মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১২৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تازہ گوشت کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا
(١٢٨١) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ہاتھ پر اس کا نشان لگ جائے تو اسے دھولے ورنہ دھونے کی بھی ضرورت نہیں۔
(۱۲۸۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إِنْ کَانَ أَصَابَ یَدَہُ أَثَرٌ مِنْہُ فَلْیَغْسِلْ یَدَہُ ، وَإِلاَّ فَلاَ یَغْسِلْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگا ہے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٨٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگا ہے تو پورا کپڑا دھویا جائے گا۔
(۱۲۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ غَالِبٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ۔ وَعَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یُصِیبُ ثَوْبَہُ الْبَوْلُ فَلاَ یُدْری أَیْنَ ہُوَ ، قَالاَ : یَغْسِلُ الثَّوْبَ کُلَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگا ہے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٨٣) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ پورا کپڑا دھویا جائے گا۔
(۱۲۸۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : یَغْسِلُ الثَّوْبَ کُلَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگا ہے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٨٤) حضرت عائشہ اس کپڑے کے بارے میں جس پر پیشاب لگ جائے فرماتی ہیں کہ اس پر پانی چھڑک لیا جائے۔
(۱۲۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْن حَفْصٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ابْنَۃِ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ فِی الْبَوْلِ یُصِیبُ الثَّوْبَ ، قَالَتْ : تَرُشُّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگا ہے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٨٥) حضرت حسن سے اس کپڑے کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر پیشاب لگ جائے لیکن اس کی جگہ معلوم نہ ہو تو فرمایا کہ سارا کپڑا دھویا جائے گا۔
(۱۲۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ سُئِلَ عَنِ الثَّوْبِ یُصِیبُہُ الْبَوْلُ ، فَلاَ یُدْری أَیْنَ مَکَانُہُ ؟ قَالَ : إذَا اسْتَیْقَنَ غَسَلَہُ کُلَّہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر پیشاب کپڑے پر لگ جائے اور یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگا ہے تو کیا کیا جائے ؟
(١٢٨٦) حضرت حکم ایسے کپڑے کے بارے میں جس پر پیشاب لگ جائے لیکن اس کی جگہ کا علم نہ ہو فرماتے ہیں کہ اس پر پانی چھڑک لے۔ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس پر پانی چھڑک لے اور حضرت ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ اس جگہ کو ڈھونڈ کر دھوئے۔
(۱۲۸۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ فِی رَجُلٍ أَصَابَ ثَوْبَہُ بَوْلٌ فَخَفِیَ عَلَیْہِ ، قَالَ : یَنْضَحُہُ ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : وَأَخْبَرَنِی عَبْدُ الْخَالِقِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، أَنَّہُ قَالَ : یَنْضَحُہُ ۔ وَسَأَلْت ابْنَ شُبْرُمَۃَ ، فَقَالَ : یَتَحَرَّی ذَلِکَ الْمَکَانَ وَیَغْسِلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٨٧) حضرت ابراہیم اس عورت کے بارے میں جو اپنے ہاتھوں پر بغیر وضو کے مہندی لگائے اور پھر نماز کا وقت ہوجائے فرماتے ہیں کہ نماز پڑھنے کے لیے اسے ہاتھوں سے مہندی اتارنی ہوگی۔
(۱۲۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْمَرْأَۃِ تَخْضِبُ یَدَیْہَا عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ ، ثُمَّ تَحْضُرُہَا الصَّلاَۃُ ، قَالَ : تَنْزِعُ مَا عَلَی یَدَیْہَا إذَا أَرَادَتْ أَنْ تُصَلِّیَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٨٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب عورت نے مہندی لگانی ہو تو بہتر یہ ہے کہ حالت حیض میں لگائے اگر پاکی کی حالت میں مہندی لگائے تو پھر بھی کوئی حرج نہیں سوتے وقت لگا لے۔ اگر اس کا وضو ٹوٹ جائے تو مہندی کو اتار کر وضو کرلے۔
(۱۲۸۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ تَخْتَضِبَ الْمَرْأَۃُ إِذَا اخْتَضَبَتْ وَہِیَ حَائِضٌ، فَإِنِ اخْتَضَبَتْ وَہِیَ غَیْرُ حَائِضٍ فَلاَ بَأْسَ، غَیْرَ أَنَّہَا إذَا نَامَتْ، أَوْ أَحْدَثَتْ أَطْلَقَتْہُ وَتَوَضَّأَتْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٨٩) حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ کیا میں مہندی لگا کر نماز پڑھ سکتی ہوں ؟ فرمایا اس کو اچھی طرح اتار کر نماز پڑھو۔
(۱۲۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، رَضِیعٍ کَانَ لِعَائِشَۃَ ، قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَۃٌ عَائِشَۃَ أمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، أَأُصَلِّی فِی الْخِضَابِ ؟ قَالَتْ : اُسْلُتِیہِ وَارْغِمِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٩٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نماز کے لیے مہندی کو اچھی طرح اتارا کرو۔ میں نماز کے وقت مہندی اتار دیا کرتی تھی، حالانکہ میں تمام لڑکیوں میں سب سے اچھی مہندی لگایا کرتی تھی۔
(۱۲۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ حَیَّۃَ بِنْتِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا قَالَتِ : اُمْرُطِیہِ عِنْدَ الصَّلاَۃِ مَرْطًا ، فَقَدْ کُنْتُ أَفْعَلُہُ ، وَکُنْتُ أَحْسَنَ الْجَوَارِی ، أَوْ أَخَوَاتِی ، خِضَابًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٩١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہماری عورتیں بہت اچھی مہندی لگایا کرتی تھیں، وہ عشاء کے بعد مہندی لگاتیں اور فجر سے پہلے اتار دیا کرتی تھیں۔
(۱۲۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نِسَاؤُنَا یَخْتَضِبْنَ أَحْسَنَ خِضَابٍ ، یَخْتَضِبْنَ بَعْدَ الْعِشَائِ وَیَنْزِعْنَ قَبْلَ الْفَجْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٩٢) حضرت علقمہ عورتوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ حیض کے دنوں میں مہندی لگایا کریں۔
(۱۲۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُ نِسَائَہُ یَخْتَضِبْنَ فِی أَیَّامِ حَیْضِہِنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٩٣) ایک مرتبہ ایک عورت نے حضرت سالم کی طرف کسی کو بھیج کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت نے مہندی لگائی ہو اور نماز کا وقت ہوجائے تو وہ کیا کرے ؟ فرمایا مہندی کو اتار کر وضو کرے پھر نماز پڑھے۔
(۱۲۹۳) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْہُمْ ؛ أَنَّہَا أَرْسَلَتْ إلَی سَالِمٍ تَسْأَلُہُ عَنِ الْخِضَابِ وَتَحْضُرُ الصَّلاَۃَ ؟ فَقَالَ : انْزِعِیہِ وَتَوَضَّئِی وَصَلِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٩٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے دونوں ہاتھ کاٹ دئیے جائیں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مہندی کے اوپر مسح کروں۔
(۱۲۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لأَنْ تُقْطَعَانِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَی الْخِضَابِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی عورت بغیر وضو کے مہندی لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(١٢٩٥) حضرت عطاء اس بات کو بہتر سمجھتے تھے کہ عورت حالت حیض میں مہندی لگائے۔
(۱۲۹۵) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ تَخْتَضِبَ الْمَرْأَۃُ وَہِیَ حَائِضٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹے بچے کے پیشاب کا حکم اگر وہ کپڑے پر لگ جائے
(١٢٩٦) حضرت ام قیس بنت محصن فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک بچے کو لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ بچہ ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ آپ نے پانی منگوا کر پیشاب والی جگہ چھڑک دیا۔
(۱۲۹۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ أُمِّ قَیْسٍ ابْنَۃِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ : دَخَلْت بِابْنٍ لِی عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَأْکُلِ الطَّعَامَ ، فَبَالَ عَلَیْہِ ، فَدَعَا بِمَائٍ فَرَشَّہُ۔
(بخاری ۲۲۳۔ ابوداؤد ۳۷۷)
(بخاری ۲۲۳۔ ابوداؤد ۳۷۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹے بچے کے پیشاب کا حکم اگر وہ کپڑے پر لگ جائے
(١٢٩٧) حضرت لبابہ بنت الحارث فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حسین بن علی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں پر پیشاب کردیا تو میں نے عرض کیا ” اپنے کپڑے مجھے دے دیجئے اور کوئی دوسرے کپڑے پہن لیجئے “ آپ نے فرمایا : ” لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
(۱۲۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ لُبَابَۃَ ابْنَۃِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : بَالَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ فِی حَجْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَعْطِنِی ثَوْبَک وَالْبَسْ ثَوْبًا غَیْرَہُ ، فَقَالَ : إنَّمَا یُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّکَرِ ، وَیُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الأُنْثَی۔ (ابوداؤد ۳۷۸۔ ابن خزیمۃ ۲۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹے بچے کے پیشاب کا حکم اگر وہ کپڑے پر لگ جائے
(١٢٩٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک بچے نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ آپ نے اس پر پانی ڈالا لیکن اسے دھویا نہیں۔
(۱۲۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُتِیَ بِصَبِیٍّ ، فَبَالَ عَلَیْہِ، فَأَتْبَعَہُ الْمَائَ وَلَمْ یَغْسِلْہُ۔ (مسلم ۱۰۲۔ ابن ماجہ ۵۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹے بچے کے پیشاب کا حکم اگر وہ کپڑے پر لگ جائے
(١٢٩٩) حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت حسین بن علی گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے آئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک پر چڑھ گئے اور پیشاب کردیا۔ ہم جلدی سے انھیں پکڑنے کے لیے آگے بڑے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرا بچہ، میرا بچہ “ پھر پانی منگوا کر اس کے اوپر ڈال دیا۔
(۱۲۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَخِیہِ عِیسَی ، عَنْ أَبِیہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا ، فَجَائَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ یَحْبُو حَتَّی جَلَسَ عَلَی صَدْرِہِ ، فَبَالَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَابْتَدَرْنَاہُ لِنَأْخُذَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ابْنِی ابْنِی ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ ، فَصَبَّہُ عَلَیْہِ۔ (طحاوی ۹۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹے بچے کے پیشاب کا حکم اگر وہ کپڑے پر لگ جائے
(١٣٠٠) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام الفضل کے ہاں تشریف لائے۔ ام الفضل کے پاس حضرت حسین تھے، انھوں نے حضرت حسین حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیے تو انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک پر پیشاب کردیا۔ حضرت ام الفضل بچے کو پکڑنے لگیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
(۱۳۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی أُمِّ الْفَضْلِ ، وَمَعَہَا حُسَیْنٌ فَنَاوَلَتْہُ إیَّاہُ ، فَبَالَ عَلَی بَطْنِہِ ، أَوْ عَلَی صَدْرِہِ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذہ مِنْہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُزْرِمِی ابْنِی ، لاَ تُزْرِمِی ابْنِی ، فَإِنَّ بَوْلَ الْغُلاَمِ یُرْشَحُ ، أَوْ یُنْضَحُ ، وَبَوْلَ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ۔
তাহকীক: