মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮২২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٢٦) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا کہ کیا میں عرفہ میں قصر کروں ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۸۲۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِیِّ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ أَقْصُرُ بِعَرَفَۃَ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٢٧) حضرت ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ مکہ سے ذوالحلیفہ کا سفر کیا، وہاں پہنچ کر انھوں نے قصر نماز پڑھی تو میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی یونہی کرتے دیکھا تھا۔
(۸۲۲۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَبِیبَ بْنَ عُبَیْدٍ یُحَدِّثُ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ قَالَ : شَہِدْتُ عُمَرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ کَأَنَّہُ یُرِیدُ مَکَّۃَ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ فَقُلْتُ لَہُ لِمَ تَفْعَلُ ہَذَا ؟ قَالَ : إنَّمَا أَصْنَعُ کَمَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ۔ (مسلم ۴۸۱۔ احمد ۱/۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٢٨) حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ حارث بن قیس جعفی ایک سفر پر نکلے، جب وہ آبادی سے آگے بڑھے تو قصر نماز پڑھنا شروع کردی، ان سے کسی نے کہا کہ آپ نے ابھی سے قصر کرنا شروع کردیا ؟ انھوں نے فرمایا کہ کیا میں آج پوری اور کل قصر نماز پڑھوں ؟
(۸۲۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، قَالَ : خَرَجَ الْحَارِثُ بْنُ قَیْسٍ الْجُعْفِیُّ ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْبُیُوتِ قَصَرَ الصَّلاَۃ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : تَقْصُرُ الصَّلاَۃ ، قَالَ أُتِمُّ الْیَوْمَ وَأَقْصُرُ غَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٢٩) حضرت عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی کے ساتھ صفین کی طرف نکلے انھوں نے جسر اور قنطرہ کے درمیان دو رکعتیں ادا کیں۔
(۸۲۲۹) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ الْفَائشیِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِیٍّ إلَی صِفِّینَ فَصَلَّی بَیْنَ الْجِسْرِ وَالْقَنْطَرَۃِ رَکْعَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جب حج کے لیے جاتے تو نجف سے احرام باندھتے اور قصر کرتے۔
(۸۲۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَلْقَمَۃُ إذَا خَرَجَ حَاجًّا أَحْرَمَ مِنَ النَّجَفِ وَقَصَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣١) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک پورے دن کی مسافت پر قصر کیا جائے گا اس سے کم میں قصر نہیں کیا جائے گا۔
(۸۲۳۱) حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تُقْصَرُ الصَّلاَۃ فِی الْیَوْمِ التَّامِّ ، وَلاَ تُقْصَرُ فِیمَا دُونَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٢) حضرت عمیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا انھوں نے حیرہ کے پل پر دو رکعتیں ادا کیں۔
(۸۲۳۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ إلَی مَکَّۃَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ بِقَنْطَرَۃِ الْحِیرَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٣) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ صرف حج اور جہاد کے سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی۔
(۸۲۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ تُقْصَرُ الصَّلاَۃ إِلاَّ فِی حَجٍّ أَوْ جِہَادٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٤) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ تمہارا اپنے مویشیوں کو لے کر شہر کے کناروں میں جانا تمہیں تمہاری نماز کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ جگہیں تمہارے شہر کوفہ کا حصہ ہیں۔
(۸۲۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : قَالَ لِی ابْنُ مَسْعُودٍ : لاَ یَغُرَّنَّکُمْ سَوَادُکُمْ مِنْ صَلاَتِکُمْ فَإِنَّمَا ہُوَ مِنْ کُوفَتِِکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٥) حضرت عثمان نے اپنے ایک خط میں لکھا : اما بعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے یا انھیں پانی پلانے کے لیے یا تجارت کے لیے شہر کے کناروں میں جاتے ہیں اور قصر نماز پڑھتے ہیں۔ وہ ایسا نہ کریں کیونکہ قصر نماز صرف وہی پڑھے گا جس نے دور کا سفر کرنا ہو یا دشمن سے مقابلہ کرنا ہو۔
(۸۲۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ قُرَّائِ کِتَابِ عُثْمَانَ أَوْ قُرِئَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالاً مِنْکُمْ یَخْرُجُونَ إلَی سَوَادِہِمْ ، إمَّا فِی جشْرٍ وَإِمَّا فِی جِبَایَۃٍ وَإِمَّا فِی تِجَارَۃٍ فَیَقْصُرُونَ الصَّلاَۃ أوْ لاَ یُتِمُّونَ الصَّلاَۃ ، فَلاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّمَا یَقْصُرُ الصَّلاَۃ مَنْ کَانَ شَاخِصًا أَوْ بِحَضْرَۃِ عَدُوٍّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٦) حضرت عوام فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم صرف حج، جہاد یا عمرہ کے سفر میں قصر نماز کے قائل تھے۔
(۸۲۳۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : کَانَ إبْرَاہِیمُ التَّیْمِیُّ لاَ یَرَی الْقَصْرَ إِلاَّ فِی حَجٍّ ، أَوْ جِہَادٍ ، أَوْ عُمْرَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اسلاف کہا کرتے تھے کہ صرف اس سفر میں قصر کیا جائے گا جس میں زاد راہ اور زاد راہ کے اٹھانے والے ساتھ ہوں۔
(۸۲۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ : السَّفَرُ الَّذِی تُقْصَرُ فِیہِ الصَّلاَۃ الَّذِی یُحْمَلُ فِیہِ الزَّادَ وَالْمَزَادَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٨) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ تمہارا (کسی ضرورت کے لئے) شہر کے کناروں میں جانا تمہیں تمہاری نماز کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ یہ جگہیں تمہارے شہر کوفہ کا حصہ ہیں۔
(۸۲۳۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارق بْنِ شِہَابٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لاَ یَغُرَّنکُمْ سَوَادُکُمْ ہَذَا مِنْ صَلاَتِکُمْ فَإِنَّمَا ہُوَ مِنْ مِصْرِکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ صرف لمبے سفر میں قصر کیا جائے گا
(٨٢٣٩) حضرت معاذ، حضرت عقبہ بن عامر اور حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ تمہیں اپنے مویشیوں کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں یا وادیوں میں جانا نماز کے بارے میں دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تم اسے سفر سمجھنے لگو۔ اس میں کوئی کرامت نہیں۔ قصر نماز کی اجازت تو ایسے طویل سفر مں ہ ہے جو ایک افق سے دوسرے افق تک کیا جائے۔
(۸۲۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مُعَاذًا وَعُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ، وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالُوا : لاَ یَغُرَّنکُمْ مَوَاشِیکُمْ یَطَأُ أَحَدُکُمْ بِمَاشِیَتِہِ أَحْدَابَ الْجِبَالِ ، أَوْ بُطُونَ الأَوْدِیَۃِ وَتَزْعُمُونَ بِأَنَّکُمْ سَفْرٌ لاَ وَلاَ کَرَامَۃَ ، إنَّمَا التَّقْصِیرُ فِی السَّفَرِ الْبَاتِّ مِنَ الأُفُقِ إلَی الأُفُقِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٤٠) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے مطابق سفر کی دو رکعتیں پوری پوری ہیں ان میں کمی نہیں۔
(۸۲۴۰) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : صَلاَۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَانِ تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ عَلَی لِسَانِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٤١) حضرت سعید بن شفی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے عرض کیا کہ ہم لوگ جب سفر کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ اتنے خادم وغیرہ ہوتے ہیں جو ہماری ضروریات کا انتظام کردیتے ہیں، سو ہم کیسے نماز پڑھیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ میں نے پھر یہی سوال کیا انھوں نے وہی جواب دیا۔ میں نے پھر سوال کیا تو ایک آدمی نے مجھے کہا کہ تمہیں ان کی بات سمجھ نہیں آرہی ؟ تم نہیں سنتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
(۸۲۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ شُفَیٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ : إنَّا قَوْمٌ کُنَّا إذَا سَافَرْنَا کَانَ مَعَنَا مَنْ یَکْفِینَا الْخِدْمَۃَ مِنْ غِلْمَانِنَا فَکَیْفَ نُصَلِّی ؟ فَقَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا سَافَرَ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ حَتَّی یَرْجِعَ ، قَالَ : ثُمَّ عُدْتُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ عُدْت فَقَالَ لِی بَعْضُ الْقَوْمِ : أَمَا تَعْقِلُ أَمَا تَسْمَعُ مَا یَقُولُ لَک۔ (احمد ۱/۲۴۱۔ طبرانی ۱۲۷۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٤٢) حضرت ابو حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ سفر میں دو رکعتیں پڑھنا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔
(۸۲۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی حَنْظَلَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الصَّلاَۃ فِی السَّفَرِ ، فَقَالَ : رَکْعَتَانِ سُنَّۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (احمد ۲/۱۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٤٣) حضرت یعلی بن امیہ فرماتے ہں ا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ترجمہ) جب تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر تمہیں تکلیف پہنچائیں گے تو یہ بات حرج سے خالی ہے کہ تم نماز میں قصر کرلو۔ میں نے کہا کہ اب تو امن کا زمانہ ہے، لہٰذا قصر کیا جائے گا یا نہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ جس بات پر تمہیں اشکال ہوا ہے مجھے بھی اسی بات پر اشکال ہوا تھا، اس پر میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے، اس صدقے کو قبول کرو۔
(۸۲۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَابَاہ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ {فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاَۃ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِینَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللَّہُ بِہَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَہُ۔ (مسلم ۴۔ ابوداؤد ۱۱۹۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٤٤) حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان بارہ صحابہ کرام کے ساتھ ایک جنگ کے لیے نکلے، وہ عمر میں ان سب سے زیادہ تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو سب نے کہا کہ اے ابو عبداللہ ! آپ امامت کرائیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میں امامت کا استحقاق نہیں رکھتا، تم عرب ہو اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہی میں سے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر امامت کرائے۔ اس پر ایک صاحب آگے بڑھے اور انھوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب ہم نے نما زمکمل کرلی تو حضرت سلمان نے فرمایا کہ ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لیے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔
(۸۲۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : خَرَجَ سَلْمَانُ فِی ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غُزَاۃً وَسَلْمَانُ أَسَنُّہُمْ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاَۃ قَالُوا لَہُ : تَقَدَّمْ یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِی أَتَقَدَّمُ وَأَنْتُمُ الْعَرَبُ مِنْکُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلْیَتَقَدَّمْ بَعْضُکُمْ ، فَتَقَدَّمَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَصَلَّی بِہِمْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، فَلَمَّا قَضَیْنَا الصَّلاَۃ قَالَ سَلْمَانُ : وَمَا لِلْمُرْبَعَۃِ ، إنَّمَا کَانَ یَکْفِینَا رَکْعَتَانِ نِصْفُ الْمُرْبَعَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٤٥) حضرت ربیع بن نضلہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں بارہ یا تیرہ آدمی روانہ ہوئے، میرے علاوہ باقی سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحبت یافتہ افراد تھے۔ جب نماز کا وقت آیا تو وہ سب ایک دوسرے کو امامت کے لیے آگے کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نوجوان آگے بڑھے اور انھوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب نما زپڑھا چکے تو حضرت سلمان نے فرمایا ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لیے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔ ہم تخفیف کے زیادہ محتاج ہیں۔ اس پر سب نے کہا کہ اے ابو عبداللہ ! آپ ہی نماز پڑھایا کریں۔ انھوں نے فرمایا کہ تم بنو اسماعیل ائمہ ہو اور ہم وزراء ہیں۔
(۸۲۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّائِیُّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیعَۃَ الْوَالِبی ، عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ نَضْلَۃَ ، قَالَ : خَرَجْنَا فِی سَفَرٍ وَنَحْنُ اثْنَا عَشَرَ ، أَوْ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَاکِبًا کُلُّہُمْ قَدْ صَحِبَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْری ، قَالَ : فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃ فَتَدَافَعَ الْقَوْمُ فَتَقَدَّمَ شَابٌّ مِنْہُمْ فَصَلَّی بِہِمْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ ، فَلَمَّا صَلَّی قَالَ سَلْمَانُ : مَا لَنَا وَلِلْمَرْبُوعَۃِ یَکْفِینَا نِصْفُ الْمَرْبُوعَۃِ ، نَحْنُ إلَی التَّخْفِیفِ أَفْقَرُ فَقَالُوا : تَقَدَّمْ أَنْتَ یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ فَصَلِّ بِنَا ، فَقَالَ : أَنْتُمْ بَنُو إسْمَاعِیلَ الأَئِمَّۃُ وَنَحْنُ الْوُزَرَائُ۔
tahqiq

তাহকীক: