মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯৩৩ টি
হাদীস নং: ৬৯০৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩٠٦) حضرت مکحول تین رکعات وتر پڑھتے تھے اور آخر میں ہی سلام پھیرتے تھے۔
(۶۹۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ الْغَازِ ، عَنْ مَکْحُولٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُوتِرُ بِثَلاَثٍ ، لاَ یُسَلِّمُ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩٠٧) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ وتر میں دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا جائے گا۔
(۶۹۰۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : لاَ یُسَلَّمُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْوِتْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩٠٨) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے مجھے وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرنے سے منع کیا ہے۔
(۶۹۰۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ : نَہَانِی إِبْرَاہِیمُ أَنْ أُسَلِّمَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ مِنَ الْوِتْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩٠٩) حضرت زیاد بن ابی مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو عالیہ اور حضرت خلاس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وتروں میں اس طرح کرو جس طرح مغرب میں کرتے ہو۔
(۶۹۰۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِیَۃِ ، وَخِلاَسًا عَنِ الْوِتْرِ ؟ فَقَالاَ : اَصْنَعُ فِیہِ کَمَا تَصْنَعُ فِی الْمَغْرِبِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٠) حضرت انس نے تین رکعات وتر پڑھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرا۔
(۶۹۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّہُ أَوْتَرَ بِثَلاَثٍ ، لَمْ یُسَلِّمْ إِلاَّ فِی آخِرِہِنَّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١١) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ کے شاگرد وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا کرتے تھے۔
(۶۹۱۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ عَلِیٍّ ، وَأَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ لاَ یُسَلِّمُونَ فِی رَکْعَتَیِ الْوِتْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرا کرتے تھے۔
(۶۹۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ زُرَارَۃَ ، عَنْ سَعدِ بْنِ ہِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُسَلِّمُ فِی رَکْعَتَیِ الْوِتْرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٣) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
(۶۹۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی آلِ طَلْحَۃَ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُوتِرُ بِثَلاَثٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٤) حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
(۶۹۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَاذَانَ ؛ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یُوتِرُ بِثَلاَثٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٥) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رات کے آخری حصہ میں بیٹھ کر تین رکعات وتر پڑھا کرتے تھے۔
(۶۹۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَشُعْبَۃَ ، عَنْ عُمَر بْنِ مُرَّۃ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّہ کَانَ یُوتِرُ بِثَلاَثٍ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ ، قَاعِدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٦) حضرت ابو ایوب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم پانچ رکعت وتر پڑھو، اگر پانچ رکعت پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو تین رکعات پڑھ لو اور اگر تین کی بھی طاقت نہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اشارے سے نماز پڑھ لو۔
(۶۹۱۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَوْتِرْ بِخَمْسٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلاَثٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَۃٍ ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِیمَائً۔ (احمد ۴۱۸۔ دارمی ۱۵۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات تین یا تین سے زیادہ وتر پڑھا کرتے تھے
(٦٩١٧) ایک اور سند سے بھی یونہی منقول ہے لیکن وہ حضرت ابو ایوب کا اپنا قول ہے۔
(۶۹۱۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ؛ نَحْوَہُ ، وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ (نسائی ۱۴۰۲۔ طحاوی ۲۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩١٨) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتروں کو عید الفطر اور عیدا لاضحی کی نمازوں کی طرح سنت قراردیا ہے۔
(۶۹۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَکِیمِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : سَنَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْوِتْرَ کَمَا سَنَّ الْفِطْرَ وَالأَضْحَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩١٩) حضرت علی فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہیں۔
(۶۹۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : الْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ کَالصَّلاَۃ الْمَکْتُوبَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩٢٠) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں۔
(۶۹۲۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : الْوِتْرُ سُنَّۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩٢١) حضرت مسلم مولی عبد القیس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر سے فرمایا کہ آپ کے خیال میں وتر سنت ہیں یا کچھ اور ؟ انھوں نے فرمایا کہ سنت کیا ہوتی ہے ؟ اللہ کے رسول حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں ! اس آدمی نے کہا کہ نہیں، یہ سنت ہیں یا نہیں ؟ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ رک جاؤ، کیا تم سمجھتے نہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل اسلام نے وتر پڑھے ہیں۔
(۶۹۲۱) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ مَوْلًی لِعَبْدِ الْقَیْسِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لْاِبْنِ عُمَرَ : أَرَأَیْتَ الْوِتْرَ ، سُنَّۃٌ ہُوَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : مَا سُنَّۃٌ ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ،وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : لاَ، أُسُنَّۃُ ہُوَ ؟ قَالَ : مَہْ ، أَتَغْفُلُ ، أَوْتَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩٢٢) حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے سوال کیا گیا کہ کیا وتر پڑھنا فرض ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وتر پڑھے ہیں اور مسلمانوں نے بھی وتر پڑھے ہیں۔
(۶۹۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : قیلَ لَہُ : الْوِتْرُ ، فَرِیضَۃٌ ہِیَ ؟ فَقَالَ : قَدْ أَوْتَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَثَبَتَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ۔ (احمد ۱/۱۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩٢٣) بنو کنانہ کے ایک شخص جن کا نام مخدجی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ شام میں موجود ایک انصاری صحابی ابو محمد فرمایا کرتے تھے کہ وتر واجب ہیں۔ مخدجی فرماتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا تو حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد جھوٹ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ نمازیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض فرمایا ہے۔ جس شخص نے ان نمازوں کو اس طرح ادا کیا کہ ان کے حق میں کمی نہ کی تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے۔ جس نے ان نمازوں کے حق میں کمی کی اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو جنت میں داخل کردے۔
(۶۹۲۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَہُ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ الْقُرَشِیِّ ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ ، عَنِ الْمُخْدَجِیِّ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ کَانَ بِالشَّامِ ، یُکَنَّی : أَبَا مُحَمَّدٍ ، وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ ، وَکَانَ یَقُولُ : الْوِتْرُ وَاجِبٌ ، فَذَکَرَ الْمُخْدَجِیُّ أَنَّہُ رَاحَ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ ، کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَادِ ، مَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْ حَقِّہِنَّ شَیْئًا ، جَائَ وَلَہُ عِنْدَ اللہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ اللَّہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ حَقِّہِنَّ شَیْئًا ، جَائَ وَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ۔ (ابوداؤد ۱۴۱۵۔ ابن حبان ۱۷۳۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩٢٤) حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت عامر سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو وتر پڑھنا بھول جائے۔ انھوں نے فرمایا کہ انھیں بھول جانے کا نقصان فرض نماز کو بھولنے کی طرح نہیں۔
(۶۹۲۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ یَنْسَی الْوِتْرَ ؟ قَالَ : لاَ یَضُرُّہُ ، کَأَنَّمَا ہُوَ فَرِیضَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯২৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتر سنت ہیں
(٦٩٢٥) حضرت حسن وتروں کو فرض نہیں سمجھتے تھے۔
(۶۹۲۵) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ لاَ یَرَی الْوِتْرَ فَرِیضَۃً۔
তাহকীক: