کرلیا تھا۔
(۹۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ قَالَ : سَأَلْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الرَّجُلِ یُجَامِعُ ، ثُمَّ لاَ یُنْزِلُ ؟ قَالَ : عَلَیْہِ الْغُسْلُ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : إنَّ أُبَیًّا کَانَ لاَ یَرَی ذَلِکَ ، فَقَالَ : إنَّ أُبَیًّا نَزَعَ عَنْ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنے گھر والوں سے اختلاط کروں تو غسل کروں گا۔
(۹۵۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَمَّا أَنَا فَإِذَا خَالَطْت أَہْلِی اغْتَسَلْتُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٦) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے۔
(۹۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٧) حضرت سھل بن سعد فرماتے ہیں کہ انصار کا یہ کہنا کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔ یعنی منی نکلے گی تو غسل واجب ہوگا۔ یہ بات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی بعد میں محض دخول سے بھی غسل واجب ہوگیا۔
(۹۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : إنَّمَا کَانَ قَوْلُ الأَنْصَارِ : الْمَائُ مِنَ الْمَائِ : أَنَّہَا کَانَتْ رُخْصَۃً فِی أَوَّلِ الأَسْلاَمِ ، ثُمَّ کَانَ الْغُسْلُ بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٨) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے۔
(۹۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ،عَنْ شُعبۃ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ؛ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ عُمَرَ ، أَوْ مِنْ أَخِیہِ سَمِعَہُ مِنْ عُمَرَ ، قَالَ : إذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٥٩) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ آدمی اگر بیوی سے دخول کرے اور انزال نہ بھی ہو تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۵۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الشَّامِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَقُولُ ؛ فِی الرَّجُلِ إذَا أَکْسَلَ فَلَمْ یُنْزِلْ ، قَالَ : یَغْتَسِلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٦٠) حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم سے پوچھا گیا کہ انصار منی کے خروج کے بغیر غسل کو لازم قرار نہیں دیتے، فرمایا ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔
(۹۶۰) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ الرَّازِیّ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ قَالَ : قِیلَ لِلْقَاسِمِ : إنَّ الأَنْصَارَ لاَ یَغْتَسِلُونَ إِلاَّ مِن الْمَائِ، فَقَالَ : لَکِنَّا نَعُوذُ بِاللَّہِ أَنْ نَصْنَعَ ذَلِکَ۔
তাহকীক: