মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২১৩০ টি

হাদীস নং: ১৬৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦١) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی غذا ہے۔
(۱۶۶۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ غِیَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَسْتَنْجُوا بِالْعِظَامِ ، وَلاَ بِالرَّوْثِ ، فَإِنَّہُمَا زَادُ إخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ۔ (مسلم ۱۵۰۔ ترمذی ۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٢) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رفعِ حاجت کی غرض سے نکلا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : میرے استنجا کرنے کے لیے کوئی چیز لاؤ، میرے پاس ہڈی اور لید نہ لانا۔
(۱۶۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : خَرَجْت مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِحَاجَۃٍ ، فَقَالَ : ائْتِنِی بِشَیْئٍ أَسْتَنْجِی بِہِ ، وَلاَ تُقَرِّبْنِی حَائِلاً، وَلاَ رَجِیعًا۔ (احمد ۱/۴۲۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٣) حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تین پتھروں سے استنجا کریں جس میں لید یا ہڈی نہ ہو۔
(۱۶۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نَسْتَنْجِیَ ، یَعْنِی : النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ لَیْسَ فِیہَا رَجِیعٌ ، وَلاَ عَظْمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٤) حضرت خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ استنجا تین پتھروں سے ہونا چاہیے جس میں لید نہ ہو۔
(۱۶۶۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، وَعَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَیْمَۃَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ ، عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الاسْتِطَابَۃُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ ، لَیْسَ فِیہَا رَجِیعٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ لید، مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
(۱۶۶۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَسْتَنْجِیَ الرَّجُلُ بِرَوْثٍ ، أَوْ رَجِیعِ دَابَّۃٍ ، أَوْ بِعَظْمٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس پتھر کو استنجا کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
(۱۶۶۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُسْتَنْجِیَ بِالْحَجَرِ الَّذِی قَدِ اسْتُنْجِیَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٧) حضرت ابو میسرہ فرماتے ہیں کہ جس پتھر کو استنجا کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس کو رگڑ کر یا دوسری جانب سے استنجا کرنا جائز ہے۔
(۱۶۶۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، یَعْنِی ابْنَ مَیْسَرَۃَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ إذَا قَلَبْتَہُ ، أَوْ حَکَکْتَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی پتھر بڑا ہو اور اس کے مختلف کنارے ہوں تو اس کے دوسرے کنارے سے استنجاء کرنا جائز ہے۔
(۱۶۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سِنَانٍ الْبُرْجُمِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ إذَا کَانَ الْحَجَرُ عَظِیمًا لَہُ حُرُوفٌ أَنْ تُحَرِّفَہُ وَتَقْلِبَہُ فَتَسْتَنْجِیَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٦٩) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس پتھر کو استنجا کے لیے استعمال کیا گیا ہو اس سے استنجا کرنا مکروہ ہے۔
(۱۶۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُسْتَنْجَی بِمَا قَدِ اسْتُنْجِیَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک لید وغیرہ سے استنجاء کرنا ناجائز ہے اور اس کی اجازت نہیں
(١٦٧٠) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنا منع ہے۔
(۱۶۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : نُہِیَ أَنْ یَسْتَنْجِیَ الرَّجُلُ بِالْبَعْرَۃِ وَالْعَظْمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧١) حضرت عمار فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اونٹوں کو چرانے کے لیے نکلا ہوا تھا کہ اس حال میں جنبی ہوگیا، وہاں پانی موجود نہ تھا چنانچہ میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ پھر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات بتائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارے لیے تیمم کافی تھا۔
(۱۶۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِیَۃَ أَبِی خُفَافٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : أَجْنَبْتُ وَأَنَا فِی الإِبِلِ، وَلَمْ أَجِدْ مَائً ، فَتَمَعَّکْتُ تَمَعُّکَ الدَّابَّۃِ ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : إنَّمَا کَانَ یَکْفِیکَ مِنْ ذَلِکَ التَّیَمُّمُ۔ (نسائی ۳۰۹۔ احمد ۴/۲۶۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٢) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفر میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی لوگوں سے الگ ایک کونے میں کھڑا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ وہ کہنے لگایا رسول اللہ ! میں جنبی ہوگیا تھا اور مجھے پانی نہیں ملا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم مٹی سے تیمم کرلیتے، یہ تمہارے لیے کافی تھا۔
(۱۶۷۲) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی رَجَائٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ فِی سَفَرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ ، فَإِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ نَاحِیَۃً مِنَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا لَکَ ، لَمْ تُصَلِّ مَعَ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : أَصَابَتْنِی جَنَابَۃٌ یَا رَسُولَ اللہِ ، وَلاَ مَائَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَلَیْک بِالصَّعِیدِ ، فَإِنَّہُ یَکْفِیک۔ (بخاری ۳۵۷۱۔ مسلم ۳۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٣) حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تک پانی نہ ملے، پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، خواہ اس میں دس سال گذر جائیں، جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی جلد پر استعمال کرو۔
(۱۶۷۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ طَہُورٌ مَا لَمْ یُوجَدِ الْمَائُ وَلَوْ إلَی عَشْرِ حِجَجٍ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّہُ بَشَرَتَک۔ (ابوداؤد ۳۳۶۔ احمد ۵/۱۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی کو ہمارے لیے پاکی کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔
(۱۶۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : جُعِلَتْ تُرْبَتُہَا لَنَا طَہُورًا إذَا لَمْ نَجِدَ الْمَائَ ، یَعْنِی : الأَرْضَ۔ (مسلم ۳۷۱۔ احمد ۵/۳۸۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٥) حضرت علی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ } یعنی ایسا مسافر جسے پانی نہ ملے وہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے۔
(۱۶۷۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ وَزِرٍّ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ} قَالَ : الْمَارُّ الَّذِی لاَ یَجِدُ الْمَائَ یَتَیَمَّمُ وَیُصَلِّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٦) حضرت حسن بن مسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ } کہ اگر تم مسافر ہو تو تیمم کرلو۔
(۱۶۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ؛ {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ} ؛ إِلاَّ أَنْ تَکُونُوا مُسَافِرِینَ فَتَیَمَّمُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٧) حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : { وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ } کہ اس سے مراد مسافر ہے۔
(۱۶۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ {وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِی سَبِیلٍ} قَالَ : ہُوَ الْمُسَافِرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی آدمی کو اگر پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے ؟
(١٦٧٨) حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ایسے مسافر ہیں جنہیں پانی نہ ملے۔
(۱۶۷۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، قَالَ : ہُمُ الْمُسَافِرُونَ لاَ یَجِدُونَ الْمَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک جنبی تیمم نہیں کر سکتا
(١٦٧٩) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جنبی تیمم نہیں کرسکتا خواہ اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے۔
(۱۶۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ یَتَیَمَّمُ الْجُنُبُ وَإِنْ لَمْ یَجِدِ الْمَائَ شَہْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک جنبی تیمم نہیں کر سکتا
(١٦٨٠) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی سفر میں جنبی ہو جاؤ تو اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک تمہیں پانی نہ مل جائے اور جب تمہارا وضو ٹوٹ جائے تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔
(۱۶۸۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إذَا کُنْتَ فِی سَفَرٍ فَأَجْنَبْتَ فَلاَ تُصَلِّ حَتَّی تَجِدَ الْمَائَ ، وَإِنْ أَحْدَثْتَ فَتَیَمَّمْ ، ثُمَّ صَلِّ۔
tahqiq

তাহকীক: