মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৮১৪৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے رکوع اور سجدوں میں قراءت کو مکروہ قرار دیا ہے
(٨١٤٦) حضرت عبید اللہ بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا کہ اگر میں حالت سجود میں آیت سجدہ پڑھوں تو سجدہ تلاوت کیسے کروں ؟ انھوں نے فرمایا کہ تمہارے لیے وہی سجدہ کافی ہے، لیکن تم حالت سجود میں تلاوت کیوں کرتے ہو ؟
(۸۱۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، وَعُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، قَالَ : قرَأْتُُ السَّجْدَۃَ وَأَنَا سَاجِدٌ فَسَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ فَقَالَ : یُجْزِئُکََ وَلِمَ تَقْرَأْ وَأَنْتَ سَاجِدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৪৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے رکوع اور سجدوں میں قراءت کو مکروہ قرار دیا ہے
(٨١٤٧) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجود میں قراءت نہیں ہے، یہ دونوں ارکان اللہ کے ذکر کے لیے بنائے گئے ہیں۔
(۸۱۴۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : لاَ قِرَائَۃَ فِی الرُّکُوعِ وَلاَ فِی السُّجُودِ ، إنَّمَا جُعِلاَ لِذِکْرِ اللہِ تَعَالَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৪৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے رکوع وسجود میں تلاوت کی اجازت دی ہے
(٨١٤٨) حضرت ربیع بن خثیم فرماتے ہیں کہ کیا تم میں سے کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ رکوع یاسجدے میں یکتا اور صمد اللہ کے لیے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کرے۔
(۸۱۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُدْرِکٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، قَالَ : أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَہُوَ رَاکِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ للہ الوَاحِدِ الصَّمَدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৪৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے رکوع وسجود میں تلاوت کی اجازت دی ہے
(٨١٤٩) حضرت ابان بن صمعہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے پاس موجود ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے حالت رکوع میں سورة البقرۃ کی تلاوت کی، پھر سر اٹھایا اور سورة آل عمران کی تلاوت کی، پھر سجدے میں گئے تو سورة النساء کی تلاوت کی، پھر سر اٹھایا تو سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔
(۸۱۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَۃَ ، عَنْ شَیْخٍ کَانَ مَعَ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَہُوَ رَاکِعٌ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَقَرَأَ النِّسَائَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَقَرَأَ الْمَائِدَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے رکوع وسجود میں تلاوت کی اجازت دی ہے
(٨١٥٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبید بن عمیر رکوع و سجود میں تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۸۱۵۰) حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ، عَنْ عَطَائٍ، قَالَ: کَانَ عُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ یَقْرَأُ فِی الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے رکوع وسجود میں تلاوت کی اجازت دی ہے
(٨١٥١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ جب آدمی کو رکوع کی جلدی ہو تو وہ کسی سورت کی باقی ماندہ ایک یا دو آیتیں رکوع میں پڑھ لے۔
(۸۱۵۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی بَأْسًا إذَا عَجَّلَ الرَّجُلُ فَرَکَعَ وَبَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ السُّورَۃِ آیَۃٌ أَوْ آیَتَانِ أَنْ یَقْرَأَہُمَا وَہُوَ رَاکِعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا مسجد کا کسی قوم کی طرف منسوب کرنا جائز ہے ؟
(٨١٥٢) حضرت ابو حیان کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ربیع بن خثیم کو کبھی کسی دنیاوی بات کا تذکرہ کرتے نہیں سناسوائے اس بات کے کہ انھوں نے ایک مرتبہ فرمایا کہ بنو تیم کی کتنی مسجدیں ہیں ؟
(۸۱۵۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ الرَّبِیعَ بْنَ خُثَیْمٍ یَذْکُرُ شَیْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا إِلاَّ أَنِّی سَمِعْتُہُ مَرَّۃً یَقُولُ : کَمْ للتَّیمْ مَسْجِدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا مسجد کا کسی قوم کی طرف منسوب کرنا جائز ہے ؟
(٨١٥٣) حضرت عاصم کہتے ہیں کہ حضرت زر اور حضرت ابو وائل کہا کرتے تھے کہ بنو فلاں کی مسجد۔
(۸۱۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِرًّا وأَبَا وَائِلٍ یَقُولاَنِ : مَسْجِدُ بَنِی فُلاَنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا مسجد کا کسی قوم کی طرف منسوب کرنا جائز ہے ؟
(٨١٥٤) حضرت ابراہیم اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ یہ کہا جائے بنو فلاں کی مسجد البتہ بنو فلاں کی جائے نماز کہنے کو جائز قرار دیتے تھے۔
(۸۱۵۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ : مَسْجِدُ بَنِی فُلاَنٍ ، وَلاَ یَرَی بَأْسًا أَنْ یَقُولَ : مُصَلَّی بَنِی فُلاَنٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا مسجد کا کسی قوم کی طرف منسوب کرنا جائز ہے ؟
(٨١٥٥) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ یہ نہ کہو ” معاذ کی مسجد “
(۸۱۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّہُ قَالَ : فَانْأ مَسْجِدَ مُعَاذٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مستحاضہ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ دو نمازوں کو جمع کرلے
(٨١٥٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ظہر کی نماز کو مؤخر کرکے اور عصر کی نماز کو جلدی پڑھے گی اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے ملائے گی اور دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی۔ وہ مغرب کی نماز کو مؤخر کرے گی اور عشاء کی نماز کو جلدی پڑھے گی اور دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے گی اور پھر فجر کی نماز کے لیے غسل کرے گی۔
(۸۱۵۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابن عَبَّاسٍ ، قَالَ : تؤَخِّرُ الْمُسْتَحَاضَۃُ الظُّہْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ ، وَتَقْرِنُ بَیْنَہُمَا ، وَتَغْتَسِلُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ ، وَتُعَجِّلُ الْعِشَائَ ، وَتَغْتَسِلُ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مستحاضہ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ دو نمازوں کو جمع کرلے
(٨١٥٧) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ دو نمازوں کو جمع کرے گی۔
(۸۱۵۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ : فِی الْمُسْتَحَاضَۃِ ، قَالَ : تَجْمَعُ بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے مستحاضہ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ دو نمازوں کو جمع کرلے
(٨١٥٨) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اگر چاہے تو دونوں نمازوں کو جمع کرلے۔
(۸۱۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : إِنْ شَائَتْ فَلْتَجْمَعْ بَیْنَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৫৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٥٩) حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اعراب کو نمازوں کے ناموں میں تم پر غالب نہیں ہونا چاہیے، یہ نماز عشاء کی نماز ہے اور تم اسے ” العتمۃ “ کہتے ہو، یہ لفظ تو ” اعتام الابل “ (اونٹوں کاشام کے وقت میں داخل ہونا) سے ماخوذ ہے۔
(۸۱۵۹) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، سَمِعَ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلاَتِکُمْ فَإِنَّمَا ہِیَ الْعِشَائُ وَإِنَّمَا تَدْعُونَہَا الْعَتَمَۃُ لإعْتَامِ الإِبِلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦٠) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اعراب کو نمازوں کے ناموں میں تم پر غالب نہیں ہونا چاہیے، اس نماز کا نام اللہ کی کتاب میں عشاء ہے، اسے عتمہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ( شفق کے غائب ہونے کے بعد) دیہاتی اپنے اونٹوں کا دودھ دھوتے ہیں۔
(۸۱۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی لَبِیدٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلاَتِکُمُ الْعِشَائِ ، فَإِنَّمَا ہِیَ فِی کِتَابِ اللہِ الْعِشَائُ ، وَإِنَّمَا یُعْتَمُ بِحِلاَبِ الإِبِلِ۔ (مسلم ۲۲۹۔ احمد ۲/۱۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦١) حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اعراب کو نمازوں کے ناموں میں تم پر غالب نہیں ہونا چاہیے، اس نماز کا نام اللہ کی کتاب میں عشاء ہے، اسے عتمہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ( شفق کے غائب ہونے کے بعد) دیہاتی اپنے اونٹوں کا دودھ دھوتے ہیں۔
(۸۱۶۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی رَوَّادٍ ، عَنْ رَجُلٍ لَمْ یُسَمِّہِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَغْلِبَنَّکُمُ الأَعْرَابُ عَلَی اسْمِ صَلاَتِکُمُ الْعِشَائِ ، فَإِنَّمَا ہِیَ فِی کِتَابِ اللہِ الْعِشَائُ ، وَإِنَّمَا یُعْتَمُ بِحِلاَبِ الإِبِلِ۔ (ابویعلی ۸۶۵۔ بیہقی ۳۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦٢) حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب لوگوں کو عشاء کی نماز کو عتمہ کہتے ہوئے سنتے تھے تو بہت غصے ہوتے اور اس سے منع فرماتے۔
(۸۱۶۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا سَمِعَہُمْ یَقُولُونَ الْعَتَمَۃُ غَضِبَ غَضَبًا شَدِیدًا ، أَوْ نَہَی نَہْیًا شَدِیدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦٣) حضرت ابن سیرین عشاء کی نماز کو عتمہ کہنا مکروہ قرار دیتے تھے۔
(۸۱۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ طَہْمَانَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یَقُولَ الْعَتَمَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦٤) حضرت میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا کہ عشاء کی نماز کو سب سے پہلے عتمہ کس نے کہا ؟ انھوں نے فرمایا شیطان نے۔
(۸۱۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی فَزَارَۃَ الْعَبْسِیِّ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ : مَنْ أَوَّلُ مَنْ سَمَّاہَا الْعَتَمَۃَ ؟ قَالَ : الشَّیْطَانُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦٥) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۸۱۶۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی فَزَارَۃَ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক: