মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি

হাদীস নং: ৬৮২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٦) حضرت ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اقامت کے وقت بیدار ہو، کیا وہ وتر پڑھ لے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں وہ اس وقت وتر پڑھ لے۔
(۶۸۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبِیْدَۃَ عَنِ الرَّجُلِ یَسْتَیْقِظُ عِنْدَ الإِقَامَۃِ ؟ قَالَ : یُوتِرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٧) حضرت وبرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر فجر کے وقت تشریف لائے اور انھوں نے وتر ادا کئے۔
(۶۸۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَیَانَ ، عَنْ وَبَرَۃَ ، قَالَ : جَائَ ابْنُ عُمَرَ مَعَ الْفَجْرِ ، فَأَوْتَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٨) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے ہر حصے میں، ابتداء میں، درمیان اور اختتام کے موقع پر وتر ادا کئے ہیں۔ البتہ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب سے زیادہ وتر رات کے آخری حصہ میں ادا فرمائے ہیں۔
(۶۸۲۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مِنْ کُلِّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ مِنْ أَوَّلِہِ ، وَأَوْسَطِہِ ، وَآخِرِہِ ، وَلَکِنْ ثَبَتَ الْوِتْرُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔ (احمد ۷۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮২৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٢٩) حضرت ابن عباس رات کو اس وقت وتر پڑھتے جب رات کا اتنا حصہ باقی رہ جاتا جتنا حصہ مغرب کی نماز سے اب تک گذرا ہوتا۔
(۶۸۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُوتِرُ إِذَا بَقِیَ مِنَ اللَّیْلِ مِثْلُ مَا ذَہَبَ مِنْہُ إِلَی صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٣٠) حضرت عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ سے اذان کے بعد وتر کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ ہاں اذان کے بعد اور اقامت کے بعد بھی وتر پڑھے جاسکتے ہیں۔
(۶۸۳۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللہِ عَنِ الْوِتْرِ بَعْدَ الأَذَانِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَبَعْدَ الإِقَامَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٣١) حضرت حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، ایک مرتبہ انھیں دیر ہوگئی۔ انھوں نے فرمایا کہ میں وتر پڑھ رہا تھا۔
(۶۸۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ؛ أَنَّ أَبَا مَیْسَرَۃَ کَانَ یَؤُمُّ قَوْمَہُ ، فَأَبْطَأَ عَلَیْہِمْ ، فَقَالَ : إِنِّی کُنْتُ أُوتِرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات وتروں کو مؤخر کیا کرتے تھے
(٦٨٣٢) حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ ابتدائی حصہ میں بھی ، درمیانی حصہ میں بھی اور آخری حصہ میں بھی۔ آپ نے وصال سے پہلے سحری کے وقت وتر کی نماز پڑھی ہے۔
(۶۸۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی عَبْدِ اللہِ الْجَدَلِیِّ ، عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ ، قَالَ: مِنْ کُلِّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمَ ؛ مِنْ أَوَّلِہِ ، وَوَسَطِہِ، وَآخِرِہِ ، فَانْتَہَی وِتْرُہُ إِلَی السَّحَرِ۔ (احمد ۵/۲۷۲۔ طبرانی ۶۸۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٣) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لو۔
(۶۸۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا۔ (مسلم ۵۱۹۔ احمد ۳/۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھنے کو پسند فرماتے تھے۔
(۶۸۳۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یُحِبُّونَ أَنْ یُوتِرُوا مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وتر بھی رات کو پڑھے جائیں گے اور سحری بھی رات کو کھائی جائے گی۔
(۶۸۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الْوِتْرُ بِلَیْلٍ ، وَالسُّحُورُ بِلَیْلٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنا اچھا ہے اور افضل وقت آخری وقت ہے۔
(۶۸۳۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : الْوِتْرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّیْلِ حَسَنٌ ،وَأَفْضَلُہُ آخِرُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٧) حضرت حسن، حضرت ابراہیم اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وتر رات کے وقت پڑھے جائیں گے۔
(۶۸۳۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ (ح) وَمُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ (ح) وَعَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالُوا : الْوِتْرُ بِاللَّیْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٨) حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں رات کو وتر پڑھوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ساری رات عبادت کروں اور طلوع فجر کے بعد وتر پڑھوں۔
(۶۸۳۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لأَنْ أُوتِرَ بِلَیْلٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أُحْیِیَ لَیْلَتِی ، ثُمَّ أُوتِرُ بَعْدَ مَا أُصْبِحُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৩৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات صبح سے پہلے وتر پڑھنے کو مستحب قرار دیتے تھے
(٦٨٣٩) حضرت ابو حبیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ حضرت علی نے کس وقت کے بارے میں فرمایا کہ وتروں کا بہترین وقت یہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ فجر سے پہلے کی تاریکی کے بارے میں انھوں نے یہ بات فرمائی ہے۔
(۶۸۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی حَبِیبٍ ، قَالَ : قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : أَیُّ سَاعَۃٍ ، قَالَ عَلِیٌّ : نِعْمَ سَاعَۃِ الْوِتْرِ ہَذِہِ ، قَالَ : بِغَلَسٍ قَبْلَ الْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وتر ادا نہ کرے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(٦٨٤٠) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے اعلان کیا کہ فجر طلوع ہونے کے بعد وتر نہیں ہیں۔
(۶۸۴۰) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی ہَارُونَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنْ لاَ وِتْرَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وتر ادا نہ کرے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(٦٨٤١) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۶۸۴۱) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِی ہَارُونَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ بِنَحْوِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وتر ادا نہ کرے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(٦٨٤٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب تم نے فجر کی نماز پڑھ لی اور سورج طلوع ہوگیا تو وتروں کا وقت جاتا رہا۔
(۶۸۴۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا یُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: إِذَا صَلَّیْتَ الْغَدَاۃَ وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ ذَہَبَ الْوِتْرُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وتر ادا نہ کرے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(٦٨٤٣) حضرت ابراہیم اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب تم نے فجر کی نماز پڑھ لی اور سورج طلوع ہوگیا تو اس کے وتر نہیں ہیں۔
(۶۸۴۳) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ (ح) وَعَبْدُ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ : إِذَا صَلَّیْتَ الْغَدَاۃَ وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ فَلاَ وِتْرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وتر ادا نہ کرے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(٦٨٤٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز کے بعد وتر نہیں ہیں۔
(۶۸۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : لاَ وِتْرَ بَعْدَ الْغَدَاۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص وتر ادا نہ کرے اور فجر کی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
(٦٨٤٥) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جس نے صبح کی نماز پڑھ لی اور وتر نہ پڑھے تو اس پر وتر لازم نہیں۔
(۶۸۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : مَنْ صَلَّی الْغَدَاۃَ وَلَمْ یُوتِرْ ، فَلاَ وَتْرَ عَلَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক: