মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৭৬৮৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم
(٧٦٨٦) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ مرد کے لیے عورتوں کے کپڑوں میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
(۷۶۸۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَمَانَ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یُصَلِّیَ الرَّجُلُ فِی ثَوْبِ الْمَرْأَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس جملہ کو مکروہ خیال فرماتے ہیں ” ہم نماز سے پھر گئے “
(٧٦٨٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم نماز سے پھرگئے، کیونکہ جو لوگ نماز سے پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو پھیر دیتا ہے۔ تمہیں یوں کہنا چاہیے کہ نماز ادا کرلی گئی۔
(۷۶۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ یَرِیمَ أَبِی ہِلاَلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ العَبَّاسٍ یَقُولُ: لاَ یَقُولُ انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلاَۃ فَإِنَّ قَوْمًا انْصَرَفُوا فَصَرَفَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ وَلَکِنْ قُولُوا : قَدْ قُضِیَتِ الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس جملہ کو مکروہ خیال فرماتے ہیں ” ہم نماز سے پھر گئے “
(٧٦٨٨) حضرت ابراہیم اس جملہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
(۷۶۸۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس جملہ کو مکروہ خیال فرماتے ہیں ” ہم نماز سے پھر گئے “
(٧٦٨٩) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ یوں نہیں کہنا چاہیے کہ ہم نماز سے پھرگئے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ نماز ادا کرلی گئی۔
(۷۶۸۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ الْخِرِّیتِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لاَ یُقَالُ : انْصَرَفْنَا مِنَ الصَّلاَۃ وَلَکِنْ قَدْ قُضِیَتِ الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد کی طرف جانے کی رخصت دی ہے
(٧٦٩٠) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی ایک بیوی فجر اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھا کرتی تھی۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم نماز کے لیے کیوں جاتی ہو حالانکہ تم جانتی ہو کہ حضرت عمر اس بات کو ناپسند خیال فرماتے ہیں اور اس پر غصہ کھاتے ہیں ؟ اس خاتون نے کہا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کرتے ؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ قول انھیں تمہیں منع کرنے سے روکتا ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔
(۷۶۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَتِ امْرَأَۃٌ لِعُمَرَ تَشْہَدُ صَلاَۃَ الصُّبْحِ وَالْعِشَائِ فِی جَمَاعَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ فَقِیلَ لَہَا : لِمَ تَخْرُجِینَ وَقَدْ تَعْلَمِینَ أَنَّ عُمَرَ یَکْرَہُ ذَلِکَ وَیَغَارُ ؟ قَالَتْ : فَمَا یَمْنَعُہُ أَنْ یَنْہَانِی ، قَالُوا : یَمْنَعُہُ قَوْلُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَمْنَعُوا إمَائَ اللہِ مَسَاجِدَ اللہِ۔ (بخاری ۹۰۰۔ احمد ۲/۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد کی طرف جانے کی رخصت دی ہے
(٧٦٩١) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔ البتہ جب وہ آئیں تو خوشبو لگا کر نہ آئیں۔
(۷۶۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَمْنَعُوا إمَائَ اللہِ مَسَاجِدَ اللہِ وَلْیَخْرُجْنَ إذَا خَرَجْنَ تَفِلاَتٍ۔ (ابوداؤد ۵۶۶۔ احمد ۴۳۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد کی طرف جانے کی رخصت دی ہے
(٧٦٩٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان چیزوں کو دیکھ لیتے جو آج عورتوں میں پیدا ہوگئی ہیں تو انھیں مسجد میں جانے سے روک دیتے جیسے بنو اسرائیل کی عورتوں کو روکا گیا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ کیا انھیں روک دیا گیا تھا ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا ہاں۔
(۷۶۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وعَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : لَوْ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ مَا أَحْدَثْنَ النِّسَائُ الیَوْم لَمَنَعَہُنَّ الْمَسَاجِدَ کَمَا مُنِعْنَہُ نِسَائُ بَنِی إسْرَائِیلَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : وَمُنِعْنَہُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ۔ (مسلم ۱۴۴۔ مؤطا ۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد کی طرف جانے کی رخصت دی ہے
(٧٦٩٣) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔
(۷۶۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَمْنَعُوا إمَائَ اللہِ مَسَاجِدَ اللہِ۔ (بخاری ۹۰۰۔ ابوداؤد ۵۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد کی طرف جانے کی رخصت دی ہے
(٧٦٩٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مسعود کی بیوی عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھا کرتی تھیں۔
(۷۶۹۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ شبَاکٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَتِ امْرَأَۃُ أَبِی مَسْعُودٍ تُصَلِّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ فِی مَسْجِدِ الْجَمَاعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد کی طرف جانے کی رخصت دی ہے
(٧٦٩٥) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تمہاری عورتیں تم سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگیں تو انھیں اجازت دے دو ۔
(۷۶۹۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَۃُ الْجُمَحِیُّ ، عَنْ سَالِمٍ بنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا اسْتَأْذَنَکُمْ نِسَاؤُکُمْ إلَی الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَہُنَّ۔ (بخاری ۸۶۵۔ مسلم ۱۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٦٩٦) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ کسی عورت نے اپنے کمرے سے بہتر کسی جگہ نماز نہیں پڑھی، البتہ وہ عورت جو مسجد حرام میں نماز پڑھے۔ البتہ کوئی بوڑھی عورت پھٹے ہوئے موزوں کے ساتھ آئے تو اس کے لیے جائز ہے۔
(۷۶۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَا صَلَّتِ امْرَأَۃٌ صَلاَۃً قَطُّ أَفْضَلَ مِنْ صَلاَۃٍ تُصَلِّیہَا فِی بَیْتِہَا إِلاَّ أَنْ تُصَلِّیَ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، إِلاَّ عَجُوزٌ فِی مَنْقَلَیْہَا ، یَعْنِی خُفَّیْہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٦٩٧) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عبداللہ بن عباس سے جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ تمہارے لیے اپنے پردے میں نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اپنے گھر مں ن نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنے گھر میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
(۷۶۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتْہُ عَنِ الصَّلاَۃ فِی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ؟ فَقَالَ : صَلاَتُکِ فِی مَخْدَعِکِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِکِ فِی بَیْتِکِ ، وَصَلاَتُکِ فِی بَیْتِکِ أفْضَلُ مِنْ صَلاَتِکِ فِی حُجْرَتِکِ ، وَصَلاَتُکِ فِی حُجْرَتِکِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِکَ فِی مَسْجِدِ قَوْمِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٦٩٨) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ عورت چھپانے کی چیز ہے، وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر آتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے۔
(۷۶۹۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَص ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : الْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ وَأَقْرَبُ مَا تَکُونُ مِنْ رَبِّہَا إذَا کَانَتْ فِی قَعْرِ بَیْتِہَا فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٦٩٩) حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے نکالنے کے لیے کنکریاں مارتے تھے۔
(۷۶۹۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَحْصِبُ النِّسَائَ یُخْرِجُہُنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٧٠٠) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اس کا خاوند جیل سے آزاد ہوگیا تو وہ بصرہ کی ہر اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھے گی جس میں جماعت ہوتی ہے۔ اس نذر کا کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا وہ اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھے، کیونکہ وہ اپنی اس نذر کو پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر حضرت عمر اسے دیکھتے تو اس کے سر پر مارتے۔
(۷۷۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا إیَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ ، قَالَ : سُئِلَ الْحَسَنُ عَنِ امْرَأَۃٍ جَعَلَتْ عَلَیْہَا إِنْ أُخْرِجَ زَوْجُہَا مِنَ السِّجْنِ أَنْ تُصَلِّیَ فِی کُلِّ مَسْجِدٍ تُجَمَّعُ فِیہِ الصَّلاَۃ بِالْبَصْرَۃِ رَکْعَتَیْنِ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : تُصَلِّی فِی مَسْجِدِ قَوْمِہَا فَإِنَّہَا لاَ تُطِیقُ ذَلِکَ لَوْ أَدْرَکَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَوْجَعَ رَأْسَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٧٠١) حضرت ابو عمرو شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے اس گھر کے مالک یعنی حضرت ابن مسعود کو فرماتے ہوئے سنا، انھوں نے بھرپور قسم کھا کر فرمایا کہ عورت کی کوئی نماز اللہ کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں جسے وہ اپنے کمرے میں پڑھے۔ البتہ حج وعمرہ کی نماز اس سے مستثنیٰ ہے اور ایسی عورت جو خاوند کے قابل نہ رہی ہو وہ بھی اس سے مستثنیٰ ہے۔
(۷۷۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَبَّ ہَذِہِ الدَّارِ، یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ حَلَفَ فَبَالَغَ فِی الْیَمِینِ مَا صَلَّتِ امْرَأَۃٌ صَلاَۃً أَحَبَّ إلَی اللہِ مِنْ صَلاَۃٍ فِی بَیْتِہَا إِلاَّ فِی حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ ، إِلاَّ امْرَأَۃٌ قَدْ أَیِسَتْ مِنَ الْبُعُولَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٧٠٢) حضرت ام حمید فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! ہمارے خاوند اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں ، حالانکہ ہمیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے اپنے کمروں میں نماز پڑھنا گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھروں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
(۷۷۰۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ ، حَدَّثَنِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ الْمُنْذِرِ السَّاعِی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ حُمَیْدٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْنَعُنَا أَزْوَاجُنَا أَنْ نُصَلِّیَ مَعَک وَنُحِبُّ الصَّلاَۃ مَعَک ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صَلاَتُکُنَّ فِی بُیُوتِکُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِکُنَّ فِی حُجَرِکُنَّ ، وَصَلاَتُکُنَّ فِی حُجَرِکُنَّ أَفْضَلُ مِنْ صَلاَتِکُنَّ فِی الْجَمَاعَۃِ۔ (طبرانی ۳۵۶۔ احمد ۶/۳۷۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
(٧٧٠٣) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کی تین بیویاں تھیں وہ انھیں جمعہ اور جماعت میں شریک نہ ہونے دیتے تھے۔
(۷۷۰۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ: کَانَ لإِبْرَاہِیمَ ثَلاَثُ نِسْوَۃٍ فَلَمْ یَکُنْ یَدَعُہُنَّ یَخْرُجْنَ إلَی جُمُعَۃٍ ، وَلاَ جَمَاعَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں
(٧٧٠٤) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں اور ان کی بدترین صفیں اگلی صفیں ہیں۔
(۷۷۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ آخِرُہَا وَشَرُّہَا مُقَدَّمُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں
(٧٧٠٥) حضرت عبداللہ فرمایا کرتے تھے کہ عورتوں کی بہترین صفیں پچھلی صفیں ہیں۔
(۷۷۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یَقُولُ : خَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ الْمُؤَخَّرُ۔
তাহকীক: