মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ৯৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک شرمگاہوں کے محض ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے
(٩٦١) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب شرمگاہیں مل جائیں اور آلہ تناسل کا کنارہ چھپ جائے تو غسل واجب ہوگیا۔
(۹۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ وَتَوَارَتِ الْحَشَفَۃُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ (احمد ۲/۱۷۸۔ ابن ماجہ ۶۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٢) حضرت زید بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے پانچ صحابہ سے سوال کیا سب نے یہی کہا کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔ ان میں حضرت علی بھی تھے۔
(۹۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ زَیْدٍ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ؛ سَأَلَ خَمْسَۃً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُلُّہُمْ یَقُولُ : الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ، مِنْہُمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٣) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔
(۹۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَدْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔
(۹۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پانی کے بدلے پانی ہے۔
(۹۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ قَالَ : الْمَائُ مِنَ الْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٦) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انصاری کے گھر کے پاس سے گزر رہے تھے کہ پیغام بھیج کر انھیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شاید ہم نے آپ کو جلدی بلا لیا۔ انھوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم جماع کرو اور انزال نہ ہو تو صرف وضو لازم ہے غسل لازم نہیں۔
(۹۶۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ ذَکْوَانَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إلَیْہِ فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ ، فَقَالَ : لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاک ؟ فَقَالَ : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ: إذَا أُعْجِلْت ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَعَلَیْک الْوُضُوئُ ، وَلاَ غُسْلَ عَلَیْک۔(بخاری ۱۸۰۔ احمد ۳/۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٧) حضرت علی سے اس جماع کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں انزال نہ ہو کہ غسل واجب ہوگا یا نہیں ؟ فرمایا غسل واجب نہیں۔ کسی نے پوچھا خواہ آدمی عورت پر حرکت طاری کرے پھر بھی نہیں ؟ فرمایا نہیں اگر اس کی بالیاں ہلا دے پھر بھی نہیں۔
(۹۶۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ حَبِیبٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، أَنَّہُ قَالَ فِی الْغُسْلِ مِنَ الْجِمَاعِ إذَا لَمْ یُنْزِلْ ، فَلَمْ یَغْتَسِلْ ؟ قِیلَ : وَإِنْ ہَزَّہَا بِہِ ؟ قَالَ : وَإِنْ ہَزَّہَا بِہِ حَتَّی یَہْتَزَّ قُرْطَاہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٨) حضرت سعد بن ابی وقاص کی ام ولد فرماتی ہیں کہ حضرت سعد میرے پاس آتے اگر انھیں انزال نہ ہوتا تو غسل نہ فرماتے۔
(۹۶۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ہِلالاً یُحَدِّثُ ، عَنِ الْمُرَقِّعِ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِسَعْدِ بْن أَبِی وَقَّاصٍ ؛ أَنَّ سَعْدًا کَانَ یَأْتِیہَا ، فَإِذَا لَمْ یُنْزِلْ لَمْ یَغْتَسِلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٦٩) حضرت ابی بن کعب روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ بغیر انزال کے جماع کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ صرف وضو واجب ہوتا ہے۔
(۹۶۹) حَدَّثَنَا سُوَیْد بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَیْسَ فِی الإِکْسَالِ إِلاَّ الطَّہُورُ۔
(احمد ۵/۱۱۳۔ بخاری ۲۹۳)
(احمد ۵/۱۱۳۔ بخاری ۲۹۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کا کہنا ہے ” پانی کے بدلے پانی ہے “ یعنی منی نکلنے کی صورت میں ہی غسل واجب ہو گا
(٩٧٠) حضرت زید بن خالد نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ اگر آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے کہ اسے انزال نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ حضرت عثمان نے فرمایا کہ وہ نماز والا وضو کرے اور اپنے آلہ تناسل کو دھولے۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں نے حضور سے بھی یونہی سنا ہے۔ حضرت زید بن خالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب سے یہی سوال کیا اور سب نے یہی جواب دیا۔
(۹۷۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ ، أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَیْت إذْا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ فَلَمْ یُمْنِ ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ : یَتَوَضَّأُ کَما یَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَۃِ ، وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ عَلِیًّا وَالزُّبَیْرَ وَطَلْحَۃَ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَأَمَرُوہُ بِذَلِکَ۔
(بخاری ۱۷۹۔ مسلم ۲۷۰)
(بخاری ۱۷۹۔ مسلم ۲۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧١) حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ سے مذی کے قطرے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس میں وضو واجب ہے اور منی میں غسل واجب ہے۔
(۹۷۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یْزِید بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْیِ ؟ فَقَالَ : فِیہِ الْوُضُوئُ ، وَفِی الْمَنِیِّ الْغُسْلُ۔ (ترمذی ۱۱۴۔ احمد ۱۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٢) حضرت علی فرماتے ہیں کہ میری مذی نکلا کرتی تھی۔ میں نے حضرت مقداد سے کہا کہ رسول اللہ سے اس بارے میں سوال کریں کیونکہ حضور کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو مجھے یہ سوال کرتے ہوئے شرم محسوس ہوئی۔ حضرت مقداد نے سوال کیا تو حضور نے فرمایا کہ ہر بالغ مرد کی مذی خارج ہوتی ہے اگر منی ہو تو غسل لازم ہے اگر مذی ہو تو وضو لازم ہے۔
(۹۷۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کُنْتُ أَجِدُ مَذْیًا فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ یَسْأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ ، لأَنَّ ابْنَتَہُ عِنْدِی فَاسْتَحْیَیْت أَنْ أَسْأَلَہُ ، فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : إنَّ کُلَّ فَحْلٍ یُمْذِی فَإِذَا کَانَ الْمَنِیُّ فَفِیہِ الْغُسْلُ ، وَإِذَا کَانَ الْمَذْیُ فَفِیہِ الْوُضُوئُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٣) ایک اور سند سے یہی حدیث منقول ہے۔
(۹۷۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِیثِ الْحَسَنِ۔ (بخاری ۱۳۲۔ مسلم ۱۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابی کے پاس گیا تو حضرت عمر بھی ان کے پاس تھے۔ میں نے کہا کہ میں نے مذی محسوس کی تو اپنے آلہ تناسل کو دھو لیا۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے لیے کافی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا کہ کیا تم نے یہ رسول اللہ سے سنا ہے ؟ فرمایا ہاں۔
(۹۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَیْبَۃَ ، عَنْ أَبِی حَبِیبِ بْنِ یَعْلَی بْنِ مُنْیَۃ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ أَتَی أُبَیًّا وَمَعَہُ عُمَرُ ، فَخَرَجَ عَلَیْہِمَا فَقَالَ : إنِّی وَجَدْتُ مَذْیًا فَغَسَلْتُ ذَکَرِی وَتَوَضَّأْت ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَ یُجْزِئُک ذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : سَمِعْتَہُ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ (ابن ماجہ ۵۰۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٥) حضرت خرشہ بن حر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے مذی کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ تو بالکل ابتدائی چیز ہے اس سے صرف وضو واجب ہے۔
(۹۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُسْہِرٍ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : سُئِلَ عُمَر عَنِ الْمَذْیِ ؟ فَقَالَ : ذَاکَ الْفَطْر ، وَمِنْہُ الْوُضُوئُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٦) حضرت ابو عثمان ہندی کہتے ہیں کہ سلمان بن ربیعہ نے بنو عقیل کی ایک عورت سے شادی کی، جب اس سے ملاعبت کی تو ان کی مذی نکل آئی۔ اس پر انھوں نے غسل کیا اور حضرت عمر سے اس بارے میں پوچھا۔ حضرت عمر نے فرمایا اس سے غسل واجب نہیں یہ تو محض مذی ہے۔
(۹۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ، أَنَّ سلمَانَ بْنَ رَبِیعَۃَ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ ، فَرَآہَا فَلاَعَبَہَا ، قَالَ : فَخَرَجَ مِنْہُ مَا یَخْرُجُ مِنَ الرَّجُلِ - قَالَ سُلَیْمَانُ : أَوَ قَالَ : الْمَذْیُ - قَالَ : فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ أَتَیْتُ عُمَرَ ، فَسَأَلتُہُ ؟ فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْک فِی ذَلِکَ غُسْلٌ ، ذَلِکَ النُّشُر۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٧) حضرت سھل بن حنیف فرماتے ہیں کہ میری بہت زیادہ مذی نکلا کرتی تھی جس کی وجہ سے بہت زیادہ غسل کرتا تھا۔ میں نے اس بارے میں رسول اللہ سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے لیے صرف وضو کافی ہے۔
(۹۷۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَلْقَی مِنَ الْمَذْیِ شِدَّۃً ، فَأُکْثِرُ مِنْہُ الاغْتِسَالَ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّمَا یُجْزِئُکَ مِنْ ذَلِکَ الْوُضُوئُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٨) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ منی کی وجہ سے غسل کیا جائے گی اور مذی نکلنے کی صورت میں شرم گاہ کو دھو کر وضو کرے۔ اور جو چیز شہوت کی وجہ سے نکلتی ہے، میں نہیں جانتا وہ کیا ہے۔
(۹۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْمَنِیُّ یُغْتَسَلُ مِنْہُ ، وَالْمَذْیُ یَغْسِلُ مِنْہُ فَرْجَہُ وَیَتَوَضَّأُ ، وَالَّذِی مِنَ الشَّہْوَۃِ لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ؟۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٧٩) حضرت ابو مہلب کے خاندان کا کوئی شخص پیشاب کے بعد والی چیز کی وجہ سے غسل کیا کرتا تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ تمہارے لیے وضو کافی ہے۔
(۹۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ عَمِّہِ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، قَالَ : کَانَ مِنْ أَہْلِہِ إنْسَانٌ یَغْتَسِلُ مِنَ الَّذیِ یَخْرُجُ بَعْدَ الْبَوْلِ ، فَقَالَ لَہُ : أَمَا إنَّ الْوُضُوئَ یُجْزِیء عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منی، مذی اور ودی کا بیان
(٩٨٠) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ جو چیز شہوت کی وجہ سے نکلے میں نہیں جانتا وہ کیا ہے۔
(۹۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : الَّذی مِنَ الشَّہْوَۃِ لاَ أَدْرِی مَا ہُوَ ؟۔
তাহকীক: