মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮৩৮৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٨٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گرہن کی نماز آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔
(۸۳۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، وَابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی کُسُوفِ الشَّمْسِ ، ثَمَانَ رَکَعَاتٍ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ۔ (مسلم ۱۸۔ ابوداؤد ۱۱۷۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৮৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٨٧) حضرت طاوس کا اپناقول بھی یہی منقول ہے۔
(۸۳۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ ، وَلَمْ یَذْکُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৮৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٨٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا۔ آپ جلدی سے نماز میں مصروف ہوگئے اور اس وقت تک نماز پڑھتے رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا۔ جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور فرمایا ” سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انھیں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم انھیں گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو اور صدقہ دو ۔
(۸۳۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خُسِفَت الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی فَفَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ حِینَ تَجَلَّی عَنِ الشَّمْسِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ لاَ یَخْسِفَان لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ وَلَکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمَا فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا۔ (بخاری ۱۰۴۴۔ مسلم ۶۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৮৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٨٩) ایک اور سند سے مختلف الفاظ کے ساتھ یونہی منقول ہے۔
(۸۳۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہُ ، إِلاَّ أَنَّ ابْنَ نُمَیْرٍ قَالَ : فَکَبِّرُوا وَادْعُوا۔ (مسلم ۶۱۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں جب آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو سورج کو گرہن لگ گیا، لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔ اس پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ آپ نے سب سے پہلے تکبیر کہی پھر قراءت کی اور لمبی قرات کی، پھر قیام کے برابررکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا ، پھر پہلی قراءت سے کم قراءت کی، پھر قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کم قراءت کی، پھر اس قیام کے برابر رکوع فرمایا۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر سجدوں کے لیے جھک گئے اور دوسجدے کئے، پھر کھڑے ہو کر تین رکوع فرمائے، ہر رکوع سے پہلے رکوع اس سے زیادہ لمبا ہوتا تھا۔ اور آپ کے رکوع آپ کے سجدوں کے برابر ہوتے تھے۔ پھر آپ پیچھے آئے اور آپ کے پیچھے صفوں میں کھڑے لوگ بھی پیچھے آئے، یہاں تک کہ خواتین تک پہنچ گئیں۔ پھر آپ آگے ہوئے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی آگے ہوئے یہاں تک کہ آپ اپنی جگہ آکھڑے ہوئے۔ پھر جب سورج روشن ہوگیا تو آپ نے نماز کو مکمل فرمالیا اور پھر ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انھیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم ان کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔
(۸۳۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ مَاتَ إبْرَاہِیمُ بْنُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّاسُ : إنَّمَا انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إبْرَاہِیمَ ، فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، بَدَأَ فَکَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَۃَ ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ فَقَرَأَ قِرَائَۃً دُونَ القِرَائَۃ الأُولی ، ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ، فَقَرَأَ قِرَائَۃً دُونَ الثَانِیۃ ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ أَیْضًا ثَلاَثَ رَکَعَاتٍ لَیْسَ مِنْہَا رَکْعَۃٌ إِلاَّ الَّتِی قَبْلَہَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِی بَعْدَہَا وَرُکُوعُہُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِہِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَہُ حَتَّی انْتَہَی إلَی النِّسَائِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَہُ حَتَّی قَامَ فِی مَقَامِہِ فَانْصَرَفَ حِینَ انْصَرَفَ وَقَدْ أَضَائَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ فَصَلُّوا حَتَّی تَنْجَلِیَ۔ (مسلم ۹۔ ابوداؤد ۱۱۷۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩١) حضرت سائب بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج گرہن کے موقع پر دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
(۸۳۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ صَلَّی فِی کُسُوفِ الشَّمْسِ رَکْعَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے گرہن کی نماز دس رکوعات اور چار سجدوں کے ساتھ ادا فرمائی۔
(۸۳۹۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا یُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ عَلِیًّا صَلَّی فِی الْکُسُوفِ عَشْرَ رَکَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٣) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کے زمانے میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا۔ حضرت ابن عباس نے زمزم کے پاس دو رکعتیں پڑھائیں اور ہر رکعت میں چار سجدے کئے۔
(۸۳۹۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُوس: أَنَّ الشَّمْسَ انْکَسَفَتْ عَلَی عَہْدِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَصَلَّی عَلَی صُفَّۃِ زَمْزَمَ رَکْعَتَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ أَرْبَعُ سَجَدَاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٤) حضرت ابو بکرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج یاچاند کو گرہن لگا تو آپ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، انھیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم ان کو گرہن لگا ہوا دیکھو تو ان کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔
(۸۳۹۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ : انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ أَوِ الْقَمَرُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَصَلُّوا حَتَّی تَنْجَلِیَ۔ (بخاری ۱۰۴۰۔ نسائی ۱۸۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف کہا کرتے تھے کہ جب سورج گرہن ہو تو اس کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔
(۸۳۹۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ : إذَا کَانَ ذَلِکَ فَصَلُّوا کَصَلاَتِکُمْ حَتَّی تَنْجَلِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٦) حضرت اسمائ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے اتنی لمبی نماز پڑھی کہ میں بےہوش ہوگئی۔ آپ نے سورج کے روشن ہونے کے بعد نماز کو مکمل فرمایا۔
(۸۳۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَۃَ ، عَنْ أَسْمَائَ ، قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَجَلاَّنِی الْغَشْیُ ، قَالَ : قَالَتْ : فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ۔ (بخاری ۸۶۔ مسلم ۶۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٧) حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ چاند اور سورج کو گرہن لگنا اللہ کی ایک نشانی ہے، جب ایساہو تو نماز پڑھو۔
(۸۳۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : حدَّثَنِی فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ کُسُوفَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَافْزَعُوا إلَی الصَّلاَۃ۔ (بزار ۱۳۷۱۔ طبرانی ۱۰۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٨) حضرت عبد الرحمن بن سمرہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا ، اس وقت میں تیر اندازی کررہا تھا، میں نے ان تیروں کو پھینکا اور بھاگا تاکہ دیکھ سکوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورج گرہن کے موقع پر کیا حکم فرماتے ہیں۔ میں حاضر ہوا تو آپ نماز میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے تھے۔ آپ نے اس میں اللہ کی تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل بیان کی پھر دعا کی۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔ جب سورج روشن ہوا تو آپ نے دوسورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھیں۔
(۸۳۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ الْجُرَیرِیِّ ، عَنْ حَیَّانَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کُنْتُُ أَرْتَمِی بِأَسْہُمٍ بِالْمَدِینَۃِ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إذِ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُہَا ، فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لأَنْظُرَنَّ إلَی مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی کُسُوفِ الشَّمْسِ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ قَائِمٌ فِی الصَّلاَۃ رَافِعًا یَدَیْہِ ، قَالَ : فَجَعَلَ یُسَبِّحُ وَیَحْمَدُ وَیُکَبِّرُ وَیُہَلِّلُ وَیَدْعُو حَتَّی حُسِرَ عَنْہَا ، قَالَ : فَلَمَّا حُسِرَ عَنْہَا قَالَ قَرَأَ سُورَتَیْنِ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسلم ۲۷۔ ابوداؤد ۱۱۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٣٩٩) حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت سمرہ بن جندب کے خطبے میں حاضر تھا، انھوں نے ذکر کیا کہ میں اور ایک انصاری لڑکا نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ایک شکار کو نشانہ بنا رہے تھے کہ سورج افق سے دیکھنے والے کی آنکھ کے لیے دو یا تین نیزوں کے برابر رہ گیا۔ وہ تنومہ نامی کالی بوٹی کی طرح کالا ہوگیا۔ ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چلو مسجد چلتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بارے میں اپنی امت سے ضرور کوئی بات فرمائیں گے۔ ہم فورا مسجد کی طرف گئے تو دیکھا کہ مسجد میں لوگوں کا رش ہے اور لوگ جمع ہیں۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد جانے کے لیے تشریف لائے تو ہمیں آپ کے ساتھ جانا نصیب ہوگیا۔ آپ آگے بڑھے اور آپ نے لوگوں کو اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ اتنی لمبی نماز کبھی نہ پڑھائی تھی۔ ہم نے اس میں آپ کی آواز نہیں سنی۔ پھر آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی نہ کیا تھا۔ ہم نے آپ کی آواز نہیں سنی۔ آپ نے دوسری رکعت میں بھی یوں ہی کیا۔ جب آپ دوسری رکعت کے قعدہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو سورج روشن ہوگیا۔ پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔
(۸۳۹۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ثَعْلَبَۃُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِیُّ : أَنَّہُ شَہِدَ یَوْمًا خُطْبَۃً لِسَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ فَذَکَرَ فِی خُطْبَتِہِ حَدِیثًا عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ سَمُرَۃُ : بَیْنَا أَنَا یَوْمًا وَغُلاَمٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِی غَرَضًا لَنَا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی إذَا کَانَتِ الشَّمْسُ قِیدَ رُمْحَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٍ فِی عَیْنِ النَّاظِرِ مِنَ الأُفُقِ اسْوَدَّتْ حَتَّی آضَتْ کأَنَّہَا تَنُّومَۃٌ ، فَقَالَ أَحَدُنَا لصاحبِہِ : انْطَلِقْ بِنَا إلَی الْمَسْجِدِ فَوَاللَّہِ لَتُحْدِثَنَّ ہَذِہِ الشَّمْسُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أُمَّتِہِ حَدَثًا ، فَقَالَ : فَدَفَعْنَا إلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا ہُوَ بَارِزٌ مُحْتَفِلٌ ، قَالَ : وَوَافَقْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ خَرَجَ إلَی النَّاسِ فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّی بِنَا کَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِی صَلاَۃٍ قَطُّ لاَ نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا ، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا کَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِی صَلاَۃٍ قَطُّ لاَ نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا ، قَالَ : ثُمَّ فَعَلَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَوَافَقَ تَجَلِّی الشَّمْسِ جُلُوسَہُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَسَلَّمَ۔ (ابوداؤد ۱۱۷۷۔ نسائی ۱۸۶۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ سورج اور چاند گرہن میں چھ رکوع اور چار سجدے ہیں۔
(۸۴۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : صَلاَۃُ الأَیَاتِ سِتُّ رَکَعَاتٍ فِی أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠١) حضرت عاصم بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سورج گرہن کے وقت مسجد کی طرف بھاگ کر جا رہے تھے، آپ کے ساتھ آپ کی جوتیاں بھی تھیں۔
(۸۴۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُہَرْوِلُ إلَی الْمَسْجِدِ فِی کُسُوفٍ وَمَعَہُ نَعْلاَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ گرہن کی نماز میں دو دو رکعتیں پڑھی جائیں گی۔
(۸۴۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَبِیعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فِی الْکُسُوفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٣) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں اندھیرا ہوگیا، اس پر حضرت ھنی بن نویرہ آئے ان کے ساتھ ان کے ایک ساتھی بھی تھے۔ وہ دونوں حضرات حضرت تمیم بن حذلم کے پاس گئے۔ حضرت تمیم بن حذلم حضرت عبداللہ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے تمیم بن حذلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان سے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور اس وقت تک نماز پڑھو جب تک سورج روشن نہ ہوجائے۔ کیونکہ اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔
(۸۴۰۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ أَبِی الْخَیْرِ بْنِ تَمِیمِ بْنِ حَذْلَمٍ ، قَالَ : کَانَتْ بِالْکُوفَۃِ ظُلْمَۃٌ فَجَائَ ہُنَیُّ بْنُ نُوَیْرَۃَ مَعَہُ صَاحِبٌ لَہُ حَتَّی دَخَلاَ عَلَی تَمِیمِ بْنِ حَذْلَمٍ ، وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِاللہِ، فَوَجَدَاہُ یُصَلِّی ، قَالَ : فَقَالَ لَہُمَا : ارْجِعَا إلَی بُیُوتِکُمَا وَصَلِّیَا حَتَّی یَنْجَلِیَ مَا تَرَوْنَ ، فَإِنَّہُ کَانَ یُؤْمَرُ بِذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٤) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جب آسمان کے افق میں کچھ تبدیلی نظر آئے تو فورا نماز پڑھو۔
(۸۴۰۴) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : إذَا فَزِعْتُمْ مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ فَافْزَعُوا إلَی الصَّلاَۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٥) حضرت عیسیٰ بن ابی عزہ کہتے ہیں کہ لوگ سورج گرہن، چاند گرہن یا ایسی کسی صورت میں گھبراگئے تو حضرت شعبی نے فرمایا کہ مسجد میں جاؤ کیونکہ اس موقع پر مسجد میں جانا سنت ہے۔
(۸۴۰۵) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ عِیسَی بْنِ أَبِی عَزَّۃَ ، قَالَ : فَزِعَ النَّاسُ فِی انْکِسَافِ شَمْسٍ ، أَوْ قَمَرٍ ، أَوْ شَیْئٍ ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : عَلَیْکُمْ بِالْمَسْجِدِ ، فَإِنَّہُ مِنَ السُّنَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: