মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১৪৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
(١٤٦١) حضرت عمر فرماتے ہیں جو اپنا ناک صاف کرے یا بغل میں خارش کرے، اسے چاہیے کہ وضو کرے۔
(۱۴۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : مَنْ نَقَّی أَنْفَہُ ، أَوْ مَسَّ إبْطَہُ تَوَضَّأَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
(١٤٦٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ بغل کے بال اکھیڑنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۱۴۶۲) حَدَّثَنَا خَلفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَیْسَ فِی نَتْفِ الإِبْطِ وُضُوئٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
(١٤٦٣) حضرت حسن سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بغل کو ہاتھ لگائے یا بال اکھیڑے تو انھوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اگر خون نکلا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
(۱۴۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ یَمَسُّ أَنْفَہُ وَیَنْتِفُ إبْطَہُ ؟ فَلَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا ، إِلاَّ أَنْ یُدْمِیَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
(١٤٦٤) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ بغل کو ہاتھ لگانے والا دوبارہ وضو کرے گا، میں نہ یہ کہتا ہوں اور نہ اس بات کو جانتا ہوں۔
(۱۴۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : ہَؤُلاَئِ یَقُولُونَ : مَنْ مَسَّ إبْطَہُ أَعَادَ الْوُضُوئَ ، وَأَنَا أَقُولُ ذَلِکَ ، وَلاَ أَدْرِی مَا ہَذَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
(١٤٦٥) حضرت عبداللہ بن عمرو بغل کے بال اکھیڑنے کے بعد غسل فرماتے تھے۔
(۱۴۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ؛ أَنَّہُ کَانَ یَغْتَسِلُ مِنْ نَتْفِ الإِبْطِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
(١٤٦٦) حضرت عون بن عبداللہ اور حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بغل کو ہاتھ لگائے تو دوبارہ وضو کرے۔
(۱۴۶۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، وَلَیْسَ بِالأَحْمَرِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ، وَالزُّہْرِیِّ قَالاَ : إذَا مَسَّ الرَّجُلُ إبْطَہُ أَعَادَ الْوُضُوئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٦٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب خون بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
(۱۴۶۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا الْمُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا سَالَ الدَّمُ نُقِضَ الْوُضُوئُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٦٨) حضرت حسن صرف اس خون سے وضو ٹوٹنے کے قائل تھے جو بہنے والا ہو۔
(۱۴۶۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی الْوُضُوئَ مِنَ الدَّمِ إِلاَّ مَا کَانَ سَائِلاً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٦٩) حضرت مجاہد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا خون زخم سے باہر نکل آئے لیکن زخم کی جگہ سے تجاوز نہ کرے، فرمایا وہ وضو کرے گا۔
(۱۴۶۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی التَّیْمِیُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَخْرُجُ مِنْ یَدِہِ الدَّمُ ، وَلاَ یُجَاوِزُ الدَّمُ مَکَانَہُ ؟ قَالَ : یَتَوَضَّأُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٧٠) حضرت ابراہیم سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا جب تک خون خارج نہ ہو وضو نہیں ٹوٹتا۔
(۱۴۷۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی التَّیْمِیُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ؛ أَنَّہُ سَأَلَ إبْرَاہِیمَ عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لاَ یَتَوَضَّأُ حَتَّی یَخْرُجَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٧١) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب خون ناک سے نکل کر ظاہر ہوجائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۱۴۷۱) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إذَا بَرَزَ الدَّمُ مِنَ الأَنْفِ فَظَہَرَ ، فَفِیہِ الْوُضُوئُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٧٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ہر ٹپکنے والے خون سے وضو ٹوٹتا ہے۔ حضرت حکم فرماتے ہیں بہنے والے خون سے وضو ٹوٹتا ہے۔
(۱۴۷۲) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُولُ : الْوُضُوئُ وَاجِبٌ مِنْ کُلِّ دَمٍ قَاطِرٍ۔
قَالَ : وَسَمِعْت الْحَکَمَ یَقُولُ : مِنْ کُلِّ دَمٍ سَائِلٍ۔
قَالَ : وَسَمِعْت الْحَکَمَ یَقُولُ : مِنْ کُلِّ دَمٍ سَائِلٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب خون بہہ جائے یا ٹپک جائے یا ظاہر ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا
(١٤٧٣) حضرت مالک بن انس فرماتے ہیں کہ صرف اس چیز سے وضو ٹوٹتا ہے جو سبیلین سے نکلے یعنی پیشاب اور پاخانہ۔
(۱۴۷۳) قَالَ أَبُو بَکْرٍ : سَمِعْت ابْنَ إدْرِیسَ یَقُولُ : سَمِعْت مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ یَقُولُ : لَیْسَ الْوُضُوئُ إِلاَّ مِنَ السَّبِیلَیْنِ ؛ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٧٤) حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب نے اپنے ناک میں انگلی داخل کی تو کچھ خون نکل آیا۔ حضرت سعید نے اسے صاف کردیا اور بغیر وضو کیے نماز پڑھ لی۔
(۱۴۷۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّہُ أَدْخَلَ أَصَابِعَہُ فِی أَنْفِہِ فَخَرَجَ دَمٌ فَمَسَحَہُ فَصَلَّی ، وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٧٥) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ خون کے ایک یا دو قطرے نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے کے قائل نہ تھے۔
(۱۴۷۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَرَی بِالْقَطْرَۃِ وَالْقَطْرَتَیْنِ مِنَ الدَّمِ فِی الصَّلاَۃِ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٧٦) حضرت ابو قلابہ اس پھٹن سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہ تھے جس سے خون بھی نکل آئے۔
(۱۴۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِالشِّقَاقِ یَخْرُجُ مِنْہُ الدَّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٧٧) حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول کے نزدیک اگر آدمی کی ناک سے اتنا کم خون نکلے کہ انگلی سے صاف ہوجائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اگر بہہ جائے یا ٹپک جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۱۴۷۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا بِالدَّمِ إذَا خَرَجَ مِنْ أَنْفِ الرَّجُلِ ، إِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یَفْتِلَہُ بِإِصْبَعِہِ إِلاَّ أَنْ یَسِیلَ ، أَوْ یَقْطُرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٧٨) حضرت بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ ان کے چہرے پر موجود ایک دانے سے خون نکلا انھوں نے اسے انگلیوں سے صاف کردیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھ لی۔
(۱۴۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ عَصَرَ بَثْرَۃً فِی وَجْہِہِ فَخَرَجَ شَیْئٌ مِنْ دَمٍ ، فَحَکَّہُ بَیْنَ إصْبَعَیْہِ ، ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٧٩) حضرت طاوس بہنے والے خون میں بھی وضو کے قائل نہ تھے۔ ان کے نزدیک بس خون کو دھو دینا کافی ہے۔
(۱۴۷۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی فِی الدَّمِ السَّائِلِ وُضُوئًا یَغْسِلُ مِنْہُ الدَّمَ ، ثُمَّ حَسْبُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک خون کے نکلنے میں رخصت ہے
(١٤٨٠) حضرت علاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر میں وضو کرنے کے بعد ڈول پکڑ کر پانی پیوں، اگر رسی کی وجہ سے میرا ہاتھ کٹ جائے اور خون نکل آئے تو میں کیا کروں ؟ فرمایا اس خون کو دھو لو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔
(۱۴۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، فَقُلْتُ : إنِّی أَتَوَضَّأُ وَآخُذُ الدَّلْوَ فَأَسْتَسْقِی بِہِ فَیَخْدِشُنِی الْحَبْلُ ، أَوْ یُصِیبُنِی الْخَدْشُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الدَّمُ ؟ قَالَ : اغْسِلْہُ وَلاَ تَتَوَضَّأْ۔
তাহকীক: