মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৮২৬৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
(٨٢٦٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور سفر کی نماز کو جوں کا توں باقی رکھا گیا۔ حضرت زہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے کہا کہ حضرت عائشہ یہ بات بھی فرماتی ہیں اور سفر میں پوری نماز بھی پڑھتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ وہی تاویل کرتی ہیں جو حضرت عثمان نے کی ہے، میں نے ان سے نہیں پوچھا کہ حضرت عثمان نے اس کی کیا تاویل کی ہے۔
(۸۲۶۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ: إِنَّ الصَّلاَۃ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَکْعَتَیْنِ فَزِیدَتْ فِی صَلاَۃِ الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلاَۃُ السَّفَرِ ، فَقُلْت لِعُرْوَۃِ : مَا بَالُ عَائِشَۃَ کَانَتْ تُتِمُّ الصَّلاَۃ فِی السَّفَرِ وَہِیَ تَقُولُ ہَذَا ؟ قَالَ : تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ فَلَمْ أَسْأَلْہُ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ۔ (مسلم ۶۷۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৬৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا اہل مکہ منی میں قصر کریں گے ؟
(٨٢٦٧) حضرت سالم اور حضرت قاسم فرمایا کرتے تھے کہ اہل مکہ جب منی کے لیے نکلیں گے تو قصر کریں گے۔ حضرت عطاء اور حضرت زہری فرمایا کرتے تھے کہ وہ پوری نماز پڑھیں گے۔
(۸۲۶۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نُبِّئْت عَنِ الْقَاسِمِ وَسَالِمٍ أَنَّہُمَا کَانَ یَقُولاَنِ : أَہْلُ مَکَّۃَ إذَا خَرَجُوا إلَی مِنًی قَصَرُوا۔
قَالَ : وَکَانَ عَطَائٌ وَالزُّہْرِیُّ یَقُولاَنِ : یُتِمُّونَ۔
قَالَ : وَکَانَ عَطَائٌ وَالزُّہْرِیُّ یَقُولاَنِ : یُتِمُّونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৬৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا اہل مکہ منی میں قصر کریں گے ؟
(٨٢٦٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر مکہ میں قیام پذیر تھے، جب وہ منی کے لیے جاتے تو قصر کرتے تھے۔
(۸۲۶۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ یُقِیمُ بِمَکَّۃَ فَإِذَا خَرَجَ إلَی مِنًی قَصَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৬৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا اہل مکہ منی میں قصر کریں گے ؟
(٨٢٦٩) حضرت حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے عرفہ میں امام کے ساتھ نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کی نماز کے مطابق نماز پڑھو۔ میں نے اس بارے میں حضرت سالم اور حضرت طاوس سے سوال کیا تو انھوں نے بھی یہی فرمایا۔
(۸۲۶۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللہِ بْنُ مُوسَی، عَنْ حَنْظَلَۃَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ عَنِ الصَّلاَۃ مَعَ الإِمَامِ بِعَرَفَۃَ؟ قَالَ: صَلِّ بِصَلاَتِہِ۔
قَالَ : وَسَأَلْت سَالِمًا وَطَاوُوسا فَقَالاَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
قَالَ : وَسَأَلْت سَالِمًا وَطَاوُوسا فَقَالاَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا اہل مکہ منی میں قصر کریں گے ؟
(٨٢٧٠) حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اہل مکہ پر حج کے دوران کوئی قصر نماز نہیں۔
(۸۲۷۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بنُ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، وَعَطَائٍ ، قَالاَ : لَیْسَ عَلَی أَہْلِ مَکَّۃَ قَصْرُ صَلاَۃٍ فِی حَجٍّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مسافر اگر چاہے تو دو رکعتیں پڑھ لے اور اگر چاہے تو چار
(٨٢٧١) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں کبھی قصر نماز پڑھتے تھے اور کبھی پوری، کبھی روزہ رکھتے تھے اور کبھی روزہ نہ رکھتے تھے، ظہر کو تاخیر سے پڑھتے تھے اور عصر کو جلدی، مغرب کو تاخیر سے پڑھتے تھے اور عشاء کو جلدی۔
(۸۲۷۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ زِیَادٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُتِمُّ الصَّلاَۃ فِی السَّفَرِ وَیَقْصُرُ وَیَصُومُ وَیُفْطِرُ وَیُؤَخِّرُ الظُّہْرَ وَیُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَیُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَیُعَجِّلُ الْعِشَائَ۔ (دارقطنی ۴۵۔ طحاوی ۱۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مسافر اگر چاہے تو دو رکعتیں پڑھ لے اور اگر چاہے تو چار
(٨٢٧٢) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اگر تم سفر میں دو رکعتیں پڑھو تو یہ بھی سنت ہے اور اگر چار پڑھو تو یہ بھی سنت ہے۔
(۸۲۷۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : إِنْ صَلَّیْتَ فِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ فَالسُّنَّۃُ ، وَإِنْ صَلَّیْتَ أَرْبَعًا فَالسُّنَّۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مسافر اگر چاہے تو دو رکعتیں پڑھ لے اور اگر چاہے تو چار
(٨٢٧٣) حضرت عائشہ سفر میں پوری نماز پڑھا کرتی تھیں۔
(۸۲۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّہَا کَانَتْ تُتِمُّ الصَّلاَۃ فِی السَّفَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مسافر اگر چاہے تو دو رکعتیں پڑھ لے اور اگر چاہے تو چار
(٨٢٧٤) حضرت انو نجیح مکی کہتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سفر میں اکٹھے جاتے تھے، بعض پوری نماز پڑھتے تھے اور بعض قصر کرتے تھے، بعض روزے رکھتے تھے اور بعض روزے نہیں رکھتے تھے۔ اس کے باوجود کوئی کسی کو برا نہیں کہتا تھا۔
(۸۲۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خُضَیْرٍ ، عَنْ أَبِی نَجِیحٍ الْمَکِّیِّ ، قَالَ : اصْطَحَبَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی السَّیْرِ ، فَکَانَ بَعْضُہُمْ یُتِمُّ وَبَعْضُہُمْ یَقْصُرُ وَبَعْضُہُمْ یَصُومُ وَبَعْضُہُمْ یُفْطِرُ، فَلاَ یَعِیبُ ہَؤُلاَئِ عَلَی ہَؤُلاَئِ ، وَلاَ ہَؤُلاَئِ عَلَی ہَؤُلاَئِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مسافر اگر چاہے تو دو رکعتیں پڑھ لے اور اگر چاہے تو چار
(٨٢٧٥) حضرت بسطام بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے سفر میں قصر کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تم قصر کرو تو یہ رخصت ہے اور اگر چاہو تو پوری پڑھ لو۔
(۸۲۷۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائً عَنْ قَصْرِ الصَّلاَۃ فِی السَّفَرِ ؟ فَقَالَ: إِنْ قَصَرْتَ فَرُخْصَۃٌ وَإِنْ شِئْتَ أَتْمَمْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک مسافر اگر چاہے تو دو رکعتیں پڑھ لے اور اگر چاہے تو چار
(٨٢٧٦) حضرت میمون بن مہران نے حضرت سعید بن مسیب سے سفر میں نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر چاہو تو دو رکعتیں پڑھ لو اور اگر چاہو تو چار رکعتیں پڑھ لو۔
(۸۲۷۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شَہِیدٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، أَنَّہُ سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الصَّلاَۃ فِی السَّفَرِ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ رَکْعَتَیْنِ وَإِنْ شِئْتَ فَأَرْبَع۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی کسی گاؤں ، جنگل یا صحرا کی طرف جائے تو کیا وہ نماز میں قصر کرے گا یا نہیں ؟
(٨٢٧٧) حضرت اشعث کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن اور حضرت محمد سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی دس دن کے لیے کسی گاؤں میں جائے تو کیا وہاں قصر کرے گا ؟ انھوں نے فرمایا نہیں۔
(۸۲۷۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُمَا : الرَّجُلُ یَبْدُو عَشَرَۃَ أَیَّامٍ أَیَقْصُرُ الصَّلاَۃ ؟ قَالَ : فَقَالاَ : لاَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی کسی گاؤں ، جنگل یا صحرا کی طرف جائے تو کیا وہ نماز میں قصر کرے گا یا نہیں ؟
(٨٢٧٨) حضرت جابر بن زید سے سوال کیا گیا کہ اگر کچھ لوگ اپنے شہر سے گاؤں کی طرف جائیں تو کیا وہ واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھیں گے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں، جب تک وہ دیہات کے رہنے والے ہیں وہ قریب اور دور جا کر بھی پوری نماز پڑھیں گے۔
(۸۲۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ ، قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَیدٍ عَنِ الْقَوْمِ یَبْدُونَ مِنْ مِصْرِہِمْ إلَی الْبَرِّیَّۃِ أَیُصَلُّونَ ثِنْتَیْنِ مَا دَامُوا بُدَاۃً حَتَّی یَرْجِعُوا إلَی مِصْرِہِمْ ؟ قَالَ : لاَ لیُتِمُّوا الصَّلاَۃ فِی الْقُرْبِ والبُعد مَا دَامُوا بُدَاۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٧٩) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ دن قیام فرمایا اور آپ دو رکعتیں پڑھتے تھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں سے کہتے کہ ہم مسافر لوگ ہیں تم اپنی نماز پوری کرلو۔
(۸۲۷۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً لاَ یُصَلِّی إِلاَّ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ یَقُولُ لأَہْلِ الْبَلَدِ : صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفْرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٨٠) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے بعد پندرہ دن قیام فرمایا ، آپ نماز میں قصر کیا کرتے تھے پھر آپ حنین کی طرف تشریف لے گئے۔
(۸۲۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أقَامَ حَیْثُ فَتَحَ مَکَّۃَ خَمْسَ عَشْرَۃَ یَقْصُرُ الصَّلاَۃ حَتَّی سَارَ إلَی حُنَیْنٍ۔ (ابوداؤد ۱۲۲۴۔ نسائی ۵۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٨١) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر پر نکلے، آپ نے مکہ پہنچنے تک نماز میں قصر کیا، پھر دس دن یہاں قیام کیا اور نماز میں قصر کرتے رہے، یہاں تک کہ مدینہ واپس پہنچ کر آپ نے قصر کو ترک کردیا۔
(۸۲۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَصَرَ الصَّلاَۃ حَتَّی أَتَیْنَا مَکَّۃَ وَأَقَامَ بِہَا عَشْرًا یَقْصُرُ الصَّلاَۃ حَتَّی رَجَعَ إلَی الْمَدِینَۃِ۔ (بخاری ۱۰۸۱۔ مسلم ۱۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٨٢) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نین پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں سترہ دن قیام فرمایا آپ نماز میں قصر کیا کرتے تھے۔
(۸۲۸۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَہَانِیِّ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَکَّۃَ سَبْعَ عَشْرَۃَ یَقْصُرُ الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٨٣) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر تم نے کسی شہر میں پندرہ دن رہنا ہو تو تم قصر نما زپڑھو۔
(۸۲۸۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنْ أَقَمْتَ فِی بَلَدٍ خَمْسَۃَ أَشْہُرٍ فَاقْصُرِ الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٨٤) حضرت عبد الرحمن بن مسور فرماتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن مالک کے ساتھ عمان میں دو مہینے ٹھہرے۔ وہ نماز میں قصر کیا کرتے تھے اور ہم پوری نماز پڑھا کرتے تھے، ہم نے اس بارے میں ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہم زیادہ جانتے ہیں۔
(۸۲۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِسْوَرٍ ، قَالَ : أَقَمْنَا مَعَ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ شَہْرَیْنِ ، قَالَ سُفْیَانُ : بِعُمَّانَ ، وَقَالَ مِسْعَرٌ : بِعُمَّانَ ، أَوْ عَمَّان یَقْصُرُ الصَّلاَۃ وَنَحْنُ نُتِمُّ ، فَقُلْنَا لَہُ فَقَالَ : نَحْنُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی مسافر کا شہر میں قیام طویل ہوجائے
(٨٢٨٥) حضرت ابو المنہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا کہ میں مدینہ میں ایک سال تک قیام کرتا ہوں اور سفر کے لیے سامان نہیں باندھتا تو میں کیا کروں ؟ انھوں نے فرمایا کہ نماز میں قصر کرو۔
(۸۲۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ الضُّبَعِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنْزَۃَ یُکَنَّی أَبَا الْمِنْہَالِ ، قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ : إنِّی أُقِیمُ بِالْمَدِینَۃِ حَوْلاً لاَ أَشُدُّ عَلَی سَیْرٍ ، قَالَ : صَلِّ رَکْعَتَیْنِ۔
তাহকীক: