মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৭৮৪৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٦) حضرت خالد بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کے پیچھے نماز پڑھی وہ بھی یونہی کیا کرتے تھے اور حضرت عمر بن عبدا لعزیز بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
(۷۸۴۶) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ سَالِمٍ ، فَکَانَ یَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِکَ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَفْعَلُ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٧) حضرت ضحاک بن عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، انھوں نے پہلی دو رکعتوں کو لمبا کیا اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر، اور عصر کی نماز کو بھی مختصر کیا۔
(۷۸۴۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ : رَأَیْتُُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یُصَلِّی بِنَا الظُّہْرَ فَیُطِیلُ فِی الأُولَیَیْنِ وَیُخَفِّفُ الأُخْرَیَیْنِ وَیُحَفِّفُ فِی الْعَصْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٨) حضرت مکحول پہلی رکعت کو لمبا کیا کرتے تھے۔
(۷۸۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یزَیْدِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ : أَنَّہُ کَانَ یُطَوِّلُ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৪৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتے تھے
(٧٨٤٩) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبا کیا کرتے تھے اور ان میں سورة البقرۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔
(۷۸۴۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ یُطِیلُ الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ یَقْرَأُ فِیہِمَا بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا کرتے تھے
(٧٨٥٠) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز پڑھانے کے بعد طلوع شمس تک اپنی جگہ بیٹھے رہتے تھے۔
(۷۸۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا صَلَّی الْفَجْرَ قَعَدَ فِی مَجْلِسِہِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ (مسلم ۴۶۴۔ ابوداؤد ۱۲۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا کرتے تھے
(٧٨٥١) حضرت موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ نماز پڑھ کر اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہتے اور اس وقت تک وہیں بیٹھے رہتے جب تک نفل نماز کا پڑھنا جائز نہ ہوجاتا پھر وہ نفل نماز پڑھتے۔
(۷۸۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، قَالَ : کَانَ طَلْحَۃُ یَثْبُتُ فِی مُصَلاَّہُ حَیْثُ صَلَّی فَلاَ یَبْرَحُ حَتَّی تَحْضُرَ السُّبْحَۃُ فَیُسَبِّحُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا کرتے تھے
(٧٨٥٢) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک آدمی حضرت حسن کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھے تھے۔ حضرت حسن نے ان سے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو یہ عمل اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔
(۷۸۵۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : بَلَغَنِی عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ ، أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَہُوَ قَاعِدٌ فِی مُصَلاَّہُ ، وَقَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصَلِّی الصُّبْحَ ، ثُمَّ یَقْعُدُ فِی مُصَلاَّہُ إِلاَّ کَانَ لَہُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نماز پڑھ کر مصلیٰ پر بیٹھا کرتے تھے
(٧٨٥٣) حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ جب تم صبح کی نماز پڑھو تو طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرو، اگر ایسا نہ کرنا ہو تو سو جاؤ کیونکہ سونے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔
(۷۸۵۳) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ الْمُحَارِبِیِّ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : إذَا صَلَّیْتُمُ الْغَدَاۃَ فَاذْکُرُوا اللَّہَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَنَامُوا فَإِنَّ النَّائِمَ سَالِمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا
(٧٨٥٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ایک آدمی کو ملے اور اس سے فرمایا کہ تم اس شہر کے نہیں لگتے۔ اس نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایسی حدیث نہ سناؤں جو تمہیں فائدہ دے ؟ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا، اگر وہ مکمل نکل آئی تو ٹھیک وگرنہ فرشتوں سے کہا جائے گا اس کی نماز کی کمی کو نفلوں سے پورا کردیا جائے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اس کے باقی اعمال کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔
(۷۸۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ لَقِیَ رَجُلاً ، فَقَالَ : کَأَنَّک لَسْتَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، قَالَ : أَلاَ أُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَلَّک أَنْ تنْتَفِعَ بِہِ؟ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ الصَّلاَۃ ، فَإِنْ کَانَ أَتَمَّہَا وَإلاَّ قِیلَ لِلْمَلاَئِکَۃِ أَکْمِلُوا صَلاَتَہُ مِنْ تَطَوُّعِہِ ، قَالَ الْحَسَنُ : وَسَائِرُ الأَعْمَالِ عَلَی ذَلِکَ۔ (بخاری ۱۵۹۳۔ ابویعلی ۶۱۹۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا
(٧٨٥٥) حضرت تمیم داری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے نماز کا حساب کیا جائے گا۔ اگر نماز پوری نکل آئی تو ٹھیک ورنہ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اس کے نفلوں کو دیکھو، اگر نفل ہیں تو اس کے فرضوں کی کمی کو نفلوں سے پورا کردو۔
(۷۸۵۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ، قَالَ : إنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ الصَّلاَۃ ، فَإِنْ أَتَمَّہَا وَالأَ قِیلَ : اُنْظُرُوا لَہُ تَطَوُّعٌ ، فَإِنْ کَانَ لَہُ تَطَوُّعٌ فَأَکْمِلُوا الْمَکْتُوبَۃَ مِنَ التَّطَوُّعِ۔ (احمد ۱۰۳۔ دارمی ۱۳۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا
(٧٨٥٦) حضرت تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب کیا جائے گا۔ اگر نماز قبول ہوگئی تو باقی اعمال بھی قبول ہوجائیں گے اور اگر نماز میں کمی نکل آئی تو باقی اعمال بھی مردود ہوجائیں گے۔
(۷۸۵۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَایُسْأَلُ عَنْہُ الْعَبْدُ یُسْئلُ عَنْ صَلاَتِہِ ، فَإِنْ تُقُبِّلَتْ مِنْہُ تُقُبِّلَ مِنْہُ سَائِرُ عَمَلِہِ وَإِنْ رُدَّتْ عَلَیْہِ رُدَّ عَلَیْہِ سَائِرُ عَمَلِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٥٧) حضرت مورق عجلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے سوال کیا کہ کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا حضرت عمر نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے پوچھا کیا حضرت ابوبکر نے ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔ مں و نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاشت کی نماز پڑھی ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ میرا خیال یہی ہے کہ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس نماز کو ادا نہیں فرمایا۔
(۷۸۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ تَوْبَۃَ الْعَنْبَرِیِّ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِیّ ، قَالَ : قُلْتُ لِاِبْنِ عُمَرَ : أَتُصَلِّی الضُّحَی ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : صَلاَّہَا عُمَرُ ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : صَلاَّہَا أَبُو بَکْرٍ ؟ قَالَ : لاَ ، قُلْتُ صَلاَّہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لاَ أَخَالُُ۔ (بخاری ۱۱۷۵۔ احمد ۲/۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٥٨) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد میں نے سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے بعد کبھی چاشت کی نماز نہیں پڑھی۔
(۷۸۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا صَلَّیْتُ الضُّحَی مُذْ أَسْلَمْتُ إِلاَّ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَیْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৫৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٥٩) حضرت حکم بن اعرج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے چاشت کی نماز کی حقیقت دریافت کی، اس وقت وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ مبارک سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے اور بڑی اچھی بدعت ہے۔
(۷۸۵۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الأَعْرَجِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْن عُمَرَ ، عَنْ صَلاَۃِ الضُّحَی وَہُوَ مُسْتَنِدٌ ظَہْرَہُ إلَی حُجْرَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بِدْعَۃٌ وَنِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ۔ (بخاری ۱۷۷۵۔ مسلم ۲۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٦٠) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعود کی زیارت کی ہے ان میں سے مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ انھوں نے چاشت کی نماز ادا کی ہو۔
(۷۸۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : لَمْ یُخْبِرْنِی أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّہُ رَأَی ابْنَ مَسْعُودٍ یُصَلِّی الضُّحَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٦١) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں قرآن پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات لوگ حضرت ابن مسعود کی مجلس سے اٹھ جانے کے بعد بھی ان کی قرآن کیا کرتے تھے۔ پھر اٹھ کر ہم چاشت کی نماز ادا کرتے۔ جب اس بات کا حضرت ابن مسعود کو علم ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! تم اللہ کے بندوں کو ان باتوں کا ذمہ دار کیوں بناتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم نہیں کیں۔ اگر تم نے یہ نماز پڑھنی بھی ہے تو اپنے کمروں میں اسے ادا کرو۔
(۷۸۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : کُنَّا نَقْرَأُ فِی الْمَسْجِدِ فَیَثْبُتُ النَّاسُ فِی الْقِرَائَۃِ بَعْدَ قِیَامِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، ثُمَّ نَقُومُ فَنُصَلِّی الضُّحَی ، فَبَلَغَ ذَلِکَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : عِبَادَ اللہِ لِمَ تُحَمِّلُوا عِبَادَ اللہِ مَا لَمْ یُحَمِّلْہُمُ اللَّہُ إِنْ کُنْتُمْ لاَ بُدَّ فَاعِلِینَ فَفِی بُیُوتِکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٦٢) حضرت تمیمی کہتے ہںَ کہ میں نے حضرت ابن عمر سے چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ کیا چاشت کی بھی کوئی نماز ہوتی ہے ؟
(۷۸۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبِی وَإِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِیمِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلاَۃِ الضُّحَی فَقَالَ : وَلِلضُّحَی صَلاَۃ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٦٣) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے اور آپ بہت سے اعمال کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں انھیں دین کا ضروری حصہ نہ بنالیا جائے۔
(۷۸۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَبِّحُ سُبْحَۃَ الضُّحَی ، قَالَتْ : وَکَانَ یَتْرُکُ أَشْیَائَ کَرَاہَۃَ أَنْ یُسْتَنَّ بِہِ فِیہَا۔ (احمد ۱۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٦٤) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے جبکہ میں چاشت کی نماز پڑھتی ہوں۔
(۷۸۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُصَلِّی سُبْحَۃَ الضُّحَی وَإِنِّی لأُسَبِّحُہَا۔ (بخاری ۱۱۷۷۔ ابوداؤد ۱۲۸۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৮৬৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات چاشت کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٧٨٦٥) حضرت علقمہ چاشت کی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔
(۷۸۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَن عَلْقَمَۃَ، قَالَ: کَانَ لاَ یُصَلِّی الضُّحَی۔
tahqiq

তাহকীক: