মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১২২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو کے منقش دراہم کو چھونے کا حکم
(١٢٢١) حضرت ابراہیم بغیر وضو سفید دراہم کو ہاتھ لگانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۱۲۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یمسّ الدِّرْہَمَ الأَبْیَضَ وَہُوَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو کے منقش دراہم کو چھونے کا حکم
(١٢٢٢) حضرت قاسم بغیر وضو سفید درہم کو ہاتھ لگانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۱۲۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِمَسِّ الدِّرْہَمِ الأَبْیَضِ وَہُوَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو کے منقش دراہم کو چھونے کا حکم
(١٢٢٣) حضرت ابو الہیثم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سفید دراہم کو بلا وضو ہاتھ لگانے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اسے ناپسند فرمایا۔
(۱۲۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی الْہَیْثُمِ ، قَالَ : سَأَلْتُ إبْرَاہِیمَ عَنِ الرَّجُلِ یَمَسُّ الدَّرَاہِمَ الْبِیضَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ ؟ فَکَرِہَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو کے منقش دراہم کو چھونے کا حکم
(١٢٢٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ بلا وضو انھیں چھونے میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۲۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: لاَ بَأْسَ أَنْ یَمَسَّہَا عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو کے منقش دراہم کو چھونے کا حکم
(١٢٢٥) حضرت ابن سیرین بلاوضو سفید دراہم کو چھونا مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۲۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ رُبَیع ، قَالَ : کَرِہَہُ ابْنُ سِیرِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں منقش دراہم کو چھونا کیسا ہے ؟
(١٢٢٦) حضرت عامر اور حضرت سالم فرماتے ہیں کہ جن دراہم پر کوئی آیت منقوش ہو انھیں حالت جنابت میں ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عطاء اور حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ اگر کپڑے کی تھیلی میں بند ہوں تو جنبی انھیں ہاتھ لگا سکتا ہے۔
(۱۲۲۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ وَسَالِمٍ قَالاَ : لاَ یَمَسُّ الرَّجُلُ الدَّرَاہِمَ فِیہَا کِتَابُ اللہِ وَہُوَ جُنُبٌ، قَالَ: وَقَالَ عَطَائٌ وَالْقَاسِمُ : یَمَسُّہَا إذَا کَانَتْ مَصْرُورَۃً فِی خِرْقَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے ؟
(١٢٢٧) حضرت ابن عباس اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی آدمی بیت الخلاء میں بیٹھے ہوئے یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لے۔ اس لیے کہ یہ عظمت الٰہی کے خلاف ہے۔
(۱۲۲۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ قَالَ : یَکْرَہُ أَنْ یُذْکَرَ اللَّہَ وَہُوَ جَالِسٌ عَلَی خَلاَئِہ، وَالرَّجُلُ یُوَاقِعُ امْرَأَتَہُ ، لأَنَّہُ ذُو الْجَلاَلِ یُجَلُّ عَنْ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے ؟
(١٢٢٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ فرشتے تمہاری خلا کی جگہ نہیں آتے۔
(۱۲۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : لاَ تَشْہَدُ الْمَلاَئِکَۃُ عَلَی خَلاَئِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے ؟
(١٢٢٩) حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ دو جگہیں ایسی ہیں جہاں بندہ اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے۔ ایک جب بیوی سے ہم بستری کرے تو اللہ کے نام سے ابتداء کرے (پھر اللہ کا نام نہ لے) دوسرا جب بیت الخلاء میں ہو۔
(۱۲۲۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَیَّارٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : اثْنَتَانِ لاَ یَذْکُرُ اللَّہَ الْعَبْدُ فِیہِمَا : إذَا أَتَی الرَّجُلُ أَہْلَہُ یَبْدَأُ فَیُسَمِّی اللَّہَ ، وَإِذَا کَانَ فِی الْخَلاَئِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے ؟
(١٢٣٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ چار لوگ قرآن کی تلاوت نہیں کریں گے : جو بیت الخلاء میں ہو جو جماع کررہا ہو جنبی حائضہ۔ جنبی اور حائضہ ایک آیت یا اس سے کم پڑھ سکتے ہیں۔
(۱۲۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : أَرْبَعَۃٌ لاَ یَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ : عِنْدَ الْخَلاَئِ ، وَعِنْدَ الْجِمَاعِ ، وَالْجُنُبُ ، وَالْحَائِضُ ، إِلاَّ الْجُنُبَ وَالْحَائِضَ ، فَإِنَّہُمَا یَقْرَآنِ الآیَۃَ وَنَحْوَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں یا دورانِ جماع اللہ تعالیٰ کا نام لینا کیسا ہے ؟
(١٢٣١) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ اے رب تو قریب ہے کہ میں تجھ سے سرگوشی کروں یا تو دور ہے کہ میں تجھے پکاروں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! جو میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ہم نشین ہوتا ہوں۔ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! بعض اوقات ہم ایسی حالت میں ہوتے ہیں جس میں تیرا ذکر تیری عظمت اور تیرے جلال کے منافی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون سی حالت ہے ؟ عرض کیا جنابت اور رفع حاجت کی حالت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! ہر حال میں میرا ذکر کرو۔
(۱۲۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَرْوَانِ الأَسْلَمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ : أَیْ رَبِّ أَقَرِیبٌ أَنْتَ فَأُنَاجِیک ، أَمْ بَعِیدٌ فَأُنَادِیک ؟ قَالَ : یَا مُوسَی ، أَنَا جَلِیسُ مَنْ ذَکَرَنِی ، قَالَ : یَا رَبِّ فَإِنَّا نَکُونُ مِنَ الْحَالِ عَلَی حَالٍ نُعَظِّمُک ، أَوْ نُجِلُّک أَنْ نَذْکُرَک عَلَیْہَا ؟ قَالَ : وَمَا ہِیَ ؟ قَالَ : الْجَنَابَۃُ وَالْغَائِطُ ، قَالَ : یَا مُوسَی ، اُذْکُرْنِی عَلَی کُلِّ حَالٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمد للہ کہے یا نہ کہے ؟
(١٢٣٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمدللہ کہے۔
(۱۲۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی الرَّجُلِ یَعْطِسُ عَلَی الْخَلاَئِ ، قَالَ : یَحْمَدُ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمد للہ کہے یا نہ کہے ؟
(١٢٣٣) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمدللہ کہے کیونکہ یہ کلمات اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں۔
(۱۲۳۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یَحْمَدُ اللَّہَ ، فَإِنَّہُ یَصْعَدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمد للہ کہے یا نہ کہے ؟
(١٢٣٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ بیت الخلاء میں چھینکنے والا دل میں الحمدللہ کہے۔
(۱۲۳۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : یَحْمَدُ اللَّہَ فِی نَفْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمد للہ کہے یا نہ کہے ؟
(١٢٣٥) حضرت محمد سے بیت الخلاء میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ الحمدللہ کہے یا نہ کہے ؟ فرمایا میں اللہ کے ذکر میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
(۱۲۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ؛ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَعْطِسُ فِی الْخَلاَئِ ؟ قَالَ : لاَ أَعْلَمُ بَأْسًا بِذِکْرِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمد للہ کہے یا نہ کہے ؟
(١٢٣٦) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ نے بیت الخلاء میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں فرمایا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اللہ کا ذکر صرف پاکیزہ جگہ کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ الحمدللہ کہے گا۔
(۱۲۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَعْطِسُ فِی الْخَلاَئِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَیْسَرَۃَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَذْکُرَ اللَّہَ إِلاَّ فِی مَکَان طَیِّبٍ ۔ قَالَ : قَالَ مَنْصُورٌ : قَالَ إبْرَاہِیمُ : یَحْمَدُ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت الخلاء میں چھینکنے والا الحمد للہ کہے یا نہ کہے ؟
(١٢٣٧) حضرت ابن ابی ملیکہ نے بیت الخلاء میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں فرمایا کہ وہ الحمدللہ کہے گا۔
(۱۲۳۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ أَخبَرنَا قَزَعَۃُ بْنُ سُوَیْد ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ الرَّجُلِ یَعْطِسُ وَہُوَ عَلَی الْخَلاَئِ ؟ قَالَ : یَحْمَدُ اللَّہَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بکری یا اونٹ کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٣٨) حضرت نافع اور حضرت جعفر کے والد اونٹ کے پیشاب کے کپڑے پر لگ جانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
(۱۲۳۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، وَنَافِعٍ ، قَالَ : کَانَا لاَ یَرَیَانِ بَأْسًا بِبَوْلِ الْبَعِیرِ ، قَالَ : وَأَصَابَنِی ؟ فَلَمْ یَرَیَا بِہِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بکری یا اونٹ کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٣٩) حضرت عطاء سے کسی نے پوچھا کہ اگر اونٹ کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا اگر وہ تمہیں بھی لگ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے تھے کہ میں تو سارا پیشاب دھوؤں گا۔
(۱۲۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ بَوْلِ الْبَعِیرِ یُصِیبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ : وَمَا عَلَیْک لَوْ أَصَابَک ؟ وَقَالَ حَمَّادٌ : إنِّی لأَغْتَسِلُ الْبَوْلَ کُلَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بکری یا اونٹ کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٤٠) حضرت حکم نے حضرت ابراہیم سے اونٹ کے پیشاب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ کیا اس کو پیا نہیں جاتا اور کیا اسے علاج کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا !
(۱۲۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : سَأَلَ الْحَکَمُ بْنُ صَفْوَانَ إِبْرَاہِیمَ عَن بَوْلِ الْبَعِیرِ یُصِیبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ ؟ قَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ ، أَلَیْسَ یُشْرَبُ وَیُتَدَاوَی بِہِ۔
তাহকীক: