মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৮১৬৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہنے کو مکروہ قرار دیتے ہیں
(٨١٦٦) حضرت عبداللہ بن ابی سارہ فرماتے ہیں کہ حضرت سالم نے دو مرتبہ فرمایا کہ اس نماز کو عتمہ نہ کہو یہ عشاء آخرہ ہے۔
(۸۱۶۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنِ مُحَمدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَارَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا وَہُوَ یَقُولُ : لاَ تَقُلِ الْعَتَمَۃَ إنَّمَا ہِیَ الْعِشَائُ الأَخِرَۃُ مَرَّتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہا ہے
(٨١٦٧) حضرت معاذ بن جبل سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نے ایک روز عشاء کی نماز کے لیے آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کا بہت انتظار کیا، لیکن آپ نے اتنی دیر کردی کہ ایک آدمی کہنے لگا کہ آپ تشریف نہیں لائیں گے۔ اتنے میں آپ تشریف لائے تو ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا خیال یہ تھا کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں اور اب تشریف نہیں لائیں گے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس رات کو اندھیرے میں پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں ساری امتوں پر اس نماز کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلی امتیں یہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
(۸۱۶۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَرِیزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عاصِمِ بْنِ حُمَیْدٍ السَّکُونِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : بَقَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَلاَۃِ الْعِشَائِ فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ : أَعْتِمُوا بِہَذِہِ الصَّلاَۃ ، فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِہَا عَلَی سَائِرِ الأُمَمِ ، وَلَمْ تُصَلِّہَا أُمَّۃٌ قَبْلَکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہا ہے
(٨١٦٨) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے پوچھا آپ وتر کب پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا کہ رات کے شروع حصے میں، عتمہ کے بعد، سونے سے پہلے۔
(۸۱۶۸) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَبِی بَکْرٍ : مَتَی تُوتِرُ ؟ قَالَ مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৬৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات نے عشاء کی نماز کو ” العتمۃ “ کہا ہے
(٨١٦٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب تمہیں کسی دن عتمہ کی نماز تک سفر کرنا ہو تو نماز میں قصر نہ کرو، اگر عتمہ کی نماز سے زیادہ سفر کرنا ہو تو قصر کرو۔
(۸۱۶۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ سَفَرُکَ یَوْمًا إلَی الْعَتَمَۃِ فَلاَ تَقْصُرِ الصَّلاَۃ ، فَإِنْ جَاوَزْت ذَلِکَ فَقَصِّر۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٠) حضرت عائشہ اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتی ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
(۸۱۷۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ فِی قَوْلِہِ : {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} قَالَتْ : فِی الدُّعَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧١) حضرت ابراہیم اور حضرت عطاء اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
(۸۱۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عُبَیْدِ الْمُکْتِبِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ۔ وَعَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالاَ : الدُّعَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٢) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قرآن کی تلاوت ہے۔
(۸۱۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قِرَائَۃُ الْقُرْآنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٣) حضرت ابو عیاض اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
(۸۱۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ الْہَجَرِیِّ ، عَنِ أَبِی عِیَاضٍ قَالَ : الدُّعَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٤) حضرت سعیدبن جبیر فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قراءت فرماتے تو آواز کو اونچا کرتے، اس سے مسلمان خوش ہوتے اور کفار کو برا لگتا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
(۸۱۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا قَرَأَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ یُعْجِبُ ذَلِکَ الْمُسْلِمِینَ وَیَسُوئُ الْکُفَّارَ ، قَالَ فَنَزَلَتْ : {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا}۔ (بخاری ۴۷۲۲۔ ترمذی ۳۱۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جس کے کانوں کو وہ سنارہا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔
(۸۱۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمْ یُخَافِتْ مَنْ أَسْمَعَ أُذُنَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٦) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عبیدہ سے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اپنے دل کو سناؤ۔
(۸۱۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبِیْدَۃَ عَنِ الْقِرَائَۃِ ؟ فَقَالَ : أَسْمِعْ نَفْسَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٧) حضرت حسن دن کی نمازوں کی قراءت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اپنے دل کو سناؤ۔
(۸۱۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ قَالَ فِی قِرَائَۃِ النَّہَارِ : أَسْمِعْ نَفْسَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٨) حضرت ابو عیاض فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھتے تو اپنی آواز کو بلند فرماتے، جس پر مشرکین ان کو تکلیف دیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
(۸۱۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ الْہَجَرِیِّ ، عَنْ أَبِی عِیَاضٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا صَلَّی عِنْدَ الْبَیْتِ جَہَرَ بِقِرَائَتِہِ ، فَکَانَ الْمُشْرِکُونَ یُؤْذُونَہُ فَنَزَلَتْ : (وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا) الآیَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৭৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٧٩) حضرت ابن عباس اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
(۸۱۷۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُہُ : (وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا) قَالَ : الدُّعَائُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٨٠) حضرت مجاہد اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دعا ہے۔
(۸۱۸۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : الدُّعَاء ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٨١) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ بنوتمیم کے دیہاتیوں کا معمول یہ تھا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیرتے تو وہ کہا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں مال واولاد عطا فرما۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
(۸۱۸۱) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَیَّاشٍ الْعَامِرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : کَانَ أَعْرَابٌ لِبَنِی تَمِیمٍ إذَا سَلَّمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا : اللَّہُمَّ ارْزُقْنَا مَالاً وَوَلَدًا ، فَنَزَلَتْ (وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک)۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٨٢) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۸۱۸۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَیَّاشٍ الْعَامِرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ بِنَحْوِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٨٣) حضرت ابن سیرین اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے علانیہ طور پر خوبصورت اور پوشیدہ طور پر عمدہ ہونا چاہیے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ تم اسے ظاہری اور باطنی طور پر برابر رکھو۔
(۸۱۸۳) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} قَالَ : تُحْسِنُ عَلاَنِیَۃً وَتَجَوَّزُ سِرًّا {وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً} قَالَ : تُجْعَلُہا سَوَائً فِی السِّرِّ وَالْعَلاَنِیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارشادِ باری تعالیٰ { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِک } ” اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو “ کی تفسیر
(٨١٨٤) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بسم اللہ الرحمن الرحیم کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔ اور مسیلمہ اپنے آپ کو رحمن کہتا تھا۔ مشرکین نے جب آپ سے بسم اللہ میں الرحمن کا لفظ سنا تو کہنے لگے کہ انھوں نے یمامہ کے معبود مسیلمہ کا ذکر کیا ہے، پھر نوبت مناظرے، چیلنج اور شور وغل تک پہنچ گئی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا }
(۸۱۸۴) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ سَعِیدٍ : {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا} ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ بِبِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ وَکَانَ مُسَیْلِمَۃُ قَدْ تَسَمَّی الرَّحْمَان ، فَکَانَ الْمُشْرِکُونَ إذَا سَمِعُوا ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا : قَدْ ذَکَرَ مُسَیْلِمَۃَ إلَہَ الْیَمَامَۃِ ، ثُمَّ عَارَضُوہُ بِالْمُکَائِ وَالتَّصْدِیَۃِ وَالصَّفِیرِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی : {وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا}۔ (طبری ۱۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮১৮৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں لوگوں کا نام لینے کا بیان
(٨١٨٥) حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عروہ اپنی نماز میں حضرت زبیر کا نام لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے تھے۔
(۸۱۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ : أَنَّ أَبَاہُ کَانَ یَدْعُو لِلزُّبَیْرِ فِی صَلاَتِہِ وَیُسَمِّیہِ۔
তাহকীক: