মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৫৫৬৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بارش کے دن جمعہ میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے
(٥٥٦٦) حضرت کثیر مولی ابن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ کے پاس سے گذرا وہ اپنے دروازے پر بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے امیر نے کیا خطبہ دیا ؟ میں نے کہا کہ کیا آپ نے جمعہ نہیں پڑھا ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس کیچڑ نے ہمیں نماز سے روک دیا۔
(۵۵۶۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ کَثِیرٍ مَوْلَی ابْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ : مَرَرْتُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَۃَ وَہُوَ عَلَی بَابِہِ جَالِسٌ ، فَقَالَ : مَا خَطْبُ أَمِیرِکُمْ ؟ قُلْتُ : أَمَا جَمَّعْتَ ؟ قَالَ : مَنَعَنَا مِنْہَا ہَذَا الرَّدْغُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৬৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات بارش کے دن جمعہ میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے
(٥٥٦٧) حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ وہ جمعہ کے دن یہ اعلان کردے کہ نماز کجاو وں میں ہوگی، نماز کجاو وں میں ہوگی۔
(۵۵۶۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ؛ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَمَرَ مُنَادِیَہُ فَنَادَی فِی یَوْمٍ مَطِیرٍ یَوْمَ جُمُعَۃٍ : الصَّلاَۃُ فِی الرِّحَالِ ، الصَّلاَۃُ فِی الرِّحَالِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৬৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٦٨) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید کے ایک صاحبزادے عقیق میں اپنی زمین پر رہتے تھے۔ جو مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر تھی ایک دن وہ جمعہ کی صبح حضرت ابن عمر سے ملے اور اپنی ایک شکایت کا ذکر کیا۔ حضرت ابن عمر ان کے ساتھ چل پڑے اور جمعہ کی نماز چھوڑ دی۔
(۵۵۶۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ ابْنًا لِسَعِیدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ نُفَیْلٍ کَانَ بِأَرْضٍ لَہُ بِالْعَقِیقِ ، عَلَی رَأْسِ أَمْیَالٍ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، فَأَتَی ابْنَ عُمَرَ غَدَاۃَ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ، فَذَکَرَ لَہُ شَکَوَاہُ ، فَانْطَلَقَ إِلَیْہِ وَتَرَکَ الْجُمُعَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৬৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٦٩) حضرت عبد الوہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت یونس سے پوچھا کہ اگر کسی آدمی کی والدہ، والد یا کسی رشتہ دار کی حالت نزع ہو تو کیا وہ جمعہ چھوڑ سکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ حضرت حسن اس جنازے والے کو بھی جمعہ میں حاضر نہ ہونے کی رخصت دیا کرتے تھے جسے جنازے کے فوت ہوجانے کا خوف ہو، اسی طرح وہ شخص جسے کوئی خوف ہو اس کے لیے بھی حاضر نہ ہونے کی اجازت ہے۔
(۵۵۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ، قَالَ : سَأَلْتُ یُونُسَ عَنِ الرَّجُلِ تُحْتَضَرُ وَالِدَتُہُ ، أَوْ وَالِدُہُ ، أَوْ نَسِیبُہُ ، أَلَہُ عُذْرٌ فِی تَرْکِ الْجُمُعَۃِ ؟ فَقَالَ : کَانَ الْحَسَنُ یُرَخِّصُ فِیہَا لِصَاحِبِ الْجِنَازَۃِ ، یَخَافُ عَلَیْہَا ، أَوِ الرَّجُلُ یَکُونُ خَائِفًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٧٠) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر جمعہ کے دن تمہارا بچہ تم سے مدد مانگے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو بچے کے پاس چلے جاؤ اور جمعہ کو چھوڑ دو ۔
(۵۵۷۰) حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إِذَا اسْتُصْرِخَ عَلَی ابْنِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالإِمَامُ یَخْطُبُ، فَقُمْ إِلَیْہِ ، وَاتْرُکق الْجُمُعَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٧١) حضرت عمران بن حدیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابومجلز سے کہا کہ اگر میرے پیٹ میں درد ہو تو کیا میں جمعہ کے لیے آؤں ؟ انھوں نے کہا کہ یہ عذر ہے۔
(۵۵۷۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لأَبِی مِجْلَزٍ : أَوْ قُلْتُ لَہُ : آتِی الْجُمُعَۃَ وَأَنَا أَشْتَکِی بَطْنِی ؟ قَالَ : عَجْزٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٧٢) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۵۵۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، نَحْوَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٧٣) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ کسی خوف کے شکار شخص پر، کسی ایسے غلام پر جو اپنے اہل کی خدمت میں مصروف ہو، کسی جنازہ کے ولی پر اور کسی ایسے نابینا پر جسے لانے والا کوئی نہ ہو جمعہ واجب نہیں۔
(۵۵۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الْفَضْلِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی الْخَائِفِ ، وَلاَ عَلَی الْعَبْدِ الَّذِی یَخْدِمُ أَہْلَہُ ، وَلاَ عَلَی وَلِیِّ الْجِنَازَۃِ ، وَلاَ عَلَی الأَعْمَی إِذَا لَمْ یَجِدْ قَائِدًا جُمُعَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں کو جمعہ میں شریک نہ ہونے کی اجازت ہے
(٥٥٧٤) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی خوف کے شکار شخص پر جمعہ واجب ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اسے کس چیز کا خوف ہے ؟ بتایا گیا کہ بادشاہ کا۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ یہ عذر ہے۔
(۵۵۷۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہَمَّامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَسُئِلَ عَنِ الْخَائِفِ ، عَلَیْہِ جُمُعَۃٌ ؟ فَقَالَ : وَمَا خَوْفُہُ؟ قَالَ : مِنَ السُّلْطَانِ ، قَالَ : إِنَّ لَہُ عُذْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر نابینا کو لانے والا کوئی شخص ہو تو اس پر جمعہ واجب ہے یا نہیں ؟
(٥٥٧٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر نابینا کو کوئی قائد مل جائے تو اس پر جمعہ واجب ہے، غلام اگر اپنی ذمہ داری پوری کرلے تو اس پر جمعہ واجب ہے اور حضرت حسن خوف کے شکار کو جمعہ کی رخصت دیا کرتے تھے۔
(۵۵۷۵) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : تَجِبُ الْجُمُعَۃُ عَلَی الأَعْمَی إِذَا وَجَدَ قَائِدًا ، وَعَلَی الْعَبْدِ إِذَا کَانَ یُؤَدِّی الضَّرِیبَۃَ ۔ قَالَ : وَکَانَ یُرَخِّصُ لِلْخَائِفِ فِی الْجُمُعَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٧٦) حضرت ابو جعد ضمری سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے تین جمعے بلا عذر چھوڑ دیئے اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے۔
(۵۵۷۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ إِدْرِیسَ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبِیْدَۃَ بْنِ سُفْیَانَ الْحَضْرَمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْجَعْدِ الضَّمْرِیَّ ، وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ ، یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ تَہَاوُنًا ، طُبِعَ عَلَی قَلْبِہِ۔ (ترمذی ۵۰۰۔ ابوداؤد ۱۰۴۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٧٧) حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر بیٹھ کر ارشاد فرمایا کہ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور انھیں غافلوں میں سے لکھ دے گا۔
(۵۵۷۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ مِینَائَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُمَا شَہِدَا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ، وَہُوَ عَلَی أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ : لَیَنْتَہِیَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدَعِہِمُ الْجُمُعَاتِ ، أَوْ لَیَطْبَعَنَّ اللَّہُ عَلَی قُلُوبِہِمْ ، وَلَیُکْتَبُنَّ مِنَ الْغَافِلِینَ۔ (مسلم ۴۰۔ نسائی ۱۶۵۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٧٨) حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے بغیر عذر کے جمعہ چھوڑا وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر ایک دینار نہ ملے تو آدھا دینار صدقہ کردے۔
(۵۵۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ قُدَامَۃَ بْنِ وَبَرَۃَ الْعُجَیْفِیِّ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَلْیَتَصَدَّقْ بِدِینَارٍ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَبِنِصْفِ دِینَارٍ۔ (ابوداؤد ۱۰۴۶۔ ابن حبان ۲۷۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٧٩) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جس شخص نے مسلسل تین جمعے چھوڑ دیئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
(۵۵۷۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ ثَلاَثًا مُتَوَالِیَاتٍ ، طَبَعَ اللَّہُ عَلَی قَلْبِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٨٠) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے کئی سرخ اونٹ مل جائیں تو یہ مجھے اس کے مقابلے میں پسند نہیں کہ میں بلا عذر جمعہ کی نماز چھوڑ دوں۔
(۵۵۸۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : قَالَ : أَبُو ہُرَیْرَۃَ : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِی حُمْرَ النِّعَمِ ، وَلاَ أَنَّ الْجُمُعَۃَ تَفُوتُنِی إِلاَّ مِنْ عُذْرٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٨١) حضرت محمد بن عباد بن جعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہوسکتا ہے تم میں سے کوئی دو یا تین میل کے فاصلے پر بکریوں کا ریوڑ رکھے اور پھر جمعہ کے لیے نہ آئے، پھر جمعہ آئے اور وہ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئے، پھر جمعہ آئے اور وہ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادے۔
(۵۵۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَسَی أَحَدُکُمْ أَنْ یَتَّخِذَ الصَّبَّۃَ مِنَ الْغَنَمِ عَلَی رَأْسِ الْمِیلَیْنِ ، أَوِ الثَّلاَثَۃِ ، فَتَکُونُ الْجُمُعَۃُ فَلاَ یَشْہَدُہَا ، ثُمَّ تَکُونُ فَلاَ یَشْہَدُہَا ، ثُمَّ تَکُونُ فَلاَ یَشْہَدُہَا ، فَیَطْبَعُ اللَّہُ عَلَی قَلْبِہِ۔ (احمد ۳/۳۳۲۔ ابو یعلی ۲۱۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٨٢) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو نماز پڑھانے کا کہوں اور میں ان لوگوں کے گھروں کو جاکر جلا دوں جو جمعہ کی نماز نہیں پڑھتے۔
(۵۵۸۲) حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ زُہَیْرٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَص ، سَمِعَہُ مِنْہُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِقَوْمٍ یَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَۃِ : لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلاً یُصَلِّی بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَی رِجَالٍ یَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُیُوتَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ میں سستی کرنے اور اسے چھوڑنے کی مذمت
(٥٥٨٣) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ایک مہینے تک حضرت عبداللہ بن عباس سے سوال کرتا رہا کہ ایک آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے لیکن وہ جمعہ اور جماعت میں شریک نہیں ہوتا تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ وہ جہنمی ہے۔
(۵۵۸۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ شَہْرًا ، یَسْأَلُہُ عَنْ رَجُلٍ یَقُومُ اللَّیْلَ وَیَصُومُ النَّہَارَ ، وَلاَ یَشْہَدُ جَمَاعَۃً ، وَلاَ جُمُعَۃً ، قَالَ : فِی النَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات جمعہ کے دن خوشبو لگانے کا حکم دیا کرتے تھے
(٥٥٨٤) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کے دن غسل کریں، اگر ان کے پاس خوشبو ہو تو خوشبو لگائیں اور اگر خوشبو نہ ہو تو پانی ان کے لیے خوشبو ہے۔
(۵۵۸۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ أبی زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَنْ یَغْتَسِلَ أَحَدُہُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَأَنْ یَمَسَّ مِنْ طِیبٍ إِنْ کَانَ عِنْدَہُ ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ طِیبٌ فَإِنَّ الْمَائَ لَہُ طِیبٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات جمعہ کے دن خوشبو لگانے کا حکم دیا کرتے تھے
(٥٥٨٥) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مسواک کرے، اپنے سب سے اچھے کپڑے پہنے اور اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو خوشبو لگائے۔
(۵۵۸۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْحَقِّ عَلَی الْمُسْلِمِ إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، السِّوَاکَ، وَأَنْ یَلْبَسَ مِنْ صَالِحِ ثِیَابِہِ، وَأَنْ یَتَطَیَّبَ بِطِیبٍ إِنْ کَانَ۔
tahqiq

তাহকীক: