মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১৬৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٤١) حضرت محمد بن عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قباء تشریف لائے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کی تعریف فرمائی ہے، تم کیا کرتے ہو ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی (ترجمہ) اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاکی کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ قباء والوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے توراۃ میں لکھے ہوئے دیکھا تھا کہ استنجاء پانی سے ہوتا ہے۔
(۱۶۴۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَیَّارًا أَبَا الْحَکَمِ ، غَیْرَ مَرَّۃٍ ، یُحَدِّثُ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا، یَعْنِی : قُبَائَ ، قَالَ : إنَّ اللَّہَ قَدْ أَثْنَی عَلَیْکُمْ فِی الطُّہُورِ خَیْرًا ، أَفَلاَ تُخْبِرُوننی ؟ قَالَ : یَعْنِی قولہ تعالی: {فِیہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ أَنْ یَتَطَہَّرُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِینَ} قَالَ : فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا لَنَجِدُہُ مَکْتُوبًا عَلَیْنَا فِی التَّوْرَاۃِ : الاسْتِنْجَائُ بِالْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٤٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اے قباء والو ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف آخر کس بات پر کی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ ہم میں ہر شخص جب وہ بیت الخلاء سے باہر آتا ہے تو پانی سے استنجاء کرتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے (ترجمہ) اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنے کا خیال رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(۱۶۴۲) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْد ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا أَہْلَ قُبَائَ ، مَا ہَذَا الثَّنَائُ الَّذِی أَثْنَی اللَّہُ عَلَیْکُمْ ؟ قَالُوا : مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ وَہُوَ یَسْتَنْجِی بِالْمَائِ مِنَ الْخَلاَئِ ۔ {فِیہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ أَنْ یَتَطَہَّرُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِینَ}۔ (ابوداؤد ۴۵۔ ترمذی ۳۱۰۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٤٣) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ یہ آیت قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے (ترجمہ) اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنے کا خیال رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(۱۶۴۳) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِی أَہْلِ قُبَائَ : {فِیہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ أَنْ یَتَطَہَّرُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِینَ} ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٤٤) حضرت عائشہ نے عورتوں سے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کہ حکم دو کہ اپنے جسم سے پاخانے کے اثرات کو دھوئیں، مجھے اس بات سے شرم محسوس ہوتی ہے کہ میں انھیں ایسا کہوں۔
(۱۶۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ ، عَنْ مُعَاذَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : مُرْنَ أَزْوَاجَکُنَّ ، أَوَقَالَتْ : رِجَالَکُنَّ ، أَنْ یَغْسِلُوا عَنْہُمْ أَثَرَ الْحَشّ ، فَإِنَّا نَسْتَحْیِی أَنْ نَأْمُرَہُمْ بِذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استجاء کرنا چاہیے
(١٦٤٥) حضرت علی فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے لوگ اونٹ کی مینگنیوں جیسا سخت پاخانہ کیا کرتے تھے اور تم نرم پاخانہ کرتے ہو، اس لیے پتھر سے صاف کرنے کے بعد پانی کا استعمال کیا کرو۔
(۱۶۴۵) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : إنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانُوا یَبْعَرُونَ بَعْرًا ، وَإِنَّکُمْ تَثْلِطُونَ ثَلْطًا ، فَأَتْبِعُوا الْحِجَارَۃَ بِالْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٤٦) حضرت حذیفہ سے سوال کیا گیا کہ کیا استنجاء پانی سے کرنا چاہیے ؟ فرمایا کہ اس طرح تو میرے ہاتھ سے بدبو آتی رہے گی۔
(۱۶۴۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الاِسْتِنْجَائِ بِالْمَائِ ؟ فَقَالَ : إذًا لاَ تَزَالُ یَدَیَّ فِی نَتْنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٤٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسود اور عبد الرحمن بن یزید جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پتھروں سے استنجاء کرتے تھے، وہ اس پر کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے اور نہ ہی پانی کو ہاتھ لگاتے تھے۔
(۱۶۴۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: کَانَ الأَسْوَدُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ یَدْخُلاَنِ الْخَلاَئَ، فَیَسْتَنْجِیَانِ بِأَحْجَارٍ ، وَلاَ یَزِیدَانِ عَلَیْہَا ، وَلاَ یَمَسَّانِ مَائً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٤٨) حضرت سعید بن المسیب سے پانی سے استنجاء کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ یہ تو عورتوں کا طریقہ طہارت ہے۔
(۱۶۴۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : ذُکِرَ لَہُ الاسْتِنْجَائُ بِالْمَائِ، فَقَالَ : ذَلِکَ طَہُورُ النِّسَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٤٩) حضرت ابراہیم کے سامنے پانی سے استنجاء کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ تم اس عمل کو کرنے والے ہو جبکہ اسلاف تو پتھر سے استنجاء کیا کرتے تھے۔
(۱۶۴۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ ذُکِرَ لَہُ الاسْتِنْجَائُ بِالْمَائِ ، فَقَالَ : أَنْتُمْ أَفْعَلُ لِذَلِکَ ، إِنَّہُمْ کَانُوا یَجْتَزِئُونَ بِالْحِجَارَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٠) حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ استنجاء تین پتھروں سے ہونا چاہیے، ان پتھروں میں لید شامل نہ ہو۔
(۱۶۵۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَیْمَۃَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ ، عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الاِسْتِنْجَائِ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ لَیْسَ فِیہَا رَجِیعٌ۔
(ابوداؤد ۴۲۔ ابن ماجہ ۳۱۵)
(ابوداؤد ۴۲۔ ابن ماجہ ۳۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥١) حضرت ابو بشر فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس نے فرمایا کہ استنجا تین پتھروں سے ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر تین پتھر نہ ملیں تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا تین لکڑیاں استعمال کرلو۔ میں نے کہا اگر تین لکڑیاں نہ ملیں تو کیا کیا جائے ؟ فرمایا مٹی کے تین ڈھیلے استعمال کرلو۔
(۱۶۵۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ: الأَسْتِنْجَائُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ ثَلاَثَۃَ أَحْجَارٍ ؟ قَالَ : فَثَلاَثَۃِ أَعْوَادٍ ، قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ ثَلاَثَۃَ أَعْوَادٍ ؟ قَالَ : فَثَلاَثِ حَفَنَاتٍ مِنْ تُرَابٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٢) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ استنجا تین پتھروں سے ہونا چاہیے۔ اگر تین پتھر کافی نہ ہوں تو پھر پانچ پتھر کافی ہیں۔
(۱۶۵۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْحَکَمُ ، قَالَ : الإِسْتِنْجَائُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ ، فَإِنْ لَمْ یَجْتَزِئْ بِذَلِکَ ، فَبِخَمْسَۃِ أَحْجَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٣) حضرت ابن زبیر نے ایک آدمی کو دیکھا جو پاخانے کے اثرات کو پانی سے دھو رہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تو ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔
(۱۶۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْقِبْطَیّۃِ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّہُ رَأَی رَجُلاً یَغْسِلُ عَنْہُ أَثَرَ الْغَائِطِ ، فَقَالَ : مَا کُنَّا نَفْعَلُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٤) حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ بعض مشرکین نے حضرت سلمان سے مذاق کرتے ہوئے پوچھا کہ میں تمہارے صاحب ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز حتی کہ استنجا کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں ؟ ! حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ کیوں نہیں، انھوں نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم دورانِ رفعِ حاجت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں اور تین پتھروں سے کم میں استنجا نہ کریں۔
(۱۶۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ لَہُ بَعْضُ الْمُشْرِکِینَ وَہُمْ یَسْتَہْزِئُونَ : أَرَی صَاحِبَکُمْ وَہُوَ یُعَلِّمُکُمْ حَتَّی الْخِرَائَۃَ ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ : أَجَلْ ، أَمَرَنَا أَنْ لاَ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ ، وَلاَ نَسْتَنْجِیَ بِدُونِ ثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میرے لیے تین پتھر لاؤ۔ میں دو پتھر اور ایک لید لے آیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا کہ یہ ناپاک ہے۔
(۱۶۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِحَاجَۃٍ ، فَقَالَ : الْتَمِسْ لِی ثَلاَثَۃَ أَحْجَارٍ ، فَأَتَیْتُہُ بِحَجَرَیْنِ وَرَوْثَۃٍ ، فَأَخَذَ الْحَجَرَیْنِ ، وَطَرَحَ الرَّوْثَۃَ ، وَقَالَ : إِنَّہَا رِکْسٌ۔ (ترمذی ۱۷۔ احمد ۱/۳۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٦) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی استنجا کرے تو تین مرتبہ استنجا کرے۔
(۱۶۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَجْمِرْ ثَلاَثًا ، یَعْنِی : یَسْتَنْجِی۔ (مسلم ۲۱۳۔ احمد ۳/۲۹۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٧) حضرت سلمہ پانی سے استنجا نہیں کیا کرتے تھے۔
(۱۶۵۷) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ مَوْلَی سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ سَلَمَۃَ کَانَ لاَ یَسْتَنْجِی بِالْمَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ اور حضرت اسود یا حضرت عبدالرحمن بن یزید تین پتھروں سے زیادہ سے استنجا نہیں کرتے تھے۔
(۱۶۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ عَلْقَمَۃُ وَالأَسْوَدُ ، أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ ، لاَ یَزِیدَانِ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٥٩) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر پانی سے استنجا نہیں کرتے تھے۔ میں ان کے پاس مقام حرہ سے ایک پتھر لے کر آتا تھا، جب وہ پتھر آلودہ ہوتا تو میں اسے پھینک دیتا۔
(۱۶۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ لاَ یَسْتَنْجِی بِالْمَائِ، کُنْتُ آتِیہ بِحِجَارَۃٍ مِنَ الْحَرَّۃِ ، فَإِذَا امْتَلأَتْ خَرَجْتُ بِہَا وَطَرَحْتُہَا ، ثُمَّ أَدْخَلْتُ مَکَانَھَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک پانی سے استنجاء کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پتھر کا استعمال کافی ہے
(١٦٦٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود اور حضرت علقمہ تین پتھروں سے استنجا کیا کرتے تھے۔
(۱۶۶۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ الأَسْوَدَ وَعَلْقَمَۃَ کَانَا یَسْتَنْجِیَانِ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ۔
তাহকীক: