মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১২০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اللہ اس شخص کو پاک نہ کرے جو غسل خانے میں پیشاب کرے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر پانی بہہ رہا ہو تو کوئی حرج نہیں۔
(۱۲۰۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : مَا طَہَّرَ اللَّہُ رَجُلاً یَبُولُ فِی مُغْتَسَلِہِ ، وَقَالَ عَطَائٌ : إذَا کَانَ یَسِیلُ فَلاَ بَأْسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٢) حضرت زاذان اور حضرت میسرہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۲۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ وَمَیْسَرَۃَ: أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یَبُولَ الرَّجُلُ فِی الْمُغْتَسَلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٣) حضرت حسن غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۲۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ یَکْرَہُ أَنْ یَبُولَ الرَّجُلُ فِی مُغْتَسَلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٤) حضرت حسن غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور بکر بن عبداللہ فرماتے تھے کہ اس سے وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔
(۱۲۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ یَکْرَہُ أَنْ یَبُولَ فِی مُغْتَسَلِہِ ۔ قَالَ : وقَالَ بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ : کَانَ یَقُولُ : ہُوَ یُہَیِّجُ الْوَسْوَسَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٥) حضرت عبد ربہ بن ابی راشد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ریطہ سے پوچھا کہ کیا حضرت انس حمام میں پیشاب کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے بتایا نہیں بلکہ میں ان کے لیے تانبے کا برتن رکھتی تھی، اس میں پیشاب کرتے تھے۔
(۱۲۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ أَبِی رَاشِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِرَیْطَۃَ سُرِّیَّۃِ أَنَسٍ : کَانَ أَنَسٌ یَبُولُ فِی مُسْتَحَمِّہِ؟ قَالَتْ : لاَ ، کُنْتُ أَضَعُ لَہُ تَوْرًا فَیَبُولُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٦) حضرت عبداللہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۲۰۶) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ عِیسَی ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ الْبَوْلَ فِی الْمُغْتَسَلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٧) حضرت افلح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کو غسل خانے میں پیشاب کرتے دیکھا ہے۔
(۱۲۰۷) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ أَفْلَحَ ، قَالَ : رَأَیْتُ الْقَاسِمَ یَبُولُ فِی مُغْتَسَلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٨) حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے سے وسوسے آتے ہیں۔
(۱۲۰۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ صُہْبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِیّ یَقُولُ : الْبَوْلُ فِی الْمُغْتَسَلِ یَأْخُذُ مِنْہُ الْوَسْوَاسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک غسل خانہ میں پیشاب کرنا مکروہ ہے
(١٢٠٩) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے کو پاگل پن کے ڈر سے مکروہ قرار دیا گیا ہے۔
(۱۲۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَمَّنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ: إنَّمَا کُرِہَ الْبَوْلُ فِی الْمُغْتَسَلِ، مَخَافَۃَ اللَّمَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا (مقدس نام نقش کردہ) انگوٹھی کو بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے ؟
(١٢١٠) حضرت عثمان بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی انگوٹھی پہن کر بیت الخلاء میں داخل ہو یا بیوی سے جماع کرے، حالانکہ اس پر لفظ اللہ لکھا ہوا ہو
(۱۲۱۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَلْبَسَ الرَّجُلُ الْخَاتَمَ ، وَیَدْخُلَ بِہِ الْخَلاَئَ ، وَیُجَامِعَ فِیہِ ، وَیَکُونَ فِیہِ اسْمُ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا (مقدس نام نقش کردہ) انگوٹھی کو بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے ؟
(١٢١١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس جب بیت الخلاء میں داخل ہونے لگتے تو اپنی انگوٹھی مجھے پکڑا دیتے۔
(۱۲۱۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ زَمْعَۃَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ وَہْرَامَ ، عْن عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إذَا دَخَلَ الْخَلاَئَ نَاوَلَنِی خَاتَمَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا (مقدس نام نقش کردہ) انگوٹھی کو بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے ؟
(١٢١٢) حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین (اس شخص کے بارے میں جو بیت الخلاء میں اپنی انگوٹھی لے کر داخل ہو جس پر لفظ اللہ لکھا ہے) فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۲۱۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَابْنِ سِیرِینَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَدْخُلُ الْمَخْرَجَ وَفِی یَدِہِ خَاتَمٌ فِیہِ اسْمُ اللہِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا (مقدس نام نقش کردہ) انگوٹھی کو بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے ؟
(١٢١٣) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی کوئی ایسی انگوٹھی لے کر بیت الخلاء میں داخل ہو جس پر لفظ اللہ لکھا ہے تو انگوٹھی کا رخ ہتھیلی کی طرف کر کے مٹھی بند کرلے۔
(۱۲۱۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی رَوَّادٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : إذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْخَلاَئَ وَعَلَیْہِ خَاتَمٌ فِیہِ ذِکْرُ اللہِ تَعَالَی جَعَلَ الْخَاتَمَ مِمَّا یَلِی بَطْنَ کَفِّہِ ، ثُمَّ عَقَدَ عَلَیْہِ بِإِصْبَعِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا (مقدس نام نقش کردہ) انگوٹھی کو بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے ؟
(١٢١٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد جب بیت الخلاء میں داخل ہونے لگتے تو اپنی انگوٹھی اتار کر اپنی بیوی کو دے دیا کرتے تھے۔
(۱۲۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُد إذَا دَخَلَ الْخَلاَئَ ، نَزَعَ خَاتَمَہُ فَأَعْطَاہُ امْرَأَتَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا (مقدس نام نقش کردہ) انگوٹھی کو بیت الخلاء میں لے جایا جا سکتا ہے ؟
(١٢١٥) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں ایسی انگوٹھی لے جانا مکروہ ہے جس پر لفظ اللہ لکھا ہو۔
(۱۲۱۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ لِلإِنْسَانِ أَنْ یَدْخُلَ الْکَنِیفَ ، وَعَلَیْہِ خَاتَمٌ فِیہِ اسْمُ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
(١٢١٦) حضرت ابن علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی نجیح سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو بیت الخلاء میں سفید دراہم (چاندی) لے کر داخل ہو تو فرمایا کہ حضرت مجاہد اسے ناپسند سمجھتے تھے۔
(۱۲۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ أَبِی نَجِیحٍ ؛ عَنِ الرَّجُلِ یَدْخُلُ الْخَلاَئَ وَمَعَہُ الدَّرَاہِمُ الْبِیضُ ؟ فَقَالَ : کَانَ مُجَاہِدٌ یَکْرَہُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
(١٢١٧) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی بیت الخلاء میں سفید ! اس زمانے میں دراہم پر اللہ تعالیٰ کا نام یا کوئی آیت قرآنی لکھی ہوتی تھی، اس لیے اہل علم نے انھیں بیت الخلاء میں ساتھ لے جانے کو مکروہ قرار دیا تھا۔ دراہم لے کر داخل ہو۔ جبکہ قاسم بن محمد بیت الخلاء میں لے جانے کو مکروہ خیال کرتے تھے، جبکہ ان کے ذریعے خریدو فروخت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۲۱۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَدْخُلَ الرَّجُلُ الْخَلاَئَ وَمَعَہُ الدَّرَاہِمُ الْبِیضُ ، قَالَ : وَکَانَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَکْرَہُہُ ، وَلاَ یَرَی بِالْبَیْعِ وَالشِّرَائِ بِہَا بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
(١٢١٨) حضرت محمد بن عبدالرحمن نے جب بیت الخلاء میں جانا ہوتا اور ان کے پاس سفید دراہم ہوتے تو کسی کو پکڑا دیتے تھے جو ان کے وضو کرنے تک انھیں تھامے رکھتا تھا۔
(۱۲۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ إذَا دَخَلَ الْخَلاَئَ وَمَعَہُ الدَّرَاہِمُ، أَعْطَاہَا إنْسَانًا یَمْسِکُہَا حَتَّی یَتَوَضَّأَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
(١٢١٩) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ ایک آدمی پیشاب کررہا ہے لیکن اس کے پاس سفید دراہم بھی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا لوگوں کے لیے مال کی حفاظت بھی تو ضروری ہے۔
(۱۲۱۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَأَلْتُہُ عَنِ الرَّجُلِ یَبُولُ وَمَعَہُ الدَّرَاہِمُ الْبِیضُ ؟ قَالَ : لَیْسَ لِلنَّاسِ بُدٌّ مِنْ حِفْظِ أَمْوَالِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منقش دراہم کو بیت الخلاء میں ساتھ لے جانا کیسا ہے ؟
(١٢٢٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ رفع حاجت کے دوران دراہم کسی تھیلی میں یا میری جیب میں ہوں۔
(۱۲۲۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: أَحَبُّ إلَیَّ أَنْ یَکُونَ بَیْنَ جِلْدِی ، أَوْ کَفِّی ، وَبَیْنَہُمَا ثَوْبٌ۔
তাহকীক: