মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৩৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٦٩) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مدفون خزانہ میں خمس واجب ہے۔
(۳۳۳۶۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ إسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ وَزَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٠) حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد منقول ہے۔
(۳۳۳۷۰) حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧١) حضرت ابوہریرہ (رض) سے موقوفاً مذکورہ ارشاد اس سند کے ساتھ بھی منقول ہے۔
(۳۳۳۷۱) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ، عَنْ أَیُّوبَ وَوَکِیعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ کِلاَہُمَا، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٢) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ عرب کے ایک غلام کو پوستین کا ایک تھیلا ملا جس میں دس ہزار درہم تھے۔ تو وہ اس کو حضرت عمر (رض) کے پاس لے آیا۔ آپ (رض) نے اس میں سے خمس یعنی دو ہزار لے لیے اور آٹھ ہزار اس کو عطا کردیے۔
(۳۳۳۷۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ غُلاَمًا مِنَ الْعَرَبِ وَجَدَ سَتُّوقَۃً فِیہَا عَشْرَۃُ آلاَفِ دِرْہَمٍ، فَأَتَی بِہَا عُمَرَ فَأَخَذَ مِنْہَا خُمُسَہَا أَلْفَیْنِ وَأَعْطَاہُ ثَمَانیَۃَ آلاَفٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٣) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کو ویران جگہ میں پندرہ سو درہم ملے۔ وہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں آیا۔ تو آپ (رض) نے فرمایا : تم اس کا خمس ادا کرو۔ اور اس کے خمس کا تیسرا حصہ تیرے لیے ہوگا۔ اور باقی خمس کو عنقریب ہم تیرے لیے پاکیزہ کردیں گے۔
(۳۳۳۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ إسْمَاعِیلَ، عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ فِی خَرِبَۃٍ أَلْفًا وَخَمْسَمِئَۃِ دِرْہَمٍ ، فَأَتَی عَلِیًّا، فَقَالَ : أَدِّ خُمُسَہَا وَلَک ثَلاَثَۃُ أَخْمَاسِہَا وَسَنُطَیِّبُ لَکَ الْخُمُسَ الْبَاقِیَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٤) حضرت ہشام (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حسن (رض) نے ارشاد فرمایا : رکاز یعنی مدفون خزانے میں خمس واجب ہے۔
(۳۳۳۷۴) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : الرِّکَازُ الْکَنْزُ الْعَادِی ، وفِیہِ الْخُمُسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٥) حضرت عمر الضبی (رض) فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ سابور کے آدمی زمین کو نرم کر رہے تھے یا یوں فرمایا : کہ زمین میں ہل چلا رہے تھے ۔ کہ ان کو خزانہ مل گیا۔ اور ان پر حضرت محمد بن جابر الراسبی امیر تھے۔ تو انھوں نے اس بارے میں حضرت عدی (رض) کو خط لکھا۔ اور حضرت عدی (رض) نے حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) کو خط لکھ کر اس بارے میں دریافت کیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) نے جواب میں لکھا : کہ ان سے خمس لے لو۔
(۳۳۳۷۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ بن سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُمَرَ الضَّبِّیِّ ، قَالَ : بَیْنَمَا رِجَالٌ بسابور یلینون ، أَوْ یُثِیرُونَ الأَرْضَ إذْ أَصَابُوا کَنْزًا وَعَلَیْہَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الرَّاسِبِی ، فَکَتَبَ فِیہِ إلَی عَدِیٍّ فَکَتَبَ عَدِیٌّ إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَکَتَبَ عُمَرُ أَنْ خُذُوا مِنْہُ الْخُمُسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مدفون خزانہ میں خمس واجب ہے۔
(۳۳۳۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٧) حضرت عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مدفون خزانہ میں خمس واجب ہے۔
(۳۳۳۷۷) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ کَثِیرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٨) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدفون خزانہ کے بارے میں خمس کا فیصلہ فرمایا۔
(۳۳۳۷۸) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الرِّکَازِ الْخُمُسَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے یوں کہا : اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
(٣٣٣٧٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مدفون خزانہ میں خمس واجب ہے۔
(۳۳۳۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الرِّکَازِ الْخُمُسُ۔ (بخاری ۱۴۹۹۔مسلم ۱۳۳۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٠) حضرت عمرو بن میمون (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کھیتی والوں پر ہر کھیتی میں ایک قفیز اور ایک درہم مقرر فرمایا۔
(۳۳۳۸۰) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ عَلَی أَہْلِ السَّوَادِ عَلَی کُلِّ جَرِیبٍ قَفِیزًا وَدِرْہَمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨١) حضرت ابو عون محمد بن عبید اللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اہل سواد پر ہر آباد یا غیر آباد زمین میں ایک قفیز اور ایک درہم مقرر فرمایا : اور سبزی کی کھیتی پر پانچ درہم اور پانچ قفیز مقرر فرمائے۔ اور درختوں کی کھیتی پر دس درہم اور دس قفیز مقرر فرمائے اور انگور کی کھیتی پر بھی دس درہم اور دس قفیز مقرر فرمائے۔ اور کھجور کا ذکر نہیں فرمایا۔
(۳۳۳۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ ، قَالَ : وَضَعَ عُمَرُ عَلَی أَہْلِ السَّوَادِ عَلَی کُلِّ جَرِیبٍ عَامِرٍ ، أَوْ غَامِرٍ قَفِیزًا وَدِرْہَمًا ، وَعَلَی جَرِیبِ الرُّطَبَۃِ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ وَخَمْسَۃَ أَقْفِزَۃٍ ، وَعَلَی جَرِیبِ الشَّجَرِ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَشْرَۃَ أَقْفِزَۃٍ ، وَعَلَی جَرِیبِ الْکَرْمِ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَشْرَۃَ أَقْفِزَۃٍ ، وَلَمْ یَذْکُرِ النَّخْلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٢) حضرت ابو عون محمد بن عبداللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب سواد والوں پر ہر کھیتی میں جس کی زمین پانی سے سیراب ہوتی ہو چاہے آباد ہو یا غیر آباد ایک درہم اور کھانے کا ایک قفیز مقرر فرمایا : اور باغات کی تمام کھیتیوں پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے۔ اور سبزیوں کی تمام کھیتیوں پر پانچ درہم اور کھانے کے پانچ قفیز مقرر فرمائے۔ اور انگور کی مکمل کھیتی پر دس درہم اور کھانے کے دس قفیز مقرر فرمائے اور کھجور کی کھیتی پر کچھ مقرر نہیں فرمایا۔ اسے زمین کے تابع قرار دیا۔
(۳۳۳۸۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ أَبِی عَوْنٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ ، قَالَ : وَضَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَی السَّوَادِ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ یَبْلُغُہُ الْمَائُ عَامِرٍ ، أَوْ غَامِرٍ دِرْہَمًا وَقَفِیزًا مِنْ طَعَامٍ وعَلَی الْبَسَاتِینِ عَلَی کُلِّ جَرِیبٍ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَشْرَۃَ أَقْفِزَۃٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَعَلَی الرِّطَابِ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ خَمْسَۃَ دَرَاہِمَ وَخَمْسَۃَ أَقْفِزَۃٍ مِنْ طَعَامٍ وَعَلَی الْکُرُومِ عَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ وَعَشْرَۃَ أَقْفِزَۃٍ، وَلَمْ یَضَعْ عَلَی النَّخْلِ شَیْئًا جَعَلَہُ تَبَعًا لِلأَرْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٣) حضرت ابو مجلز (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عثمان بن حُنیف کو زمین کی پیمائش ناپنے کے لیے بھیجا۔ تو حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے انگور کی کھیتی پر دس درہم مقرر فرمائے اور کھجور کی کھیتی پر آٹھ درہم مقرر فرمائے۔ اور سبزی کی کھیتی پر چھ درہم مقرر فرمائے اور گیہوں کی کھیتی پر چار درہم مقرر فرمائے اور جو کی کھیتی پر دو درہم مقرر فرمائے۔
(۳۳۳۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ عَلَی مِسَاحَۃِ الأَرْضِ ، قَالَ : فَوَضَعَ عُثْمَان عَلَی الْجَرِیبِ مِنَ الْکَرْمِ عَشَرَۃَ دَرَاہِمَ ، وَعَلَی جَرِیبِ النَّخْلِ ، ثَمَانیَۃَ دَرَاہِمَ ، وَعَلَی جَرِیبِ الْقَصَبِ سِتَّۃَ دَرَاہِمَ ، یَعْنِی الرَّطْبَۃَ ، وَعَلَی جَرِیبِ الْبُرِّ أَرْبَعَۃَ دَرَاہِمَ ، وَعَلَی جَرِیبِ الشَّعِیرِ دِرْہَمَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٤) حضرت ابو مجلز (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کھجور کی کھیتی پر آٹھ درہم مقرر فرمائے۔
(۳۳۳۸۴) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ أَنَّ عُمَرَ جَعَلَ عَلَی جَرِیبِ النَّخْلِ ثَمَانیَۃَ دَرَاہِمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٥) حضرت حکم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عثمان بن حنیف (رض) کو مالدار لوگوں کے پاس بھیجا۔ تو انھوں نے ہر آباد اور غیر آباد زمین کی کھیتی پر جو پانی سے سیراب ہوتی ہو ایک درہم اور گندم یا جو کا ایک قفیز مقرر فرمایا۔ اور ہر انگور کی کھیتی پر دس دس مقرر فرمائے ۔ اور سبزی کی کھیتی پر پانچ مقرر فرمائے۔
(۳۳۳۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ عَلَی السَّوَاد ، فَوَضَعَ عَلَی کُلِّ جَرِیبٍ عَامِرٍ ، أَوْ غَامِرٍ یَنَالُہُ الْمَائُ دِرْہَمًا وَقَفِیزًا ، یَعْنِی الْحِنْطَۃَ وَالشَّعِیرَ ، وَعَلَی کل جَرِیبِ الْکَرْمِ عَشْرَۃً وَعَلَی جَرِیبِ الرِّطَابِ خَمْسَۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٦) حضرت ابان بن تغلب (رض) ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کھجور کے دو لمبے درختوں پر ایک درہم مقرر فرمایا : اور ہر فارسی پر بھی ایک درہم مقرر فرمایا۔
(۳۳۳۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ وَضَعَ عَلَی النَّخْلِ عَلَی الرِّقلَّتَیْنِ دِرْہَمًا ، وَعَلَی الْفَارِسِیَّۃِ دِرْہَمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٧) حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ میں حاضر ہوا تو حضرت عمر (رض) حضرت حذیفہ اور حضرت عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے تھے۔ حضرت عمر (رض) فرما رہے تھے کہ تم دونوں کو اس بات کا خوف ہے کہ تم زمین والوں کو اس چیز کا مکلف بناؤ گے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت حذیفہ (رض) نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین پر دگنا کر دوں۔ حضرت عثمان بن حنیف نے فرمایا کہ میں نے اپنی زمین کو ایسی چیز کا مکلف بنایا ہے جس کی وہ طاقت رکھتی ہے اور اس میں بہت فضل ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم دونوں سوچ لو کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین کو اس چیز کا مکلف بناؤ جس کی اس میں طاقت نہیں ہے۔
(۳۳۳۸۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : جِئْت وَإِذَا عُمَرُ وَاقِفٌ عَلَی حُذَیْفَۃَ وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ ، فَقَالَ : تَخَافَانِ أَنْ تَکُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لاَ تُطِیقُ ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : لَوْ شِئْت لأَضْعَفْت أَرْضِی ، قَالَ : وَقَالَ عُثْمَان بْنُ حُنَیْفٍ : لَقَدْ حَمَّلْت أَرْضِی أَمْرًا ہِیَ لَہُ مُطِیقَۃٌ ، وَمَا فِیہَا کَثِیرُ فَضْلٍ ، فَقَالَ : انْظُرا مَا لَدَیْکُمَا أَنْ تَکُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لاَ تُطِیقُ۔ (بخاری ۳۷۰۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٨) حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن حنیف حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہر ایک پر دو درہم کا اضافہ کردو اور ہر جریب زمین پر ایک درہم اور ایک قفیز غلے کا اضافہ کردو تو انھیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت عثمان بن حنیف نے اس کی تائید کی۔ پہلے ایک شخص کے ذمے اڑتالیس تھا اب پچاس کردیا گیا۔
(۳۳۳۸۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ سَمِعْت عَمْرَو بْنَ مَیْمُونٍ ، قَالَ : دَخَلَ عُثْمَان بْنُ حُنَیْفٍ عَلَی عُمَرَ فَسَمِعْتہ یَقُولُ : لأَنْ زِدْت عَلَی کُلِّ رَأْسٍ دِرْہَمَیْنِ وَعَلَی کُلِّ جَرِیبِ أَرْضٍ دِرْہَمًا وَقَفِیزًا مِنْ طَعَامٍ لاَ یَضُرُّہُمْ ذَلِکَ ، وَلاَ یُجْہِدُہُمْ ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَکَانَ عَلَی کُلِّ رَأْسٍ ثَمَانِیَۃٌ وَأَرْبَعُونَ ، فَجَعَلَہَا خَمْسِینَ۔
tahqiq

তাহকীক: