মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৬০৪৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے
(٦٠٤٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب تمہاری مسجد میں جماعت کی نماز تم سے رہ جائے تو دوسری مسجدیں تلاش نہ کرو بلکہ اپنی مسجد میں نماز پڑھ لو۔
(۶۰۴۶) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : إِذَا فَاتَتْک الصَّلاَۃ فِی مَسْجِدِکَ ، فَلاَ تَتَّبِعِ الْمَسَاجِدَ ، صَلِّ فِی مَسْجِدِک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے
(٦٠٤٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی نماز اس کی اپنی مسجد سے رہ جائے تو دوسری مسجدوں کو تلاش نہ کرے۔
(۶۰۴۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إِذَا فَاتَتِ الرَّجُلُ الصَّلاَۃ فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ لَمْ یَتَّبِعِ الْمَسَاجِدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے
(٦٠٤٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب حضرت علقمہ کی جماعت اپنی مسجد سے رہ جاتی تو پھر بھی مسجد میں آ کر نماز ادا کرتے۔ حالانکہ دوسری مسجد سے موذن کی آواز سن رہے ہوتے لیکن وہاں نہیں جاتے تھے۔
(۶۰۴۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : کَانَ تَفُوتُہُ الصَّلاَۃ فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ ، فَیَجِیئُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَدْخُلُہُ ، فَیُصَلِّی فِیہِ وَہُوَ یَسْمَعُ الأَذَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلاَ یَأْتِیہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اپنی مسجد میں نماز پڑھ لے
(٦٠٤٩) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی قوم کی مسجد میں نماز نہ پڑھ سکے تو کیا وہ دوسری مسجد میں جائے گا ؟ فرمایا کہ ہم نے مہاجرین صحابہ کو یوں کرتے نہیں دیکھا۔
(۶۰۴۹) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ السَّرِیِّ بْنِ یَحْیَی ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ فِی رَجُلٍ تَفُوتُہُ الصَّلاَۃ فِی مَسْجِدِ قَوْمِہِ ، فَیَأْتِی مَسْجِدًا آخَرَ ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ : مَا رَأَیْنَا الْمُہَاجِرِینَ یَفْعَلُونَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٠) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ایک نماز کے بعد اس کی جگہ اس جیسی دوسری نماز مکروہ ہے۔
(۶۰۵۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لاَ یُصَلَّی بَعْدَ الصَّلاَۃِ مِثْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥١) حضرت خرشہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ایک نماز کے بعد اسی جگہ اس جیسی دوسری نماز پڑھی جائے۔
(۶۰۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن سُلَیْمَانَ بْنِ مُسْہِرٍ ، عَنْ خَرَشَۃَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلَّی خَلْفَ صَلاَۃٍ مِثْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٢) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز ادا نہ کی جائے گی۔
(۶۰۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، وَالشَّعْبِیِّ ، قَالاَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ یُصَلَّی عَلَی إِثْرِ صَلاَۃٍ مِثْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٣) حضرت عبداللہ اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ ایک فرض نماز کی جگہ اس کے بعد اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
(۶۰۵۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنٌ ، عَنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلَّی بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ مِثْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٤) حضرت عبداللہ اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ ایک فرض نماز کی جگہ اس کے بعد اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
(۶۰۵۴) حَدَّثَنَا سَلاَّم أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یَکْرَہُ أَنْ یُصَلَّی بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ مِثْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ فرض نماز کے بعد اس جگہ اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
(۶۰۵۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یُصَلُّوا بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ مِثْلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٦) حضرت مسیب بن رافع فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ فرض نماز کے بعد اس جگہ اس جیسی نماز ادا کی جائے۔
(۶۰۵۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسَیَّبُ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ: کَانُوا یَکْرَہُونَ أَنْ یُصَلُّوا بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ مِثْلَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک فرض نماز کی جگہ اس جیسی دوسری نماز جن حضرات کے نزدیک مکروہ ہے
(٦٠٥٧) حضرت خرشہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ایک نماز کے بعد اسی جگہ اس جیسی دوسری نماز پڑھی جائے۔
(۶۰۵۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُسْہِرٍ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَرِہَ أَنْ یُصَلَّی بَعْدَ الْمَکْتُوبَۃِ مِثْلُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٥٨) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو مسجد سے جتنا دور ہوگا اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
(۶۰۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الأَبْعَدُ فَالأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، أَعْظَمُ أَجْرًا۔ (ابوداؤد ۵۵۷۔ احمد ۲/۳۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٥٩) حضرت اسود بن علاء کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو ہر قدم پر اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ صاف ہوتا ہے۔
(۶۰۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ الْعَلاَئِ بْنِ جَارِیَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ حِینِ یَخْرُجُ أَحَدُکُمْ مِنْ مَسْجِدِہِ إِلَی بَیْتِہِ ، فَرِجْلٌ تَکْتُبُ لَہُ حَسَنَۃً ، وَالأُخْرَی تَحُطُّ عَنْہُ سَیِّئَۃً۔ (احمد ۲/۴۷۸۔ ابن حبان ۱۶۲۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٦٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے، ہم نے ارادہ کیا کہ ہم مسجد نبوی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوجائیں۔ جب ہم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ فرمایا کہ ایسا نہ کرو، تم جہاں رہتے ہو وہیں سے آؤ، جب بھی کوئی مومن شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو ہر قدم پر اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔
(۶۰۶۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَخِیہِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : کَانَتْ مَنَازِلُنَا قَاصِیَۃً ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَتَقَرَّبَ مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوہَا ، ائْتُوہَا کَمَا کُنْتُمْ ، مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوئَ ، ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی الْمَسْجِدِ ، إِلاَّ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ حَسَنَۃً ، وَحَطَّ عَنْہُ بِہَا سَیِّئَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٦١) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مسجد کے قریب گھر بنالیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو ناپسند کیا کہ مدینہ گنجان ہوجائے اور فرمایا کہ اے بنو سلمہ ! کیا تم اپنے قدموں پر ثواب کا یقین نہیں رکھتے ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ پھر انھوں نے اپنی جگہ ہی رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
(۶۰۶۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ بَنِی سَلِمَۃَ أَرَادُوا أَنْ یَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِہِمْ ، فَیَبنوا قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَکَرِہَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْرَی الْمَدِینَۃُ ، فَقَالَ : یَا بَنِی سَلِمَۃَ ، أَلاَ تَحْتَسِبُونَ آثَارَکُمْ ؟ قَالُوا : بَلَی ، فَثَبَتُوا۔ (بخاری ۶۵۵۔ احمد ۳/۱۰۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٦٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ کے گھر مسجد سے دور تھے، انھوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اے بنو سلمہ ! کیا تم اپنے نشانات قدم پر ثواب نہیں لینا چاہتے ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں ؟ پھر وہ اپنے انہی گھروں میں ٹھہر گئے۔
(۶۰۶۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ بَنِی سَلِمَۃَ کَانَتْ دُورُہُمْ قَاصِیَۃً عَنِ الْمَسْجِدِ ، فَہَمُّوا أَنْ یَتَحَوَّلُوا قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَیَشْہَدُونَ الصَّلاَۃَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُم النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَلاَ تَحْتَسِبُونَ آثَارَکُمْ یَا بَنِی سَلِمَۃَ ؟ فَثَبَتُوا فِی دِیَارِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٦٣) حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک آدمی تھا اور میرے خیال میں قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے والوں میں مسجد سے سب سے زیادہ دور گھر اسی کا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم گدھا لے لو تاکہ بارش اور اندھیرے وغیرہ میں اس پر سوار ہو کر مسجد آ جایا کرو۔ اس پر اس نے کہا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس بات کا تذکرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا گیا اور اس نے بھی حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ کیا مسجد کی طرف میرے آنے جانے والوں قدموں کو بھی میرے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں یہ بھی عطا کردیا اور اس کے علاوہ جس عمل میں تم نے ثواب کی امید رکھی اللہ نے تمہیں وہ بھی عطا کردیا۔
(۶۰۶۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ ، عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ، قَالَ : کَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِینَۃِ ، مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّی الْقِبْلَۃَ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ ، فَکَانَ یَشْہَدُ الصَّلاَۃَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقِیلَ : لو ابْتَغَیْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الرَّمْضَائِ وَالظُّلْمَۃِ ؟ فَقَالَ: وَاللَّہِ مَا یَسُرُّنِی أَنَّ مَنْزِلِی بِلَزْقِ الْمَسْجِدِ ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ، کَیْمَا یُکْتَبُ خُطَایَ وَإِقْبَالِی ، وَإِدْبَارِی ، وَرُجُوعِی إِلَی أَہْلِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْطَاکَ اللَّہُ ذَلِکَ ، وَأَعْطَاک مَا احْتَسَبْت أَجْمَعَ ، أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(مسلم ۴۶۰۔ ابوداؤد ۵۵۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد سے قریب ہونا زیادہ افضل ہے یا دور ہونا ؟
(٦٠٦٤) ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ جب بنو سلمہ نے اپنے مکانات مسجد کے قریب کرنے کا ارادہ کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔
(۶۰۶۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ أَبِی لَیْلَی ، فَقُلْتُ : بَنُو سَلِمَۃَ أَرَادُوا أَنْ یَتَحَوَّلُوا قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ ؟ فَذُکِرَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ حَسَنَۃً۔ (مسلم ۴۶۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی جس جگہ فرض پڑھے کیا وہیں نفل پڑھ سکتا ہے ؟
(٦٠٦٥) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ نماز کے پڑھنے کے بعد آگے، پیچھے یا دائیں بائیں ہو کر نفل پڑھو۔
(۶۰۶۵) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، عَن لَیْثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَیَعْجَزُ أَحَدُکُمْ إِذَا صَلَّی أَنْ یَتَقَدَّمَ ، أَوْ یَتَأَخَّرَ ، أَوْ عَنْ یَمِینِہِ ، أَوْ عَنْ شِمَالِہِ ، یَعْنِی السَّبْحَۃَ۔ (ابوداؤد ۹۹۸۔ احمد ۲/۴۲۵)
তাহকীক: