মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১৬২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک رفع حاجت کے دوران قبلہ کی طرف رخ کرنا جائز ہے
(١٦٢١) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قبلے کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کرتے دیکھا ہے۔
(۱۶۲۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّہِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسًا یَقْضِی حَاجَتَہُ مُتَوَجِّہًا نَحْوَ الْقِبْلَۃِ۔
(بخاری ۱۴۹۔ مسلم ۲۲۴)
(بخاری ۱۴۹۔ مسلم ۲۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک رفع حاجت کے دوران قبلہ کی طرف رخ کرنا جائز ہے
(١٦٢٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطلاع ملی کہ لوگوں نے رفع حاجت کے دوران قبلہ رخ ہونے کو ناجائز سمجھ لیا ہے، تو آپ نے اس بات کا حکم دیا کہ آپ کے بیت الخلاء کا رخ قبلے کی طرف کردیا جائے۔
(۱۶۲۲) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِخَلاَئِہِ فَحُوِّلَ قِبَلَ الْقِبْلَۃِ ، لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ کَرِہُوا ذَلِکَ۔ (احمد ۶/۱۸۳۔ دارقطنی ۱/۶۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک رفع حاجت کے دوران قبلہ کی طرف رخ کرنا جائز ہے
(١٦٢٣) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ قبلہ کی طرف رخ کر کے رفع حاجت کو ناجائز سمجھتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے بیت الخلاء کا رخ قبلے کی طرف کردو۔
(۱۶۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ خَالِدِ الحذَّاء ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ قَوْمًا یَکْرَہُونَ أَنْ یَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِہِمُ الْقِبْلَۃَ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اسْتَقْبِلُوا بِمَقَعَدَتِی إلَی الْقِبْلَۃِ۔(احمد ۱۳۶۔ دارقطنی ۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ ہے
(١٦٢٤) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت سلمان سے کہا کہ تمہارے نبی نے تو تمہیں ہر چیز حتی کہ استنجاء کرنے کا طریقہ بھی سکھا دیا ہے ! فرمایا ہاں، اور انھوں نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم دائیں ہاتھ سے استنجاء کریں۔
(۱۶۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : قَالُوا لِسَلْمَانَ : قَدْ عَلَّمَکُمْ نَبِیُّکُمْ کُلَّ شَیْئٍ حَتَّی الْخِرَائَۃَ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَدْ نَہَانَا أَنْ نَسْتَنْجِیَ بِالْیَمِینِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ ہے
(١٦٢٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دایاں ہاتھ تو کھانے اور نماز کے لیے تھا اور بائیں ہاتھ کو آپ نے دوسرے کاموں کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
(۱۶۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ یَمِینُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِہِ وَصَلاَتِہِ ، وَکَانَتْ شِمَالُہُ لِمَا سِوَی ذَلِکَ۔ (احمد ۱۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ ہے
(١٦٢٦) حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دایاں ہاتھ کھانے، پینے، وضو، کپڑے پہننے اور نماز کے لیے تھا اور بایاں ہاتھ دوسرے کاموں کے لیے مقرر تھا۔
(۱۶۲۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ (ح) وَقَالَ غَیْرُ حُسَیْنٍ : عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ سَوَائٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ : کَانَتْ یَمِینُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِہِ ، وَشَرَابِہِ ، وَطُہُورِہِ ، وَثِیَابِہِ ، وَصَلاَتِہِ ، وَکَانَتْ شِمَالُہُ لِمَا سِوَی ذَلِکَ۔
(نسائی ۱۰۵۹۹۔ طبرانی ۳۵۳)
(نسائی ۱۰۵۹۹۔ طبرانی ۳۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ ہے
(١٦٢٧) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں دائیں ہاتھ سے کھاتا ہوں اور بائیں ہاتھ سے استنجاء کرتا ہوں۔
(۱۶۲۷) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : إِنَّمَا آکُلُ بِیَمِینِی ، وَأَسْتَطِیبُ بِشِمَالِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ ہے
(١٦٢٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ آدمی کا دایاں ہاتھ کھانے اور پینے کے لیے ہونا چاہیے اور بایاں ہاتھ تھوک اور استنجاء وغیرہ کے لیے ہونا چاہیے۔
(۱۶۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُور ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ: کَانَ یُقَالُ : یَمِینُ الرَّجُلِ لِطَعَامِہِ ، وَشَرَابِہِ، وَشِمَالُہُ لِمُخَاطِہِ ، وَاسْتِنْجَائِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٢٩) حضرت عائشہ نے (عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا کہ اپنے شوہروں کو اس بات کا حکم دو کہ پیشاب یا پاخانہ کرنے کے بعد پانی استعمال کریں، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یونہی کیا کرتے تھے، میں مردوں کو یہ بات کرنے سے شرماتی ہوں۔
(۱۶۲۹) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحیم بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ مُعَاذَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: مُرُوا أَزْوَاجَکُنَّ أَنْ یَغْسِلُوا أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَفْعَلُہُ ، وَأَنَا أَسْتَحْیِیہِمْ۔
(ترمذی ۱۹۔ احمد ۶/۲۳۶)
(ترمذی ۱۹۔ احمد ۶/۲۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٠) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ عورتوں کو حکم دیا کرتی تھیں کہ اپنے خاوندوں کو حکم دو کہ رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجاء کرلیا کریں۔
(۱۶۳۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخبرنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تَقُولُ لِلنِّسَائِ : مُرْنَ أَزْوَاجَکُنَّ أَنْ یَسْتَنْجُوا بِالْمَائِ إذَا خَرَجُوا مِنَ الْغَائِطِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣١) حضرت فریعہ (جو کہ حضرت حذیفہ کی اہلیہ تھیں) فرماتی ہیں کہ حضرت حذیفہ پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
(۱۶۳۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَبْرَۃَ بْنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ نَجَبۃَ ، عَنْ عَمَّتِہِ فُرَیْعَۃَ ، وَکَانَتْ تَحْتَ حُذَیْفَۃَ ، أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ حُذَیْفَۃُ یَسْتَنْجِی بِالْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٢) حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت الخلاء کی طرف تشریف لے جاتے تو میں اور میری عمر کا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اور نیزے کی لاٹھی ساتھ لے کر جاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
(۱۶۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ غُنْدَرٍ وَوَکِیعٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ ؛ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسًا یَقُولُ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ الْخَلاَئَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ نَحْوِی إدَاوَۃً وَعَنَزَۃً ، فَیَسْتَنْجِی بِالْمَائِ۔
(بخاری ۱۵۲۔ مسلم ۷۰)
(بخاری ۱۵۲۔ مسلم ۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٣) حضرت ابو نجاشی فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت رافع بن خدیج کے ساتھ تھا، وہ پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
(۱۶۳۳) حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النّجَاشی ، قَالَ : صَحِبْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ فِی سَفَرٍ ، فَکَانَ یَسْتَنْجِی بِالْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٤) حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی کا برتن اور اشنان بوٹی منگوایا کرتے تھے۔
(۱۶۳۴) حَدَّثَنَا أَزْہَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ دَخَلَ الْخَلاَئَ فَدَعَا بِتَوْرٍ وَأُشْنَانٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو وضو کرتے یا پانی سے ہاتھ دھویا کرتے تھے۔
(۱۶۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَدْخُلِ الْخَلاَئَ إِلاَّ تَوَضَّأَ ، أَوْ مَسَّ مَائً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٦) حضرت ابو سعید مولی ابی اسید فرماتے ہیں کہ ابو اسید جب بیت الخلاء میں جاتے تو میں ان کے لیے پانی لے آتا تو وہ اس سے استنجا کرتے۔
(۱۶۳۶) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ؛ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا نَضْرَۃَ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِی سَعْیدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْدٍ ، وَکَانَ بَدَوِیًّا ، قَالَ: کَانَ أَبُو أُسَیْدٍ إذَا أَتَی الْخَلاَئَ أَتَیْتُہُ بِمَائٍ فَاسْتَبْرَأَ مِنْہُ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : یَعْنِی : یَسْتَنْجِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٧) حضرت مطرف بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک دیہاتی نے بیان کیا کہ میں ابو ذر کے ساتھ رہا ہوں، ان کے تمام اخلاق و عادات مجھے اچھی لگیں سوائے ایک عادت کے ! میں نے پوچھا وہ کون سی عادت ہے ؟ وہ کہنے لگا جب وہ بیت الخلاء سے باہر آتے تو پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
(۱۶۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ قُرَّۃَ ، عَنْ بُدَیْلٍ الْعُقَیْلِیِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَعْرَابِیٌّ ، قَالَ : صَحِبْت أَبَا ذَرٍّ فَکُلُّ أَخْلاَقِہِ أَعْجَبَتنِی إِلاَّ خُلُقاً وَاحِدًا ، قُلْتُ : وَمَا ہُوَ ؟ قَالَ : کَانَ إذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلاَئِ اسْتَنْجَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٨) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے دو کجاوؤں کے درمیان بیٹھ کر پانی سے استنجاء کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہنسنے لگے اور کہنے لگے یہ تو عورت کی طرح وضو کر رہے ہیں ؟
(۱۶۳۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَطَابَ بِالْمَائِ بَیْنَ رَاحِلتَیْنِ ، قَالَ : فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضْحَکُونَ وَیَقُولُونَ : یَتَوَضَّأُ کَمِثْلِ الْمَرْأَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٣٩) حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت انس اشنان کے پانی سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
(۱۶۳۹) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ؛ أَنَّ أَنَسًا کَانَ یَسْتَنْجِی بِالْحَوْضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٤٠) حضرت مجمع بن یعقوب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عویم بن ساعدہ سے فرمایا کہ تم کیسی طہارت حاصل کرتے ہو جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف کی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ ہم اپنی شرم گاہوں کو پانی سے دھوتے ہیں۔
(۱۶۴۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ : مَا ہَذَا الطُّہُورُ الَّذِی أَثْنَی اللَّہُ عَلَیْکُمْ ؟ قَالُوا : نَغْسِلُ الأَدْبَارَ۔
(احمد ۳/۴۲۲۔ ابن خزیمۃ ۸۳)
(احمد ۳/۴۲۲۔ ابن خزیمۃ ۸۳)
তাহকীক: