মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৮৫৪৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں آواز بلند کرنے کا بیان
(٨٥٤٦) حضرت ابن عمر دعا میں آواز اونچی کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تم کسی بہرے یا دور والے کو نہیں پکار رہے۔
(۸۵۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إنَّکُمْ لاَ تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلاَ غَائِبًا ، یَعْنِی فِی رَفْعِ الصَّوْتِ بِالدُّعَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں آواز بلند کرنے کا بیان
(٨٥٤٧) حضرت انس اور حضرت حسن نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی کی دعا اس کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص سن سکے۔
(۸۵۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الرَّبِیعِ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ۔ وَعَنْ رَبِیعٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُسْمِعَ الرَّجُلُ جَلِیسَہُ شَیْئًا مِنَ الدُّعَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں آواز بلند کرنے کا بیان
(٨٥٤٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اسلاف خوب دعا کیا کرتے تھے لیکن ان کی آواز کی صرف بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی۔
(۸۵۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُبَارَکٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانُوا یَجْتَہِدُونَ فِی الدُّعَائِ ، وَلاَ تَسْمَعُ إِلاَّ ہَمْسًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں آواز بلند کرنے کا بیان
(٨٥٤٩) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک کو جان لینا چاہیے کہ وہ کس سے مناجات کررہا ہے، لہٰذا نماز میں آپس کی باہمی گفتگو کی طرح آواز اونچی نہ کرو۔
(۸۵۴۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ صَدَقَۃَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنَّ الْمُصَلِّیَ إذَا صَلَّی یُنَاجِی رَبَّہُ فَلْیَعْلَمْ أَحَدُکُمْ بِمَا یُنَاجِیہِ ، وَلاَ یَجْہَرْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَعْضٍ۔ (احمد ۲/۶۷۔ بزار ۷۲۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں آواز بلند کرنے کا بیان
(٨٥٥٠) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، لوگ اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنی جانوں کے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا دور والے کو نہیں بلکہ سننے والے اور قریب والے کو پکار رہے ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔
(۸۵۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَجْہَرُونَ بِالتَّکْبِیرِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّہَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ إِنَّکم لَیْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلاَ غَائِبًا إنَّکُمْ تَدْعُونَ سَمِیعًا قَرِیبًا وَہُوَ مَعَکُمْ۔ (بخاری ۲۹۹۲۔ ابوداؤد ۱۵۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعا میں آواز بلند کرنے کا بیان
(٨٥٥١) حضرت عبداللہ بن نسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، جب میں دوسری رکعت میں بیٹھا تو میں نے دعا میں آواز کو بلند کیا، انھوں نے مجھے اس پر جھڑکا۔ جب میں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے ان سے کہا کہ میرا کون سا عمل آپ کو ناپسند ہوا ؟ انھوں نے فرمایا کہ تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قریب نہیں ہے ؟
(۸۵۵۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُسَیْبٍ قَالَ : صَلَّیْتُ إلَی جَنْبِ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ الْمَغْرِبَ ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیۃ رَفَعْتُ صَوْتِی بِالدُّعَائِ فَانْتَہَرَنِی ، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ قُلْتُ لَہُ : مَا کَرِہْتَ مِنِّی؟ قَالَ : ظَنَنْتَ أَنَّ اللَّہَ لَیْسَ بِقَرِیبٍ مِنْکَ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وقت میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے ؟
(٨٥٥٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان دعا قبول ہوتی ہے۔
(۸۵۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ زَیْدٍ الْعَمِّیِّ ، عَنْ أَبِی إیَاسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الدُّعَائُ بَیْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَۃِ لاَ یُرَدُّ۔ (ترمذی ۲۱۲۔ احمد ۳/۱۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وقت میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے ؟
(٨٥٥٣) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ سب سے افضل ساعات نمازوں کے اوقات ہیں ان میں اللہ سے دعا کرو۔
(۸۵۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِی مُرَارَۃَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : أَفْضَلُ السَّاعَاتِ مَوَاقِیتُ الصَّلَوَاتِ فَادْعُوا فِیہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وقت میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے ؟
(٨٥٥٤) حضرت ابن عمر مغرب کی اذان کے وقت دعا کو مستحب قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
(۸۵۵۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَ یُسْتَحَبُّ الدُّعَائُ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ ، وَقَالَ : إِنَّہَا سَاعَۃٌ یُسْتَجَابُ فِیہَا الدُّعَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٥٥) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب امام قعدہ اخیرہ میں بیٹھے اور اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی اور ان لوگوں کی نما زبھی ہوگئی جنہوں نے اس کے ساتھ نما زپڑھی۔
(۸۵۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِیَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا جَلَسَ الإِمَام ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُہُ وَمَنْ کَانَ خَلْفَہُ مِمَّنْ أَدْرَکَ مَعَہُ الصَّلاَۃ عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ۔ (ترمذی ۴۰۸۔ ابوداؤد ۶۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٥٦) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب امام قعدہ اخیرہ میں بیٹھے اور اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی نماز ہوگئی اور وہ جب چاہے کھڑا ہوجائے۔
(۸۵۵۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا جَلَسَ الإِمَام فِی الرَّابِعَۃِ ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُہُ فَلْیَقُمْ حَیْثُ شَائَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٥٧) حضرت عین فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کی نکسیر قعدہ اخیرہ میں پھوٹ جائے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی۔
(۸۵۵۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْکُوفِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا رَعَفَ فِی صَلاَتہِ بَعْدَ السَجْدَۃِ الآخِرَۃِ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٥٨) حضرت سعید بن مسیب اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر آخری سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد کسی کا وضو ٹوٹ گیا تو اس کی نما زمکمل ہوگئی۔
(۸۵۵۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَالْحَسَنِ ، قَالاَ : إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ أَجْزَأَتْہُ صَلاَتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٥٩) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے آخری سجدے سے سر اٹھایا اور اس کا وضو ٹوٹ گیا تو اس کی نماز ہوگئی۔
(۸۵۵۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السَّجْدَۃِ فَقَدْ مَضَتْ صَلاَتُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٦٠) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جب نماز پوری کرنے کے بعد کسی آدمی کا وضو ٹوٹ گیا ، خواہ تشہد پڑھنے سے پہلے یا بعد میں ہو یا امام کے سلام پھیرنے سے بھی پہلے ہو تو اس کی نماز ہوگئی اب وہ چاہے تو نماز سے نکل جائے۔
(۸۵۶۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ جُوَیْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : إذَا جَلَسَ بَعْدَ تَمَامِ الصَّلاَۃ فَأَحْدَثَ قبْلَ أَنْ یَتَشَہَّدَ أَوْ بَعْدَ التَّشَہُّدِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ الإِمَام ، فَقَدْ جَازَتْ وَلْیَنْصَرِفْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی آدمی کا قعدہ اخیرہ میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا نماز ہوجائے گی ؟
(٨٥٦١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے رکوع و سجود کو پورا کرلیا، پھر اس کا وضو ٹوٹ گیا تو اس کی نماز مکمل ہوگئی، خواہ اس نے تشہد نہ پڑھی ہو۔
(۸۵۶۱) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا أَتَمَّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدِ انْقَضَتْ صَلاَتُہُ وَإِنْ لَمْ یَتَشَہَّدْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تشہد یا قعدہ اخیرہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی
(٨٥٦٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر آخری سجدہ کرنے کے بعد کسی کی نکسیر پھوٹ گئی تو وہ جائے اور وضو کرکے آئے، پھر آکر اگر اس نے کسی سے بات نہ کی ہو تو تشہد پڑھے اور اگر کسی سے بات کرلی تو دوبارہ نماز پڑھے۔
(۸۵۶۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إذَا رَعَفَ بَعْدَ مَا یَفْرُغُ مِنَ السَّجْدَۃِ الأَخِرَۃِ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّأْ وَلْیَرْجِعْ فَلْیَتَشَہَّدْ مَا لَمْ یَتَکَلَّمْ ، فَإِنْ تَکَلَّمَ اسْتَأْنَفَ الصَّلاَۃ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تشہد یا قعدہ اخیرہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی
(٨٥٦٣) حضرت عطاء بھی یونہی فرماتے ہیں۔
(۸۵۶۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ مِثْلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تشہد یا قعدہ اخیرہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی
(٨٥٦٤) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر سلام پھیرنے سے پہلے وضو ٹوٹ گیا تو نماز مکمل نہیں ہوئی۔
(۸۵۶۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یُونُسُ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : حَتَّی یُسَلِّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک تشہد یا قعدہ اخیرہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی
(٨٥٦٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر تشہد میں ” السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ “ کہنے کے بعد وضو ٹوٹا تو اس کی نماز ہوگئی۔
(۸۵۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَطَائٍ : فِی الرَّجُلِ یُحْدِثُ ، قَالَ : إذَا قَالَ : السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِینَ أَجْزَأَہُ۔
tahqiq

তাহকীক: