মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৫৫২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٢٦) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ ایک امیر نے ایک مرتبہ خطبہ بہت لمبا کردیا تو میں نے اپنے ہاتھ کا پھوڑا پھاڑ دیا جس سے خون نکلنے لگا۔ میں اس بہانے سے اٹھا (تاکہ جاکر اپنی نماز پڑھ لوں) اتنے میں اس کے دربانوں نے مجھے پکڑ لیا۔ لیکن میں بھی پھر چلتا رہا اور باہر نکل گیا۔
(۵۵۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَطَالَ بَعْضُ الأُمَرَائِ الْخُطْبَۃَ ، فَأَنْکَیْتُ یَدَیَّ حَتَّی أَدْمَیْتُہَا ، ثُمَّ قُمْتُ وَأَخَذَتْیِح السِّیَاطُ ، فَمَضَیْتُ فَخَرَجْتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٢٧) حضرت عبد الواحد بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم نے ایک مرتبہ حضرت قاسم بن محمد کو بتایا کہ جب ہمارا امیر ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں جمعہ پڑھایا تو وہ اتنی دیر تقریر کرتا رہا اور خطوط پڑھتا رہا کہ جمعہ کا وقت نکل گیا لیکن اس نے نیچے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ یہ سن کر حضرت قاسم نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے کھڑے ہو کر اپنی نماز نہیں پڑھی ؟ سالم نے کہا نہیں، خدا کی قسم ! مجھے یہ ڈر تھا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر کی اولاد میں سے ایک آدمی نے یوں کیا ہے ؟ انھوں نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھی ؟ سالم نے کہا نہیں۔ حضرت قاسم نے پوچھا کہ آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ پھر حضرت سالم نے بتایا کہ وہ تقریر کرتا رہا اور خط پڑھتا رہا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت بھی گذر گیا لیکن اس نے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ حضرت قاسم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اٹھ کر نماز نہیں پڑھی ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انھوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ کیا آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انھوں نے کہا نہیں۔
(۵۵۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَوَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ سَبْرَۃَ ؛ أَنَّ سَالِمًا حَدَّثَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا الأَمِیرُ ، جَائَتِ الْجُمُعَۃُ ، فَجَمَّعَ بِنَا ، فَمَا زَالَ یَخْطُبُ وَیَقْرَأُ الْکُتُبَ حَتَّی مَضَی وَقْتُ الْجُمُعَۃِ ، وَلَمْ یَنْزِلْ یُصَلِّی ۔ فَقَالَ لَہُ الْقَاسِمُ : فَمَا قُمْتَ فَصَلَّیْتَ ؟ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ ، خَشِیتُ أَنْ یُقَالَ : رَجُلٌ مِنْ آلِ عُمَرَ ، قَالَ : فَمَا صَلَّیْتَ قَاعِدًا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَمَا أَوْمَأْتَ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : ثُمَّ مَا زَالَ یَخْطُبُ وَیَقْرَأُ حَتَّی مَضَی وَقْتُ الْعَصْرِ وَلَمْ یَنْزِلْ یُصَلِّی ، فَقَالَ لَہُ الْقَاسِمُ : فَمَا قُمْتَ صَلَّیْتَ ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَمَا صَلَّیْت قَاعِدًا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَمَا أَوْمَأْتَ ؟ قَالَ : لاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٢٨) حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ زہری فرماتے ہیں کہ حجاج نے جمعہ کو مؤخر کیا، جب اس نے نماز پڑھائی تو حضرت ابوجحیفہ نے اس کے ساتھ بھی نماز پڑھی اور پھر بعد میں دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر فرمایا اے ابوبکر ! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ عصر کی نماز ہے۔
(۵۵۲۸) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَۃَ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أَخَّرَ الْحَجَّاجُ الْجُمُعَۃَ ، فَلَمَّا صَلَّی صَلاَّہَا مَعَہُ أَبُو جُحَیْفَۃَ ، ثُمَّ قَامَ فَوَصَلَہَا بِرَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، أُشْہِدُکَ أَنَّہَا الْعَصْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٢٩) حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حجاج جمعہ کی نماز کو بہت مؤخر کیا کرتا تھا، اس وجہ سے میں، حضرت ابراہیم اور حضرت سعید بن جبیر ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے اور اس کے خطبے کے دوران باتیں کرتے تھے۔ پھر ہم لوگوں کے ساتھ نفل کی نیت سے نماز پڑھا کرتے تھے۔
(۵۵۲۹) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، قَالَ : کَانَ الْحَجَّاجُ یُؤَخِّرُ الْجُمُعَۃَ ، فَکُنْت أَنَا أُصَلِّی ، وَإِبْرَاہِیمُ وَسَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ نُصَلِّی الظُّہْرَ ، ثُمَّ نَتَحَدَّثُ وَہُوَ یَخْطُبُ ، ثُمَّ نُصَلِّی مَعَہُمْ ، ثُمَّ نَجْعَلُہَا نَافِلَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٣٠) حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ میں زیاد کے زمانے میں حضرت مسروق اور حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ جب نماز کا وقت آتا تو وہ دونوں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے پھر بیٹھ جاتے۔ پھر جب مؤذن اذان دیتا تو امام نکلتا تو وہ کھڑے ہو کر اس کے ساتھ بھی نماز پڑھتے تھے اور ایسا وہ عصر کے وقت کیا کرتے تھے۔
(۵۵۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، قَالَ: کُنْتُ أَجْلِسُ مَعَ مَسْرُوقٍ ، وَأَبِی عُبَیْدَۃَ زَمَنَ زِیَادٍ، فَإِذَا دَخَلَ وَقْتُ الصَّلاَۃِ قَامَا فَصَلَّیَا ، ثُمَّ یَجْلِسَانِ حَتَّی إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَخَرَجَ الإِمَامُ ، قَامَا فَصَلَّیَا مَعَہُ ، وَیَفْعَلاَنِہِ فِی الْعَصْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٣١) حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے نماز کو مؤخر کیا تو حضرت ابو وائل نے بیٹھے بیٹھے اشارے سے نماز پڑھ لی۔
(۵۵۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ؛ أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ ، فَأَوْمَأَ أَبُو وَائِلٍ وَہُوَ جَالِسٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٣٢) حضرت قاسم بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز میں تاخیر کردی۔ میں مسجد میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے اور نماز کا اعلان کرکے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید بن عقبہ نے پیغام بھیج کر انھیں بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ اگر امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کے پاس کوئی حکم آیا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر آپ نے آج بدعت کا ارتکاب کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میرے پاس امیر المؤمنین کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا اور میں بدعت کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس بات کا انکار ہے کہ ہم نماز کے لیے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم اپنے کاموں میں مشغول رہو۔
(۵۵۳۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلاَۃَ بِالْکُوفَۃِ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِی فِی الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ عَبْدُ اللہِ فَثَوَّبَ بِالصَّلاَۃ ، فَصَلَّی لِلنَّاسِ ، فَأَرْسَلَ إِلَہِ الْوَلِیدُ بْنُ عُقْبَۃَ : مَا حَمَلَک عَلَی مَا صَنَعْتَ ؟ أَجَائَک مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ أَمْرٌ فِیمَا قِبَلَنَا ، فَسَمْعٌ وَطَاعَۃٌ ، أَمِ ابْتَدَعْتَ مَا صَنَعْتَ الْیَوْمَ ؟ قَالَ : لَمْ یَأْتِنِی مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ أَمْرٌ ، وَمَعَاذَ اللہِ أَنْ أَکُونَ ابْتَدَعْتُ ، أَبَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَنْ نَنْتَظِرَک بِصَلاَتِنَا وَأَنْتَ فِی حَوَائِجِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام جمعہ کو اتنا مؤخر کردے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے ؟
(٥٥٣٣) حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے شقیق سے کہا کہ حجاج ہمارا جمعہ ضائع کرادیتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر تم راز رکھو تو تمہیں ایک بات کہوں ؟ میں نے کہا ہاں راز رکھوں گا۔ انھوں نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت میں گھر میں پڑھ لیا کرو اور اسے جماعت کے لیے نہ چھوڑو۔
(۵۵۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الزِّبْرِقَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِشَقِیقٍ : إِنَّ الْحَجَّاجَ یُمِیتُ الْجُمُعَۃَ ، قَالَ : تَکَتَّمَ عَیََّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : صَلِّہَا فِی بَیْتِکَ لِوَقْتِہَا ، وَلاَ تَدَعِ الْجَمَاعَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
(٥٥٣٤) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا بدعت ہے۔
(۵۵۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : رَفْعُ الأَیْدِی یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مُحْدَثٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
(٥٥٣٥) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ عبید اللہ بن عبداللہ بن معمر نے اٹھائے۔
(۵۵۳۵) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ رَفَعَ یَدَیْہِ فِی الْجُمُعِ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَعْمَرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
(٥٥٣٦) حضرت طاوس جمعہ کے دن لوگوں کے اندازِ دعا کو ناپسند فرماتے تھے اور اپنے ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔
(۵۵۳۶) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ دُعَائَہُمُ الَّذِی یَدْعُونَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَکَانَ لاَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
(٥٥٣٧) حضرت عبداللہ بن مرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام نے جمعہ کے دن منبر پر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو لوگوں نے بھی ہاتھ اٹھا لئے۔ حضرت مسروق نے فرمایا کہ انھیں کیا ہوا ! اللہ ان کے ہاتھوں کو کاٹے۔
(۵۵۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : رَفَعَ الإِمَامُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ یَدَیْہِ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَرَفَعَ النَّاسُ أَیْدِیَہُمْ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : مَا لَہُمْ ، قَطَعَ اللَّہُ أَیْدِیَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
(٥٥٣٨) حضرت عمارہ بن رویبہ کہتے ہیں کہ انھوں نے بشر بن مروان کو دعا میں اتنے زیادہ ہاتھ اٹھاتے دیکھا کہ عین ممکن تھا کہ وہ پیچھے گر جاتا۔
(۵۵۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ ؛ أَنَّہُ رَأَی بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو ، حَتَّی کَادَ یَسْتَلْقِی خَلْفَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
(٥٥٣٩) حضرت عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو دیکھا کہ وہ منبر پر کھڑا اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کررہا ہے۔ انھوں نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اللہ ان دونوں ہاتھوں کو تباہ کرے، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ خطبہ میں صرف اتنا اشارہ کیا کرتے تھے ۔ یہ کہہ کر انھوں نے انگشت شہادت سے اشارہ کرکے دکھایا۔
(۵۵۳۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ ، قَالَ : رَأَی بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا یَدَیْہِ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : قَبَّحَ اللَّہُ ہَاتَیْنِ الْیَدَیْنِ ، لَقَدْ رَأَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَزِیدُ عَلَی أَنْ یَقُولَ بِیَدَیْہِ ہَکَذَا ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِہِ الْمُسَبِّحَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کسی بھی امام کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے
(٥٥٤٠) حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے ساتھی مختار ثقفی کے ساتھ جمعہ پڑھا کرتے تھے اور اس کو جمعہ شمار کرتے تھے۔
(۵۵۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ یُصَلُّونَ مَعَ الْمُخْتَارِ الْجُمُعَۃَ ، وَیَحْتَسِبُونَ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کسی بھی امام کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے
(٥٥٤١) حضرت یزید بن ابی سلیمان کہتے ہیں کہ ابو وائل نے مختار ثقفی کے ساتھ جمعہ ادا کیا۔
(۵۵۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عُقْبَۃَ الأَسَدِیِّ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ؛ أَنَّ أَبَا وَائِلٍ جَمَّعَ مَعَ الْمُخْتَارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اگر سفر کی حالت میں کہیں سے گذرے تو وہ خود جمعہ پڑھائے گا یا نہیں ؟
(٥٥٤٢) حضرت صالح بن سعید فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے ساتھ مقام سویداء کی طرف گیا۔ جب جمعہ کا وقت آیا تو مؤذن نے اذان دی، لوگوں نے ان کے لیے کنکریوں اور سنگریزوں کو جمع کیا۔ انھوں نے خطبہ دیا اور پھر جمعہ کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر فرمایا کہ امام جہاں کہیں بھی ہو جمعہ پڑھائے گا۔
(۵۵۴۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی السُّوَیْدَائِ مُتَبَدِّیًا ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْجُمُعَۃُ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَجَمَعُوا لَہُ حَصْبَائَ ، قَالَ : فَقَامَ فَخَطَبَ ، ثُمَّ صَلَّی الْجُمُعَۃَ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ قَالَ : الإِمَامُ یُجَمِّعُ حَیْثُ مَا کَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اگر سفر کی حالت میں کہیں سے گذرے تو وہ خود جمعہ پڑھائے گا یا نہیں ؟
(٥٥٤٣) حضرت سعید بن سوید فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ نے مقام نخیلہ میں چاشت کے وقت ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی اور پھر خطبہ دیا۔
(۵۵۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُوَیْد ، قَالَ : صَلَّی بِنَا مُعَاوِیَۃُ الْجُمُعَۃَ بِالنَّخِیلَۃِ فِی الضُّحَی ، ثُمَّ خَطَبَنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد کے برآمدے اور صحن میں جمعہ کی نماز پڑھانے کا حکم
(٥٥٤٤) حضرت حسن اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی نماز مسجد میں نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔
(۵۵۴۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ (ح) وَعَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، أَنَّہُمَا قَالاَ : مَنْ لَمْ یُصَلِّ فِی الْمَسْجِدِ فَلاَ صَلاَۃَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد کے برآمدے اور صحن میں جمعہ کی نماز پڑھانے کا حکم
(٥٥٤٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جمعہ کی نماز برآمدہ میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۵۵۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَۃ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِی السُّدَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক: