মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৬৮০৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨٠٦) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے۔
(۶۸۰۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ وِقَائٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : یُصَلِّی مَثْنَی مَثْنَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨٠٧) حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت علقمہ سے ملا اور میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ تم دو دو رکعتیں پڑھ لو۔
(۶۸۰۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، قَالَ : لَقِیتُ عَلْقَمَۃَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : صَلِّ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨٠٨) حضرت ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جب وتر پڑھ کر سو جاؤ اور پھر اٹھو تو صبح تک ایک رکعت کے ساتھ ایک ملاؤ۔
(۶۸۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلْقَمَۃَ ؟ فَقَالَ : إِذَا أَوْتَرْتَ ثُمَّ قُمْتَ، فَاشْفَعْ بِرَکْعَۃٍ حَتَّی تُصْبِحَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮০৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨٠٩) حضرت عائشہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی اپنے وتروں کو توڑ دیتا ہے ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ اپنے وتروں کے ساتھ کھیلتا ہے۔
(۶۸۰۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَائِشَۃَ ؛ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنِ الَّذِی یَنْقُضُ وَتْرَہُ ؟ فَقَالَتْ : ہَذَا یَلْعَبُ بِوِتْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨١٠) حضرت داؤد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنے وتروں کو توڑ دے تو انھوں نے فرمایا کہ ہمیں جوڑنے کا حکم دیا گیا ہے توڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
(۶۸۱۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُُہُ عَنِ الَّذِی یَنْقُضُ وِتْرَہُ ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالإِبْرَامِ ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِالنَّقْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨١١) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے وتر پڑھ لئے، پھر وہ اٹھا اور رات کا کچھ حصہ باقی تھا، اب وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے گا۔
(۶۸۱۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِذَا أَوْتَرَ ثُمَّ قَامَ وَعَلَیْہِ لَیْلٌ ؟ قَالَ : یُصَلِّی شَفْعًا شَفْعًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨١٢) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھ لے، پھر اسے رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنے کا موقع ملے تو وہ صبح تک دو دو رکعتیں پڑھے۔
(۶۸۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : إِذَا أَوْتَرَ الرَّجُلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ ، ثُمَّ بَدَا لَہُ أَنْ یُصَلِّیَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ ، فَلْیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتَّی یُصْبِحَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨١٣) حضرت زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وتر پڑھ کر سو جائے پھر رات کو نماز کے لیے اٹھے تو وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ دو دو رکعتیں پڑھے۔ اور اسلاف اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ لوگوں کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے۔
(۶۸۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَأَلْتُُہُ عَنِ الرَّجُلِ یُوتِرُ ثُمَّ یَسْتَیْقِظُ ؟ قَالَ : یُصَلِّی مَثْنَی مَثْنَی ، وَکَانُوا یَسْتَحِبُّونَ أَنْ یَکُونَ آخِرُ صَلاَتِہِمْ وِتْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وتر پڑھ کر سوئے اور پھر رات کو بیدار ہو تو ایک رکعت ملا کر وتروں کو جفت نہ بنائے، بلکہ آگے دو دو رکعتیں پڑھتا رہے
(٦٨١٤) حضرت طلق سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں پڑھے جاتے۔
(۶۸۱۴) حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ : لاَ وِتْرَانِ فِی لَیْلَۃٍ۔ (ترمذی ۴۷۰۔ ابوداؤد ۱۴۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨١٥) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ اور اقامت کے وقت دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
(۶۸۱۵ ) حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ (ح) وَحَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوتِرُ عِنْدَ الأَذَانِ ، وَیُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ مَعَ الإِقَامَۃِ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨١٦) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ اور اقامت کے وقت دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ حضرت سلام کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پہلی اذان کے وقت وتر پڑھتے تھے۔ حضرت سلام کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابواسحاق کو کہتے سنا ہے کہ آپ طلوع فجر کے وقت وتر پڑھتے تھے۔
(۶۸۱۶) حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَیْمٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ (ح) وَحَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوتِرُ عِنْدَ الأَذَانِ ، وَیُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ مَعَ الإِقَامَۃِ ۔ زَادَ سَلاَّمُ : الأَذَانَ الأَوَّلَ ، قَالَ سَلاَّمُ : وَسَمِعْت أَبَا إِسْحَاقَ مَرَّۃً ، قَالَ : یُوتِرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨١٧) حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں وتر پڑھتا ہوں اور امام صبح کی نماز کے لیے صف بنارہا ہوتا ہے۔
(۶۸۱۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : رُبَّمَا أَوْتَرْتُ وَإِنَّ الإِمَام لَصَافٍ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨١٨) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا میں مؤذن کی اقامت کے وقت وتر پڑھ سکتا ہوں ؟ انھوں نے کہا کہ ہاں تم اس وقت وتر پڑھ سکتے ہو۔
(۶۸۱۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أُوتِرُ وَالْمُؤَذِّنُ یُقِیمُ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَوْتِرْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮১৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨١٩) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اقامت کے وقت وتر پڑھا کرتے تھے۔
(۶۸۱۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یُوتِرُ عِنْدَ الإِقَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٠) حضرت ابو ظبیان کہتے ہیں کہ حضرت علی ہمارے پاس آتے تھے اور ہم صبح کی کرنیں دیکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ کہتے نماز ، نماز، یہ نماز کا کتنا اچھا وقت ہے۔ جب فجر طلوع ہوجاتی تو وہ دو رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کھڑی ہوجاتی اور وہ نماز پڑھتے۔
(۶۸۲۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو ظَبْیَانَ ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ یَخْرُجُ إِلَیْنَا وَنَحْنُ نَنْظرُ إِلَی تَبَاشِیرَ الصُّبْحِ ، فَیَقُولُ : الصَّلاَۃُ الصَّلاَۃُ ، نِعْمَ سَاعَۃُ الْوِتْرِ ہَذِہِ ، فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃ فَصَلَّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢١) حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتروں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ ابتدائی حصہ میں بھی اور درمیانی حصہ میں بھی۔ آپ نے وصال سے پہلے سحری کے وقت وتر کی نماز پڑھی ہے۔
(۶۸۲۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ: کُلُّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؛ أَوَّلَہُ، وَأَوْسَطَہُ ، فَانْتَہَی وِتْرُہُ حِینَ مَاتَ فِی السَّحَرِ۔ (ترمذی ۴۵۶۔ احمد ۶/۱۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٢) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۶۸۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی الضُّحَی ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ مِثْلَہُ۔ (بخاری ۹۹۶۔ ابوداؤد ۱۴۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٣) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ کے ساتھ رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ آپ اپنی آواز کو قراءت میں اتنا بلند کرتے کہ مسجد میں موجود سب لوگ سن سکتے تھے۔ آپ ترتیل سے پڑھتے تھے اور قراءت کو دہرا دہرا کر نہیں پڑھتے تھے۔ آپ فجر کے طلوع ہونے سے پہلے مغرب کی اذان سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک کے وقت کے برابر وتر کی نماز پڑھتے تھے۔
(۶۸۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ لَیْلَۃً کُلَّہَا ، فَکَانَ یَرْفَعُ صَوْتَہُ یَقْرَأُ قِرَائَۃً یُسْمِعُ أَہْلَ الْمَسْجِدِ ، یُرَتِّلُ ، وَلاَ یَرْجِعُ حَتَّی إِذَا کَانَ قَبْلَ أَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ بِمِقْدَارِ مَا بَیْنَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ إِلَی الاِنْصِرَافِ مِنْہَا أَوْتَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٤) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ وتر دو نمازوں کے درمیان ہے۔
(۶۸۲۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: الْوِتْرُ مَا بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٥) حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی سے پوچھا کہ وتر پڑھنے کا سب سے بہتر وقت کون سا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جب اذان دینے والے اذان کے دوران گردن کو لمبا کریں اور سر کو حرکت دیں۔
(۶۸۲۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قُلْتُ : أَیُّ سَاعَۃٍ أَحَبُّ إِلَیْک أَنْ أُوتِرَ ؟ قَالَ: إِذَا نعَبَ الْمُؤَذِّنُونَ۔
tahqiq

তাহকীক: