মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৭২২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٢٦) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے، ہم رکوع سے اٹھ کر صفوں میں کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ کرتے تو ہم بھی آپ کی اتباع میں سجدہ کرتے۔
(۷۲۲۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، عَنْ عَزْرَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّہُ حَدَّثَہُ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : کُنَّا إذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَفَعْنَا رُؤُوسَنَا مِنَ الرُّکُوعِ قُمْنَا صُفُوفًا حَتَّی یَسْجُدَ فَإِذَا سَجَدَ تَبِعْنَاہُ۔ (احمد ۴/۲۹۲۔ ابو یعلی ۱۶۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٢٧) حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میری عمر کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے میرے جسم پر گوشت بڑھ گیا ہے۔ تم رکوع و سجود میں مجھ سے آگے نہ بڑھو۔ میں رکوع میں جاتے ہوئے تو تم سے آگے بڑھ سکتا ہوں لیکن رکوع سے اٹھتے ہوئے تم مجھے پالو گے۔ میں سجدہ میں جاتے ہوئے تو تم سے آگے بڑھ جاؤں گا لیکن سجدے سے اٹھتے ہوئے تم مجھے پالو گے۔
(۷۲۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی قَدْ بَدَنْتُ فَلاَ تُبَادِرُونِی بِالرُّکُوعِ ، وَلاَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّی مَہْمَا أَسْبِقُکُمْ بِہِ إذَا رَکَعْت فَإِنَّکُمْ تُدْرِکُونِی بِہِ إذَا رَفَعْت وَمَہْمَا أَسْبِقُکُمْ بِہِ إذَا سَجَدْت فَإِنَّکُمْ تُدْرِکُونِی بِہِ إذَا وَضَعْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٢٨) حضرت معاویہ سے بھی یونہی منقول ہے۔
(۷۲۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ ، رَفَعَہ مِثْلَہُ۔ (ابوداؤد ۶۱۹۔ احمد ۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٢٩) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجود میں اپنے امام سے آگے نہ بڑھو۔
(۷۲۲۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، وَابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ تُبَادِرُوا أَئِمَّتَکُمْ بِالرُّکُوعِ ، وَلاَ بِالسُّجُودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٠) حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے اس سے پہلے رکوع کرے اور اس سے پہلے سجدہ کرے وہ امام کے ساتھ نہیں ہے۔
(۷۲۳۰) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : مَنْ کَانَ مَعَ الإِمَامِ فَرَکَعَ قَبْلَ رُکُوعِہِ وَسَجَدَ قَبْلَ سُجُودِہِ فَلَیْسَ مَعَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣١) حضرت کھمس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ کے ساتھ نماز پڑھی وہ کوئی عمل اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک اسے امام نہ کرلے۔
(۷۲۳۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ کَہْمَسٍ، قَالَ: صَلَّیْت إلَی جَنْبِ أَبِی قِلاَبَۃَ، فَکَانَ لاَ یَصْنَعُ شَیْئًا حَتَّی یَصْنَعَہُ الإِمَام۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٢) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی کمر کو نہیں جھکاتا تھا جب تک آپ سجدہ نہ کرلیں، جب آپ سجدہ کرلیتے تو ہم بھی آپ کی اتباع کرتے۔
(۷۲۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ لَمْ یَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَہْرَہُ حَتَّی یَسْجُدَ فَإِذَا سَجَدَ تَبِعْنَاہُ۔ (بخاری ۷۴۷۔ ابوداؤد ۶۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٣) حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک دِن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو رخ مبارک ہماری طرف پھیر کرا رشاد فرمایا کہ اے لوگو ! میں تمہارا امام ہوں، تم رکوع اور سجدوں ، قیام اور سلام میں مجھ سے آگے نہ بڑھو، میں تمہیں اپنے آگے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
(۷۲۳۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ، فَلَمَّا قَضَی الصَّلاَۃ أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إنِّی إمَامُکُمْ فَلاَ تَسْبِقُونِی بِالرُّکُوعِ، وَلاَ بِالسُّجُودِ ، وَلاَ بِالْقِیَامِ ، وَلاَ بِالإِنْصِرَافِ فَإِنِّی أَرَاکُمْ أَمَامِی وَمِنْ خَلْفِی۔ (مسلم ۱۱۲۔ ابوداؤد ۶۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٤) حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ حضرت محمد اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ کوئی شخص امام سے پہلے کوئی تکبیر کہے۔
(۷۲۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدُ یَکْرَہُ أَنْ یُسْبَقَ الإِمَام بِشَیْئٍ مِنَ التَّکْبِیرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٥) حضرت حطان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں ہمارے لیے دین کو بیان فرمایا اور ہمیں نماز سکھائی، آپ نے اس میں فرمایا کہ جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع کرتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔
(۷۲۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا أَبُو مُوسَی ، فَلَمَّا انْفَتَلَ ، قَالَ : إنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَبَیَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلاَتَنَا ، فَقَالَ : إذَا کَبَّرَ الإِمَام فَکَبِّرُوا ، وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا فَإِنَّ الإِمَام یَرْکَعُ قَبْلَکُمْ وَیَرْفَعُ قَبْلَکُمْ۔ (مسلم ۳۰۳۔ ابوداؤد ۹۶۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٦) حضرت علی بن مدرک فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ جب یمن آئے تو وہاں کے لوگوں کو علم سکھاتے ہوئے فرمایا کہ مں ہ جس طرح نماز پڑھوں گا تم نے بھی اسی طرح نماز پڑھنی ہے۔ چنانچہ جب وہ سجدے میں جانے لگے تو درخت کی ایک ٹہنی ان کی آنکھ میں لگی، انھوں نے اس ٹہنی کو توڑ دیا تو وہ سب لوگ درخت کی طرف لپکے اور اس کی ٹہنیوں کو توڑنے لگے۔ جب حضرت معاذ نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ میں نے تو ٹہنی اس لیے توڑی تھی کیونکہ اس نے سجدے میں جاتے ہوئے میری آنکھ میں تکلیف پہنچائی تھی۔ البتہ تم نے جس اطاعت سے کام لیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
(۷۲۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ ، أَنَّ مُعَاذًا لَمَّا قَدِمَ الْیَمَنَ کَانَ یُعْلَمُ النَّخْعَ ، فَقَالَ لَہُم : إذَا رَأَیْتُمُونِی صَنَعْت شَیْئًا فِی الصَّلاَۃ فَاصْنَعُوا مِثْلَہُ ، فَلَمَّا سَجَدَ أَضَرَّ بِعَیْنَیْہِ غُصْنُ شَجَرَۃٍ فَکَسَرَہُ فِی الصَّلاَۃ فَعَمَدَ کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ إلَی غُصْنٍ فِی الصَّلاَۃ فَکَسَرَہُ ، فَلَمَّا صَلَّی ، قَالَ إنِّی إنَّمَا کَسَرْتُہُ لأَنَّہُ أَضَرَّ بِعَیْنَیْ حِینَ سَجَدْت وَقَدْ أَحْسَنْتُمْ فِیمَا أَطَعْتُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ امام کی اقتداء کرو
(٧٢٣٧) حضرت نافع بن جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر بڑھنے کی وجہ سے میرے جسم کا گوشت بڑھ گیا ہے، لہٰذا تم قیام اور سجود میں مجھ سے آگے مت بڑھو۔
(۷۲۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی امْرُؤٌ قَدْ بَدَنْتُ فَلاَ تُبَادِرُونِی بِالْقِیَامِ ، وَلاَ بِالسُّجُودِ۔ (ابن سعد ۴۲۰۔ طبرانی ۱۵۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٣٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں حضرت بلال آپ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! ابوبکر تو ایک نرم دل اور رقیق القلب آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان سے برداشت نہ ہوگا اور وہ رونے لگیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ حضرت عمر کو نماز کا حکم دے دیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو حضرت یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہو۔ پس حضرت ابوبکر کو پیغام دیا گیا اور انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ کچھ دیر بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدن مبارک میں کچھ خفت محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ جب حضرت ابوبکر نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہں و اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کرتے تھے۔
(۷۲۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ جَائَ بِلاَلٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلاَۃ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ أَسِیفٌ وَمَتَی یَقُومُ مَقَامَک یَبْکِی فَلاَ یَسْتَطِیعُ فَلَوْ أَمَرْت عُمَرَ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبَاتُ یُوسُفَ فَأُرْسَلَ إلَی أَبِی بَکْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ إلَی الصَّلاَۃ یُہَادَی بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَرِجْلاَہُ تَخُطَّانِ فِی الأَرْضِ ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِ أَبُو بَکْرٍ ذَہَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ مَکَانَک ، قَالَتْ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ ، فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَأْتَمُّونَ بِأَبِی بَکْرٍ۔ (مسلم ۹۵۔ ابن ماجہ ۱۲۳۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٣٩) حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں حضرت بلال حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے بلال ! تم نے پیغام پہنچا دیا اب جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ انھوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! تو پھر لوگوں کو نماز کون پڑھائے ؟ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ جب حضرت ابوبکر نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ مبارک کے خیمے اٹھائے گئے اور آپ وہاں سے یوں تشریف لائے کہ آپ کا چہرہ مبارک چاندی کے ٹکڑے کی طرح محسوس ہورہا تھا۔ آپ پر سیاہ رنگ کی ایک چادر تھی۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا توس مجھے کہ شاید آپ تشریف لانا چاہتے ہیں لہٰذا وہ مصلے سے پیچھے ہٹ گئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھاتے رہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا اور اسی دن آپ کا وصال ہوگیا۔
(۷۲۳۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ أَتَاہُ بِلاَلٌ فَأَذَّنَہُ بِالصَّلاَۃ ، فَقَالَ : یَا بِلاَلُ قَدْ بَلَّغْت فَمَنْ شَائَ فَلْیُصَلِّ وَمَنْ شَائَ فَلْیَدَعْ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ فَمَنْ یُصَلِّی بِالنَّاسِ؟ قَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَلَمَّا تَقَدَّمَ أَبُو بَکْرٍ رُفِعَتِ السُّتُورُ ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْنَا إلَیْہِ کَأَنَّہُ وَرَقَۃٌ بَیْضَائُ عَلَیْہِ خَمِیصَۃٌ فَظَنَّ أَبُو بَکْرٍ ، أَنَّہُ یُرِیدُ الْخُرُوجَ فَتَأَخَّرَ وَأَشَارَ إلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلِّ مَکَانَک فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ وَمَا رَأَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی مَاتَ مِنْ یَوْمِہِ۔ (بخاری ۶۸۰۔ مسلم ۹۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٤٠) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات میں جب آپ کا مرض شدت پکڑ گیا تو آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ اس پر حضرت عائشہ نے کہا کہ وہ ایک نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی نماز کا کہو، تم تو صواحبِ یوسف کی طرح ہو۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔
(۷۲۴۰) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُہُ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ مَتَی یَقُمُ مَقَامَک فَلاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : مُرِی أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ ، قَالَ : فَصَلَّی بِہِمْ أَبُو بَکْرٍ حَیَاۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۶۷۸۔ مسلم ۱۰۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٤١) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، حضرت ابوبکر آپ کے پیچھے تھے، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہتے تو حضرت ابوبکر بلند آواز سے تکبیر کہہ لوگوں تک تکبیر کی آواز پہنچاتے۔
(۷۲۴۱) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی الزُبَیْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّہُمْ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ خَلْفَہُ فَیُکَبِّرُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیُکَبِّرُ أَبُو بَکْرٍ یُسْمِعُ النَّاسَ۔ (مسلم ۸۵۔ ابوداؤد ۶۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٤٢) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا تو انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک تم میں سے۔ اس پر حضرت عمر ان کے پاس آئے اور ان سے کہا اے انصار کی جماعت ! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا ؟ انھوں نے کہا جی ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ پھر تم میں سے کس کا دل کرے گا کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے ؟
(۷۲۴۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتِ الأَنْصَارُ مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ فَأَتَاہُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ أَبَا بَکْرٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ ، قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : فَأَیُّکُمْ تَطِیبُ نَفْسُہُ أَنْ یَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ۔ (نسائی ۸۵۲۔ احمد ۱/۳۹۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٤٣) حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض الوفات کا شکار ہوئے تو آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ کچھ دیر آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جسم مبارک میں خفت محسوس کی تو آپ باہر تشریف لے آئے۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارے سے انھیں اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم فرمایا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آکر حضرت ابوبکر کے ساتھ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔
(۷۲۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یُحَدِّثُ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اشْتَکَی ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَکْرٍ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَانَک فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَلَسَ إلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ ، فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یَأْتَمُّ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یَأْتَمُّونَ بِأَبِی بَکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٤٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مرض الوفات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوئی، جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ ! وہ انتہائی نرم دل اور مہربان آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوئی، جب افاقہ ہوا تو آپ نے پھر وہی بات فرمائی، میں نے آپ کو تین مرتبہ جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ تم یوسف کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہوں، ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کچھ دیر بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے جسم مبارک میں کچھ خفت محسوس کی، آپ بریرہ اور نوبہ کے سہارے سے باہر تشریف لے گئے، جسم مبارک میں کمزوری کی وجہ سے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے اور میں آپ کے تلووں کی سفیدی کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ تو پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارے سے انھیں وہیں کھڑے رہنے کا حکم دیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت میں نماز ادا کررہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتداء کررہے تھے۔
(۷۲۴۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عائِشَۃَ، قَالَتْ : أُغْمِیَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ ؟ قَالَتْ : فَقُلْنَا : لاَ ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْک وَسَلَّمَ إنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِیفٌ ، قَالَ : عَاصِمٌ الأَسِیفُ الرَّقِیقُ الرَّحِیمُ ، وَإِنَّہُ مَتَی یَقُمُ مَقَامَک لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : ثُمَّ أُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِکَ ، فَرَدَّت عَلَیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : إنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ : فَوَجَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ بَیْنَ بَرِیرَۃَ وَنَوْبَۃَ ، تَخُطُّ نَعْلاَہُ إنِّی لأَرَی بَیَاضَ بُطُون قَدَمَیْہِ ، وَأَبُو بَکْرٍ یَؤُمُّ النَّاسَ ، فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَکْرٍ ذَہَبَ یَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إلَیْہِ أَنْ لاَ یَتَأَخَّرَ ، قَالَتْ : فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ بِجَنْبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، والنَّبیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ ، یُصَلِّی أَبُو بَکْرٍ بِصَلاَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ۔(ابن حبان ۲۱۱۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ کی امامت میں نماز پڑھنا
(٧٢٤٥) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الوفات میں حضرت ابوبکر کے پیچھے نماز اد ا کی ہے۔
(۷۲۴۵) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ نُعَیْمِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ قَاعِدًا۔ (ترمذی ۳۶۲۔ احمد ۶/۱۵۹)
তাহকীক: