মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩৬৭ টি

হাদীস নং: ১১৭৪৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کی دعائے جنازہ میں سے کیا چیز میت تک پہنچتی ہے
(١١٧٤٥) حضرت مالک بن ھبیرہ الشامی کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو جو ان کے ساتھ ہوتے آپ ان سے فرماتے ان لوگوں کی تین صفیں بناؤ، پھر اس پر تین صفیں بنیں اور آپ نے جنازہ پڑھا کر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ کسی میت پر بھی تین صفیں نہیں بنتیں مگر اس کے لیے شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔
(۱۱۷۴۵) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْیَزَنِیِّ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ الشَّامِیِّ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ ، قَالَ : کَانَ إذَا أُتِی بِجِنَازَۃٍ ، فَتَقَالَّ مَنْ مَعَہَا ، جَزَّأَہُمْ صُفُوفًا ثَلاَثَۃً ، ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَا ، وَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا صَفَّتْ صُفُوفٌ ثَلاَثَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی مَیِّتٍ إِلاَّ أَوْجَبَ۔ (ترمذی ۱۰۲۸۔ ابوداؤد ۳۱۵۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کی دعائے جنازہ میں سے کیا چیز میت تک پہنچتی ہے
(١١٧٤٦) حضرت عسعس بن سلامہ فرماتے ہیں جس کے حق میں چالیس لوگ شفاعت کریں ان کی شفاعت قبول کرلی جاتی ہے۔ اور جس کے حق میں دس لوگ شفاعت کریں (گواہی دیں) ان کی گواہی قبول کرلی جاتی ہے۔
(۱۱۷۴۶) حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنَا بُکَیْر بْنُ أَبِی السُّمَیْطِ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ ، عَنْ عَسْعَسِ بْنِ سَلاَمَۃَ ، قَالَ : مَنْ شَفَعَ لَہُ أَرْبَعُونَ قُبِلَتْ شَفَاعَتُہُمْ وَمَنْ شَہِدَ لَہُ عَشَرَۃٌ قُبِلَتْ شَہَادَتُہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کی دعائے جنازہ میں سے کیا چیز میت تک پہنچتی ہے
(١١٧٤٧) حضرت ابوہریرہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس پر سو مسلمان نماز ادا کریں اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
(۱۱۷۴۷) حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : مَنْ صَلَّی عَلَیْہِ مِئَۃ مِنَ الْمُسْلِمِینَ غُفِرَ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٤٨) حضرت جریر سے مرفوعا مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لحد ھمارے لیے ہے اور شق ہمارے غیر کے لیے ہے۔
(۱۱۷۴۸) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِی الْیَقْظَانِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِیرٍ رَفَعَہُ ، قَالَ : اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَیْرِنَا۔ (ابن ماجہ ۱۵۵۵۔ طبرانی ۲۳۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٤٩) حضرت حفص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحد (بغلی قبر) بنائی گئی۔
(۱۱۷۴۹) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لُحِدَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٠) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کے لیے لحد قبر کھودی گئی، پھر تم نے اس پر فخر کیا۔
(۱۱۷۵۰) حدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لُحِدَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْرُہُ ، وَلأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ، ثُمَّ تَفَاخَرْتُمْ۔ (ابن سعد ۲۹۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥١) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لحد میں دفن کیا گیا۔
(۱۱۷۵۱) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : دُفِنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَحْدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٢) حضرت ہشام بن عروہ فقہاء اھل مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ میں دو شخص تھے جو قبریں کھودا کرتے تھے، ان میں سے ایک شق والی قبر بناتا تھا اور دوسرا لحد والی، جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دنیا سے پردہ فرمایا تو صحابہ کرام نے فرمایا جاؤ جا کر ان میں سے جو بھی نظر آئے اسے کہو کہ آ کر اپنا کام کرے۔ پھر وہ شخص آیا جو لحد کھودا کرتا تھا، صحابہ کرام نے اس کو حکم دیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحد کھودے۔
(۱۱۷۵۲) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ فُقَہَائِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : کَانَ بِالْمَدِینَۃِ رَجُلاَنِ یَحْفُرَانِ الْقُبُورَ ، قَالَ : فَکَانَ أَحَدُہُمَا یَشُقُّ وَالآخَرُ یَلْحَدُ ، فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا: أَیُّہُمَا طَلَعَ فَمُرُوہُ فَلْیَعْمَلْ بِعَمَلِہِ الَّذِی کَانَ یَعْمَلُ فَطَلَعَ الَّذِی کَانَ یَلْحَدُ فَأَمَرُوہُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ابن سعد ۲۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٣) حضرت عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو تمام صحابہ کرام جمع ہوگئے، ایک شخص تھا جو لحد والی قبریں بناتا تھا اور دوسرا شخص شق والی قبریں، صحابہ کرام نے دعا فرمائی اے اللہ ! ان میں سے کسی ایک کو چن لے (اختیار فرما) تو جو شخص لحد والی قبریں کھودتا تھا وہ آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحد والی قبر کھودی۔
(۱۱۷۵۳) حدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ مَاتَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَانَ الرَّجُلُ یَلْحَدُ وَالآخَرُ یَشُقُّ فَقَالُوا : اللَّہُمَّ خِرْہ لَنَا فَطَلَعَ الَّذِی کَانَ یَلْحَدُ فَلَحَدَ لَہُ۔ (ابن ماجہ ۱۶۲۸۔ احمد ۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٤) حضرت ابو جعفر، حضرت سالم، اور حضرت قاسم فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر کی مبارک قبور قبلہ کی طرف جھکی ہوئی (رخ قبلہ کی طرف ہیں) اور ان میں (کچی) اینٹیں نصب ہیں اور وہ لحد کی صورت میں کھو دی گئی ہیں۔
(۱۱۷۵۴) حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ وَسَالِمٍ وَالْقَاسِمِ قَالُوا : کَانَ قَبْرُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ جُِثًا قِبْلَۃً نُصِبَ لَہُمُ اللَّبِنَ نَصْبًا وَلُحِدَ لَہُمْ لَحْدًا۔ (ابن سعد ۲۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٥) حضرت عبداللہ بن عمر ارشاد فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر صدیق، اور حضرت عمر کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
(۱۱۷۵۵) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لُحِدَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٦) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
(۱۱۷۵۶) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لُحِدَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَحْدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٧) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم شق والی قبر کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے بغلی قبر بنائی جائے۔
(۱۱۷۵۷) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ الشَّقَّ فِی الْقَبْرِ وَیَقُولُ یُصْنَعُ فِیہِ لَحْدٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٨) حضرت سعید فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بغلی قبر بنائی گئی۔
(۱۱۷۵۸) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، أَنَّ النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَحَدُوا لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٥٩) حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے لیے بغلی قبر بنائی جائے۔
(۱۱۷۵۹) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، وَعَنِ الْعُمَرِیِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْصَی أَنْ یُلْحَدَ لَہُ۔ (احمد ۳/۲۴۔ ابن سعد ۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٦٠) حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحد والی قبر بنوائی۔
(۱۱۷۶۰) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ المُجَالِدِ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ لَحَدْنَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٦١) حضرت البرائ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک جنازے میں تھے پھر ہم اس کی قبر تک آئے جب دیکھا تو اس کے لیے لحد کھودی گئی تھی۔
(۱۱۷۶۱) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی جِنَازَۃٍ فَانْتَہَیْنَا إلَی القَبْرِ وَلَمَّا یُلْحَدْ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٦٢) حضرت انس سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (غزوہ احد کے موقع پر) ارشاد فرمایا : دیکھو ان مں ے سے جس کو زیادہ قرآن پاک یاد تھا اس کو لحد میں مقدم رکھو۔
(۱۱۷۶۲) حدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ أُسَامَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : انْظُرُوا أَیُّہُمْ أَکْثَرُ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ فَقَدِّمُوہُ فِی اللَّحْدِ۔ (ترمذی ۱۰۱۶۔ ابوداؤد ۳۱۲۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کے لیے لحد کا حکم ہے اور شق کو ناپسند کیا گیا ہے
(١١٧٦٣) حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ، تین شخصوں کو لحد میں جمع فرمایا : (اکٹھا دفن کیا) ۔
(۱۱۷۶۳) حدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ وَالثَّلاَثَۃِ فِی اللَّحْدِ۔ (بیہقی ۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ میت کو قبر میں کتنے لوگ داخل کریں گے
(١١٧٦٤) حضرت امام شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت علی، حضرت فضل اور حضرت اسامہ نے غسل دیا اور قبر میں داخل کیا۔ حضرت علی فرما رہے تھے یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ کی زندگی بھی پاکیزہ تھی اور موت بھی پاکیزہ ہے۔

ابن ابی مرحب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے، حضرت شعبی فرماتے ہیں میت کے اھل سے زیادہ کون قریبی ہوسکتا ہے ؟
(۱۱۷۶۴) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : غَسَّلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیٌّ وَالْفَضْلُ وَأُسَامَۃُ وَأَدْخَلُوہُ قَبْرَہُ ، وَجَعَلَ عَلِیٌّ یَقُولُ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی طِبْت حَیًّا وَمَیِّتًا۔

قاَلَ : وَحدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْحَبٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ مَعَہُمُ الْقَبْرَ ، قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : مَنْ یَلِی الْمَیِّتَ إِلاَّ أَہْلُہُ ؟۔ (ابوداؤد ۳۲۰۱۔ ابن سعد ۲۷۷)
tahqiq

তাহকীক: