মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৭৮২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح کے بدلے ملنے والی اجرت یا ہدیہ کا بیان
(٧٨٢٦) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھو اور اللہ سے قرآن کے ذریعہ سوال کرو، کیونکہ ایک ایسی قوم آنے والی ہے جو لوگوں سے قرآن کے واسطے سے مانگاکریں گے۔
(۷۸۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الْحَطِیم ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ عُمَرُ : اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ وَسَلُوا اللَّہَ بِہِ قَبْلَ أَنْ یَقْرَأَہُ قَوْمٌ یَسْأَلُونَ النَّاسَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں نماز پڑھنے کا بیان
(٧٨٢٧) حضرت سوید بن غفلہ راستے میں نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے۔
(۷۸۲۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ سُوَیْد بْنِ غَفَلَۃَ : أَنَّہُ کَانَ یَنْہَی عَنِ الصَّلاَۃ عَلَی الطَّرِیقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں نماز پڑھنے کا بیان
(٧٨٢٨) حضرت سیار بن معرور فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے کچھ لوگوں کو راستے میں نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ مسجد میں نماز پڑھو۔
(۷۸۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ سَیَّارِ بْنِ مَعْرُورٍ قَالَ : رَأَی عُمَرُ قَوْمًا یُصَلُّونَ عَلَی الطَّرِیقِ ، فَقَالَ : صَلُّوا فِی الْمَسْجِدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں نماز پڑھنے کا بیان
(٧٨٢٩) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کھلے راستوں میں نہ تو نماز پڑھو اور نہ ہی پڑاؤ ڈالو، کیونکہ یہ سانپوں اور درندوں کا ٹھکانا ہوتے ہیں۔
(۷۸۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُصَلُّوا عَلَی جَوَادِ الطَّرِیقِ ، وَلاَ تَنْزِلُوا عَلَیْہَا فَإِنَّہَا مَأْوَی الْحَیَّاتِ وَالسِّبَاعِ۔ (احمد ۳/۳۸۲۔ عبدالرزاق ۹۲۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے راستوں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے
(٧٨٣٠) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام اہواز کی گلیوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ حضرت انس اپنے خادموں کی گذرگاہ میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
(۷۸۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلُّونَ فِی سِکَکِ الأَہْوَازِ ، وَکَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ یُصَلِّی فِی مَمَرِّ خَدَمِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣١) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہمارے لیے ساری زمین کو مسجد بنادیا گیا ہے۔
(۷۸۳۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : جُعِلَتْ لَنَا الأَرْضُ کُلُّہَا مَسْجِدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٢) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے ساری زمین کو پاکی کا ذریعہ اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادیا گیا ہے۔ میرے امت کے کسی فرد کو جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لے۔
(۷۸۳۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَیَّارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ الْفَقِیرُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : جُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا فَأَیُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِی أَدْرَکَتْہُ الصَّلاَۃ فَلْیُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہُ۔ (بخاری ۳۳۵۔ مسلم ۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٣) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے ساری زمین کو پاکی کا ذریعہ اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادیا گیا ہے۔
(۷۸۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ وَمِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا۔ (بخاری ۲۱۵۲۔ احمد ۱/۳۰۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٤) حضرت ابوبردہ کے والد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے ساری زمین کو پاکی کا ذریعہ اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادیا گیا ہے۔
(۷۸۳۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : جُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا۔ (احمد ۴/۴۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٥) حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تمہیں جہاں نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لو، وہ جگہ ہی تمہارے لیے مسجد ہے۔
(۷۸۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَیْنَمَا أَدْرَکَتْکَ الصَّلاَۃ فَصَلِّ فَہُوَ مَسْجِدٌ۔ (بخاری ۳۳۶۶۔ مسلم ۳۷۰۔ احمد ۵/۱۶۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٦) حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے ساری زمین کو پاکی کا ذریعہ اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادیا گیا ہے۔
(۷۸۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُمَر بْن ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : جُعِلَتْ لِی الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا۔ (طیالسی ۴۷۲۔ احمد ۵/۱۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٧) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ ہم دار البرید میں حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو انھوں نے لید اور بھوسے پر ہمیں نماز پڑھائی۔ ہم نے کہا کہ آپ نے ہمیں یہاں نماز پڑھادی حالانکہ گاؤں آپ کے قریب ہے ؟ انھوں نے فرمایا گاؤں اور یہاں نماز پڑھنا ایک جیسا ہے۔
(۷۸۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی فِی دَارِ الْبَرِیدِ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃ فَصَلَّی بِنَا عَلَی رَوْثٍ وَتِبْنٍ ، فَقُلْنَا تُصَلِّی بِنَا ہُنَا وَالْبَرِّیَّۃُ إلَی جَنْبِکَ ؟ فَقَالَ : الْبَرِّیَّۃُ وَہَا ہُنَا سَوَائٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٨) حضرت عکرمہ بن عمار فرماتے ہیں کہ حضرت سالم نے ایک جگہ جھاڑو پھیری اور وہاں نماز ادا فرمائی۔
(۷۸۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : رَأَیْتُُ سَالِمًا کَنَسَ مَکَانًا ، ثُمَّ صَلَّی فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ زمین ساری کی ساری مسجد ہے
(٧٨٣٩) حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرے لیے ساری زمین کو پاکی کا ذریعہ اور نماز پڑھنے کی جگہ بنادیا گیا ہے۔
(۷۸۳۹) حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : جُعِلَتْ لِی الأَرْضُ طَہُورًا وَمَسْجِدًا۔ (ابوداؤد ۴۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تراویح میں قرآن پڑھنے میں مختلف قاریوں کی اپنی ترتیب کا لحاظ
(٧٨٤٠) حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ تراویح کے اندر تلاوت کرنے والے قاریوں کا معمول یہ تھا کہ وہ قرآن مجید کو تسلسل سے پڑھا کرتے تھے، ہر بعد میں آنے والے قاری پہلے قاری کے مقام سے آگے پڑھتا تھا۔ پھر جب حضرت عمر بن عبد العزیز کا دور آیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہر قاری جہاں سے مرضی چاہے پڑھ سکتا ہے۔
(۷۸۴۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : کَانَ النَّاسُ یَقْرَؤُونَ مُتَوَاتِرِینَ فِی رَمَضَانَ کُلُّ قَارِیٍٔ فِی أَثَرِ صَاحِبِہِ حَتَّی وَلِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ : لِیَقْرَأْ کُلُّ قَارِیٍٔ مِنْ حَیْثُ أَحَبَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤١) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت عمر سے حضرت سعد کی شکایت کی اور ان کے طریقہ نماز پر اعتراض کیا۔ حضرت عمر نے انھیں خط لکھ کر بلوایا جب وہ آئے تو حضرت عمر نے انھیں لوگوں کی شکایت اور طریقہ نماز پر اعتراض سے آگاہ کیا۔ حضرت سعد نے فرمایا کہ میں انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اندازِ نماز کے مطابق نماز پڑھاتا ہوں، میں پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر رکھتا ہوں۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ اے ابو اسحاق ! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔
(۷۸۴۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ سَمُرَۃَ : أَنَّ أُنَاسًا شَکَوْا سَعْدًا إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ وَشَکَوْہُ فِی الصَّلاَۃ ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَذَکَرَ الَّذِی شَکَوْہُ فِیہِ وَذَکَرَ أَنَّہُمْ شَکَوْہُ فِی الصَّلاَۃ ، فَقَالَ سَعْدٌ : إنِّی لأُصَلِّی بِہِمْ صَلاَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إنِّی لأَرْکُدُ بِہِمْ فِی الأُولَیَیْنِ وَأَحْذِفُ بِہِم فِی الأُخْرَیَیْنِ ، قَالَ : ذَلِکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ۔ (بخاری ۷۷۰۔ مسلم ۱۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٢) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم ظہر اور عصر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کے وقت کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔ ظہر کی پہلی دو رکعات میں آپ تیس آیات کے قریب تلاوت فرماتے اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے آدھا قیام فرماتے۔ اسی طرح عصر کی پہلی دو رکعات میں آپ ظہر کی آخری دو رکعات کے برابر قیام فرماتے اور عصر کی دوسری دو رکعات میں پہلی دو رکعات سے آدھا قیام فرماتے۔
(۷۸۴۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ الْہُجَیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی الصِّدِّیقِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : کُنَّا نَحْزِرُ قِیَامَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ ، فَحَزَرْنَا قِیَامَہ فِی الظُّہْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ قَدْرَ ثَلاَثِینَ آیَۃً ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُخْرَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ ، وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُخْرَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٣) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ظہر کی پہلی دو رکعتیں اس طرح پڑھاتے کہ پہلی رکعت میں زیادہ قراءت فرماتے اور دوسری میں کم، فجر کی نماز بھی اس طرح پڑھاتے کہ پہلی رکعت میں زیادہ قراءت فرماتے اور دوسری میں کم۔ اور عصر کی پہلی دو رکعات بھی اسی طرح پڑھایا کرتے تھے۔
(۷۸۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ وَیُسْمِعُنَا الآیَۃَ أَحْیَانًا وَیُطِیلُ الأُولَی ، وَیَقْصِرُ فِی الثَّانِیَۃِ ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذَلِکَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ یُطِیلُ فِی الأُولَی وَیَقْصِرُ فِی الثَّانِیَۃِ ، وَکَانَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٤) حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر زوال شمس کے وقت نماز پڑھتے تھے اور پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے۔
(۷۸۴۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ : أَنَّ عُمَرَ کَانَ یُصَلِّی الظُّہْرَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ وَیُطِیلُ أَوَّلَ رَکْعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٥) حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں کو دوسری رکعتوں سے لمبا کیا کرتے تھے۔
(۷۸۴۵) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ الْقَاسِمِ، فَکَانَ یُطِیلُ الأُولَیَیْنِ أَطْوَلَ مِنَ الأُخْرَیَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ وَالأُولَیَیْنِ مِنَ الْعَصْرِ وَالأُولَیَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ وَالأُولَیَیْنِ مِنَ الْعِشَائِ۔
tahqiq

তাহকীক: