মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১৫৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦١) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت علی حالت جنابت میں مسجد سے گزر جایا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا آپ نے یہ بات کتنا عرصہ پہلے سنی تھی ؟ فرمایا تقریبا پچاس سال پہلے۔
(۱۵۶۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَمُرُّ فِی الْمَسْجِدِ وَہُوَ جُنُبٌ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِمَّنْ سَمِعْت ہَذَا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ قَرِیبًا مِنْ خَمْسِینَ سَنَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٢) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے مسجد میں بیٹھ نہیں سکتا۔ پھر یہ آیت پڑھی { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ } [النساء ٤٣]
(۱۵۶۲) حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : الْجُنُبُ یَمُرُّ فِی الْمَسْجِدِ ، وَلاَ یَجْلِسُ فِیہِ ، ثُمَّ قَرَأَ : {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٣) حضرت عکرمہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۱۵۶۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعیدٍ ۔ وَعَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٤) حضرت ابراہیم نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ } پھر فرمایا کہ اگر جنبی کے پاس کوئی اور راستہ ہو تو مسجد سے نہیں گزر سکتا۔
(۱۵۶۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ} قَالَ : لاَ یَمُرُّ الْجُنُبُ فِی الْمَسْجِدِ إِلاَّ أَنْ لاَ یَجِدَ طَرِیقًا غَیْرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جنبی اور حائضہ مسجد سے گزر سکتے ہیں لیکن اس میں ٹھہر نہیں سکتے۔
(۱۵۶۵) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الحسن ؛ قَالَ : الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ یَمُرَّانِ فِی الْمَسْجِدِ ، وَلاَ یَمْکُثَانِ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٦) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے بیٹھ نہیں سکتا۔
(۱۵۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : الْجُنُبُ یَجْتَازُ فِی الْمَسْجِدِ ، وَلاَ یَجْلِسُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٧) حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ اسلاف میں سے کوئی حالت جنابت میں وضو کر کے مسجد میں داخل ہوتا اور بیٹھ جاتا تھا۔
(۱۵۶۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یُجْنِبُ ، ثُمَّ یَتَوضأ ثُمَّ یَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَیَجِلس فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٨) حضرت عطاء اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ } جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے۔
(۱۵۶۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی قولہ تعالی : {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ} قَالَ : الْجُنُبُ یَمُرُّ فِی الْمَسْجِدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٦٩) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جنبی سوائے حالت مجبوری کے مسجد سے نہیں گزر سکتا۔
(۱۵۶۹) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ؛ قَالَ : لاَ یَمُرُّ الْجُنُبُ فِی الْمَسْجِدِ إِلاَّ أَنْ یُلْجَأَ إلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے مسجد سے گزر سکتا ہے ؟
(١٥٧٠) حضرت بکربن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے کہا کہ اگر میں جنبی ہو جاؤں تو مسجد سے گذر جاؤں یا عبداللہ بن عمیر کے گھر کی طرف سے آؤں ؟ فرمایا اگر مسجد کا راستہ قریب ہو تو مسجد سے گذر جاؤ۔
(۱۵۷۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : تُصِیبُنِی الْجَنَابَۃُ فَأَسْتَطْرِقُ الْمَسْجِدَ ، وَآخُذُ مِنْ قِبَلِ دَارِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَیْرٍ ؟ قَالَ : بَلَ اسْتَطْرِقْ إذَا کَانَ أَقْرَبَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی ایک رات میں زیادہ بیویوں کے پاس جا سکتا ہے ؟
(١٥٧١) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات میں ایک غسل سے زیادہ ازواج مطہرات سے ہم بستری فرمائی۔
(۱۵۷۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، وَابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَی نِسَائِہِ فِی لَیْلَۃٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ۔ (ابوداؤد ۲۲۰۔ ابن حبان ۱۲۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی ایک رات میں زیادہ بیویوں کے پاس جا سکتا ہے ؟
(١٥٧٢) حضرت ابو رافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات میں ایک سے زیادہ بیویوں سے ہم بستری فرمائی اور ہر ایک کے لیے الگ غسل فرمایا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ ایک ہی غسل فرما لیتے تو کافی نہ تھا ؟ فرمایا یہ عمل زیادہ پاکیزہ اور اچھا ہے۔
(۱۵۷۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمَّتِہِ ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَی نِسَائِہِ فِی لَیْلَۃٍ ، فَاغْتَسَلَ عِنْدَ کُلِّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ غُسْلاً ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوِ اغْتَسَلْت غُسْلاً وَاحِدًا ؟ فَقَالَ : ہَذَا أَطْہَرُ وَأَطْیَبُ ، أَوْ أَطْہَرُ وَأَنْظَفُ۔
(ابوداؤد ۲۲۱۔ احمد ۶/۱۰)
(ابوداؤد ۲۲۱۔ احمد ۶/۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی ایک رات میں زیادہ بیویوں کے پاس جا سکتا ہے ؟
(١٥٧٣) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ حضرت سلیمان بن داؤد نے فرمایا تھا کہ میں ایک دن میں سو عورتوں سے جماع کروں گا، ہر عورت سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔
(۱۵۷۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُد : لأَطُوفَنَّ اللَّیْلَۃَ عَلَی مِئَۃ امْرَأَۃٍ فَتَلِدُ کُلُّ امْرَأَۃٍ مِنْہُنَّ غُلاَمًا یَضْرِبُ بِالسَّیْفِ فِی سَبِیلِ اللہِ۔ (احمد ۲/۵۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی ایک رات میں زیادہ بیویوں کے پاس جا سکتا ہے ؟
(١٥٧٤) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن مالک نے ایک رات میں اپنی نو باندیوں سے ہم بستری فرمائی۔ پھر دسویں کو جگایا لیکن خود سو گئے۔ اس باندی نے اس بات سے شرم محسوس کی کہ حضرت سعد بن مالک کو جگائے۔
(۱۵۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ طَافَ عَلَی تِسْعِ جَوَارٍ لَہُ فِی لَیْلَۃٍ ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَاشِرَۃَ فَقَامَتْ فَنَامَ فَاسْتَحْیَتْ أَنْ تُوقِظَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹے اور ستو سے ہاتھ صاف کرنے کا حکم
(١٥٧٥) حضرت ابراہیم کے نزدیک اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی آٹے یا ستو سے اپنے ہاتھ صاف کرلے۔
(۱۵۷۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَغْسِلَ الرَّجُلُ یَدَہُ بِشَیْئٍ مِنَ الدَّقِیقِ وَالسَّوِیقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹے اور ستو سے ہاتھ صاف کرنے کا حکم
(١٥٧٦) حضرت ابو معشر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم کے ساتھ مچھلی کھائی پھر انھوں نے میرے لیے ستو منگوائے اور میں نے اس سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔
(۱۵۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، قَالَ : أَکَلْتُ مَعَ إبْرَاہِیمَ سَمَکًا فَدَعَا لِی بِسَوِیقٍ فَغَسَلْتُ یَدَیَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹے اور ستو سے ہاتھ صاف کرنے کا حکم
(١٥٧٧) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس میں حرج تو کچھ نہیں لیکن اس چیز کا خراب کرنا اچھا نہیں۔
(۱۵۷۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ؛ أَنَّہُ لَمْ یَرَ بِہِ بَأْسًا ، وَقَالَ : یُکْرَہُ مِنْہُ فَسَادُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹے اور ستو سے ہاتھ صاف کرنے کا حکم
(١٥٧٨) حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی ہاتھ پر لگی ہوئی چکنائی کو آٹے یا روٹی سے صاف کرسکتا ہے۔ فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں۔
(۱۵۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ ، قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الرَّجُلِ یَغْسِلُ یَدَہُ بِالدَّقِیقِ وَالْخُبْزِ مِنَ الْغَمْرِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا مکروہ ہے
(١٥٧٩) حضرت حسن آٹے یا ستو سے ہاتھ صاف کرنے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔
(۱۵۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ مُبَارَکٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَغْسِلَ یَدَہُ بِدَقِیقٍ ، أَوْ بِطَحِینٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ایسا کرنا مکروہ ہے
(١٥٨٠) حضرت ابو مجلز بھی اسے مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۵۸۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ أَنَّہُ کَرِہَہُ۔
তাহকীক: