মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৩০ টি
হাদীস নং: ১৭২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب سے صفائی کیسے حاصل کی جائے
(١٧٢١) حضرت ابو الشعثاء فرماتے ہیں کہ جب تم پیشاب کر چکو تو اپنے آلہ تناسل کو نیچے سے ہاتھ لگاؤ، اس سے پیشاب کے قطرات بند ہوجائیں گے۔
(۱۷۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ ، قَالَ : إذَا بُلْتَ فَامْسَحْ ذَکَرَک مِنْ أَسْفَلَ ، فَإِنَّہُ یَنْقَطِعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیشاب سے صفائی کیسے حاصل کی جائے
(١٧٢٢) حضرت عیسیٰ بن ازداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرم گاہ کو تین مرتبہ جھاڑ لے۔
(۱۷۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زَمْعَۃَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عِیسَی بْنِ یَزْدَادَ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا بَالَ أَحَدُکُمْ فَلْیَنْترْ ذَکَرَہُ ثَلاَثًا ، قَالَ زَمْعَۃُ : فَإِنَّ ذَلِکَ یُجْزِئُ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٣) حضرت علی فرماتے ہیں کہ اگر چوہا پانی میں گرجائے تو اتنا پانی نکالا جائے کہ پانی لوگوں پر غالب آجائے۔
(۱۷۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِیٍّ : فِی الْفَأْرَۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ ، قَالَ: تُنزحُ إلَی أَنْ یَغْلِبَہُمُ الْمَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر چوہا پانی میں گرجائے تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔
(۱۷۲۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی الْفَأْرَۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ ، قَالَ : یُسْتَقَی مِنْہَا أَرْبَعُونَ دَلْوًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر پانی میں چوہا یا بلی گرجائے تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔ حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ اتنا پانی نکالا جائے کہ پانی کا رنگ بدل جائے۔
(۱۷۲۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْجُرَذِ ، أَوِ السِّنَّوْرِ یَقَعُ فِی الْبِئْرِ ، قَالَ : یَدْلُوا مِنْہَا أَرْبَعِینَ دَلْوًا ، قَالَ مُغِیرَۃُ : حتَّی یَتَغَیَّرَ الْمَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٦) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر پانی میں جرذ گرجائے تو بیس ڈول پانی نکالا جائے اگر وہ پھول جائے تو چالیس ڈول نکالے جائیں۔ اگر بکری گرجائے تو چالیس ڈول نکالے جائیں اور اگر وہ پھول جائے تو سارا پانی یا چالیس ڈول نکالے جائیں۔
(۱۷۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ لَیث ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إذَا وَقَعَ الْجُرَذُ فِی الْبِئْرِ نُزِحَ مِنْہَا عِشْرُونَ دَلْوًا ، فَإِنْ تَفَسَّخَ فَأَرْبَعُونَ دَلْوًا ، فَإِذَا وَقَعَتِ الشَّاۃُ نُزِحَ مِنْہَا أَرْبَعُونَ دَلْوًا ، فَإِنْ تَفَسَّخَتْ نُزِحَتْ کُلُّہَا ، أَوْ مِئَۃ دَلْوٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٧) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں مرغی گرجائے تو ستر ڈول پانی نکالا جائے۔
(۱۷۲۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ سَبْرَۃَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ؛ أَنَّہُ قَالَ: یُدْلَی مِنْہَا سَبْعُونَ دَلْوًا، یَعْنِی: فِی الدَّجَاجَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٨) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں مرغی یا اس جیسی کوئی اور چیز گر کر مرجائے تو اس سے ایک ڈول پانی نکال کر وضو کرلو اور اگر وہ پھول جائے تو اس سے چالیس ڈول پانی نکالو۔
(۱۷۲۸) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ فِی الْبِئْرِ تَقَعُ فَتَمُوتُ فِیہَا الدَّجَاجَۃُ وَأَشْبَاہُہَا ، قَالَ : اسْتَقِ مِنْہَا دَلْوًا وَتَوَضَّأْ مِنْہَا ، فَإِنْ ہِیَ تَفَسَّخَتِ اسْتَقِ مِنْہَا أَرْبَعِینَ دَلْوًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٢٩) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں مرغی، کتا یا بلی وغیرہ گر کر مرجائیں تو اس میں سے تیس سے چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔
(۱۷۲۹) حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِیُّ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حَمَّادٍ ؛ فِی الْبِئْرِ یَقَعُ فِیہَا الدَّجَاجَۃُ وَالْکَلْبُ وَالسِّنَّوْرُ فَیَمُوتُ ، قَالَ : یَنْزِحُ مِنْہَا ثَلاَثِینَ ، أَوْ أَرْبَعِینَ دَلْوًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٣٠) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کنویں میں کوئی جانور گرجائے تو اگر پانی کا ذائقہ اور اس کی بو نہیں بدلی تو پانی میں کوئی حرج نہیں اور اگر پانی کا ذائقہ یا بو بدل جائے تو سارا پانی نکالا جائے گا یہاں تک کہ پانی پاک ہوجائے۔
(۱۷۳۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللہِ بْنُ مُوسَی، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ؛ فِی الدَّابَّۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ، قَالَ: إِنْ لَمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُ الْمَائِ وَلاَ رِیحُہُ ، فَلاَ أَرَی بِالْمَائِ بَأْسًا ، فَإِنْ تَغَیَّرَ طَعْمُ الْمَائِ وَرِیحُہُ نَزَحُوا مِنْہَا حَتَّی یَطِیبَ الْمَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٣١) حضرت سلمہ بن کہیل فرماتے ہیں کہ اگر مرغی کنویں میں گرجائے تو چالیس ڈول نکالے جائیں گے۔
(۱۷۳۱) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ؛ فِی الدَّجَاجَۃِ تَقَعُ فِی الْبِئْرِ ، قَالَ : یُسْتَقَی مِنْہَا أَرْبَعُونَ دَلْوًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٣٢) حضرت علی سے سوال کیا گیا کہ اگر بچہ کنویں میں پیشاب کر دے تو اس کا کیا حکم ہے۔ فرمایا اس کا سارا پانی نکالا جائے گا۔
(۱۷۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ عَلِیًّا سُئِلَ عَنْ صَبِیٍّ بَالَ فِی الْبِئْرِ ؟ قَالَ : تُنْزَحُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٣٣) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی چاہ زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن الزبیر نے حکم دیا کہ اب بئر زمزم کا سارا پانی نکالا جائے۔ لوگ پانی نکالنے لگے لیکن پانی بند نہ ہوتا تھا۔ دیکھا گیا کہ حجر اسود کی جانب سے ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے جس کی وجہ سے زمزم کا پانی بند نہیں ہوتا۔ حضرت ابن الزبیر نے فرمایا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
(۱۷۳۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ حَبَشِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَمَاتَ ، قَالَ : فَأَمَرَ ابْنُ الزُّبَیْرِ أنْ یُنْزَفَ مَائُ زَمْزَمَ ، قَالَ : فَجَعَلَ الْمَائُ لاَ یَنْقَطِعُ ، قَالَ : فَنَظَرُوا فَإِذَا عَیْنٌ تَنْبُعُ مِنْ قِبَلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ : حَسْبُکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر چوہا، مرغی یا ان جیسا کوئی جانور کنویں میں گر جائے تو کتنا پانی نکالنا ہو گا ؟
(١٧٣٤) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی بئر زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن عباس نے اس میں ایک آدمی کو اتارا جس نے اس کو باہر نکالا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کا سارا پانی نکالو۔ پھر آپ نے کنویں میں موجود شخص سے فرمایا کہ اس چشمے کی طرف سے پانی نکالو جو بیت اللہ یا رکن کی طرف ہے کیونکہ یہ جنت کا چشمہ ہے۔
(۱۷۳۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ زِنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَمَاتَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ إلَیْہِ رَجُلاً فَأَخْرَجَہُ ، ثُمَّ قَالَ : انْزِفُوا مَا فِیہَا مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِی فِی الْبِئْرِ : ضَعْ دَلْوَک مِنْ قِبَلِ الْعَیْنِ الَّتِی تَلِی الْبَیْتَ ، أَوِ الرُّکْنَ فَإِنَّہَا مِنْ عُیُونِ الْجَنَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ” مسِّ ذکر “ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،,” مسِّ ذکر “ یعنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
(١٧٣٥) حضرت زید بن خالد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
(۱۷۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدَ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔
(احمد ۵/۱۹۴۔ طبرانی ۵۲۲۲)
(احمد ۵/۱۹۴۔ طبرانی ۵۲۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ” مسِّ ذکر “ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،,” مسِّ ذکر “ یعنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
(١٧٣٦) حضرت ام حبیبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
(۱۷۳۶) حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا الْہَیْثُمُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عَنْ عَنْبَسَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ (ابن ماجہ ۴۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ” مسِّ ذکر “ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،,” مسِّ ذکر “ یعنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
(١٧٣٧) حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ مروان نے مجھ سے مسِّ ذکر کا تذکرہ کیا تو میں نے کہا کہ اس میں وضو نہیں ہے۔ وہ کہنے لگے کہ بسرہ بنت صفوان نے اس بارے میں حدیث بیان کی ہے۔ پھر انھوں نے بسرہ کی طرف ایک قاصد بھیجا جس نے آ کر بتایا کہ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آلہ تناسل کو ہاتھ لگایا وہ وضو کرے۔
(۱۷۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ أَبِی ، قَالَ : ذَاکَرَنِی مَرْوَانُ مَسَّ الذَّکَرِ ، فَقُلْتُ : لَیْسَ فِیہِ وُضُوئٌ ، قَالَ : فَإِنَّ بُسْرَۃَ ابْنَۃَ صَفْوَانَ تُحَدِّثُ فِیہِ ، فَبَعَثَ إلَیْہَا رَسُولاً فَذَکَرَ أَنَّہَا حَدَّثَتْ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔
(ابوداؤد ۱۸۳۔ ترمذی ۸۳)
(ابوداؤد ۱۸۳۔ ترمذی ۸۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ” مسِّ ذکر “ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،,” مسِّ ذکر “ یعنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
(١٧٣٨) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اللہ تعالیٰ کے قول { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں پس میں نے ان سے سوال نہیں کیا۔ انھوں نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا کہ حضرت ابن عمر جب شرم گاہ کو ہاتھ لگاتے وضو کیا کرتے تھے۔ حضرت محمد فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ حضرت ابن عمر اور حضرت عبیدہ کا قول ایک ہی ہے۔
(۱۷۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبِیْدَۃَ عَنْ قولہ تعالی : {أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ} ؟ فَقَالَ : بِیَدِہِ ، فَظَنَنْت مَا عَنَی فَلَمْ أَسْأَلْہُ ، قَالَ : وَنُبِّئْتُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إذَا مَسَّ فَرْجَہُ تَوَضَّأَ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَظَنَنْت أَنَّ قَوْلَ ابْنِ عُمَرَ وَقَوْلَ عَبِیْدَۃَ شَیْئٌ وَاحِدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ” مسِّ ذکر “ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،,” مسِّ ذکر “ یعنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
(١٧٣٩) حضرت جابر بن زید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص جان بوجھ کر شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو کا اعادہ کرے۔
(۱۷۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ الرِّشْکِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ یَقُولُ : إذَا مَسَّہُ مُتَعَمِّدًا أَعَادَ الْوُضُوئَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ” مسِّ ذکر “ کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،,” مسِّ ذکر “ یعنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا
(١٧٤٠) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص جان بوجھ کر شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو کرے۔
(۱۷۴۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : إذَا أَمْسَکَ ذَکَرَہُ تَوَضَّأَ۔
তাহকীক: