মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮৪২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٦) حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بارش کی دعا کے لیے گیا۔ آپ نے قبلے کی طرف رخ کیا اور اپنی پشت کو لوگوں کی طرف کیا، اپنی چادر کو پلٹا اور دو رکعت نماز پڑھائی جس میں اونچی آواز سے قراءت فرمائی۔
(۸۴۲۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ ، عَنْ عَمِّہِ ، قَالَ : شَہِدْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ یَسْتَسْقِی ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، وَوَلَّی ظَہْرَہُ الناس ، وَحَوَّلَ رِدَائَہُ ، وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، وَجَہَرَ بِالْقِرَائَۃِ۔ (بخاری ۱۰۲۵۔ ابوداؤد ۱۱۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٧) حضرت عبداللہ بن زید فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بارش کی دعا کے لیے عید گاہ کی طرف گیا، جب آپ نے دعا کی قبلہ کی طرف رخ کیا اور اپنی چادر کو پلٹ لیا۔
(۸۴۲۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی الْمُصَلَّی یَسْتَسْقِی ، فَلَمَّا دَعَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَحَوَّلَ رِدَائَہُ۔ (بخاری ۱۰۲۸۔ مسلم ۶۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوحضرات استسقاء کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٨) حضرت ابو مروان اسلمی کہتے ہیں کہ ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ بارش کی دعا کرنے نکلے، انھوں نے صرف استغفار کی دعا کی۔
(۸۴۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِیسَی بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَرْوَانَ الأَسْلَمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نَسْتَسْقِی فَمَا زَادَ عَلَی الاِسْتِغْفار۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوحضرات استسقاء کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٨٤٢٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب بارش کی دعا کے لیے نکلے اور آپ نے منبر پر چڑھ کر یہ آیات پڑھیں (ترجمہ) اپنے رب سے استغفار کرو، سورة نوح ١٠ سے ١٢ پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ لوگوں نے کہا کہ اے امیر المؤمنین اگر آپ بارش کے لیے دعا کرتے تو اچھا ہوتا ! حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے اسے اس جگہ سے طلب کیا جہاں سے بارش برستی ہے۔
(۸۴۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ یَسْتَسْقِی فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : {اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ أَنَّہَارًا} ، {اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ أَنَّہُ کَانَ غَفَّارًا} ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوِ اسْتَسْقَیْتَ ، فَقَالَ : لَقَدْ طَلَبْتُہُ بِمَجَادِیحِ السَّمَائِ الَّتِی یُسْتَنْزَلُ بِہَا الْقَطَرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوحضرات استسقاء کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٨٤٣٠) حضرت اسلم عجلی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک مرتبہ بارش کی دعا کرنے نکلے، حضرت ابراہیم بھی ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو نماز پڑھنے لگے۔ حضرت ابراہیم نے ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھی بلکہ واپس آگئے۔
(۸۴۳۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِیّ ، قَالَ : خَرَجَ أناسُ مَرَّۃً یَسْتَسْقُونَ وَخَرَجَ إبْرَاہِیمُ مَعَہُمْ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَامُوا یُصَلُّونَ فَرَجَعَ إبْرَاہِیمُ ، وَلَمْ یُصَلِّ مَعَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوحضرات استسقاء کی نماز نہ پڑھا کرتے تھے
(٨٤٣١) حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ، حضرت مغیرہ بن عبداللہ ثقفی کے ساتھ بارش کی دعا کرنے نکلے۔ حضرت مغیرہ نماز پڑھنے لگے تو حضرت ابراہیم انھیں نماز پڑھتا دیکھ کر واپس آگئے۔
(۸۴۳۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ : أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ یَسْتَسْقِی ، قَالَ : فَصَلَّی الْمُغِیرَۃُ فَرَجَعَ إبْرَاہِیمُ حَیْثُ رَآہُ صَلَّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٢) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا لمبے قیام والی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ یُونُسَ ، قَالَ : حدَّثَنَا بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ رَحِمَہُ اللَّہُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ قَالَ :

(۸۴۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیُّ الصَّلاَۃ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : طُولُ الْقُنُوتِ۔ (مسلم ۵۲۰۔ ابن ماجہ ۱۴۲۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٣) ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں مبارک ورم آلود ہوجاتے، آپ سے کسی نے اس بارے میں کمی کرنے کو کہا تو آپ نے فرمایا کہ کیا مں، اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
(۸۴۳۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أنَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُومُ فِی الصَّلاَۃ حَتَّی تَرِمَ قَدَمَاہُ فَقِیلَ لَہُ ، فَقَالَ : أَلاَ أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٤) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۸۴۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْیَانَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہُ۔ (بخاری ۴۸۳۶۔ مسلم ۷۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ لمبا قیام مجھے رکوع و سجود کی کثرت سے زیادہ پسند ہے۔
(۸۴۳۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : طُولُ الْقِیَامِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ کَثْرَۃِ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٦) حضرت حجاج بن حسان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مجلز سے تہجد کی نماز کے بارے میں سوال کیا کہ لمبی قراءت آپ کو زیادہ پسند ہے یا زیادہ رکوع و سجود ؟ انھوں نے فرمایا لمبی قراءت مجھے زیادہ پسند ہے۔
(۸۴۳۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : سَمِعت أَبَا مِجْلَزٍ ، أَو سَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ عَنْ صَلاَۃِ اللَّیْلِ أَطُولُ الْقِرَائَۃِ أَحَبُّ إلَیْک ، أَوْ کَثْرَۃُ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ ؟ فَقَالَ : لاَ بَلْ طُولُ الْقِرَائَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٧) حضرت یحییٰ بن رافع فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نماز میں لیب قراءت نہ کرو ورنہ شیطان تمہیں فتنے میں ڈال دے گا۔
(۸۴۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : کَانَ یُقَالُ : لاَ تُطِیلُ الْقِرَائَۃَ فِی الصَّلاَۃ فَیَعْرِضُ لَکَ الشَّیْطَانُ فَیَفْتِنُکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٨) حضرت سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابو ذر کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ ابو ذر کہاں ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ہیں۔ میں ان کے پاس آیا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ قیام کو مختصر رکھتے اور رکوع و سجود زیادہ کررہے تھے۔ جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو میں نے عرض کیا اے ابو ذر ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نماز میں قیام کو مختصر رکھتے اور رکوع و سجود زیادہ کرتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے ایک درجہ کو بڑھا دیتے ہیں اور اس سے ایک گناہ کو کم کردیتے ہیں۔
(۸۴۳۸) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، قَالَ : حدَّثَنی أنَّ رَجُلاً أَتَی إلَی أَبِی ذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ فَقَالَ : أَیْنَ أَبُو ذَرٍّ ؟ فَقَالُوا : ہُوَ فِی سَفْحِ ذَلِکَ الْجَبَلِ فِی غُنَیمَۃ لَہُ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ فَإِذَا ہُوَ یُصَلِّی وَإِذَا ہُوَ یُقِلُّ الْقِیَامَ وَیُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّی قُلْتُ : یَا أَبَا ذَرٍّ رَأَیْتُک تُصَلِّی تُقِلُّ الْقِیَامَ وَتُکْثِرُ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَقَالَ : إنِّی حُدِّثْتُ أَنَّہُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَسْجُدُ لِلَّہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ بِہَا دَرَجَۃً وَکَفَّرَ عَنْہُ بِہَا خَطِیئَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٣٩) حضرت ابو مصعب اسلمی کہتے ہیں کہ اسلم کا ایک غلام نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے یا مجھے آپ کی شفاعت نصیب کردے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، تم زیادہ سجدوں کے ذریعے میری مدد کرو۔
(۸۴۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِی مُصْعَبٍ الأَسْلَمِیِّ ؛ أَنَّ غُلاَمًا مِنْ أَسْلَمَ کَانَ یَخْدُمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَفَّ لَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ اُدْعُ اللَّہَ لِی أَنْ یُدْخِلَنِی الْجَنَّۃَ ، أَوْ یَجْعَلَنِی فِی شَفَاعَتِکَ ، قَالَ: نَعَمْ، وَأَعِنِّی بِکَثْرَۃِ السُّجُودِ۔ (مسلم ۲۲۶۔ ابوداؤد ۱۳۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٤٠) حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق اتنی لمبی نماز پڑھتے تھے کہ ان کے پیچھے ان کی اہلیہ بیٹھ کر رونے لگتی تھیں۔
(۸۴۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ : أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی حَتَّی تَجْلِسَ امْرَأَتُہُ تَبْکِی خَلْفَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٤١) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب تک تم نماز میں ہوتے ہو تو تم بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہو اور جو زیادہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اس کے لیے کھول ہی دیا جاتا ہے۔
(۸۴۴۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَسُفْیَانَ ، عَنْ زُبَیْدٍ ، عَنْ مُرَّۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : إنَّک مَا دُمْت فِی صَلاَۃٍ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِکِ وَمَنْ یُکْثِرُ قَرْعَ بَابِ الْمَلِکِ یُوشِکُ أَنْ یُفْتَحَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٤٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ لمبا قیام رکوع و سجود سے افضل ہے۔
(۸۴۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ رَبِیعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : طُولُ الْقِیَامِ فِی الصَّلاَۃ أَفْضَلُ مِنَ الرُّکُوعِ وَالسُّجُودِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام ؟
(٨٤٤٣) حضرت حارث بن قیس فرماتے ہیں کہ جب تم کسی بھلائی کا ارادہ کرلو تو اسے جلدی سے کر گذرو، جب تمہارے پاس شیطان آئے اور کہے کہ تو تو ریا کار ہے۔ اس صورت میں تم قیام کو اور لمبا کردو۔
(۸۴۴۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ خَیْثَمَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : إذَا ہَمَمْتَ بِخَیْرٍ فَعَجِّلْہُ ، وَإِذَا أَتَاکَ الشَّیْطَانُ فَقَالَ : إنَّکَ تُرَائِی فَزِدْہَا طُولاً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے نماز میں کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٨٤٤٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے نما زمین کچھ کھالیا یا پی لیا تو وہ دوبارہ نماز پڑھے۔
(۸۴۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ إبْرَاہِیمَ، قَالَ: إذَا أَکَلَ أَوْ شَرِبَ فِی الصَّلاَۃ اسْتَقْبَلَ الصَّلاَۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک آدمی نے نماز میں کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٨٤٤٥) حضرت طاوس سے نماز میں پینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ جائز نہیں۔
(۸۴۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ أَبَانَ الْعَطَّارِ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : سُئِلَ طَاوُوس عَنِ الشُّرْبِ فِی الصَّلاَۃ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক: