মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৭৪০৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٠٦) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد غروب شمس تک اور فجر کے بعد طلوع شمس تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
(۷۴۰۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْ صَلاَتَیْنِ ، عَنْ صَلاَۃٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَعَنْ صَلاَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔ (بخاری ۵۸۵۔ مسلم ۲۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪০৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٠٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ فجر کے بعد طلوع شمس تک اور عصر کے بعد غروب شمس تک نماز نہیں ہوتی۔
(۷۴۰۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنی رِجَالٌ مَرْضِیُّونَ فِیہِمْ عُمَرُ وَأَرْضَاہُمْ ، عِنْدِی عُمَرُ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔ (بخاری ۵۸۱۔ ابوداؤد ۱۲۷۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪০৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٠٨) حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد طلوع شمس تک اور عصر کے بعد غروب شمس تک نماز نہیں ہوتی۔ اور حضرت عمر اس پر مارا کرتے تھے۔
(۷۴۰۸) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : لاَ تَصلُح الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغِیبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، قَالَ وَکَانَ عُمَرَ یَضْرِبُ عَلَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪০৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٠٩) حضرت اشتر فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید عصر کے بعد نماز پڑھنے پر لوگوں کو مارا کرتے تھے۔
(۷۴۰۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنِ الأَشْتَرِ ، قَالَ : کَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ یَضْرِبُ النَّاسَ عَلَی الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٠) حضرت عبداللہ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے، اور وہ فرماتے تھے کہ میں اس چیز کو مکروہ سمجھتا ہوں جسے حضرت عمر مکروہ سمجھتے تھے۔
(۷۴۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ووَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ عُمَرَ کَرِہَ الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنِّی أَکْرَہُ مَا کَرِہَ عُمَرُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١١) حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو اسے اتنا مارا کہ اس کی چادر گرگئی۔
(۷۴۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ أَبْصَرَ رَجُلاً یُصَلِّی بَعْدَ الْعَصْرِ فَضَرَبَہُ حَتَّی سَقَطَ رِدَاؤُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٢) حضرت محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے عصر کے بعد نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں اس وقت تک نماز شروع کرنے کو درست نہیں سمجھتا جب تک سورج غروب نہ ہوجائے۔
(۷۴۱۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَارَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَالِمًا ، عَنِ الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَبْتَدِئُ بِصَلاَۃٍ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٣) حضرت ابن سیرین عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیتے تھے۔
(۷۴۱۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٤) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے پر مارا کرتے تھے۔
(۷۴۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ یَضْرِبُ عَلَی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٥) حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو میرے نماز مکمل کرنے کا انتظار کیا۔ جب میں نے نماز مکمل کرلی تو انھوں نے فرمایا کہ یہ کون سی نماز پڑھ رہے تھے ؟ میں نے کہا کہ آپ کے پیچھے میری کچھ نماز چھوٹ گئی تھی اسے مکمل کررہا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ تم عصر کے بعد کوئی نماز پڑھ رہے تھے تو میں تمہارے ساتھ اچھا نہ کرتا۔
(۷۴۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَآنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَوْمًا وَأَنَا أُصَلِّی بَعْدَ الْعَصْرِ فَانْتَظَرَنِی حَتَّی صَلَّیْت ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ الصَّلاَۃ؟ فَقُلْت: سَبَقْتنِی بِشَیْئٍ مِنَ الصَّلاَۃ، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ عَلِمْت أَنَّک تُصَلِّی بَعْدَ الْعَصْرِ لَفَعَلْت وَفَعَلْت۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٦) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ نماز پڑھی، ان سب کا فرمان تھا کہ فجر کے بعد طلوع شمس تک نماز نہیں ہوتی۔
(۷۴۱۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ثَابِتُ بن عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّیْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْغَدَاۃِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ (ابوداؤد ۱۴۱۰۔ احمد ۲/۱۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٧) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، سوائے فجر اور عصر کے۔
(۷۴۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی عَلَی إِثْرِ کُلِّ صَلاَۃٍ مَکْتُوبَۃٍ رَکْعَتَیْنِ إِلاَّ الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔ (ابوداؤد ۱۲۶۹۔ احمد ۱/۱۲۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٨) حضرت سائب کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر نے منکدر کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے پر مارا۔
(۷۴۱۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنِ السَّائِبِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَضْرِبُ الْمُنْکَدِرَ عَلَی السَّجْدَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، یَعْنِی الرَّکْعَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪১৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤١٩) حضرت سوید اور حضرت قبیصہ بن جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے پر مارا کرتے تھے۔
(۷۴۱۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ سُوَیْد ، وَعَنْ أَبِی حُصَیْنٍ ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالاَ : کَانَ عُمَرُ یَضْرِبُ عَلَی الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٢٠) حضرت مختار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک سے عصر کے بعد نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت عمر عصر کے بعد نماز پڑھنے پر ہاتھوں پر مارا کرتے تھے۔
(۷۴۲۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ، عَنِ الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : کَانَ عُمَرُ یَضْرِبُ الأَیْدِی عَلَی الصَّلاَۃ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٢١) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ دو کھجوریں مکھن کے ساتھ یہ مجھے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔
(۷۴۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو ہِلاَلٍ ، عَنِ ابن بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ تَمْرَتَانِ بِزُبْدٍ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ صَلاَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کے بعد نماز نہیں ہوتی
(٧٤٢٢) حضرت عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب گھڑی کون سی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ رات کا آخری حصہ۔ تم اس وقت سے فجر کی نماز تک جتنی چاہو نماز پڑھو۔ پھر سورج طلوع ہونے کے بعد اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک سورج چھوٹی کمان کی طرح ہو۔ جب وہ پورا ہوجائے تو نماز پڑھ لو۔ پھر اس وقت تک نماز پڑھ سکتے ہو جب تک سورج کا سایہ بالکل سیدھا نہ ہوجائے۔ اس وقت سے زوال شمس تک نماز سے رکے رہو۔ اس لیے کہ نصف نہار کے وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔ پھر عصر کی نماز تک جو چاہو نماز پڑھتے رہو، عصر پڑھنے کے بعد مغرب تک نماز سے رکے رہو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور انہی کے درمیان غروب ہوتا ہے۔
(۷۴۲۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ہَلْ مِنْ سَاعَۃٍ أَقْرَبُ إلَی اللہِ مِنْ سَاعَۃٍ ، فَقَالَ : نَعَمْ جَوْفُ اللَّیْلِ فَصَلِّ مَا بَدَا لَکَ حَتَّی تُصَلِّیَ الصُّبْحَ ، ثُمَّ أَنْہِہْ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ : کأَنَّہَا حجفَۃٌ حَتَّی تَنْتَشِرَ ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَکَ حَتَّی یَقُومَ الْعَمُودُ عَلَی ظِلِّہِ ، ثُمَّ أَنْہِہْ حَتَّی تَزُولَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَہَنَّمَ تُسجَرُ نِصْفَ النَّہَارِ ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَکَ حَتَّی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَنْہِہْ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّہَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ وَتَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ۔ (نسائی ۱۵۶۰۔ احمد ۴/۱۱۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
(٧٤٢٣) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے حجرے میں عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔
(۷۴۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : مَا تَرَکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فِی بَیْتِی قَطُّ۔ (بخاری ۵۹۱۔ مسلم ۲۹۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
(٧٤٢٤) حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے ساتھ حضرت معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت معاویہ نے ان کو تخت پر بٹھایا، پھر ان سے فرمایا کہ یہ دو رکعتیں جو لوگ عصر کے بعد پڑھتے ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے، ہم نے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کا حکم دیا ہے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت ابن زبیر لوگوں کو اس نماز کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت معاویہ نے حضرت ابن زبیر کو بلا کر اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عائشہ نے اس کے بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کے پاس پیغام بھجوایا تو انھوں نے فرمایا کہ مجھے ام سلمہ نے اس بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس آدمی بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ اس نے حضرت ام سلمہ سے سوال کیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ پر رحم فرمائے، انھوں نے یہ مراد کیسے لے لی ؟ میں نے انھیں بتایا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو رکعتوں سے منع فرمایا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں تھے اور آپ نے ظہر کے لیے وضو فرمایا۔ آپ نے ایک آدمی کو زکوۃ جمع کرنے کے لیے بھیجا ہوا تھا وہ واپس آیا اور اس کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہوگئے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر تشریف لے گئے اور ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر بیٹھ کر اس مال کو لوگوں میں تقسیم فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے آپ کو دیکھ کر عصر کی اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔
پھر آپ میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ یہ دو رکعتیں جو آپ نے ابھی ادا کی ہں م یہ کون سی ہیں ؟ میں نے تو پہلے آپ کو یہ نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا کہ زکوۃ وصول کرنے والے کی مشغولیت نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں ادا کرنے سے روکے رکھا، میں نے انھیں اب ادا کیا ہے۔
حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ادا کیا ہے تو میں انھیں ضرور پڑھوں گا۔
اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں تھے اور آپ نے ظہر کے لیے وضو فرمایا۔ آپ نے ایک آدمی کو زکوۃ جمع کرنے کے لیے بھیجا ہوا تھا وہ واپس آیا اور اس کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہوگئے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر تشریف لے گئے اور ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر بیٹھ کر اس مال کو لوگوں میں تقسیم فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے آپ کو دیکھ کر عصر کی اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔
پھر آپ میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ یہ دو رکعتیں جو آپ نے ابھی ادا کی ہں م یہ کون سی ہیں ؟ میں نے تو پہلے آپ کو یہ نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا کہ زکوۃ وصول کرنے والے کی مشغولیت نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں ادا کرنے سے روکے رکھا، میں نے انھیں اب ادا کیا ہے۔
حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ادا کیا ہے تو میں انھیں ضرور پڑھوں گا۔
(۷۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : دَخَلْت مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَی مُعَاوِیَۃَ فَأَجْلَسَہُ مُعَاوِیَۃُ عَلَی السَّرِیرِ ، ثُمَّ قَالَ لَہُ : مَا رَکْعَتَانِ یُصَلِّیہِمَا النَّاسُ بَعْدَ الْعَصْرِ لَمْ نَرَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَّہُمَا وَلاَ أَمَرَ بِہِمَا قَالَ : ذَلِکَ مَا یُفْتِی بِہِ النَّاسَ ابْنُ الزُّبَیْرِ ، فَأَرْسَلَ إلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِی ذَلِکَ عَائِشَۃُ ، فَأَرْسَلَ إلَی عَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ : أَخْبَرَتْنِی ذَلِکَ أُمُّ سَلَمَۃَ ، فَأَرْسَلَ إلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَانْطَلَقَتْ مَعَ الرَّسُولِ فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَۃَ ، فَقَالَتْ یَرْحَمُہَا اللَّہُ مَا أَرَادَتْ إلَی ہَذَا فَقَدْ أَخْبَرْتہُا ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی عَنْہُمَا۔
إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَمَا ہُوَ فِی بَیْتِی یَتَوَضَّأُ للظُّہْر وَکَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِیًا وَکَثُرَ عِنْدَہُ الْمُہَاجِرُونَ وَکَانَ قَدْ أَہَمَّہُ شَأْنُہُمْ إذْ ضَرَبَ الْبَابَ فَخَرَجَ إلَیْہِ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ جَلَسَ یُقسِمُ مَا جَائَ بِہِ فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی صَلَّی الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَآہ بِلاَلٌ فَأَقَامَ الصَّلاَۃ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِی فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ : مَا رَکْعَتَانِ رَأَیْتُک تُصَلِّیہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ لَمْ أَرَک تُصَلِّیہِمَا ، فَقَالَ : شَغَلَنِی أَمْرُ السَّاعِی لَمْ أَکُنْ صَلَّیْتُہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّیْتہمَا۔
فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ : قَدْ صَلاَّہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أُصَلِّیہِمَا۔(ابوداؤد ۲۱۶۷۔ احمد ۶/۳۱۱)
إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَمَا ہُوَ فِی بَیْتِی یَتَوَضَّأُ للظُّہْر وَکَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِیًا وَکَثُرَ عِنْدَہُ الْمُہَاجِرُونَ وَکَانَ قَدْ أَہَمَّہُ شَأْنُہُمْ إذْ ضَرَبَ الْبَابَ فَخَرَجَ إلَیْہِ فَصَلَّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ جَلَسَ یُقسِمُ مَا جَائَ بِہِ فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی صَلَّی الْعَصْرَ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَآہ بِلاَلٌ فَأَقَامَ الصَّلاَۃ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِی فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ : مَا رَکْعَتَانِ رَأَیْتُک تُصَلِّیہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ لَمْ أَرَک تُصَلِّیہِمَا ، فَقَالَ : شَغَلَنِی أَمْرُ السَّاعِی لَمْ أَکُنْ صَلَّیْتُہُمَا بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّیْتہمَا۔
فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ : قَدْ صَلاَّہُمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أُصَلِّیہِمَا۔(ابوداؤد ۲۱۶۷۔ احمد ۶/۳۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৪২৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
(٧٤٢٥) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے۔
(۷۴۲۵) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا بُرْدَۃَ بْنَ أَبِی مُوسَی یُصَلِّی بَعْدَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ۔
তাহকীক: