মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৩০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣٠٩) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بن سعد (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے ذمیوں سے لیے جانے والے اموال کے متعلق پوچھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ضرورت سے زائد۔
(۳۳۳۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ إبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ : مَا یُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ ، قَالَ : الْعَفْوُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣١٠) حضرت عنترہ ابو وکیع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) جزیہ میں سامان وصول کرتے تھے، کھیتی والوں سے کھیتی ، کھجور والوں سے کھجور، اور رسی ساز سے رسی وصول کرتے تھے۔
(۳۳۳۱۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ عَنْتَرَۃَ أَبِی وَکِیعٍ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَأْخُذُ الْعُرُوضَ فِی الْجِزْیَۃِ ، مِنْ أَہْلِ الإِبَرِ الإِبَرَ ، وَمِنْ أَہْلِ الْمَسَالِّ الْمَسَالَّ وَمِنْ أَہْلِ الْحِبَالِ الْحِبَالَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣١١) حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے آدمیوں کی حالت کے اعتبار سے ان پر جزیہ مقرر فرمایا : مالدار پر اڑتالیس درہم، متوسط آدمی پر چوبیس درہم اور فقیر پر بارہ درہم۔
(۳۳۳۱۱) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ ، قَالَ : وَضَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یعنی فِی الْجِزْیَۃِ عَلَی رُؤُوسِ الرِّجَالِ : عَلَی الْغَنِیِّ ثَمَانِیَۃً وَأَرْبَعِینَ ، دِرْہَمًا وَعَلَی الْوَسَطِ أَرْبَعَۃً وَعِشْرِینَ ، وَعَلَی الْفَقِیرِ اثْنَیْ عَشَرَ دِرْہَمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
(٣٣٣١٢) حضرت معقل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے اپنے عمال کی طرف خط لکھا۔ اہل کتاب سے صرف اصل جزیہ وصول کیا جائے گا۔ اور راہ فرار اختیار کرنے والے کی طرف سے اور مردے کی طرف سے کچھ وصول نہیں کیا جائے گا ۔ اور زمین والوں کے بھاگنے کی صورت میں کچھ وصول نہیں کیا جائے گا۔
(۳۳۳۱۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ مَعْقِلٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : لاَ یُؤْخَذُ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلاَّ صلب الْجِزْیَۃِ ، وَلاَ یُؤْخَذُ مِنْ فَارٍّ ، وَلاَ مِنْ مَیِّتٍ ، وَلاَ یُؤْخَذُ أَہْلُ الأَرْضِ بِالْفَارِّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٣) حضرت حسن بن محمد بن علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھجر کے مجوسیوں کو خط لکھا اور ان پر اسلام پیش کیا جو تو اسلام لے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے اسلام کو قبول کرلیا۔ اور جس نے انکار کردیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر جزیہ مقرر فرما دیا ان شرائط کے ساتھ کہ ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا اور نہ ہی ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے گا۔
(۳۳۳۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی مَجُوسِ ہَجَرَ یَعْرِضُ عَلَیْہِمَ الإِسْلاَمَ فَمَنْ أَسْلَمَ قَبِلَ مِنْہُ وَمَنْ أَبَی ضُرِبَتْ عَلَیْہِ الْجِزْیَۃُ عَلَی أَنْ لاَ تُؤْکَلَ لَہُمْ ذَبِیحَۃٌ ، وَلاَ تُنْکَحَ لَہُمُ امْرَأَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٤) حضرت عکرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔
(۳۳۳۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْیَۃَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَیْنِ۔ (ابن زنجویہ ۱۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٥) امام زہری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ اور حضرت عمر (رض) نے ایران کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ اور حضرت عثمان نے بربر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔
(۳۳۳۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْیَۃَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَیْنِ ، وَأَخَذَہَا عُمَرُ مِنْ مَجُوسِ أَہْلِ فَارِسَ ، وَأَخَذَہَا عُثْمَان مِنْ مَجُوسِ بَرْبَرَ۔

(مالک ۲۷۸۔ بیہقی ۱۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٦) حضرت بجالہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے اس بات کی گواہی دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔
(۳۳۳۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بَجَالَۃَ ، قَالَ : لَمْ یَکُنْ عُمَرُ یَأْخُذُ الْجِزْیَۃَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَہَا مِنْ مَجُوسِ ہَجَرَ۔

(بخاری ۳۱۵۷۔ ابوداؤد ۳۰۳۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٧) امام زہری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل ھجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ اور یمن کے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے ہر بالغ سے ایک دینار جزیہ لیا۔ اور حضرت عمر (رض) نے سواد کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ اور حضرت عثمان نے مصر میں بربری مجوسیوں سے جزیہ لیا۔
(۳۳۳۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْجِزْیَۃَ مِنْ مَجُوسِ أَہْلِ ہَجَرَ وَمِنْ یَہُودِ الْیَمَنِ وَنَصَارَاہُمْ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِینَارًا ، وَأَخَذَ عُمَرُ الْجِزْیَۃَ مِنْ مَجُوسِ السَّوَادِ ، وَأَخَذَ عُثْمَان مِنْ مَجُوسِ مِصْرَ الْبَرْبَرِ الْجِزْیَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٨) حضرت جعفر کے والد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مجوسیوں سے جزیہ لینے کے متعلق سوال کیا : تو حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ جاری کرو۔
(۳۳۳۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ عَنْ جِزْیَۃِ الْمَجُوسِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : سُنُّوا بِہِمْ سُنَّۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے کہا : کہ مجوسیوں پر بھی جزیہ لاگو ہے
(٣٣٣١٩) حضرت جعفر (رض) کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مجوسیوں سے جزیہ لینے کے بارے میں لوگوں سے مشورہ طلب کیا۔ تو حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ جاری کرو۔
(۳۳۳۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِی الْمَجُوسِ فِی الْجِزْیَۃِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : سُنُّوا بِہِمْ سُنَّۃَ أَہْلِ الْکِتَابِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مجوس کے بارے میں یوں کہا کہ ان کے اور ان کے محرم کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ؟
(٣٣٣٢٠) حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ حضرت بجالہ (رض) عمرو بن اوس اور ابو الشعشاء کو بیان فرما رہے تھے کہ میں حضرت جزء بن معاویہ (رض) کا کاتب تھا ۔ تو ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب (رض) کا خط آیا کہ تم ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کردو۔ اور مجوسیوں میں ہر ذی محرم کے درمیان تفریق کردو، اور ان کو کھانے کے دوران بات کرنے سے روک دو ۔ حضرت بجالہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے تین جادو گروں کو قتل کیا، اور ہم نے ایک شخص اور اس کی بیوی کے درمیان کتاب اللہ کے مطابق تفریق کردی۔
(۳۳۳۲۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُ سَمِعَ بَجَالَۃَ یُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ وَأَبَا الشَّعْثَائِ ، قَالَ : کُنْتُ کَاتِبًا لِجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ : فَأَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ أَنِ اقْتُلُوا کُلَّ سَاحِرٍ وَسَاحِرَۃٍ ، وَفَرِّقُوا بَیْنَ کُلِّ ذِی مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ ، وَانْہَوْہُمْ ، عَنِ الزَّمْزَمَۃِ فَقَتَلْنَا ثَلاَثَ سَوَاحِرَ ، وَجَعَلْنَا نُفَرِّقُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَبَیْنَ حَرِیمِہِ فِی کِتَابِ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مجوس کے بارے میں یوں کہا کہ ان کے اور ان کے محرم کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ؟
(٣٣٣٢١) حضرت بجالہ بن عبدۃ العنبری (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت جزء بن معاویہ (رض) کا کاتب تھا اور آپ (رض) اھواز کے لوگوں پر امیر مقرر تھے۔ اس دوران حضرت ابو موسیٰ (رض) جو کہ بصرہ کے امیر تھے انھوں نے ہماری طرف خط لکھا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے انھیں خط لکھ کر حکم دیا ہے کہ وہ کھانے کے درمیان منہ بند کر کے آواز نکالنے والے مجوسیوں کو قتل کردیں یہاں تک کہ وہ کلام کریں۔ اور ہر عورت کو اس کے محرم سے چھین لیا جائے اور ہر جادو گر کو قتل کردیا جائے۔ تو حضرت ابو موسیٰ (رض) نے یہ خط حضرت جزء بن معاویہ کو بھی لکھ بھیجا۔ تو آپ (رض) نے زمازمہ کو بلایا ، پس انھوں نے اس بارے میں بات چیت کی۔ اور راوی کہتے ہیں جب کوئی عورت جوان ہوجاتی تو ہم اس کے محرم سے اس کو چھین لیتے اور کسی دوسرے سے اس کا نکاح کروا دیتے۔ اور اگر عورت بوڑھی ہوتی تو ہم اس کو روک دیتے اور اس پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے۔
(۳۳۳۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ قُشَیْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ بَجَالَۃَ بْنِ عَبْدَۃَ الْعَنْبَرِی ، وَکَانَ کَاتِبًا لجَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ وَکَانَ عَلَی طَائِفَۃِ الأَہْوَازِ فَحَدَّثَ أَنَّ أَبَا مُوسَی وَہُوَ أَمِیرُ الْبَصْرَۃِ کَتَبَ إلَیْنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إلَیْہِ یَأْمُرُہُ بِقَتْلِ الزَّمَازِمَۃِ حَتَّی یَتَکَلَّمُوا ، وَأَنْ تُنْزَعَ کُلُّ امْرَأَۃٍ مِنْ حَرِیمِہَا ، وَأَنْ یُقْتَلَ کُلُّ سَاحِرٍ ، فَکَتَبَ بِہَذَا أَبُو مُوسَی إلَی جَزْئِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ ، فَدَعَا الزَّمَازِمَۃَ فَتَکَلَّمُوا ، قَالَ : وَکُنَّا إذَا کَانَتِ الْمَرْأَۃُ شَابَّۃً نَزَعَنَاہَا مِنْ حَرِیمِہَا وَأَنْکَحْنَاہَا آخَرَ ، وَإِذَا کَانَتْ عَجُوزًا نَہَیْنَا عنہا وَزَجَرْنَا عنہا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مجوس کے بارے میں یوں کہا کہ ان کے اور ان کے محرم کے درمیان تفریق کر دی جائے گی ؟
(٣٣٣٢٢) حضرت بجالہ ابن عبدہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو خط لکھا : جو تمہاری طرف مجوسی ہیں ان پر یہ بات پیش کرو کہ وہ اپنی ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح چھوڑ دیں۔ اور وہ سب خاموش ہو کر کھائیں اور یہ کہ انھیں اہل کتاب سے ملا دیا جائے۔ اور ہر جادو گر اور جادو گرنی کو قتل کردو۔
(۳۳۳۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفَ قَالَ : حدَّثَنِی عَبَّادٌ ، عَنْ بَجَالَۃَ بْنِ عَبْدَۃَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إلَی أَبِی مُوسَی أَنَ اعْرِضُوا عَلَی مَنْ قِبَلَکُمْ مِنَ الْمَجُوسِ أَنْ یَدَعُوا نِکَاحَ أُمَّہَاتِہِمْ وَبَنَاتِہِمْ وَأَخَوَاتِہِمْ وَیَأْکُلُوا جَمِیعًا کیما یَلْحَقُوا بِأَہْلِ الْکِتَابِ وَاقْتُلُوا کُلَّ سَاحِرٍ وَکَاہِنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٣٢٣) حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مرہ (رض) سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے کسی مجوسی عورت کو خریدا یا قیدی بنایا ہو پھر وہ اس سے وطی کرلے اسلام کی تعلیم دینے سے پہلے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : یہ درست کام نہیں ہے۔ اور راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت سعید بن جبیر (رض) سے پوچھا : تو آپ (رض) نے فرمایا : جب اس نے ایساکام کیا تو اس نے اس کے ساتھ بھلائی نہیں کی۔
(۳۳۳۲۳) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُرَّۃَ عَنِ الرَّجُلِ یَشْتَرِی ، أَوْ یَسْبِی الْمَجُوسِیَّۃَ ، ثُمَّ یَقَعُ عَلَیْہَا قَبْلَ أَنْ تُعَلَّمَ الإِسْلاَمَ ؟ قَالَ : لاَ یَصْلُحُ ، قَالَ : وَسَأَلْت سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، فَقَالَ : مَا ہُوَ بِخَیْرٍ مِنْہَا إذَا فَعَلَ ذَلِکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٣٢٤) حضرت موسیٰ بن ابی عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مرہ بن شراحیل الھمدانی اور حضرت سعید بن جبیر (رض) سے مجوسی باندی کے متعلق سوال کیا کہ آدمی جب اسے پالے تو کیا اس سے وطی کرسکتا ہے ؟ حضرت مرہ نے فرمایا : وہ اس سے جماع نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے۔ اور حضرت سعید بن جبیر (رض) نے فرمایا : اگر وہ اس کی طرف دوبارہ لوٹے گا تو یہ اس کے حق میں برائی کی بات ہے۔
(۳۳۳۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُرَّۃَ بْنِ شَرَاحِیلَ الْہَمْدَانِیَّ وَسَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، عَنِ الأَمَۃِ الْمَجُوسِیَّۃِ یُصِیبُہَا الرَّجُلُ ، أَیَطَؤُہَا ؟ قَالَ : لاَ یُجَامِعُہَا حَتَّی تُسْلِمَ ، وَقَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ ، إِنْ عَادَ إلَیْہَا فَہُوَ شَرٌّ مِنْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٣٢٥) حضرت مکحول (رض) فرماتے ہیں کہ جب لڑکی مجوسیہ ہو تو وہ اس سے نکاح نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلے۔
(۳۳۳۲۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ مَکْحُولٍ، قَالَ: إذَا کَانَتْ وَلِیدَۃً مَجُوسِیَّۃً فَإِنَّہُ لاَ یَنْکِحُہَا حَتَّی تُسْلِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٣٢٦) امام اوزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت زہری (رض) نے ارشاد فرمایا : تم مجوسی کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ لے۔ پس جب وہ یہ پڑھے تو اس کی جانب سے اسلام سمجھا جائے گا۔
(۳۳۳۲۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عن الأوزاعی عَنِ الزُّہْرِیِّ سَمِعَہُ یَقُولُ : لاَ تَقْرَبُ الْمَجُوسِیَّۃَ حَتَّی تَقُولَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَإذَا قَالَتْ ذَلِکَ فَہُوَ مِنْہَا إسْلاَمٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٣٢٧) حضرت سماک (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن (رض) نے ارشاد فرمایا : اس سے وطی مت کرو یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلے۔
(۳۳۳۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : لاَ یَطَؤُہَا حَتَّی تُسْلِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے قیدی مجوسیہ عورت سے وطی کرنے کے بارے میں یوں کہا
(٣٣٣٢٨) حضرت حسن بن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھجر کے مجوسیوں کی طرف خط لکھ کر ان پر اسلام پیش کیا۔ پس ان لوگوں میں سے جو اسلام لے آیا تو اس کے اسلام کو قبول کرلیا گیا۔ اور جس نے انکار کردیا تو اس پر جزیہ مقرر کردیا گیا۔ سوائے یہ کہ ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا اور ان کی عورتوں سے نکاح نہیں کیا جائے گا۔
(۳۳۳۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی مَجُوسِ ہَجَرَ یَعْرِضُ عَلَیْہِمَ الإِسْلاَمَ فَمَنْ أَسْلَمَ منہم قَبِلَ مِنْہُ ، وَمَنْ أَبَی ضُرِبَتْ عَلَیْہِ الْجِزْیَۃُ غَیْرَ أَنْ لاَ یُؤْکَلَ لَہُمْ ذَبِیحَۃٌ ، وَلاَ تُنْکَحَ لہم امْرَأَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক: