মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮৪০৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہم گرہن میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔
(۸۴۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ فِی الْکُسُوفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٧) حضرت علاء بن زیاد چاند گرہن کی نماز کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امام قیامت میں قراءت کرے گا اور رکوع کرے گا۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے۔ اگر چاند روشن نہ ہوا تو قراءت کرے پھر رکوع کرے پھر سر اٹھائے۔ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے، اگر روشن نہ ہوا ہو تو قراءت کرے پھر رکوع کرے پھر سر اٹھائے ، جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو چاند کی طرف دیکھے۔ اگر وہ روشن ہوگیا ہو تو سجدہ کرے، پھر کھڑا ہو کر اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملائے۔ اگر چاند روشن نہ ہوا ہو تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک چاند کا کچھ حصہ روشن نہ ہوجائے۔ پھر اگر اس کے بعد دوبارہ گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہ پڑھے۔
(۸۴۰۷) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْد ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِیَادٍ : فِی صَلاَۃِ الْکُسُوف ، قَالَ : یَقُومُ فَیَقْرَأُ وَیَرْکَعُ ، فَإذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ نَظَرَ إلَی الْقَمَرِ ، فَإِنْ کَانَ لَمْ یَنجَلِ قَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ، فَإذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ نَظَرَ إلَی الْقَمَرِ ، فَإِنْ کَانَ لَمْ یَنجَلِ قَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ، فَإذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہُ نَظَرَ إلَی الْقَمَرِ ، فَإِنْ کَانَ انْجَلَی سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ فَشَفعََہَا بِرَکْعَۃٍ ، وَإِنْ لَمْ یَنْجَلِ لَمْ یَسْجُدْ أَبَدًا حَتَّی تَنْجَلِی مَتَی مَا تجَلَّی ، ثُمَّ إِنْ کَانَ کُسُوفٌ بَعْدُ لَمْ یُصَلِّ ہَذِہِ الصَّلاَۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٨) حضرت ابو ایوب ہجری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بصرہ میں سورج گرہن ہوگیا اور حضرت ابن عباس وہاں کے امیر تھے۔ انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت فرمائی۔ پھر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی یونہی کیا، جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ گرہن کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یونہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا ان رکعتوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کون سی سورتوں کی قراءت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کی۔
(۸۴۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْکِلاَبِیُّ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الْہَجَرِیُّ قَالَ : انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْبَصْرَۃِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ أَمِیرٌ عَلَیْہَا فَقَامَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ ، فَقَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَۃَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ فِی الثَّانِیَۃِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : ہَکَذَا صَلاَۃُ الأَیَاتِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : بِأَیِّ شَیْئٍ قَرَأَ فِیہِمَا ؟ قَالَ : بِالْبَقَرَۃِ وَآلِ عِمْرَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤٠٩) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا تو اعلان ہوا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔ اس نماز میں آپ نے ایک سجدے کے ساتھ دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور ایک سجدے کے ساتھ دو رکوع کئے۔ پھر سورج روشن ہوگیا۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے اس سے لمبے سجدے اور اس سے لمبے رکوع کبھی نہیں کئے۔
(۸۴۰۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّہُ لَمَّا انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُودِیَ بِالصَّلاَۃ جَامِعَۃً، فَرَکَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ فِی سَجْدَۃٍ، ثُمَّ جُلِّیَ عَنِ الشَّمْسِ ، قَالَ : قالَتْ عَائِشَۃُ : مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ وَلاَ رَکَعْتُ رُکُوعًا قَطُّ کَانَ أَطْوَلَ مِنْہُ۔ (بخاری ۱۰۴۵۔ مسلم ۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز کا طریقہ
(٨٤١٠) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ جس دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا کہ سورج کو حضرت ابراہیم کے وصال کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ اس پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چاند اور سورج اللہ کی نشانیاں ہیں۔ انھیں کسی کی زندگی اور موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم ان کو گرہن لگا دیکھو تو اس وقت تک دعا اور نماز میں مصروف رہو جب تک یہ روشن نہ ہوجائیں۔
(۸۴۱۰) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَائِدَۃُ ، قَالَ : قَالَ زِیَادُ بْنُ عِلاَقَۃَ : سَمِعْتُ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ یَقُولُ : انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ مَاتَ إبْرَاہِیمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : انْکَسَفَتْ لِمَوْتِ إبْرَاہِیمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللہِ ، لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمَا فَادْعُوا اللَّہَ وَصَلُّوا حَتَّی تَنْکَشِفَ۔ (بخاری ۶۱۹۹۔ احمد ۴/۲۴۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٨٤١١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورج گرہن کی نماز میں دو رکعتیں پڑھائیں اور ایک میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی۔
(۸۴۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أنَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِی کُسُوفٍ رَکْعَتَیْنِ فَقَرَأَ فِی إحْدَاہُمَا بِالنَّجْمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٨٤١٢) حضرت ماجشون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابان بن عثمان کوسنا انھوں نے سورج گرہن کی نماز میں سورة المعارج کی تلاوت کی۔
(۸۴۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إبْرَاہِیمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنِ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ قَرَأَ فِی کُسُوفٍ : {سَأَلَ سَائِلٌ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٨٤١٣) حضرت عبداللہ بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ نے چاند گرہن کی نماز ہمیں رمضان کی نماز کی طرح پڑھائی اور سورة یس سے تلاوت شروع کی۔
(۸۴۱۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عِیسَی ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی حِینَ انْکَسَفَ الْقَمَرُ مِثْلَ صَلاَتِنَا ہَذِہِ فِی رَمَضَانَ ، قَالَ وَقَرَأَ أَوَّلَ شَیْئٍ قَرَأَ {یس وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ} ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے ؟
(٨٤١٤) حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدا لعزیز نے ہمیں شام کے زلزلے کے بارے میں خط لکھا کہ فلاں مہینے دوسری تاریخ کو باہر نکلو اور جو تم میں سے صدقہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ صدقہ کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ترجمہ) وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے پاکی حاصل کی اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔
(۸۴۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : کَتَبَ إلَیْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی زَلْزَلَۃٍ کَانَتْ بِالشَّامِ ، أَنِ اخْرُجُوا یَوْمَ الإِثْنَیْنِ مِنْ شَہْرِ کَذَا وَکَذَا وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یُخْرِجَ صَدَقَۃً فَلْیَفْعَلْ فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَالَ : {قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کی جائے گی یا آہستہ آواز سے ؟
(٨٤١٥) حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گرہن کی نماز پڑھائی اور ہمیں آپ کی آواز نہیں سنائی دی۔
(۸۴۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ عِبَادٍ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی کُسُوفٍ ، وَلاَ نَسْمَعُ لَہُ صَوْتًا۔ (ترمذی ۵۶۲۔ نسائی ۱۸۸۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورج گرہن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کی جائے گی یا آہستہ آواز سے ؟
(٨٤١٦) حضرت حنش کنانی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے سورج گرہن کی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کی۔
(۸۴۱۶) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ حَنَشٍ الْکِنَانِیِّ : أَنَّ عَلِیًّا جَہَرَ بِالْقِرَائَۃِ فِی الْکُسُوفِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عصر کے بعد سورج گرہن ہو تو نماز پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
(٨٤١٧) حضرت عطاء فرماتے ہی کہ اگر عصر یا فجر کے بعد سورج گرہن ہو تو لوگ کھڑے ہو کر اللہ کا ذکر کریں گے، نماز نہیں پڑھیں گے۔
(۸۴۱۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ الْکُسُوفُ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ قَامُوا فَذَکَرُوا رَبَّہُمْ ، وَلاَ یُصَلُّونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر عصر کے بعد سورج گرہن ہو تو نماز پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
(٨٤١٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر ایسے وقت میں سورج گرہن ہو جس میں نماز حلال نہیں، تو وہ دعا مانگیں گے۔
(۸۴۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی وَقْتٍ لاَ تَحِلُّ فِیہِ الصَّلاَۃ ، قَالَ : یَدْعُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪১৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زلزلے کی نماز کا بیان
(٨٤١٩) حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے لوگوں کو زلزلہ کی نماز پڑھائی جس میں انھوں نے چار سجدے کئے اور چھ رکوع کئے۔
(۸۴۱۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّی بِہِمْ فِی زَلْزَلَۃٍ کَانَتْ أَرْبَعَ سَجَدَاتٍ رَکَعَ فِیہَا سِتًّا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زلزلے کی نماز کا بیان
(٨٤٢٠) حضرت شہر فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں مدینے میں ایک مرتبہ زلزلہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا رب تمہیں خیر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے لہٰذا تم خیر کی طرف لگ جاؤ۔
(۸۴۲۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ شَہْرٍ ، قَالَ : زُلْزِلَتِ الْمَدِینَۃُ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إنَّ رَبَّکُمْ یَسْتَعْتِبُکُمْ فَأَعْتِبُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زلزلے کی نماز کا بیان
(٨٤٢١) حضرت صفیہ بنت ابی عبید فرماتی ہیں کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک مرتبہ اتنا زلزلہ آیا کہ چارپائیاں ہلنے لگیں، حضرت عبداللہ بن عمر اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انھیں اس زلزلہ کا بالکل احساس نہیں ہوا۔ اس موقع پر حضرت عمر نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تم نے دین میں نئی نئی باتیں پیدا کی ہیں اور تم نے بہت جلدی کی ہے۔ حضرت صفیہ فرماتی ہیں کہ میرے علم کے مطابق انھوں نے اس کے بعد صرف اتنا فرمایا کہ اگر دوبارہ زلزلہ آیا تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا۔
(۸۴۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِیَّۃَ ابْنَۃِ أَبِی عُبَیْدٍ ، قَالَت : زُلْزِلَتِ الأَرْضُ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ حَتَّی اصْطَفَقَتِ السُّرُرُ فَوَافَقَ ذَلِکَ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ وَہُوَ یُصَلِّی فَلَمْ یَدْرِ ، قَالَت : فَخَطَبَ عُمَرُ لِلنَّاسِ فَقَالَ : أَحدَثْتُم لَقَدْ عَجِلْتُمْ ، قَالَت : وَلاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ قَالَ : لَئِنْ عَادَتْ لأَخْرُجَنَّ مِنْ بَیْنِ ظَہْرَانِیکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٢) حضرت اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک امیر نے حضرت ابن عباس کی طرف بھیجا کہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں سوال کروں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس نے مجھ سے خود اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا۔ پھر انھوں نے فرمایا کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تواضع کے ساتھ، بغیر زینت اختیار فرمائے، خشوع وتضرع کے ساتھ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے تشریف لائے اور آپ نے اس طرح نماز پڑھائی جس طرح آپ عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے، لیکن اس میں خطبہ نہ دیا۔
(۸۴۲۲) وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ کِنَانَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَرْسَلَنِی أَمِیرٌ مِنَ الأُمَرَائِ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الاِسْتِسْقَائِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا مَنَعَہُ أَنْ یَسْأَلَنِی؟ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا مُتَبذِلاً مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَرَسِّلاً ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا یُصَلِّی فِی الْعِیدِ ، وَلَمْ یَخْطُبْ خُطْبَتَکُمْ ہَذِہِ۔ (ترمذی ۵۵۸۔ ابوداؤد ۱۱۶۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٣) حضرت حارثہ بن مضرب عبدی کہتے ہں ر کہ ہم حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ بارش کی دعا کرنے نکلے، انھوں نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے دو رکعتیں پڑھائیں۔
(۸۴۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ الْعَبْدِیِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبِی مُوسَی نَسْتَسْقِی فَصَلَّی بِنَا رَکْعَتَیْنِ بغَیْرِ أَذَانٍ وَلاَ إقَامَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٤) حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن یزید انصاری کے ساتھ بارش کی دعا کرنے نکلے، انھوں نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، حضرت زید بن ارقم بھی ان کے پیچھے تھے۔
(۸۴۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیِّ نَسْتَسْقِی ، فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَخَلْفَہُ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٥) حضرت محمد بن ہلال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدا لعزیز کے ساتھ بارش کی دعا میں شرکت کی، انھوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھی اور چادر کو پلٹ کر بارش کے لیے دعا مانگی۔
(۸۴۲۵) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ہِلاَلٍ : أَنَّہُ شَہِدَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی الاِسْتِسْقَائِ بَدَأَ بِالصَّلاَۃ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، قَالَ : وَرَأَیْتُہُ اسْتَسْقَی فَحَوَّلَ رِدَائَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: