মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮০৮৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٨٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ شیطان انسان کے جسم کے خون کے چلنے کی جگہ چلتا ہے۔ پھر اس کی سرین کے پاس ہاتھ لگاتا ہے تاکہ وہ نماز توڑ دے۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک کوئی آواز نہ سنے یا جب تک بو محسوس نہ ہو۔
(۸۰۸۶) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : إنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی مِنَ الإِنْسَان مَجْرَی الدَّمِ ، ثُمَّ یَنبِضُ عِنْدَ عِجَانِہِ فَیُخْرِجُہُ ، فَلاَ یَخْرُجُ أَحَدُکُمْ حَتَّی یَسْمَعَ حِسًّا ، أَوْ یَجِدَ رِیحًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٨٧) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آدمی اس وقت تک نماز نہ چھوڑے جب تک آواز نہ سنے یا جب تک بو محسوس نہ ہو۔
(۸۰۸۷) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لاَ یَنْصَرِفُ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ یَجِدَ رِیحًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٨٨) حضرت شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس کی سرین میں اپنا ناک داخل کرتا ہے، پھر اسے حرکت دیتا ہے اور اس کے آلہ تناسل کو بھی حرکت دیتا ہے تاکہ وہ تر ہوجائے۔ پس تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک کوئی آواز نہ سنے اور جب تک بو محسوس نہ ہو۔
(۸۰۸۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : إنَّ الشَّیْطَانَ لَیَأْتِی أَحَدَکُمْ فَیُدْخِلُ خَطْمہ فِی دُبُرِہِ فَیُحَرِّکُہُ وَیُحَرِّکُ إحْلِیلَہُ لِیَشِرَ ، فَلاَ یَنْصَرِفَنَّ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا ، أَوْ یَجِدَ رِیحًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৮৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٨٩) حضرت ابراہیم فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات شیطان آدمی کے آلہ تناسل کے سوراخ سے داخل ہو کر دبر کے پاس حرکت دیتا ہے اور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک آواز نہ سنے، بو محسوس نہ کرے یا اسے تری محسوس نہ ہو۔
(۸۰۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَقُولُ : إنَّ الشَّیْطَانَ یَجْرِی فِی الإِحْلِیلِ فَیَنبِضُ عِنْدَ الدُّبُرِ فَیَرَی الرَّجُلُ أَنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ ، فَلاَ یَنْصَرِفَنَّ أَحَدُکُمْ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا ، أَوْ یَجِدَ رِیحًا ، أَوْ یَرَی بَلَلاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٠) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک نماز نہ توڑو جب تک آواز نہ سنو یا جب تک ہوا محسوس نہ ہو۔
(۸۰۹۰) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : لاَ یَنْصَرِفُ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا ، أَوْ یَجِدَ رِیحًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ شیطان بعض اوقات نماز میں آدمی کو وسوسہ ڈالتا ہے تاکہ اس کی نماز کو توڑ دے، بندہ جب تنگ ہوجاتا ہے تو وہ اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے۔ پس جب تک کوئی آواز نہ سنائی دے یا کوئی بو محسوس نہ ہو اس وقت تک نماز نہ توڑو۔ اسی طرح وہ آکر اس کے ذکر کو ہاتھ لگاتا ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے، پس یہ اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک اسے یقین نہ ہوجائے۔
(۸۰۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمِنْہَالُ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إنَّ الشَّیْطَانَ یَطِیفُ بِالْعَبْدِ لِیَقْطَعَ عَلَیْہِ صَلاَتَہُ فَإِذَا أَعْیَاہُ نَفَخَ فِی دُبُرِہِ فَلاَ یَنْصَرِفْ حَتَّی یَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ یَجِدَ رِیحًا ، وَیَأْتِیہِ فَیَعْصِرُ ذَکَرَہُ فَیُرِیہِ أَنَّہُ أُخْرِجَ مِنْہُ شَیْئٌ فَلاَ یَنْصَرِفْ حَتَّی یَسْتَیْقِنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٢) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں تری کا شک ہو تو وہ اپنے ہاتھوں کو کنکریوں پر رکھے اور پھر ایک دوسرے پر مل لے، پھر نماز پڑھتا رہے۔
(۸۰۹۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : إذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی الْبِلَّۃِ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ فَلْیَضَعْ یَدَیہ عَلَی الْحَصَی فَلْیَمْسَحْ إحْدَاہُمَا بِالأُخْرَی وَلْیَمْضِ فِی صَلاَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٣) حضرت معتمر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت، حضرت حذیفہ، حضرت حسن بصری اور حضرت عطاء اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنے آلہ تناسل پر تری محسوس کرے۔ البتہ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر قطرہ نکل آئے تو وضو ٹوٹ گیا۔ حضرت سعد بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر پیشاب کا قطرہ تمہارے پاؤں پر گرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، نہ اس پر اعادہ لازم ہے اور نہ ہی وضو کرنا لازم ہے۔
(۸۰۹۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یُحَدِّثُ : أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَحُذَیْفَۃَ وَالْحَسَنَ الْبَصْرِیَّ وَعَطَائً لَمْ یَرَوْا بَأْسًا بِالْبِلَّۃِ یَجِدُہَا الرَّجُلُ وَہُوَ یُصَلِّی ، إِلاَّ أَنَّ عَطَائً قَالَ : إِلاَّ أَنْ تَقْطُرَ ، قَالَ : وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : وَإِنْ قَطَرَ عَلَی رِجْلِکَ فَلاَ یَرَاہا ، ولا عَلَیْہِ إعَادَۃً وَلاَ طُہُور۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٤) حضرت حسن بن علی نے اس بارے میں حضرت زید بن ثابت سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس میں رخصت ہے۔
(۸۰۹۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حدَّثَنِی شَیْخٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ : أَنَّہُ سَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ ذَلِکَ ، فَرَخَّصَ فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٥) حضرت حمید بن ہلال فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وضو کے بعد اپنے آلہ تناسل پر تری محسوس کرے۔ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ وضو کے بعدیہ ہو یا وہ ہو۔ یہ فرما کر انھوں نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔
(۸۰۹۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : سُئِلَ حُذَیْفَۃُ عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبِلَّۃَ بَعْدَ الْوُضُوئِ ، فَقَالَ : مَا کُنْت أُبَالِی إذَا کَانَ ذَلِکَ بَعْدَ الْوُضُوئِ ذَاکَ کَانَ أَوْ ہَذَا ، وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ إلَی فِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٦) حضرت محمد بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب، حضرت عروہ بن زبیر، حضرت سلیمان بن یسار اور حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس سے مذی خارج ہو۔ ان سب نے فرمایا کہ اسے پھنسی کی طرح سمجھو، جو نظر آجائے اسے دھو لو اور جو تم پر غالب آجائے اسے چھوڑ دو ۔
(۸۰۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِیُّ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَعُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ وَسُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ وَأَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الرَّجُلِ یَخْرُجُ مِنْہُ الْمَذْیُ فَکُلُّہُمْ قَالَ: أُنْزِلُہُ بِمَنْزِلَۃِ الْقُرْحَۃِ، مَا عَلِمْتَ مِنْہُ فَاغْسِلْہُ وَمَا غَلَبَکَ مِنْہُ فَدَعْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں اس کا والد بلائے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٧) حضرت محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہاری ماں تمہیں نماز میں بلائے تو اسے جواب دو اور اگر تمہارا باپ بلائے تو اسے جواب نہ دو ۔
(۸۰۹۷) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا دَعَتْکَ أُمُّکَ فِی الصَّلاَۃ فَأَجِبْہَا ، وَإِذَا دَعَاکَ أَبُوکَ فَلاَ تُجِبْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں اس کا والد بلائے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٨) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب تمہاری ماں تمہیں نماز میں بلائے تو اسے جواب دو اور اگر تمہارا باپ بلائے تو اسے جواب نہ دو ، یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہوجاؤ۔
(۸۰۹۸) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : إذَا دَعَتْکَ وَالِدَتُکَ وَأَنْتَ فِی الصَّلاَۃ فَأَجِبْہَا ، وَإِذَا دَعَاکَ أَبُوکَ فَلاَ تُجِبْہُ حَتَّی تَفْرُغَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں اس کا والد بلائے تو وہ کیا کرے ؟
(٨٠٩٩) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سوال کیا کہ اگر نماز کھڑی ہوجائے اور میری والدہ مجھے بلائے تو میں کیا کروں ؟ انھوں نے فرمایا کہ اپنی والدہ کو جواب دو ۔
(۸۰۹۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : تُقَامُ الصَّلاَۃ وَتَدْعُونِی وَالِدَتِی ؟ قَالَ: أَجِبْ وَالِدَتَکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کو نماز میں اس کا والد بلائے تو وہ کیا کرے ؟
(٨١٠٠) حضرت عمر نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے آدمی کے پاؤں میں بیڑی ہو۔
(۸۱۰۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی ، قَالَ : حدَّثَنَا فَرْقَدٌ السَّبَخِیُّ ، عَنْ مُرَّۃَ الطَّیِّبِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّہُ کَرِہَ لِلرَّجُلِ أَنْ یُصَلِّیَ وَفِی رِجْلَیْہِ قَیْدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کو نماز میں چھینک آئے تو وہ کیا کہے ؟
(٨١٠١) حضرت سعید بن ابی صدقہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں چھینک آئے تو وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہے۔
(۸۱۰۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی صَدَقَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِاِبْنِ سِیرِینَ : إذَا عَطَسْت فِی الصَّلاَۃ مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلِ : الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کو نماز میں چھینک آئے تو وہ کیا کہے ؟
(٨١٠٢) حضرت ابراہیم نماز میں چھینکنے والے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ الحمد للہ کہے۔
(۸۱۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی الرَّجُلِ یَعْطِسُ فِی الصَّلاَۃ قَالَ : یَحْمَدُ اللَّہَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کو نماز میں چھینک آئے تو وہ کیا کہے ؟
(٨١٠٣) حضرت حسن فرض اور غیر فرض نماز میں چھینکنے والے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ الحمد للہ کہے گا۔
(۸۱۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ رَبِیعٍ، عَنِ الْحَسَنِ: فِی الرَّجُلِ یَعْطِسُ فِی الصَّلاَۃ؟ قَالَ: یَحْمَدُ اللَّہَ فِی الْمَکْتُوبَۃِ وَغَیْرِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی کو نماز میں چھینک آئے تو وہ کیا کہے ؟
(٨١٠٤) حضرت معاویہ بن حکم سلمی فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی نے نماز میں چھینک ماری، میں نے اسے یرحمک اللہ کہا۔ لوگوں نے گھور کر مجھے دیکھنا شروع کردیا۔ میں نے کہا میری ماں مجھے گم کرے ! تم میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر مارنا شروع کردیا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ لوگ مجھے خاموش کر ارہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ادا فرمالی، میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں نے آپ سے بہتر تعلیم دینے والا نہ کوئی پہلے دیکھا اور نہ بعد میں، آپ نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ مجھے برا بھلا کہا، نہ مجھے مارا۔ پھر فرمایا کہ یہ نمازیں لوگوں کے کلام کی صلاحیت نہیں رکھتیں، نماز تو نام ہے تسبیح وتکبیر اور تلاوت کا۔
(۸۱۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ أَبِی مَیْمُونَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ ، قَالَ: بَیْنََا أَنَا أُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَقُلْتُ : یَرْحَمُک اللَّہُ ، فَرَمَی الْقَوْمُ بِأَبْصَارِہِمْ ، فَقُلْتُ : وَاثُکْلَ أُمَّاہُ مَا شَأْنُکُمْ تَنْظُرُونَ إلَیَّ ؟ قَالَ : فَجَعَلُوا یَضْرِبُونَ بِأَیْدِیہِمْ عَلَی أَفْخَاذِہِمْ ، فَلَمَّا رَأَیْتُہُمْ یُصْمِتُونَنِی سَکَتُّ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی مَا رَأَیْتُ مِثْلَہُ قَبْلَہُ وَلاَ بَعْدَہُ أَحْسَنَ تَعْلِیمًا مِنْہُ ، وَاللَّہِ مَا کَہَرَنِی ، وَلاَ شَتَمَنِی ، وَلاَ ضَرَبَنِی ، قَالَ : إنَّ ہَذِہِ الصَّلاَۃ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا شَیْئٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ إنَّمَا ہِیَ التَّسْبِیحُ وَالتَّکْبِیرُ وَقِرَائَۃُ الْقُرْآنِ ، أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم ۳۸۱۔ ابوداؤد ۹۲۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮১০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز میں کسی آدمی کو یرحمک اللہ کہے تو اس پر کیا واجب ہے ؟
(٨١٠٥) حضرت غالب ابو ہذیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص نماز میں چھینکے اور کوئی دوسرا اسے یرحمک اللہ کہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اس نے خیر کی بات کی ہے اس پر اعادہ لازم نہیں۔
(۸۱۰۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ غَالِبٍ أَبِی الْہُذَیْلِ ، قَالَ : سُئِلَ إبْرَاہِیمُ عَنْ رَجُلٍ عَطَسَ فِی الصَّلاَۃ ، فَقَالَ لَہُ آخَرُ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃ : یَرْحَمُک اللَّہُ ، فَقَالَ إبْرَاہِیمُ : إنَّمَا قَالَ مَعْرُوفًا وَلَیْسَ عَلَیْہِ إعَادَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক: