মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৫৮৮৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٨٦) حضرت وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں ایک دن عید جمعہ کے دن آگئی۔ حضرت ابن زبیر نے نکلنے میں تاخیر کی، جب باہر تشریف لائے تو خطبہ دیا اور لمبا خطبہ دیا، پھر نماز پڑھائی اور جمعہ کے لیے تشریف نہ لائے۔ لوگوں کو ان کے اس عمل انھوں نے سنت کی پیروی کی ہے۔ حضرت ابن زبیر تک یہ بات پہنچی تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ عید کی نماز پڑھی تو انھوں نے بھی ایسا ہی کیا جس طرح میں نے کیا ہے۔
(۵۸۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ فِی عَہْدِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَۃَ ، ثُمَّ صَلَّی ، وَلَمْ یَخْرُجْ إِلَی الْجُمُعَۃِ ، فَعَابَ ذَلِکَ أُنَاسٌ عَلَیْہِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أَصَابَ السُّنَّۃَ ۔ فَبَلَغَ ابْنَ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : شَہِدْتُ الْعِیدَ مَعَ عُمَرَ فَصَنَعَ کَمَا صَنَعْتُ۔ (ابوداؤد ۱۰۶۴۔ نسائی ۱۷۹۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৮৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٨٧) حضرت ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کے ساتھ عید کی نماز پڑھی۔ اس دن جمعہ کا دن تھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں مسلمانوں کے لیے دو عیدین جمع ہوگئی ہیں۔ جو لوگ مضافات سے آئے ہیں ہم انھیں اجازت دیتے ہیں کہ وہ واپس چلے جائیں۔ اور جو ٹھہرنا چاہیں وہ ٹھہر جائیں۔
(۵۸۸۷) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْہَرَ ، قَالَ : شَہِدْتُ الْعِیدَ مَعَ عُثْمَانَ وَوَافَقَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ ، فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا یَوْمٌ اجْتَمَعَ فِیہِ عِیدَانِ لِلْمُسْلِمِینَ ، فَمَنْ کَانَ ہَاہُنَا مِنْ أَہْلِ الْعَوَالِی فَقَدْ أَذِنَّا لَہُ أَنْ یَنْصَرِفَ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَمْکُثَ فَلْیَمْکُثْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৮৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٨٨) حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ انھوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، پھر اپنی سواری پر خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ جو لوگ عید کی نماز میں شریک ہوئے تو اگر اللہ نے چاہا تو اس کا جمعہ بھی ادا ہوگیا۔
(۵۸۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ عَلَی عَہْدِ عَلِیٍّ فَصَلَّی بِالنَّاسِ ، ثُمَّ خَطَبَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَیَّہَا النَّاسُ ، مَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الْعِیدَ فَقَدْ قَضَی جُمُعَتَہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৮৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٨٩) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ انھوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھیں گے جس نے آنا ہو آجائے۔
(۵۸۸۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ عَلَی عَہْدِ عَلِیٍّ فَشَہِدَ بِہِمُ الْعِیدَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا مُجَمِّعُونَ ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ یَشْہَدَ فَلْیَشْہَدْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٠) حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدین کی نمازوں میں سورة الاعلیٰ اور سورة الغاشیہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اور جب عید کے دن جمعہ آتا تو پھر دونوں نمازوں میں انہی سورتوں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۵۸۹۰) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ فِی الْعِیدَیْنِ بِـ : {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی} ، وَ{ہَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ} ، وَإِذَا اجْتَمَعَ الْعِیدَانِ فِی یَوْمٍ قَرَأَ بِہِمَا فِیہِمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩١) حضرت وہب بن کیسان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے، حضرت ابن الزبیر نے دن اچھی طرح بلند ہونے کے بعد عید کی نماز پڑھائی۔ پھر واپس چلے گئے اور عصر کے وقت تشریف لائے۔ حضرت ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت نافع سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس بات کا ذکر حضرت ابن عمر سے کیا گیا تو انھوں نے اس پر نکیر نہ فرمائی تھی۔
(۵۸۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ فِی یَوْمٍ ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ فَصَلَّی الْعِیدَ بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّہَارُ ، ثُمَّ دَخَلَ ، فَلَمْ یَخْرُجْ حَتَّی صَلَّی الْعَصْرَ ۔ قَالَ ہِشَامٌ : فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِنَافِعٍ ، أَوْ ذُکِرَ لَہُ ، فَقَالَ : ذُکِرَ ذَلِکَ لاِبْنِ عُمَرَ فَلَمْ یُنْکِرْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں عید اور جمعہ ایک ہی دن آگئے۔ انھوں نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، پھر جمعہ کے بدلے میں انھیں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھائی۔
(۵۸۹۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ فِی عَہْدِ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَصَلَّی بِہِمُ الْعِیدَ ، ثُمَّ صَلَّی بِہِمُ الْجُمُعَۃَ صَلاَۃَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٣) حضرت عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ حجاج کے زمانے میں ایک مرتبہ عید اور جمعہ ایک ہی دن آگئے اس نے دونوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔ یہ بات ابو البختری کو معلوم ہوئی تو انھوں نے فرمایا کہ اللہ اسے ہلاک کرے، اسے اس بات کا علم کہاں سے ہوگیا ؟
(۵۸۹۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ عِیدَانِ عَلَی عَہْدِ الْحَجَّاجِ ، فَصَلَّی أَحَدَہُمَا ، فَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ : قَاتَلَہُ اللَّہُ أَنَّی عَلِقَ ہَذَا ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے پہلی نماز کافی ہے۔
(۵۸۹۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : تُجْزِئُہُ الأُولَی مِنْہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جمعہ اور عید ایک ہی دن آجائیں تو دونوں میں ایک کو ادا کرنا بھی تمہارے لیے کافی ہے۔
(۵۸۹۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : إِذَا اجْتَمَعَ عِیدَانِ فِی یَوْمٍ ، فَأَیُّہُمَا أَتَیْتَ أَجْزَأَکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٦) حضرت ابن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاویہ کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت زید بن ارقم سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسا دن گذارا جس میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آئے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔ حضرت معاویہ نے پوچھا کہ اس دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا عمل تھا۔ حضرت زید نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کی نماز پڑھائی اور جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا کہ جس کا دِل چاہے پڑھ لے۔
(۵۸۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِیِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِی رَمْلَۃَ الشَّامِیِّ ، قَالَ : شَہِدْتُ مُعَاوِیَۃَ یَسْأَلُ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ : ہَلْ شَہِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِیدَیْنِ اجْتَمَعَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ: فَکَیْفَ صَنَعَ ؟ قَالَ : صَلَّی الْعِیدَ ، ثُمَّ رَخَّصَ فِی الْجُمُعَۃِ ، قَالَ : مَنْ شَائَ أَنْ یُصَلِّیَ فَلْیُصَلِّ۔ (ابوداؤد ۱۰۶۳۔ احمد ۴/۳۷۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٧) حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج کے زمانے میں جمعہ اور عید ایک ہی دن آگئے۔ حجاج نے عید کی نماز پڑھائی اور کہا جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ پڑھنا چاہے پڑھے اور جو جانا چاہے چلا جائے۔ چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس پر حضرت ابو البختری اور حضرت میسرہ نے کہا کہ اللہ اسے مارے یہ بات اسے کہاں سے پتا چل گئی۔
(۵۸۹۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ الْعِیدَانِ فِی یَوْمٍ ، فَقَامَ الْحَجَّاجُ فِی الْعِیدِ الأَوَّلِ ، فَقَالَ : مَنْ شَائَ أَنْ یُجَمِّعَ مَعَنَا فَلْیُجَمِّعْ ، وَمَنْ شَائَ أَنْ یَنْصَرِفَ فَلْیَنْصَرِفْ ، وَلاَ حَرَجَ ، فَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ ، وَمَیْسَرَۃُ : مَا لَہُ ، قَاتَلَہُ اللَّہُ تَعَالَی مِنْ أَیْنَ سَقَطَ عَلَی ہَذَا ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٨)
(۵۸۹۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ) (ح) وَعَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ فِی الْعِیدَیْنِ إِذَا اجْتَمَعَا ؟ قَالاَ : یُجْزِئُ أَحَدُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٨٩٩) حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے ایک نماز کافی ہے۔
(۵۸۹۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ، عَنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: یُجْزِئُ أَحَدُہُمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر جمعہ اور عید ایک ہی دن آ جائیں تو کیا حکم ہے ؟
(٥٩٠٠) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب عید اور جمعہ کا دن ایک ہو تو ایک نماز کافی ہے۔
(۵۹۰۰) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بن ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إِذَا کَانَ یَوْمُ جُمُعَۃٍ وَعِیدٍ ، أَجْزَأَ أَحَدُہُمَا مِنَ الآخَرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نماز میں دو رکعتیں ہیں
(٥٩٠١) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعتیں ہیں، جمعہ کی نماز میں دو رکعتیں ہیں اور عید کی نماز میں دو رکعتیں ہیں۔ یہ قصہ نہیں بلکہ بقول رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ پوری نماز ہے۔
(۵۹۰۱) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ زُبَیْدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: صَلاَۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَانِ ، وَالْجُمُعَۃُ رَکْعَتَانِ، وَالْعِیدَانِ رَکْعَتَانِ ، تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ ، عَلَی لِسَانِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ابن ماجہ ۱۰۶۳۔ نسائی ۱۷۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نماز میں دو رکعتیں ہیں
(٥٩٠٢) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید الفطر یا عید الاضحی کے دن لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی، پھر واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے نہ اس سے پہلے نماز پڑھی نہ اس کے بعد۔
(۵۹۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عِیدِ فِطْرٍ ، أَوْ أَضْحَی فَصَلَّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَلَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا ، وَلاَ بَعْدَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کی نماز میں دو رکعتیں ہیں
(٥٩٠٣) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھا کر سلام پھیرتے تھے۔
(۵۹۰۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ یَوْمَ الْعِیدِ یَوْمَ الْفِطْرِ ، فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ۔ (مسلم ۶۰۵۔ نسائی ۱۷۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کے دن اونٹ پر خطبہ دینا
(٥٩٠٤) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کے دن اپنی سواری پر خطبہ دیا۔
(۵۹۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عِیَاضٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ یَوْمَ عِیدٍ عَلَی رَاحِلَتِہِ۔ (ابویعلی ۱۱۷۷۔ ابن حبان ۲۸۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عید کے دن اونٹ پر خطبہ دینا
(٥٩٠٥) حضرت میسرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے عید کے دن نماز پڑھانے کے بعد اپنی سواری پر خطبہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بھی یونہی کیا کرتے تھے۔
(۵۹۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مَیْسَرَۃَ أَبِی جَمِیلَۃَ ، قَالَ : شَہِدْتُ مَعَ عَلِیٍّ الْعِیدَ ، فَلَمَّا صَلَّی خَطَبَ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، قَالَ : وَکَانَ عُثْمَانُ یَفْعَلُہُ۔
tahqiq

তাহকীক: