মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১০৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤١) حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ بنو قشیر کا ایک وفد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہم پانی سے دور رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے پاس صرف پیاس بجھانے کے لیے پانی ہوتا ہے۔ حضور نے فرمایا تم تیمم کرو خواہ ایک یا دو سال ہی اس حالت میں کیوں نہ گزر جائیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :
(۱۰۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ بَنِی قُشَیْرٍ فَقَالُوا: إنَّا نَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ ، وَمَعَنَا أَہْلُونَا وَلَیْسَ مَعَنَا مِنَ الْمَائِ إِلاَّ لِشِفَاہِنَا ، قَالَ: نَعَمْ ، وَإِنْ کَانَ ذَلِکَ سَنَۃً ، أَوْ سَنَتَیْنِ۔
(۱۰۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ بَنِی قُشَیْرٍ فَقَالُوا: إنَّا نَعْزُبُ عَنِ الْمَائِ ، وَمَعَنَا أَہْلُونَا وَلَیْسَ مَعَنَا مِنَ الْمَائِ إِلاَّ لِشِفَاہِنَا ، قَالَ: نَعَمْ ، وَإِنْ کَانَ ذَلِکَ سَنَۃً ، أَوْ سَنَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٢) حضررت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضرت عمار بن یاسر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ لوگ نماز کے لیے حضرت ابن عباس کو قرابت رسول اللہ کی وجہ سے آگے کرتے تھے۔ ایک دن حضرت ابن عباس نے انھیں نماز پڑھائی، پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا کر فرمایا : ” میں نے ایک رومی باندی سے صحبت کی پھر تمہیں حالت جنابت میں تیمم کرکے نماز پڑھائی ہے۔
(۱۰۴۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِی سَفَرٍ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ، فَکَانُوا یُقَدِّمُونَہُ یُصَلِّی بِہِمْ لِقَرَابَتِہِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّی بِہِمْ ذَاتَ یَوْمٍ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیْہِمْ فَضَحِکَ فَأَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ أَصَابَ مِنْ جَارِیَۃٍ لَہُ رُومِیَّۃٍ ، وَصَلَّی بِہِمْ وَہُوَ جُنُبٌ مُتَیَمِّمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٣) حضرت جابر بن زید سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی بیوی کے ساتھ ہے اور پانی سے دور ہے، وہ کیا کرے ؟ فرمایا بیوی سے صحبت کرے اور تیمم کرلے۔
(۱۰۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَعْزُبُ وَمَعَہُ أَہْلُہُ ؟ قَالَ : یَأْتِی أَہْلَہُ وَیَتَیَمَّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٤) حضرت ابو العوام فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا کہ ہم قافلوں کی صورت میں پانی سے دور نکل جاتے ہیں۔ پھر ہم میں سے کسی کو بیوی سے جماع کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے تو ہم کیا کریں ؟ فرمایا ابن عمر تو ایسا نہیں کرے گا البتہ جب تمہیں پانی ملے تو تم غسل کرلو۔
(۱۰۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ أَبِی الْعَوَّامِ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَ أَعْرَابِیٌّ ، فَقَالَ لَہُ : إنَّا نَعْزُبُ فِی الْمَاشِیَۃِ عَنِ الْمَائِ ، فَیَحْتَاجُ أَحَدُنَا إلَی أَنْ یُصِیبَ أَہْلَہُ ، قَالَ : أَمَّا ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ یَکُنْ لِیَفْعَلَہُ ، وَأَمَّا أَنْتَ فَإِذَا وَجَدْت الْمَائَ فَاغْتَسِلْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٥) حضرت ابو عبداللہ موصلی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عوف، ابن عباس، اور ابن عمر ایک سفر میں تھے اور انھیں پانی نہ مل رہا تھا۔ ابن عباس نے اپنی روجہ سے جماع کیا تو اور حضرات نے انھیں ملامت کی۔
(۱۰۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ اللہِ الْمَوْصِلِیِّ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَوْفٍ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، وَابْنُ عُمَرَ فِی سَفَرٍ لاَ یَجِدُونَ الْمَائَ ، فَوَاقَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَعَابُوا ذَلِکَ عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٦) حضرت سعید بن مسیب اور حضرت حسن اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی سفر میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی نہیں ہے، پھر وہ اپنی بیوی سے جماع کرے اور تیمم کرے۔
(۱۰۴۶) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَالْحَسَنِ ؛ أَنَّہُمَا کَانَا لاَ یَرَیَانِ بَأْسًا إذَا کَانَ الرَّجُلُ فِی سَفَرٍ وَلَیْسَ مَعَہُ مَائٌ ، أَنْ یُصِیبَ مِنْ أَہْلِہِ ، ثُمَّ یَتَیَمَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٧) حضرت حسن بصری فرماتے تھے کہ اگر کوئی آدمی سفر میں ہو اور اس کے اور پانی کے درمیان دو یا تین راتیں ہو تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ وہ بیوی سے جماع کر کے تیمم کرے۔
(۱۰۴۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إذَا کَانَ الرَّجُلُ فِی سَفَرٍ ، وَبَیْنَہُ وَبَیْنَ الْمَائِ لَیْلَتَانِ ، أَوْ ثَلاَثٌ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یُصِیبَ مِنْ أَہْلِہِ ، ثُمَّ یَتَیَمَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٨) حضرت سالم جماع کرنے کے بعد تیمم کرلیتے تھے اگر پانی جما ہوا ہوتا۔
(۱۰۴۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ شَیْخٍ ، قَالَ : کَانَ سَالِمٌ یُجَامِعُ عَلَی غَیْرِ مَائٍ وَیَتَیَمَّمُ ، إذَا کَانَ الْمَائُ جَامِدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٤٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص ایسی جگہ ہو جہاں ویرانی ہو اور پانی نہ ہو پھر اسے اتنی شہوت لاحق ہوجائے جو ناقابل برداشت کی حد تک پہنچی ہوئی ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو تو اگر چاہے تو جماع کرے۔
(۱۰۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ بِأَرْضٍ فَلاَۃٍ ، فَأَصَابَہُ شَبَقٌ یَخَافُ فِیہِ عَلَی نَفْسِہِ ، وَمَعَہُ امْرَأَتُہُ ، فَلْیَقَعْ عَلَیْہَا إِنْ شَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٥٠) حضرت عطا فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر نے ایک سفر میں اپنے گھر والوں سے جماع کیا حالانکہ ان کے پاس پانی نہ تھا۔
(۱۰۵۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ کَانَ فِی سَفَرٍ ، فَوَطِیئَ أَہْلَہُ وَلَیْسَ عِنْدَہُ مَائٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٥١) حضرت ابو عبیدہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی ایسا آدمی جماع کرے جس کے پاس پانی نہ ہو۔
(۱۰۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُجَامِعَ وَہُوَ لاَ یَجِدُ الْمَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی سفر میں ہو اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہو
(١٠٥٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضرت ابن عباس کے ساتھ تھے، ان کے ساتھ ان کی ایک باندی بھی تھی۔ وہ ہم سے پیچھے رہ گئے اور اپنی باندی سے جماع کیا، پھر ہمارے ساتھ آ کر مل گئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ ہم نے کہا نہیں، فرمایا مجھے اس کا علم تھا۔ پھر تیمم فرما لیا۔
(۱۰۵۲) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی سَفَرٍ وَمَعَہُ جَارِیَۃٌ لَہُ ، فَتَخَلَّفَ ، فَأَصَابَ مِنْہَا ثُمَّ أَدْرَکَنَا ، فَقَالَ : مَعَکُمْ مَائٌ ؟ قُلْنَا : لاَ ، قَالَ : أَمَا إنِّی قَدْ عَلِمْت ذَاکَ ، فَتَیَمَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے ؟
(١٠٥٣) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو اٹھے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ پانی میں داخل نہ کرے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے ؟
(۱۰۵۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی رَزِینٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَلاَ یَغْمِسْ یَدَہُ فِی الإِنَائِ ، حَتَّی یَغْسِلَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ۔ (مسلم ۲۳۳۔ ابوداؤد ۱۰۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے ؟
(١٠٥٤) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو برتن سے اپنے ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں رات گزاری ہے ؟
(۱۰۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنْ نَوْمِہِ ، فَلْیُفْرِغْ عَلَی یَدِہِ مِنْ إنَائِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَإِنَّہُ لاَ یَدْرِی أَیْنَ بَاتَتْ یَدُہُ۔ (مسلم ۲۳۳۔ ترمذی۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے ؟
(١٠٥٥) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے۔
(۱۰۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ ، فَلاَ یُدْخِلْ یَدَہُ فِی الإِنَائِ حَتَّی یَغْسِلَہَا۔ (احمد ۵۰۷۔ مسلم ۲۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے ؟
(١٠٥٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی نیند سے بیدار ہو تو ہاتھ کو دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے۔
(۱۰۵۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا اسْتَیْقَظَ الرَّجُلُ مِنْ نَوْمِہِ ، فَلاَ یُدْخِلْ یَدَہُ فِی الإِنَائِ حَتَّی یَغْسِلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے ؟
(١٠٥٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ سو یا ہوا اور بیدار ہونے والا برابر ہیں جب اس پر وضو واجب ہو تو ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے۔
(۱۰۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : النَّائِمُ وَالْمُسْتَیْقِظُ سَوَائٌ ، إذَا وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ ، فَلاَ یُدْخِلْ یَدَہُ فِی الإِنَائِ حَتَّی یَغْسِلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ داخل کر سکتا ہے ؟
(١٠٥٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ کے شاگردوں کے سامنے حضرت ابوہریرہ کی حدیث بیان کی جاتی تو فرماتے کہ ابوہریرہ اس مہر اس کا کیا کریں گے جو مدینہ میں ہے۔
مہر اس چٹان کو کہا جاتا ہے جس میں بہت سا پانی سما جاتا ہے۔ اس سے پانی کے حوض بنائے جاتے ہیں۔ (النھایۃ ٥/٢٥٩)
مہر اس چٹان کو کہا جاتا ہے جس میں بہت سا پانی سما جاتا ہے۔ اس سے پانی کے حوض بنائے جاتے ہیں۔ (النھایۃ ٥/٢٥٩)
(۱۰۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ إذَا ذُکِرَ عِنْدَہُمْ حَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالُوا : کَیْفَ یَصْنَعُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ بِالْمِہْرَاسِ الَّذِی بِالْمَدِینَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک آدمی بیت الخلاء سے نکل کر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں داخل کر سکتا ہے
(١٠٥٩) حضرت عبیدہ بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد اپنا ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں داخل کردیا کرتے تھے۔
(۱۰۵۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ عَبِیدَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُدْخِلُ یَدَہُ فِی الإِنَائِ إذَا خَرَجَ مِنَ الْمَخْرَجِ ، قَبْلَ أَنْ یَغْسِلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک آدمی بیت الخلاء سے نکل کر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں داخل کر سکتا ہے
(١٠٦٠) حضرت ابن سرین بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد اپنا ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں داخل کردیا کرتے تھے۔
(۱۰۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ یَخْرُجُ مِنَ الْخَلاَئِ ، ثُمَّ یَضَعُ یَدَہُ فِی الإِنَائِ قَبْلَ أَنْ یَغْسِلَہَا۔
তাহকীক: