মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩২৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے یوں کہا اس گھوڑے کے بارے میں جس کو چھوڑ دیا جائے اور اس کو دوڑانے کے لیے آوازیں لگائی جائیں
(٣٣٢٨٩) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کو دوڑانے کے لیے شور مچانا درست نہیں اور گھوڑ دوڑ کے دوران اپنے پہلو میں گھوڑا رکھنا کہ جب یہ سست پڑجائے تو دوسرے پر سوار ہوجائے یہ بھی درست نہیں ہے۔
(۳۳۲۸۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ جَلَبَ ، وَلاَ جَنَبَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے یوں کہا اس گھوڑے کے بارے میں جس کو چھوڑ دیا جائے اور اس کو دوڑانے کے لیے آوازیں لگائی جائیں
(٣٣٢٩٠) حضرت عمران بن حصین (رض) سے ما قبل حدیث موقوفاً اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۳۲۹۰) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ بِمِثْلِہِ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے یوں کہا اس گھوڑے کے بارے میں جس کو چھوڑ دیا جائے اور اس کو دوڑانے کے لیے آوازیں لگائی جائیں
(٣٣٢٩١) حضرت عطائ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اسلام میں نہ تو گھوڑے کو دوڑانے کے لے شور مچانا درست ہے۔ اور گھوڑ دوڑ کے دوران اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھنا تاکہ پہلے گھوڑے کے سست ہونے کی صورت میں دوسرے پر سوار ہوجائے یہ بھی درست نہیں ہے۔
(۳۳۲۹۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ الْعَبْسِیُّ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ جَلَبَ ، وَلاَ جَنَبَ فِی الإِسْلاَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے یوں کہا اس گھوڑے کے بارے میں جس کو چھوڑ دیا جائے اور اس کو دوڑانے کے لیے آوازیں لگائی جائیں
(٣٣٢٩٢) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کو دوڑانے کے لیے شور مچانا درست نہیں ہے اور گھوڑ دوڑ کے دوران اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھنا تاکہ پہلے گھوڑے کے سست ہونے کی صورت میں دوسرے پر سوار ہوجائے یہ بھی درست نہیں ہے۔
(۳۳۲۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ جَلَبَ ، وَلاَ جَنَبَ۔ (ابوداؤد ۱۵۸۷۔ احمد ۱۸۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بزدلی کے بارے میں لوگوں کی آراء اور اس کے بارے میں چند روایات کا بیان
(٣٣٢٩٣) حضرت ابو عمران الجونی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بزدل کے لیے دو اجر ہیں۔
(۳۳۲۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہمام ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لِلْجَبَانِ أَجْرَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بزدلی کے بارے میں لوگوں کی آراء اور اس کے بارے میں چند روایات کا بیان
(٣٣٢٩٤) حضرت عبد الکریم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک اپنے دل میں بزدلی محسوس کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ جہاد میں شریک مت ہو۔
(۳۳۲۹۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃَ : إذَا أَحَسَّ أَحَدُکُمْ مِنْ نَفْسِہِ جُبْنًا ؛ فَلاَ یَغْزُوَنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بزدلی کے بارے میں لوگوں کی آراء اور اس کے بارے میں چند روایات کا بیان
(٣٣٢٩٥) حضرت فضیل بن فضالہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدردائ (رض) نے ارشاد فرمایا : بزدلوں کی آنکھیں نہیں سوتیں۔
(۳۳۲۹۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرٍ ، عَنِ الْفُضَیْلِ بْنِ فَضَالَۃَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : لاَ نَامَتْ عُیُونُ الْجُبَنَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے زمانہ جاہلیت کے قید اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٢٩٦) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمانہ جاہلیت کے قیدیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا : بچہ کے بارے میں آٹھ اونٹوں کا اور عورت کے بارے میں دس اونٹوں کا یا ایک غرہ کا، غرہ سے مراد غلام یا باندی ہے۔
(۳۳۲۹۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَبْیِ الْجَاہِلِیَّۃِ فِی الْغُلاَمِ ثَمَانِیًا مِنَ الإِبِلِ ، وَفِی الْمَرْأَۃِ عَشْرًا مِنَ الإِبِلِ ، أَوْ غُرَّۃَ عَبْدٍ ، أَوْ أَمَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے زمانہ جاہلیت کے قید اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٢٩٧) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : عربی پر کسی کو بھی ملکیت حاصل نہیں ۔ اور ہم اس کو مجبور نہیں کریں گے ذرا سا بھی کہ وہ اسلام قبول کرے۔ لیکن ہم اس کو مسلمان کے حق میں حصہ مقرر کردیں گے ۔ کہ پانچ پانچ اونٹ دیے جائیں۔
(۳۳۲۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : لَیْسَ عَلَی عَرَبِیٍّ مِلْک ، وَلَسْنَا بِنَازِعِی مِنْ أَحَدٍ شیئا أَسْلَمَ عَلَیْہِ ، وَلَکِنَّا نُقَوِّمُہُمْ للملۃ : خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ خَمْسٌ مِنَ الإِبِلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بعض لوگوں نے زمانہ جاہلیت کے قید اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٢٩٨) حضرت رباح بن حارث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عرب کے ان قیدیوں کے بارے میں فیصلہ فرمایا جنہوں نے اسلام سے پہلے یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے ایک دوسرے کو قیدی بنا لیا تھا۔ کہ جو شخص بھی اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو جانتا ہو کہ وہ عرب کے قبیلوں میں سے فلاں قبیلہ میں غلام ہے۔ تو اس کا فدیہ ایک غلام کے بدلے دو غلام ہوگا۔ اور ایک باندی کے بدلے دو باندیاں ہوں گی۔
(۳۳۲۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ صَدَقَۃَ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ یَقْضِی فِیمَا سَبَتِ الْعَرَبُ بَعْضُہَا علی بَعْضٍ قَبْلَ الإِسْلاَمِ وَقَبْلَ أَنْ یُبْعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ عَرَفَ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ مَمْلُوکًا مِنْ حَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَفِدَاہُ الْعَبْدِ بِالْعَبْدَیْنِ وَالأَمَۃِ بِالأَمَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٢٩٩) حضرت ابو البختری (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان (رض) اہل فارس سے جنگ میں شریک ہوئے تو فرمایا : رکو یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کو دعوت دی ۔ پس آپ (رض) ان کے پاس آئے اور فرمایا : یقیناً میں تمہارے میں سے ہی ایک آدمی ہوں۔ اور تحقیق تم نے ان لوگوں میں میرے مرتبہ کو جان لیا ہے۔ اور میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہیں بھی وہی ملے گا جو ہمارے لیے ہیں۔ اور تم پر بھی وہی کام لازم ہوں گے جو ہم پر لازم ہیں۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو تم جزیہ ادا کروہاتھ سے اور چھوٹے بن کر رہو اور اگر تم اس کا بھی انکار کرو گے تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ پس ان لوگوں نے سب باتوں کا انکار کردیا۔ تو آپ (رض) نے لوگوں سے کہا : دشمن کے سامنے ڈٹ جاؤ اور لڑائی شروع کردو۔
(۳۳۲۹۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا غَزَا سَلْمَانُ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ فَارِسَ ، قَالَ : کُفُّوا حَتَّی أَدْعُوَہُمْ کَمَا کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوہُمْ ، فَأَتَاہُمْ ، فَقَالَ : إنِّی رَجُلٌ مِنْکُمْ وقَدْ تَدْرُونَ مَنْزِلِی مِنْ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ، وَإِنَّا نَدْعُوکُمْ إلَی الإِسْلاَمِ، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَکُمْ مِثْلُ مَا لَنَا ، وَعَلَیْکُمْ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْنَا ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ ، وَإِنْ أَبَیْتُمْ قَاتَلْنَاکُمْ فَأَبَوْا عَلَیْہِ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : انْہَدُوا إلَیْہِمْ۔ (احمد ۴۴۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٠) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو کسی سریہ یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو وصیت فرماتے کہ جب تم اپنے دشمن مشرکین سے ملو۔ تو تم ان کو تین باتوں یا عادتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دو ۔ پس وہ لوگ ان میں سے جس بات کو بھی مان لیں تم اس کو قبول کرو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ ۔ سب سے پہلے ان کو اسلام کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ قبول کرلیں تو ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ اور ان کا اسلام قبول کرو۔ پھر ان کو اس بات کی طرف دعوت دو کہ وہ اپنے علاقہ کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقہ میں آجائیں اور ان کو بتلا دو بیشک اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی اجر وثواب ہوگا جو مہاجرین کے لیے ہے اور ان پر وہی اعمال لازم ہوں گے جو مہاجرین پر لازم ہیں اگر وہ اس بات سے انکار کردیں ۔ اور اپنے شہر ہی کا انتخاب کریں تو پھر بھی ان کو بتلا دو کہ وہ لوگ مسلمان دیہاتیوں کی طرح ہوں گے۔ ان پر اللہ کا وہی حکم جاری ہوگا جو مومنین پر جاری ہوتا ہے۔ اور ان کا مال فئی اور مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔ پس اگر وہ اس بات کا بھی انکار کردیں تو ان کو جزیہ دینے کی طرف بلاؤ۔ اگر وہ مان جائیں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرو اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جاؤ۔ اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے قتال کرو۔
(۳۳۳۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ ، أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فَقَالَ : إذَا لَقِیتَ عَدُوَّک مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إلَی إحْدَی ثَلاَثِ خِصَالٍ ، أَوْ خِلاَلٍ ، فَأَیَّتُہُنَّ مَا أَجَابُوک إلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ: ادْعُہُمْ إلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَجَابُوک فَکُفَّ عَنْہُمْ وَاقْبَلْ مِنْہُمْ ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ ، وَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ ، وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ ، وَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَہُمْ فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللہِ الَّذِی یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ ، وَلاَ یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلاَّ أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ ، فَإِنْ أَبَوْا فَادْعُہُمْ إلَی إعْطَائِ الْجِزْیَۃِ ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ ، وَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللہِ وَقَاتِلْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠١) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جزیرہ عرب کے لوگوں سے اسلام پر جہاد کیا اور اسلام کے علاوہ ان سے کوئی دوسری بات قبول نہیں کی۔ اور یہ افضل ترین جہاد تھا اور اس کے بعد دوسرا جہاد اہل کتاب کے ذلیل ترین لوگوں سے کیا جس کا آیت میں ذکر ہے : { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } سے آیت کے آخر تک۔ ترجمہ : جنگ کرو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حضرت حسن (رض) نے فرمایا : ان دونوں کے سوا جو بھی صورت ہوگی وہ بدعت اور گمراہی ہوگی۔
(۳۳۳۰۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَاتَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْلَ ہَذِہِ الْجَزِیرَۃِ مِنَ الْعَرَبِ عَلَی الإِسْلاَمِ وَلَمْ یَقْبَلْ مِنْہُمْ غَیْرَہُ ، وَکَانَ أَفْضَلَ الْجِہَاد ، وَکَانَ بَعْدَہُ جِہَادٌ آخَرُ عَلَی ہَذِہِ الطُّغْمَۃِ فِی أَہْلِ الْکِتَابِ : {قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ} إلَی آخِرِ الآیَۃِ ، قَالَ الْحَسَنُ : مَا سِوَاہُمَا بِدْعَۃٌ وَضَلاَلَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن والوں کی طرف خط لکھا : کہ جو شخص ہماری نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف استقبال کرے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے، پس وہ مسلمان ہے۔ اس کے لیے اللہ کا ذمہ ہے اور اس کے لیے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذمہ ہے۔ اور جو ان باتوں کا انکار کرے تو اس پر جزیہ لازم ہے۔
(۳۳۳۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی أَہْلِ الْیَمَنِ : مَنْ صَلَّی صَلاَتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَکَلَ ذَبِیحَتَنَا فَذَلِکُمَ الْمُسْلِمُ ، لَہُ ذِمَّۃُ اللہِ وَذِمَّۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ أَبَی فَعَلَیْہِ الْجِزْیَۃُ۔ (بخاری ۳۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٣) حضرت ابو وائل (رض) اور حضرت ابراہیم (رض) دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافر لیں۔
(۳۳۳۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ وَإِبْرَاہِیمَ ، قَالاَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إلَی الْیَمَنِ وَأَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ الْجِزْیَۃَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِینَارًا ، أَوْ عِدْلَہُ مَعَافِرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٤) حضرت اسلم (رض) جو کہ حضرت عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جزیہ وصول کرنے والے امیروں کی طرف خط لکھا : تم جزیہ مقرر نہ کرو مگر اس شخص پر جو بالغ ہو اور تم بچوں اور عورتوں پر بھی جزیہ مقرر مت کرو۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جزیہ دینے والوں کی گردنوں میں مہر لگاتے تھے۔
(۳۳۳۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إلَی أُمَرَائِ الْجِزْیَۃِ : لاَ تَضَعُوا الْجِزْیَۃَ إِلاَّ عَلَی مَنْ جَرَتْ عَلَیْہِ الْمُوسَی ، وَلاَ تَضَعُوا الْجِزْیَۃَ عَلَی النِّسَائِ ، وَلاَ عَلَی الصِّبْیَانِ ، قَالَ : وَکَانَ عُمَرُ یَخْتِمُ أَہْلَ الْجِزْیَۃِ فِی أَعْنَاقِہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٥) حضرت لیث (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد (رض) نے ارشاد فرمایا : بتوں کے پجاریوں سے اسلام کی بنیاد پر قتال کیا جاتا تھا، اور اہل کتاب سے جزیہ کی بنیاد پر قتال کیا جاتا تھا۔
(۳۳۳۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : یُقَاتَلُ أَہْلُ الأَدْیَانِ عَلَی الإِسْلاَمِ وَیُقَاتَلُ أَہْلُ الْکِتَابِ عَلَی الْجِزْیَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٦) حضرت مسروق (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو ان کو حکم دیا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافر لیں۔
(۳۳۳۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن مَسْرُوقٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إلَی الْیَمَنِ أَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِینَارًا ، أَوْ عَدْلَہُ مَعَافِرَ۔ (ابوداؤد۳۰۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٧) حضرت ابو مجلز (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ہر شخص پر سال میں چوبیس درہم مقرر فرمائے۔ اور عورتوں اور بچوں سے ہٹا دیا۔
(۳۳۳۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ عَلَی کُلِّ رَأْسٍ فِی السَّنَۃِ أَرْبَعًا وَعِشْرِینَ ، وَعَطَّلَ النِّسَائَ وَالصِّبْیَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٨) حضرت اسلم (رض) جو کہ حضرت عمر (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے تمام گورنروں کو خط لکھا : کہ عورتوں اور بچوں سے جزیہ وصول نہ کرو، اور نہ وصول کرو مگر بالغ شخص سے، اور ان کی گردنوں پر مہر لگا دو ۔ اور جزیہ ان لوگوں کے پیشہ کے اعتبار سے مقرر کرو۔ چاندی والوں پر چالیس درہم لازم ہیں۔ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کی تنخواہیں بھی۔ اور سونے والوں پر چار دینار لازم ہیں۔ اور شام والوں پر دو مد گندم ، اور تین قسط دو من زیتون، اور مصر والوں پر چوبیس صاع گندم، کپڑوں کے جوڑے ، اور شہد۔۔۔ حضرت نافع (رض) ان کی مقدار محفوظ نہ رکھ سکے کہ مقدار کتنی مقرر فرمائی۔ اور عراق والوں پر پندرہ صاع گندم : راوی کہتے ہیں : حضرت عبید اللہ نے جوڑے بھی ذکر فرمائے اور میں اس کو یاد نہ رکھ سکا۔
(۳۳۳۰۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إلَی عُمَّالِہِ : لاَ تَضْرِبُوا الْجِزْیَۃَ عَلَی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ، وَلاَ تَضْرِبُوہَا إِلاَّ عَلَی مَنْ جَرَتْ عَلَیْہِ الْمُوسَی ، وَیَخْتِمُ فِی أَعْنَاقِہِمْ ، وَجَعَلَ جِزْیَتَہُمْ عَلَی رُؤُوسِہِمْ : عَلَی أَہْلِ الْوَرِقِ أَرْبَعِینَ دِرْہَمًا ، وَمَعَ ذَلِکَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِینَ ، وَعَلَی أَہْلِ الذَّہَبِ أَرْبَعَۃُ دَنَانِیرَ ، وَعَلَی أَہْلِ الشَّامِ مِنْہُمْ مُدَّیْ حِنْطَۃٍ وَثَلاَثَۃُ أَقْسَاطِ زَیْتٍ وَعَلَی أَہْلِ مِصْرَ إرْدَبُّ حِنْطَۃٍ وَکِسْوَۃٌ وَعَسَلٌ لاَ یَحْفَظُ نَافِعٌ کَمْ ذَلِکَ وَعَلَی أَہْلِ الْعِرَاقِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا حِنْطَۃً ، قَالَ : قَالَ عُبَیْدُ اللہِ : وَذَکَرَ کِسْوَۃً لاَ أَحْفَظُہَا۔ (بیہقی ۱۹۵)
tahqiq

তাহকীক: