মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৬২৮৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٨٦) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ باندی اسی طرح نماز پڑھے گی جس طرح باہر نکلتی ہے۔
(۶۲۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : تُصَلِّی الأَمَۃُ کَمَا تَخْرُجُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৮৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٨٧) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ باندی اسی طرح نماز پڑھے گی جس طرح باہر نکلتی ہے۔
(۶۲۸۷) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : تُصَلِّی الأَمَۃُ کَمَا تَخْرُجُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৮৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٨٨) حضرت شریح فرماتے ہیں کہ باندی اسی طرح نماز پڑھے گی جس طرح باہر نکلتی ہے۔
(۶۲۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : تُصَلِّی الأَمَۃُ کَمَا تَخْرُجُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৮৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٨٩) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ باندی پر دوپٹہ لازم نہیں خواہ وہ اپنے آقا سے پیدا ہوئی ہو۔
(۶۲۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : لَیْسَ عَلَی الأَمَۃِ خِمَارٌ ، وَإِنْ وَلَدَتْ مِنْ سَیِّدِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٠) حضرت عطاء سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ باندی نے اپنے سر کی کھال کو اتار دیا ہے۔ یعنی اس پر حجاب واجب نہیں۔
(۶۲۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الأَمَۃَ قَدْ أَلْقَتْ فَرْوَۃَ رَأْسِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩١) حضرت عمر نے ایک باندی کو پردہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے مارا اور فرمایا کہ آزاد عورتوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
(۶۲۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَی عُمَرُ أَمَۃً لَنَا مُتَقَنِّعَۃً ، فَضَرَبَہَا ، وَقَالَ : لاَ تَتَشَبَّہِینَ بِالْحَرَائِرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٢) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ باندی نے اپنے سر کی کھال کو دیوار سے پیچھے اتار دیا ہے۔
(۶۲۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : ِإنَّ الأَمَۃَ قَدْ أَلْقَتْ فَرْوَۃَ رَأْسِہَا مِنْ وَرَائِ الْجِدَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٣) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۶۲۹۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، بِمِثْلِ حَدِیثِ وَکِیعٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٤) حضرت عمر نے ایک باندی کو پردہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے مارا اور فرمایا کہ آزاد عورتوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
(۶۲۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَی عُمَرُ جَارِیَۃً مُتَقَنِّعَۃً فَضَرَبَہَا ، وَقَالَ : لاَ تَشَبَّہِینَ بِالْحَرَائِرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٥) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک باندی آئی، وہ اسے کسی مہاجر یا انصاری کی وجہ سے جانتے تھے۔ اس پر ایک بڑی چادر تھی جس سے اس نے نقاب کر رکھا تھا۔ حضرت عمر نے اس سے سوال کیا کیا تم آزاد ہوگئی ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ پھر یہ چادر کیوں اوڑھ رکھی ہے ؟ اسے اپنے سر سے اتار دو ، چادر تو آزاد مومن عورتوں کے سر پر ہوتی ہے۔ اس پر وہ باندی بہانے بنانے لگی۔ چنانچہ حضرت عمر نے اپنا درہ اس کے سر پر مارا اور اس کی چادر اتار دی۔
(۶۲۹۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : دَخَلَتْ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَۃٌ ، قَدْ کَانَ یُعَرِّفُہَا لِبَعْضِ الْمُہَاجِرِینَ ، أَوِ الأَنْصَارِ وَعَلَیْہَا جِلْبَابٌ ، مُتَقَنِّعَۃً بِہِ ، فَسَأَلَہَا : عَتَقْتِ ؟ قَالَتْ : لاَ ، قَالَ : فَمَا بَالُ الْجِلْبَابِ ؟ ضَعِیہِ عَنْ رَأْسِکَ ، إِنَّمَا الْجِلْبَابُ عَلَی الْحَرَائِرِ مِنْ نِسَائِ الْمُؤْمِنِینَ ، فَتَلَکَّأَتْ فَقَامَ إِلَیْہَا بِالدِّرَّۃِ ، فَضَرَبَ بِہَا رَأْسَہَا حَتَّی أَلْقَتْہُ عَنْ رَأْسِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٦) حضرت ابو ہبیرہ نے حضرت شعبی سے سوال کیا کہ باندی کیسے نماز پڑھے گی ؟ انھوں نے فرمایا کہ جس طرح وہ نکلتی ہے اسی طرح نماز پڑھے گی۔
(۶۲۹۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَأَلَہُ أَبُو ہُبَیْرَۃَ : کَیْفَ تُصَلِّی الأَمَۃُ ؟ قَالَ : تُصَلِّی کَمَا تَخْرُجُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا باندھی بغیر دوپٹے کے نماز پڑھ سکتی ہے ؟
(٦٢٩٧) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب اپنے زمانہ خلافت میں کسی باندی کو دوپٹہ نہ لینے دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ دوپٹے آزاد عورتوں کے لیے ہیں۔ تاکہ انھیں تکلیف نہ دی جائے۔
(۶۲۹۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لاَ یَدَعُ فِی خِلاَفَتِہِ أَمَۃً تَقَنَّعُ ۔ قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : إِنَّمَا الْقِنَاعُ لِلْحَرَائِرِ ، لَکَیْ لاَ یُؤْذَیْنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی اور پرانی مسجد کا بیان
(٦٢٩٨) حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کا ایک عامل جنہیں انھوں نے زکوۃ کی وصول یابی کے لیے مقرر فرمایا تھا آئے انھوں نے دو مسجدوں کو دیکھا اور فرمایا کہ ان میں پرانی مسجد کون سی ہے ؟ انھیں بتایا گیا تو انھوں نے زیادہ پرانی مسجد میں نماز ادا کی۔
(۶۲۹۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: قَدِمَ عَامِلٌ لِمُعَاوِیَۃَ ، وَکَانَ بَعَثَہُ عَلَی الصَّدَقَاتِ ، فَنَزَلَ مَنْزِلاً، فَإِذَا ہُوَ بِمَسْجِدَیْنِ ، قَالَ : أَیُّہُمَا أَقْدَمُ ؟ فَأُخْبِرَ بِہِ ، فَأَتَی الَّذِی ہُوَ أَقْدَمُہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৯৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی اور پرانی مسجد کا بیان
(٦٢٩٩) حضرت لیث کہتے ہیں کہ فلاں مسجد میں حضرت ابو وائل کی نماز فوت ہوگئی تو انھوں نے فلاں مسجد میں ادا کی، حالانکہ ان دونوں مسجدوں کے درمیان کئی مسجدیں ایسی تھی جو نئی بنائی گئی تھیں، انھوں نے ان مسجدوں میں نماز نہیں پڑھی۔
(۶۲۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ لَیْثٍ ؛ أَنَّ أَبَا وَائِلٍ فَاتَتْہُ الصَّلاَۃ فِی مَسْجِدِ کَذَا وَکَذَا ، فَصَلَّی فِی مَسْجِدِ کَذَا وَکَذَا ، وَبَیْنَہُمَا مَسَاجِدُ کَثِیرَۃٌ مُحْدَثَۃٌ ، لَمْ یُصَلِّ فِیہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩০০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی اور پرانی مسجد کا بیان
(٦٣٠٠) حضرت ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک کے ساتھ کبھی کسی مسجد کے پاس آتا وہ اس کی اذان سنتے اور پوچھتے کہ کیا یہ نئی مسجد ہے ؟ لوگ کہتے جی ہاں۔ اس پر وہ اس مسجد سے آگے کسی اور مسجد کی تلاش میں چلے جاتے۔
(۶۳۰۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُمَارَۃَ الصَّیْدَلاَنِیِّ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ أَکُونُ مَعَ أَنَسٍ ، فَیَأْتِی عَلَی الْمَسْجِدِ فَیَسْمَعُ الأَذَانَ ، فَیَقُولُ : مُحْدَثٌ ہَذَا ؟ فَإِذَا قَالُوا : نَعَمْ ، تَجَاوَزَہُ إِلَی غَیْرِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩০১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی اور پرانی مسجد کا بیان
(٦٣٠١) حضرت مجاہد نئی مسجدوں کو چھوڑ کر پرانی مسجدوں میں جایا کرتے تھے۔
(۶۳۰۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَتَجَاوَزُ الْمَسَاجِدَ الْمُحْدَثَۃَ إِلَی الْقَدِیمَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩০২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی اور پرانی مسجد کا بیان
(٦٣٠٢) حضرت عوف فرماتے ہیں کہ مجھے ایک دیہاتی شخص نے بتایا کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں زکوۃ وصول کرنے کے لیے ان کا نمائندہ ہمارے پاس آیا۔ ایک دن وہ ہمارے چشمے پر بیٹھا تھا کہ نماز کا وقت ہوگیا۔ اس وقت اس چشمے پر دیہات والوں کی بہت سی مساجد تھیں۔ اس نے پوچھا کہ ان میں سے کون سی مسجد سب سے پہلے بنی ہے ؟ اسے بتایا گیا تو وہ اسی مسجد میں چلا گیا۔
(۶۳۰۲) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا مُصَدِّقٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ ، لَیَالِی مُعَاوِیَۃَ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ عَلَی مَائٍ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ ، قَالَ : وَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ ، وَعَلَی الْمَائِ مَسْجِدَانِ مِنْ مَسَاجِدِ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ ، قَالَ : أَیُّہُمَا بُنِیَ أَوَّلاً ؟ فَقِیلَ : ہَذَا ، فَقَصَدَ نَحْوَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩০৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئی اور پرانی مسجد کا بیان
(٦٣٠٣) حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی قوم کی مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں جاسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اسلاف اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کو اپنے وجود سے زیادہ کرے۔
(۶۳۰۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنِ الْحَسَنِ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَدَعُ مَسْجِدَ قَوْمِہِ وَیَأْتِی غَیْرَہُ؟ قَالَ: فَقَالَ الْحَسَنُ : کَانُوا یُحِبُّونَ أَنْ یُکَثِّرَ الرَّجُلُ قَوْمَہُ بِنَفْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩০৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی مسجد میں ایک رکعت پڑھ سکتا ہے ؟
(٦٣٠٤) حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ایک مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں ایک رکعت پڑھی، لوگوں نے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ نفل ہے، جو چاہے کم پڑھے اور جو چاہے زیادہ۔
(۶۳۰۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنْ عُمَر دَخَلَ الْمَسْجِد فَرَکَعَ فِیہِ رَکْعَۃً ، فَقَالُوا لَہُ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا ہُوَ تَطَوُّعٌ ، فَمَنْ شَائَ زَاد ، وَمَن شَائَ نَقَصَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩০৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا آدمی مسجد میں ایک رکعت پڑھ سکتا ہے ؟
(٦٣٠٥) حضرت قابوس کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ایک مسجد سے گذرے تو انھوں نے ایک رکعت پڑھی، ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ نفل ہے، مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں مسجد کو راستہ بنا لوں۔
(۶۳۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِی ظَبْیَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ فِی الْمَسْجِدِ فَرَکَعَ رَکْعَۃً ، فَقِیلَ لَہُ : إِنَّمَا رَکَعْتَ رَکْعَۃً ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا ہُوَ تَطَوُّعٌ ، وَکَرِہْتُ أَنْ أَتَّخِذَہُ طَرِیقًا۔
তাহকীক: