মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮৩৪৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٤٦) حضرت مجاہد اور حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب گھڑ سوار ایک دوسرے میں گھسے ہوں اور تلواریں چل رہی ہوں تو آدمی کے لیے نماز کے وقت میں تکبیر کہنا ہی کافی ہے۔ اگر وہ کسی بھی طرف منہ کرکے ایک تکبیر بھی کہہ لے تو یہ اس کے لیے کافی ہے۔
(۸۳۴۶) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ وَالْحَکَمِ ، قَالاَ : إذَا کَانَ عِنْدَ الطِّرَادِ وَعِنْدَ سَلِّ السُّیُوفِ أَجْزَأَ الرَّجُلَ أَنْ تَکُونَ صَلاَتُہُ تَکْبِیرًا ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ إِلاَّ تَکْبِیرَۃٌ وَاحِدَۃٌ أَجْزَأَتْہُ أَیْنَمَا کَانَ وَجْہُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٤٧) حضرت ابراہیم فرمان باری تعالیٰ (ترجمہ) اگر تمہیں خوف ہو تو سوار ہو کر یا پیدل۔ کے بارے میں فرماتے ہیں، جب جنگ کے دوران نماز کا وقت ہوجائے تو جس طرف چاہو رخ کرکے اشارے سے نماز پڑھ لو۔ اور اپنے سجود کو رکوع سے زیادہ جھکا ہوا رکھو۔
(۸۳۴۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : فِی قولہ تعالی : {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا} قَالَ : إذَا حَضَرَتِ الصَّلاَۃ فِی الْمُطَارَدَۃِ فَأَوْمِ حَیْثُ کَانَ وَجْہُکَ وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّکُوعِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٤٨) حضرت جابر بن غراب فرماتے ہیں کہ ہم ایک لشکر میں ھرم بن حیان کے ساتھ جنگ کررہے تھے کہ ھرم نے کہا کہ ہر شخص اپنی ڈھال کے نیچے سجدہ کرلے۔
(۸۳۴۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ أَبِی مَسْلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ غُرَابٍ وَکَانَ سَیِّدَ النَّمِر ، قَالَ : کُنَّا مَعَ ہَرِمِ بْنِ حَیَّانَ فِی جَیْشٍ نُقَاتِلُ الْعَدُوَّ ، فَقَالَ ہَرِمٌ : لیَسْجُدُ کُلُّ رَجُلٍ مِنْکُمْ سَجْدَۃً تَحْتَ جُنَّتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৪৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٤٩) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر دوران قتال نماز کا وقت ہوجائے تو کیسے نما زپڑھی جائے ؟ انھوں نے فرمایا کہ جس طرف رخ ہو اسی طرف ایک رکعت پڑھے اور دوسجدے کرے۔
(۸۳۴۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ إذَا حَضَرَتِ الْمُسَایَفَۃُ کَیْفَ یُصَلِّی ؟ فَقَالَ : یُصَلِّی رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ تِلْقَائَ وَجْہِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥٠) حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دورانِ قتال نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اشارے سے جس طرف بھی منہ ہو اسی طرف ایک رکعت پڑھو۔
(۸۳۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ وَحَمَّادًا عَنْ صَلاَۃِ الْمُسَایَفَۃِ ، فَقَالاَ : رَکْعَۃً حَیْثُ کَانَ وَجْہُہُ یُومِیئُ إیمَائً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تلواریں چل رہی ہوں تو جس طرف منہ ہو اسی طرف رخ کرکے ایک رکعت پڑھ لو۔
(۸۳۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ قَالَ : الصَّلاَۃ عِنْد الْمُسَایَفَۃِ رَکْعَۃً یُومِیئُ إیمَائً حَیْثُ کَانَ وَجْہُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥٢) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب قتال کے دوران زیادہ نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو ایک تکبیر ہی کافی ہے۔
(۸۳۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : تُجْزِئہ تَکْبِیرَۃٌ عِنْدَ السَّلَّۃِ إذَا لَمْ یَسْتَطِعْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥٣) حضرت ابن سیرین فرمایا کرتے تھے کہ جب تلواریں چل رہی ہوں تو جس طرف بھی رخ ہو اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے۔
(۸۳۵۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی صَلاَۃِ الْمُسَایَفَۃِ : یُومِئُ إیمَائً حَیْثُ کَانَ وَجْہُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥٤) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ قتال کے وقت دو تکبیریں ہیں۔
(۸۳۵۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : تَکْبِیرَتَیْنِ عِنْدَ الْمُسَایَفَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ قتال کے وقت کی نماز ایک رکعت ہے۔
(۸۳۵۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : الصَّلاَۃ عِنْدَ الْمُسَایَفَۃِ رَکْعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب تلواریں چل رہی ہوں تو نماز کیسے پڑھنی چاہیے ؟
(٨٣٥٦) حضرت رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ ثابت بن سمط یا سمط بن ثابت ایک جنگ میں تھے کہ نما زکا وقت ہوگیا، لوگوں نے سوار ہونے کی حالت میں نماز پڑھ لی۔ حضرت اشتر اترے اور انھوں نے کہا کہ انھوں نے کیا کیا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ انھوں نے اتر کر نماز پڑھی ہے، اشتر نے کہا کہ انھوں نے مخالفت کیوں کی جس پر ان کی مخالفت کی گئی ؟
(۸۳۵۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ الْکِنْدِیِّ ، قَالَ : کَانَ ثَابِتُ بْنُ السِّمْطِ ، أَوِ السِّمْطُ بْنُ ثَابِتٍ فِی مَسِیرٍ فِی خَوْفٍ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃ فَصَلَّوْا رُکْبَانًا فَنَزَلَ الأَشْتَرُ ، فَقَالَ : مَا لَہُ ؟ قَالُوا : نَزَلَ فَصَلَّی ، قَالَ : مَا لَہُ خَالَفَ خُولِفَ بِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٥٧) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو سلیم کی زمین ذی قرد میں نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں باندھیں ، ایک صف آپ کے پیچھے تھی اور دوسری دشمن کے سامنے، آپ نے اپنے پیچھے موجود صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ دوسروں کی جگہ چلے گئے اور دوسرے ان کی جگہ آگئے۔ پھر آپ نے انھیں ایک رکعت پڑھائی۔
(۸۳۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ بن صُخَیْرٍ الْعَدَوِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الْخَوْفِ بِذِی قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلفَہُ صَفَّیْنِ ، صَفٌّ خَلْفَہُ ، وَصَفٌّ مُوَاز الْعَدُوِّ ، فَصَلَّی بِالصَّفِّ الَّذِی یَلِیہِ رَکْعَۃً ، ثُمَّ نَکَصَ ہَؤُلاَئِ إلَی مَصَافِّ ہَؤُلاَئِ وَہَؤُلاَئِ إلَی مَصَافِّ ہَؤُلاَئِ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً۔ (احمد ۱/۲۳۲۔ عبدالرزاق ۳۵۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٥٨) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۸۳۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الرُّکَیْنِ الْفَزَارِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی صَلاَۃَ الْخَوْفِ۔

قَالَ سُفْیَانُ فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ (نسائی ۱۹۱۹۔ ابن خزیمۃ ۱۳۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৫৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٥٩) حضرت ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم طبرستان میں حضرت سعید بن عاص کے ساتھ تھے، حضرت حذیفہ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حضرت سعید نے کہا کہ تم میں سے کس نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ حضرت حذیفہ نے کہا میں نے۔ پھر انھوں نے لوگوں کو نما زپڑھائی۔
(۸۳۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بن أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ زَہْدَمٍ الْحَنْظَلِیِّ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ وَمَعَنَا حُذَیْفَۃُ ، فَقَالَ سَعِیدٌ : أَیُّکُمْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ : حُذَیْفَۃُ : أَنَا ، قَالَ : فَقَامَ فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔

قَالَ سُفْیَانُ : فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ۔ (ابوداؤد ۱۲۴۰۔ احمد ۵/۳۹۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৬০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٦٠) حضرت ابو عالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری اصبہان کے ایک علاقے میں تھے، انھیں دشمن کا بہت زیادہ خوف نہ تھا، لیکن وہ لوگوں کو دین اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی تعلیم دینا چاہتے تھے۔ پس انھوں نے لوگوں کی دو جماعتیں بنائیں، ایک جماعت کو اسلحہ کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑا کردیا اور دوسری جماعت کو اپنے پیچھے رکھا، انھوں نے اپنے پیچھے موجود جماعت کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ الٹے پاؤں دوسری جماعت کی جگہ دشمن کے سامنے چلے گئے ، پھر وہ جماعت آکر حضرت ابو موسیٰ کے پیچھے کھڑی ہوگئی انھوں نے اس جماعت کو دوسری رکعت پڑھائی۔ پھر سلام پھیرا ، پھر وہ لوگ جو پہلی رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے وہ آئے اور انھوں نے ایک رکعت ادا کی، اور دوسروں نے بھی ایک رکعت پڑھی۔ پھر انھوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا، اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کی امام کے پیچھے ایک ایک رکعت ہوگئی۔
(۸۳۶۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا سَعِیدٌ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الرِّیَاحِیِّ: أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِِی کَانَ بِالدَّارِ مِنْ أَصْبَہَانَ وَمَا بِہِمْ یَوْمَئِذٍ کَثِیرُ خَوْفٍ وَلَکِنْ أَحَبَّ أَنْ یُعَلِّمَہُمْ دِینَہُمْ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ فَجَعَلَہُمْ صَفَّیْنِ ، طَائِفَۃٌ مَعَہَا السِّلاَحُ مُقْبِلَۃٌ عَلَی عَدُوِّہَا وَطَائِفَۃٌ وَرَائَہَا ، فَصَلَّی بِالَّذِینَ یَلُونَہ رَکْعَۃً ، ثُمَّ نَکَصُوا عَلَی أَدْبَارِہِمْ حَتَّی قَامُوا مَقَامَ الأَخَرِینَ یَتَخَلَّلُونَہُمْ حَتَّی قَامُوا وَرَائَہُ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً أُخْرَی ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَ الَّذِینَ یَلُونَ وَالأَخَرُونَ فَصَلَّوْا رَکْعَۃً رَکْعَۃً فَسَلَّمَ بِہِمْ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ فَتَمَّتْ لِلإِمَامِ رَکْعَتَانِ فِی جَمَاعَۃٍ وَلِلنَّاسِ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ۔ (طبرانی ۱۹۷۔ بیہقی ۲۵۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৬১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٦١) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوف کی نماز پڑھائی، لوگ دو صفوں میں کھڑے ہوئے، ایک صف نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بنائی گئی اور دوسری صف دشمن کی طرف منہ کرکے بنائی گئی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوگئی۔ یہ پہلی رکعت پڑھانے والی جماعت دشمن کی طرف چلی گئی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جماعت کو ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ ان لوگوں نے اپنی ایک رکعت خود پڑھی، پھر سلام پھیر دیا۔ پھر دشمن کی طرف چلے گئے اور وہاں موجود جماعت آگئی انھوں نے اپنی ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔
(۸۳۶۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَن عَبد اللہ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الْخَوْفِ فَقَامُوا صَفَّیْنِ صَفٌّ خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلٌ الْعَدُوَّ فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً وَجَائَ الأَخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَہُمْ وَاسْتَقْبَلَ ہَؤُلاَئِ الْعَدُوَّ فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً ، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ ہَؤُلاَئِ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً ، ثُمَّ سَلَّمُوا ، ثُمَّ ذَہَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِکَ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِکَ إلَی مَقَامِہِمْ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِہِمْ رَکْعَۃً، ثُمَّ سَلَّمُوا۔ (ابوداؤد ۱۲۳۷۔ احمد ۳۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৬২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٦٢) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو خوف کی نماز اس طرح پڑھائی کہ ایک صف آپ کے سامنے کھڑی ہوئی اور ایک صف آپ کے پیچھے۔ آپ نے اپنے پیچھے موجود جماعت کو ایک رکعت پڑھائی، پھر دشمن کے سامنے والی جماعت آئی اور ان لوگوں کی جگہ کھڑی ہوگئی، پھر آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ اس طرح نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو رکعتیں ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کی ایک ایک۔
(۸۳۶۲) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِہِمْ صَلاَۃَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَیْنَ یَدَیْہِ وَصَفٌّ خَلْفَہُ فَصَلَّی بِہِمْ وَجَائَ أُولَئِکَ حَتَّی قَامُوا مَقَامَ ہَؤُلاَئِ فَصَلَّی بِہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَانِ وَلَہُمْ رَکْعَۃٌ رَکْعَۃٌ۔ (نسائی ۱۹۳۳۔ احمد ۳/۲۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৬৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٦٣) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عسفان میں تھے اور مشرکین ضجنان میں، جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے آپ کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھاتو ارادہ کیا کہ ان پر حملہ کردیں۔ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو آپ نے لوگوں کی اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں، جب آپ نے تکبر کہی تو سب نے تکبیر کہی، جب رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا، جب سجدہ کیا تو آپ کے پیچھے موجود صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف کے لوگ دشمن کی طرف منہ کرکے ہتھیار لیے کھڑے رہے۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انھوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور سب لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے موجود صف نے سجدہ کیا، اور دوسری صف کے لوگ دشمن کی طرف ہتھیار لیے کھڑے رہے، جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسری صف کے لوگوں نے سجدہ کا ۔

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ لوگ تکبیر، رکوع اور سلام میں اکٹھے اور سجدوں میں آگے پیچھے تھے۔

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوف کی نماز نہ اس سے پہلے کبھی پڑھی اور نہ اس کے بعد۔
(۸۳۶۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ سَمِعَہُ مِنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ بِعُسْفَانَ وَالْمُشْرِکُونَ بِضَجِنَانَ ، فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ رَآہُ الْمُشْرِکُونَ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ فَائْتَمَرُوا أَنْ یُغِیرُوا عَلَیْہِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ صَفَّ النَّاسُ خَلْفَہُ صَفَّیْنِ فَکَبَّرَ وَکَبَّرُوا جَمِیعًا وَرَکَعَ وَرَکَعُوا جَمِیعًا وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِینَ یَلُونَہُ وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِی الَّذِینَ بِسِلاَحِہِمْ مُقْبِلِینَ عَلَی الْعَدُوِّ بِوُجُوہِہِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہُ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِی ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُؤُوسَہُمْ رَکَعَ وَرَکَعُوا جَمِیعًا وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِینَ یَلُونَہُ وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِی بِسِلاَحِہِمْ مُقْبِلِینَ عَلَی الْعَدُوِّ بِوُجُوہِہِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأْسَہُ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِی۔

قَالَ: قَالَ مُجَاہِدٌ، فَکَانَ تَکْبِیرُہُمْ وَرُکُوعُہُمْ وَتَسْلِیمُہُ عَلَیْہِمْ سَوَائً وَتَنَاصَفُوا فِی السُّجُودِ۔ قَالَ: قَالَ مُجَاہِدٌ فَلَمْ یُصَلِّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الْخَوْفِ قَبْلَ یَوْمِہِ، وَلاَ بَعْدَہُ۔(عبدالرزاق ۴۲۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৬৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٦٤) ایک اور سند سے یہی منقول ہے۔
(۸۳۶۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی عَیَّاشٍ الزُّرَقِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ۔ (ابوداؤد ۱۲۲۹۔ ابن حبان ۲۸۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৬৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نمازِ خوف کا طریقہ
(٨٣٦٥) ایک اور سند سے کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ یہی منقول ہے۔
(۸۳۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ مُجَاہِدٍ ، وَزَادَ فِیہِ کَمَا یَفْعَلُ حَرَسُکُمْ ہَؤُلاَئِ بِأُمَرَائِہِمْ۔ (مسلم ۳۰۸۔ احمد ۳/۳۷۴)
tahqiq

তাহকীক: