মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৩০ টি

হাদীস নং: ১২৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٦١) حضرت ابو عثمان کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان پر چڑیا کی بیٹ گرگئی اور انھوں نے اسے ہٹا دیا۔
(۱۲۶۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللہِ إذْ وَقَعَ عَلَیْہِ خُرْئُ عُصْفُورٍ ، فَقَالَ لَہُ : ہَکَذَا بِیَدِہِ ، نَفَضَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٦٢) حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ حضرت عطا پر مکہ کے ایک پرندے نے بیٹ کردی تو انھوں نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
(۱۲۶۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : رَأَیْتُہُ ، وَأُلْقِیَ عَلَیْہِ طَیْرٌ مِنْ طَیْرِ مَکَّۃَ ، فَجَعَلَ یَمْسَحُہُ بِیَدِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٦٣) حضرت اشعث کہتے ہیں کہ ایک الّو نے حضرت حسن پر بیٹ کردی۔ ایک آدمی نے کہا کہ ہم آپ کے لیے پانی لے آتے ہیں آپ اسے دھو لیجئے۔ فرمایا اس کی ضرورت نہیں پھر اسے ہاتھ سے صاف کردیا۔
(۱۲۶۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَقَطَتْ ہَامَۃٌ عَلَی الْحَسَنِ فَذَرَقَتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ : نَأْتِیک بِمَائٍ تَغْسِلُہُ ؟ فَقَالَ : لاَ ، وَجَعَلَ یَمْسَحُہُ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٦٤) حضرت اشہب سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یزید بن عبداللہ کو دیکھا کہ دورانِ نماز ایک پرندے نے ان پر بیٹ کردی تو انھوں نے اس کو صاف کر کے اپنی نماز کو جاری رکھا۔
(۱۲۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ السَّعْدِیِّ ، قَالَ : رَأَیْتُ یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، أَبَا الْعَلاَئِ ذَرَقَ عَلَیْہِ طَیْرٌ وَہُوَ یُصَلِّی ، فَمَسَحَہُ ثُمَّ مَضَی فِی صَلاَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٦٥) حضرت حنظلہ فرماتے ہیں ایک پرندے نے حضرت سالم پر بیٹ کردی، انھوں نے اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۲۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، قَالَ : رَأَیْتُ سَالِمًا سَلَحَ عَلَیْہِ طَیْرٌ فَمَسَحَہُ وَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٦٦) حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد اور حضرت حکم سے پرندے کی بیٹ کے بارے میں پوچھا تو دونوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۱۲۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، وَحَمَّادًا عَنْ خُرْئِ الطَّیْرِ ؟ فَقَالاَ : لاَ بَأْسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغی کی بیٹ کا حکم
(١٢٦٧) حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوا تو اس نے اپنے کپڑوں پر مرغی کی بیٹ لگی ہوئی دیکھی، اب وہ کیا کرے ؟ فرمایا مرغی ایک پرندہ ہی تو ہے۔
(۱۲۶۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الذَّیَّالِ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ صَلَّی ، فَلَمَّا قَضَی صَلاَتَہُ أَبْصَرَ فِی ثَوْبِہِ خُرْئَ دَجَاجٍ ، فَقَالَ : إنَّمَا ہُوَ طَیْرٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرغی کی بیٹ کا حکم
(١٢٦٨) حضرت حماد مرغی کی بیٹ کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
(۱۲۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ غَیْلاَنَ ، عَنْ حَمَّادٍ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ ذَرْقَ الدَّجَاجِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٦٩) حضرت عروہ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی جب بھی سوئے باوضو ہو کر سوئے۔
(۱۲۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ لاَ یَنَامَ إِلاَّ عَلَی طَہَارَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧٠) حضرت حسن اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ آدمی جب بھی سوئے باوضو ہو کر سوئے۔
(۱۲۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ لاَ یَنَامَ إِلاَّ عَلَی طَہَارَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتے ہوئے باوضو ہو کر سوئے اس کا بستر اٹھنے تک اس کے لیے مسجد کے حکم میں ہے۔
(۱۲۷۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : مَنْ بَاتَ طَاہِرًا عَلَی ذِکْرٍ ، کَانَ عَلَی فِرَاشِہِ مَسْجِدًا لَہُ حَتَّی یَقُومَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر تم سے ہو سکے تو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے، اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہوئے باوضو ہو کر سوؤ، کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ روحوں کو اسی حال میں اٹھایا جائے گا جس حال میں انھیں قبض کیا گیا۔
(۱۲۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَبِیتَ طَاہِرًا عَلَی ذِکْرٍ ، مُسْتَغْفِرًا لِذُنُوبِہِ ، فَإِنَّہُ بَلَغَنَا أَنَّ الأَرْوَاحَ تُبْعَثُ عَلَی مَا قُبِضَتْ عَلَیْہِ۔ (بخاری ۱۲۶۵۔ مسلم ۹۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧٣) حضرت ابو صالح حنفی فرماتے ہیں جب آدمی باوضو ہو کر اپنے بستر کی طرف آتا ہے تو فرشتے اس کے بستر کو ہاتھ لگاتے ہیں۔
(۱۲۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : إذَا آوَی الرَّجُلُ إلَی فِرَاشِہِ طَاہِرًا مَسَحَہُ الْمَلَکُ۔ (ترمذی ۳۵۲۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧٤) حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ جو شخص باوضو ہو کر سوئے اور رات کو اس کی آنکھ کھلے تو دنیا و آخرت کی جو چیز وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمائیں گے۔
(۱۲۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ شَہْرٍ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ، قَالَ : مَنْ بَاتَ ذَاکِرًا طَاہِرًا ، ثُمَّ تَعَارَّ مِنَ اللَّیْلِ ، لَمْ یَسْأَلِ اللَّہَ حَاجَۃً لِلدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ إِلاَّ أَعْطَاہُ اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧٥) حضرت ابن عباس جب رات کو بیدار ہوتے تو تیمم فرماتے تھے۔
(۱۲۷۵) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : حُدِّثْت عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ إذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ تَیَمَّم۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ باوضو ہو کر سونا چاہیے
(١٢٧٦) حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص باوضو ہو کر بستر پر لیٹے اور سونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہے اور بیدار ہو کر سب سے پہلے یہ کہے ” اے اللہ ! تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میری مغفرت فرما “ تو وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے سانپ اپنی کھال سے نکل جاتا ہے۔
(۱۲۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ أخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ، قَالَ : إذَا آوَی الرَّجُلُ إلَی فِرَاشِہِ عَلَی طُہْرٍ ، فَذَکَرَ اللَّہَ حَتَّی تَغْلِبَہُ عَیْنَاہُ ، وَکَانَ أَوَّلُ مَا یَقُولُ حِینَ یَسْتَیْقِظُ : سُبْحَانَک لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ اغْفِرْ لِی ، انْسَلَخَ مِنْ ذُنُوبِہِ کَمَا تَنْسَلِخُ الْحَیَّۃُ مِنْ جِلْدِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
(١٢٧٧) حضرت علی سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی آدمی تازہ گوشت کو ہاتھ لگائے اور اس کے ہاتھ پر کچھ لگ بھی جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس پر وضو لازم نہیں۔
(۱۲۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ عَلِیٌّ عَنِ الرَّجُلِ یَمَسُّ اللَّحْمَ النِّیء ، فَیُصِیبُ یَدَہُ مِنْہُ شَیْئٌ ؟ قَالَ : لاَ عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَتَوَضَّأَ إذَا مَسَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
(١٢٧٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اس پر وضو لازم نہیں البتہ ہاتھ دھولے۔
(۱۲۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ وُضُوئٌ ، إِلاَّ أَنْ یَغْسِلَ یَدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
(١٢٧٩) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے والا شخص وضو کرے گا۔
(۱۲۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی ہِلاَلٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : یَتَوَضَّأُ مِنَ اللَّحْمِ النِّیء ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
(١٢٨٠) حضرت حسن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو تازہ گوشت کو ہاتھ لگائے تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کا وضو بھی نہیں ٹوٹا۔
(۱۲۸۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ مَسَّ لَحْمًا نَیْئًا، قَالَ: لاَ بَأْسَ بِہِ، وَلَیْسَ عَلَیْہِ وُضُوئٌ۔
tahqiq

তাহকীক: