মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৫৪২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٢٦) حضرت کلثوم بن جبر فرماتے ہیں کہ حضرت مسلم بن یسار نے مجھ سے فرمایا کہ جمعہ کے دن جب تم دیکھو کہ دن آدھا ہوگیا ہے تو کوئی چیز نہ بیچو۔
(۵۴۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ کُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ، قَالَ : قَالَ لِی مُسْلِمُ بْنُ یَسَارٍ : إِِذَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّہَارَ قَدِ انْتَصَفَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلاَ تَبْتَاعَنَّ شَیْئًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٢٧) حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو خریدوفروخت سے منع کرتے تھے۔
(۵۴۲۷) حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ یَمْنَعُ النَّاسَ الْبَیْعَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِذَا نُودِیَ بِالصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٢٨) حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب سورج زائل ہوجائے تو خریدو فروخت حرام ہوجاتی ہے جب تک نماز ادا نہ کرلی جائے۔
(۵۴۲۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جُوَیْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ، فَقَدْ حَرُمَ الْبَیْعُ وَالشِّرَائُ ، حَتَّی تُقْضَی الصَّلاَۃ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٢٩) حضرت عطاء اور حضرت حسن بھی یونہی فرماتے ہیں۔
(۵۴۲۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَائٍ (ح) وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٣٠) حضرت ابو مقدام مولیٰ قریش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت قاسم بن محمد نے جمعہ کے دن ایک آدمی سے کوئی چیز خریدی۔ پھر بعد میں اس سے ملاقات ہوئی تو اسے فرمایا کہ میری اس بیع کو ختم کردو کیونکہ میں نے انجانے میں وہ چیز زوال شمس کے بعد خریدی تھی۔
(۵۴۳۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْمِقْدَامِ مَوْلَی لِقُرَیْشٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ؛ أَنَّہُ اشْتَرَی مِنْ رَجُلٍ شَیْئًا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَلَقِیَہُ بَعْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : تَارِکْنِی الْبَیْعَ ، فَإِنِّی أَحْسَبُنِی اشْتَرَیْتُ مِنْکَ مَا اشْتَرَیْتُ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٣١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے جمعہ کے دن زوال شمس کے بعد بیع کی اس کی بیع مردود ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی اذان کے بعد بیع سے منع کیا ہے۔
(۵۴۳۱) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ، عَنْ مُجَاہِدٍ، أَوْ غَیْرِہِ، قَالَ: مَنْ بَاعَ شَیْئًا بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَإِنَّ بَیْعَہُ مَرْدُودٌ ، لأَنَّ اللَّہَ نَہَی عَنِ الْبَیْعِ إِذَا نُودِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ۔ شَکَّ سُفْیَانُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٣٢) حضرت برد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے عرض کیا کہ جمعہ کے دن خریدو فروخت کب ممنوع ہوتی ہیں ؟ انھوں نے فرمایا کہ پہلے اذان امام کے نکلنے کے وقت ہوتی تھی۔ پھر حضرت عثمان نے ایک تیسری اذان کا اضافہ کیا، جس کے بعد لوگوں کو جمع کرنے کے لیے منارہ پر اذان دی جانے لگی تاکہ لوگ جمع ہوجائیں۔ میرے خیال کے مطابق اس وقت خریدو فروخت کو ترک کردینا چاہیے۔
(۵۴۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ بُرْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلزُّہْرِیِّ : مَتَی یَحْرُمُ الْبَیْعُ وَالشِّرَائُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ؟ فَقَالَ : کَانَ الأَذَانُ عِنْدَ خُرُوجِ الإِمَامِ ، فَأَحْدَثَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانُ التَّأْذِینَۃَ الثَّالِثَۃَ ، فَأَذَّنَ عَلَی الزَّوْرَائِ لِیَجْتَمِعَ النَّاسُ ، فَأَرَی أَنْ یُتْرَکَ الْبَیْعُ وَالشِّرَائُ عِنْدَ التَّأْذِینَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٣٣) حضرت میمون فرماتے ہیں کہ اہل مدینہ کا معمول یہ تھا کہ جب جمعہ کے دن مؤذن اذان دے دیتا تو لوگ بازاروں میں اعلان کیا کرتے تھے کہ بیع حرام ہوگئی، بیع حرام ہوگئی۔
(۵۴۳۳) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : کَانَ بِالْمَدِینَۃِ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یُنَادُونَ فِی الأَسْوَاقِ : حَرُمَ الْبَیْعُ ، حَرُمَ الْبَیْعُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن وہ کون سا وقت ہے جس میں خرید وفروخت ممنوع ہے ؟
(٥٤٣٤) حضرت شعبی جمعہ کی ساعت قبولیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ بیع کے حرام ہونے سے حلال ہونے کا درمیانی وقت ہے۔
(۵۴۳۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ فِی السَّاعَۃِ الَّتِی تُرْجَی فِی الْجُمُعَۃِ ، قَالَ : فِیمَا بَیْنَ أَنْ یَحْرُمَ الْبَیْعُ إِلَی أَنْ یَحِلَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص جمعہ کے لیے چلے لیکن لوگوں کو جمعہ پڑھ کر واپس آتے دیکھے تو جاتا رہے یا واپس مڑ جائے ؟
(٥٤٣٥) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ایک مرتبہ جمعہ کے لیے چلے، لیکن آگے دیکھا کہ لوگ واپس آرہے ہیں تو وہ کسی مسجد یا کسی گھر کی طرف مڑ گئے۔ حضرت زید کی اس بات پر کسی نے اشکال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جو لوگوں سے حیا نہیں کرتا وہ اللہ سے بھی حیا نہیں کرتا۔
(۵۴۳۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ؛ أَنَّہُ رَاحَ إِلَی الْجُمُعَۃِ ، فَإِذَا النَّاسُ قَدِ اسْتَقْبَلُوہُ وَقَدْ صَلَّوْا ، قَالَ : فَمَالَ إِلَی مَسْجِدٍ ، أَوْ إِلَی دَارٍ فَصَلَّی ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : إِنَّہُ مَنْ لاَ یَسْتَحْیِی مِنَ النَّاسِ ، لاَ یَسْتَحْیِی مِنَ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص جمعہ کے لیے چلے لیکن لوگوں کو جمعہ پڑھ کر واپس آتے دیکھے تو جاتا رہے یا واپس مڑ جائے ؟
(٥٤٣٦) حضرت ابن سیرین فرمایا کرتے تھے کہ جب لوگ تمہیں جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس جاتے ہوئے ملیں تو تم پھر بھی مسجد کی طرف چلے جاؤ۔ پھر اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ امام نے کون سی سورتوں کی قراءت کی تھی تو تم بھی انہی سورتوں کی تلاوت کرو۔
(۵۴۳۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَحَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إِذَا اسْتَقْبَلَکَ النَّاسُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ صَلَّوْا ، فَامْضِ إِلَی الْمَسْجِدِ ، فَإِنْ عَلِمْتَ مَا قَرَأَ بِہِ الإِمَامُ ، فَاقْرَأْ بِہِ وَصَلِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص جمعہ کے لیے چلے لیکن لوگوں کو جمعہ پڑھ کر واپس آتے دیکھے تو جاتا رہے یا واپس مڑ جائے ؟
(٥٤٣٧) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ایک مرتبہ جمعہ کے لیے چلے، لیکن آگے دیکھا کہ لوگ واپس آرہے ہیں تو وہ کسی گھر کی طرف مڑ گئے۔ حضرت زید کی اس بات پر کسی نے اشکال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جو لوگوں سے حیا نہیں کرتا وہ اللہ سے بھی حیا نہیں کرتا۔ حضرت حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ وہ نماز کے لیے چلتا جائے۔
(۵۴۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ؛ أَنَّ زَیْدَ بْنِ ثَابِتٍ لَقِیَ النَّاسَ رَاجِعِینَ مِنَ الْجُمُعَۃِ ، فَمَالَ إِلَی دَارٍ ، فَقِیلَ لَہُ ؟ فَقَالَ : مَنْ لاَ یَسْتَحْیِی مِنَ النَّاسِ ، لاَ یَسْتَحْیِی مِنَ اللہِ ۔ قَالَ : وَقَالَ الْحَسَنُ ، وَابْنُ سِیرِینَ : یَمْضِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
(٥٤٣٨) حضرت موسیٰ بن مسلم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت ابراہیم تیمی، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت زر اور حضرت سلمہ بن کہیل کے ساتھ تھا۔ حضرت زر اور حضرت تیمی نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا تو انھوں نے جمعہ کی چار رکعتیں اسی جگہ پڑھ لیں وہ (ظالم حجاج بن یوسف) کے خوف سے چھپے ہوئے تھے۔
(۵۴۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : شَہِدْتُ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیَّ ، وَإِبْرَاہِیمَ النَّخَعِیّ ، وَزِرًّا ، وَسَلَمَۃَ بْنَ کُہَیْلٍ ، فَذَکَّرَ زِرٌّ ، وَالتَّیْمِیُّ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ ، ثُمَّ صَلَّوُا الْجُمُعَۃَ أَرْبَعًا فِی مَکَانِہِمْ ، وَکَانُوا خَائِفِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
(٥٤٣٩) حضرت افلح فرماتے ہیں کہ ہم مقام روحاء میں تھے کہ مؤذن نے اذان دی۔ جب ہم پہنچے تو لوگ نماز پڑھ چکے تھے۔ حضرت قاسم نے اپنی نماز پڑھی اور جمعہ نہیں پڑھا۔
(۵۴۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَفْلَحَ ، قَالَ : أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ وَنَحْنُ بِالرَّوْحَائِ فِی یَوْمِ جُمُعَۃٍ ، فَجِئْنَا وَقَدْ صَلَّوْا ، فَصَلَّی الْقَاسِمُ وَلَمْ یُجَمِّعْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
(٥٤٤٠) حضرت حسن ان لوگوں کے بارے میں جن کی جمعہ کی نماز فوت ہوجائے فرماتے ہیں کہ وہ علیحدہ علیحدہ نماز پڑھیں گے۔
(۵۴۴۰) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی قَوْمٍ فَاتَتْہُمُ الْجُمُعَۃُ ، قَالَ : یُصَلُّونَ شَتَّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
(٥٤٤١) حضرت علی فرماتے ہیں جمعہ کی نماز کی جماعت امام کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
(۵۴۴۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِیدِ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: لاَ جَمَاعَۃَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ إِلاَّ مَعَ الإِمَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
(٥٤٤٢) حضرت جمیل بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت ایاس بن معاویہ جن دنوں بصرہ کے قاضی تھے، وہ جمعہ کے لیے آئے تو دیکھا کہ نماز ہوچکی ہے۔ انھوں نے ہمیں ظہر کی چار رکعات پڑھائیں۔
(۵۴۴۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَمِیلُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّائِیُّ ، قَالَ : رَأَیْتُ إِیَاسَ بْنَ مُعَاوِیَۃَ ، وَہُوَ یَوْمئِذٍ قَاضِی الْبَصْرَۃِ ، جَائَ إِلَی الْجُمُعَۃِ وَفَاتَتْہُ ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی بِنَا الظُّہْرَ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کچھ لوگوں کو جمعہ کی نماز نہ مل سکی تو اب وہ جمعہ پڑھیں گے یا ظہر کی نماز ؟
(٥٤٤٣) حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت زر جمعہ کے دن مسجد آئے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھ چکے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اکٹھے نماز پڑھ لی۔
(۵۴۴۳) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ : أَتَیْتُ الْمَسْجِدَ أَنَا وَزِرٌّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَوَجَدْنَاہُمْ قَدْ صَلَّوْا ، فَصَلَّیْنَا جَمِیعًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوحضرات جمعہ کی حاضری کی بھرپور ترغیب دیتے ہیں اور اس میں رخصت کے قائل نہیں
(٥٤٤٤) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جمعہ کے لیے آنا ہوگا خواہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے۔
(۵۴۴۴) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ مُخْتَارٍ أَبِی غَسَّانَ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ الْجَنْبِیِّ، قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: تُؤْتَی الْجُمُعَۃُ وَلَوْ حَبْوًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوحضرات جمعہ کی حاضری کی بھرپور ترغیب دیتے ہیں اور اس میں رخصت کے قائل نہیں
(٥٤٤٥) حضرت میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں میں نے جمعہ کے لیے جانے کا ارادہ کیا اور تیاری بھی کرلی۔ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ اس کے پیچھے کیا نماز پڑھوں ؟ پھر کبھی مجھے خیال آتا کہ چلا جاؤں اور کبھی خیال آتا کہ نہ جاؤں۔ چنانچہ میری آخری رائے یہ ٹھہری کہ نماز کے لیے چلا جاتا ہوں۔ اتنے میں مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ آواز آئی (ترجمہ) اے ایمان والو ! جب تم جمعہ کے دن نماز کی پکار سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خریدوفروخت کو چھوڑ دو ۔
اسی طرح ایک مرتبہ میں ایک خط لکھنے بیٹھا تو ایک بات ذہن میں آئی جو خلاف حقیقت تھی لیکن اس کے لکھنے سے میرا خط مزین ہوجاتا۔ چنانچہ کبھی تو دل میں آتا کہ جھوٹ لکھ کر خط کو مزین کردوں اور کبھی دل میں آتا کہ اس کو چھوڑ دوں اور خط کو سچ پر مشتمل رکھوں۔ بہرحال میری رائے اس کو چھوڑ دینے پر ٹھہری۔ اس پر مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ پکار سنائی دی (ترجمہ) اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں اور آخرت میں پختہ قول کے ذریعہ ثابت قدم رکھتا ہے۔
اسی طرح ایک مرتبہ میں ایک خط لکھنے بیٹھا تو ایک بات ذہن میں آئی جو خلاف حقیقت تھی لیکن اس کے لکھنے سے میرا خط مزین ہوجاتا۔ چنانچہ کبھی تو دل میں آتا کہ جھوٹ لکھ کر خط کو مزین کردوں اور کبھی دل میں آتا کہ اس کو چھوڑ دوں اور خط کو سچ پر مشتمل رکھوں۔ بہرحال میری رائے اس کو چھوڑ دینے پر ٹھہری۔ اس پر مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ پکار سنائی دی (ترجمہ) اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں اور آخرت میں پختہ قول کے ذریعہ ثابت قدم رکھتا ہے۔
(۵۴۴۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ ، قَالَ : أَرَدْتُ الْجُمُعَۃَ فِی زَمَنِ الْحَجَّاجِ ، فَتَہَیَّأْتُ لِلذَّہَابِ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَیْنَ أَذْہَبُ ، أُصَلِّی خَلْفَ ہَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ مَرَّۃً : أَذْہَبُ ، وَمَرَّۃً: لاَ أَذْہَبُ ، قَالَ : فَاجْتَمَعَ رَأْیِی عَلَی الذَّہَابِ ، قَالَ : فَنَادَانِی مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَیْتِ : { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِِذَا نُودِیَ لِلصَّلاَۃِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ، فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ } ۔
قَالَ : وَجَلَسْتُ مَرَّۃً أَکْتُبُ کِتَابًا ، فَعَرَضَ لِی شَیْئٌ ، إِنْ أَنَا کَتَبْتُہُ فِی کِتَابِی زَیَّنَ کِتَابِی ، وَکُنْتُ قَدْ کَذَبْتُ ، وَإِنْ أَنَا تَرَکْتُہُ کَانَ فِی کِتَابِی بَعْضُ الْقُبْحِ ، وَکُنْتُ قَدْ صَدَقْتُ ، فَقُلْتُ مَرَّۃً : أَکْتُبُہُ ، وَقُلْتُ مَرَّۃً : لاَ أَکْتُبُہُ ، قَالَ : فَاجْتَمَعَ رَأْیِی عَلَی تَرْکِہِ ، فَتَرَکْتُہُ ، قَالَ : فَنَادَانِی مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَیْتِ : { یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الآخِرَۃِ } ۔
قَالَ : وَجَلَسْتُ مَرَّۃً أَکْتُبُ کِتَابًا ، فَعَرَضَ لِی شَیْئٌ ، إِنْ أَنَا کَتَبْتُہُ فِی کِتَابِی زَیَّنَ کِتَابِی ، وَکُنْتُ قَدْ کَذَبْتُ ، وَإِنْ أَنَا تَرَکْتُہُ کَانَ فِی کِتَابِی بَعْضُ الْقُبْحِ ، وَکُنْتُ قَدْ صَدَقْتُ ، فَقُلْتُ مَرَّۃً : أَکْتُبُہُ ، وَقُلْتُ مَرَّۃً : لاَ أَکْتُبُہُ ، قَالَ : فَاجْتَمَعَ رَأْیِی عَلَی تَرْکِہِ ، فَتَرَکْتُہُ ، قَالَ : فَنَادَانِی مُنَادٍ مِنْ جَانِبِ الْبَیْتِ : { یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الآخِرَۃِ } ۔
তাহকীক: