মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৫৭৬৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٦٦) حضرت یحییٰ بن یعمر ایک عید میں نو تکبیرات اور دوسری میں گیارہ تکبیرات کہا کرتے تھے۔
(۵۷۶۶) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَُرَ ؛ فِی الْعِیدَیْنِ ، فِی إِحْدَاہُمَا تِسْعُ تَکْبِیرَاتٍ ، وَفِی الآخِرَۃِ إِحْدَی عَشْرَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٦٧) حضرت عبد الرحمن بن رافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب عیدین کی نمازوں میں بارہ تکبیرات کہا کرتے تھے، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
(۵۷۶۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الإِفْرِیقِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یُکَبِّرُ فِی الْعِیدَیْنِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ ؛ سَبْعًا فِی الأُولَی ، وَخَمْسًا فِی الآخِرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٦٨) حضرت عبد العزیز بن عمر اپنے والد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ عید کی نماز میں سات اور پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
(۵۷۶۸) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُکَبِّرُ فِی الْعِیدِ سَبْعًا وَخَمْسًا ؛ سَبْعًا فِی الأُولَی ، وَخَمْسًا فِی الآخِرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٦٩) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ عیدین میں پانچ اور سات تکبیرات ہیں، سات پہلی رکعت میں قرات سے پہلے اور پانچ دوسری رکعت میں قرات سے پہلے۔
(۵۷۶۹) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَد ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاودُ بْنُ الْحُصَیْنِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : التَّکْبِیرُ فِی الْعِیدَیْنِ سَبْعٌ وَخَمْسٌ ؛ سَبْعٌ فِی الأُولَی قَبْلَ الْقِرَائَۃِ ، وَخَمْسٌ فِی الآخِرَۃِ قَبْلَ الْقِرَائَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٧٠) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ عیدین میں سات اور پانچ تکبیرات ہیں۔
(۵۷۷۰) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَد ، قَالَ : حدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ أَبِی نُعَیْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ: التَّکْبِیرُ فِی الْعِیدَیْنِ سَبْعٌ وَخَمْسٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٧١) حضرت محمد بن ہلال فرماتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ اور عبید اللہ بن عبداللہ کو مدینہ کے گورنر عبد الرحمن بن ضحاک کو عید الفطر کے دن حکم دیتے ہوئے سنا کہ پہلی رکعت میں سات تکبیرات کہیں اور پھر سورة الاعلیٰ پڑھیں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات کہیں اور سورة العلق پڑھیں۔
(۵۷۷۱) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَد ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِلاَلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ، وَعُبَیْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ یَأْمُرَانِ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ الضَّحَّاکِ یَوْمَ الْفِطْرِ ، وَکَانَ عَلَی الْمَدِینَۃِ : أَنْ یُکَبِّرَ فِی أَوَّلِ رَکْعَۃٍ سَبْعًا ، ثُمَّ یَقْرَأَ بِـ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَفِی الآخِرَۃِ خَمْسًا ، ثُمَّ یَقْرَأَ : {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٧٢) ثابت بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے پیچھے عید الفطر کی نماز پڑھی پہلی رکعت میں قرات سے پہلے سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قرات سے پہلے پانچ تکبیرات کہتے تھے۔
(۵۷۷۲) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَد ، قَالَ : حدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ ، قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْفِطْرَ ، فَکَبَّرَ فِی الأُولَی سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَائَۃِ ، وَفِی الثَّانِیَۃِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَائَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٧٣) حضرت عمار بن ابی عمار فرماتے ہیں کہ ابن عباس نے عید کی نماز میں بارہ تکبیرات کہیں، سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔
(۵۷۷۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِی عَمَّارٍ ؛ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَبَّرَ فِی عِیدٍ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ تَکْبِیرَۃً ؛ سَبْعًا فِی الأُولَی ، وَخَمْسًا فِی الآخِرَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کی تکبیرات اور ان کے بارے میں اختلاف
(٥٧٧٤) حضرت شعبی اور حضرت مسیب فرماتے ہیں کہ عیدین کی نمازوں میں نو تکبیرات کہا کرتے تھے۔ پانچ پہلی رکعت میں اور چار دوسری رکعت میں۔ دونوں قرائتوں کے درمیان تکبیر نہیں ہے۔
(۵۷۷۴) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو کُدَیْنَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، وَالْمُسَیَّبِ ، قَالاَ : الصَّلاَۃُ یَوْمَ الْعِیدَیْنِ تِسْعُ تَکْبِیرَاتٍ ؛ خَمْسٌ فِی الأُولَی ، وَأَرْبَعٌ فِی الآخِرَۃِ ، لَیْسَ بَیْنَ الْقِرَائَتَیْنِ تَکْبِیرَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٧٥) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عید کے دن تشریف لائے اور انھوں نے ابو واقد لیثی سے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن میں کون سی سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ سورة ق اور سورة القمر کی۔
(۵۷۷۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ضَمْرَۃُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَُتبۃَ ، یَقُولُ : خَرَجَ عُمَرُ یَوْمَ عِیدٍ ، فَسَأَلَ أَبا وَاقِدٍ اللَّیْثِیَّ : بِأَیِّ شَیْئٍ قَرَأَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ہَذَا الْیَوْمِ ؟ قَالَ : بِـ : (ق) ، وَ(اقْتَرَبَت)۔ (ترمذی ۵۳۵۔ ابن ماجہ ۱۲۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٧٦) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین اور جمعہ کی نماز میں سورة الغاشیہ اور سورة الاعلیٰ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ جب کسی دن جمعہ اور عید دونوں ہوتے تو دونوں میں یہی سورتیں پڑھتے تھے۔
(۵۷۷۶) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمْ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیدَیْنِ وَالْجُمُعَۃِ : {ہَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ} ، وَ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِیدَانِ فِی یَوْمٍ قَرَأَ بِہِمَا فِیہِمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٧٧) حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین کی نمازوں میں سورة الاعلیٰ اور سورة الغاشیہ پڑھا کرتے تھے۔
(۵۷۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیدَیْنِ بِـ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} وَ{ہَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ}۔ (احمد ۵/۱۴۔ طبرانی ۶۷۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٧٨) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۵۷۷۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَعْبَد بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ زَید بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ سَمُرَۃََ بْنِ جُنْدُبٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیدَیْنِ ، فَذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (طبرانی ۶۷۷۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٧٩) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کی پہلی رکعت میں سورة القمر اور دوسری میں سورة ق کی تلاوت فرمائی۔
(۵۷۷۹) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابن طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ (ح) وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِی الْعِیدِ ۔ قَالَ أَحَدُہُمَا : بِـ : (اقْتَرَبَتْ) ، وَقَالَ الآخَرُ : بِـ : (ق)۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٨٠) حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے عید الفطر کے دن سورة البقرۃ کی تلاوت فرمائی، یہاں تک کہ میں نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ لمبے قیام کی وجہ سے وہ جھکنے لگا تھا۔
(۵۷۸۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَرَأَ فِی یَوْمِ عِیدٍ بِالْبَقَرَۃِ ، حَتَّی رَأَیْتُ الشَّیْخَ یَمِیدُ مِنْ طُولِ الْقِیَامِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٨١) عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر عید کی نماز میں سورة الاعلیٰ اور سورة الغاشیہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(۵۷۸۱) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، قَالَ : حدِّثْتُ عَنْ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیدِ بِـ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} ، وَ{ہَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٨٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید کی نماز میں سورة الاعلیٰ اور سورة الغاشیہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(۵۷۸۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیدِ بِـ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} ، وَ{ہَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ}۔ (ابن ماجہ ۱۲۸۳۔ عبدالرزاق ۵۷۰۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٨٣) کردوس فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کو ولید بن عقبہ نے بلایا تو حضرت عبداللہ نے ولید سے کہا کہ سورة الفاتحہ اور مفصل کی ایسی سورت کی تلاوت کرو جو نہ بہت چھوٹی ہو نہ بہت لمبی۔
(۵۷۸۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، وَابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ کُرْدُوسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ أَرْسَلَ إِلَیْہِ، فَقَالَ : تَقْرَأُ بِأُمِّ الْکِتَابِ ، وَسُورَۃٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ۔ زَادَ فِیہِ ہُشَیْمٌ : لَیْسَ مِنْ قِصَارِہَا ، وَلاَ مِنْ طِوَالِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نمازوں میں کہاں سے قرات کرے ؟
(٥٧٨٤) حضرت انس کے ایک مولیٰ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن حضرت انس کے ساتھ نماز کے لیے گیا، ہم نے ایک کونے میں دیکھا کہ حضرت انس کا ایک مولیٰ سورة الاعلیٰ اور سورة الغاشیہ کی تلاوت کررہا تھا۔ حضرت انس نے فرمایا کہ یہی وہ سورتیں ہیں جنہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید میں پڑھا کرتے تھے۔
(۵۷۸۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُمَارَۃُ الصَّیْدَلاَنِیُّ ، عَنْ مَوْلًی لأَنَسٍ قَدْ سَمَّاہُ ، قَالَ : انْتَہَیْتُ مَعَ أَنَسٍ یَوْمَ الْعِیدِ ، حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلَی الزَّاوِیَۃِ ، فَإِذَا مَوْلًی لَہُ یَقْرَأُ فِی الْعِیدِ بِـ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} ، وَ{ہَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ} ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنَّہُمَا لَلسُّورَتَانِ اللَّتَانِ قَرَأَ بِہِمَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ابوداؤد ۲۰۴۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات عید سے پہلے اور عید کے بعد نفل نماز نہیں پڑھتے تھے
(٥٧٨٥) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، آپ نے نہ تو عید سے پہلے کوئی نماز پڑھی نہ عید کے بعد۔
(۵۷۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیدٍ ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ ، فَلَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا ، وَلاَ بَعْدَہَا۔ (بخاری ۹۸۹۔ ابوداؤد ۱۱۵۲)
তাহকীক: