মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৩৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا ؟
(٣٣٣٨٩) حضرت داؤد بن سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عبدالحمید بن عبدالرحمن کو خط لکھا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اہل کوفہ کی زمین پر غور کر۔ کسی بنجر زمین پر آباد زمین کا حکم نہ لگاؤ اور کسی آباد زمین پر بنجر زمین کا حکم نہ لگاؤ۔ بنجر زمین کو آباد کرنے کی پوری کوشش کرو۔ زمین کو آباد کرنے والے سے صرف خراج لو تاکہ ان کے ساتھ نرمی ہو اور انھیں سہولت ملے۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ خراج میں صرف سات کا وزن لو، ضرابین کی اجرت نہ لو۔ چاندی پگھلی ہوئی نہ لو۔ نیروز اور مرجان کا ہدیہ نہ لو۔ صحف کی قیمت نہ لو۔ فسوح کی اجرت نہ لو، کمروں کا کرایہ نہ لو، نکاح کا درہم نہ لو اور جو مسلمان ہوجائے اس سے خراج نہ لو۔
(۳۳۳۸۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إلَی عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : آمُرُک أَنْ تُطَرِّزَ أَرْضَہُمْ ، یَعْنِی أَہْلَ الْکُوفَۃِ ، وَلاَ تَحْمِلْ خَرَابًا عَلَی عَامِرٍ ، وَلاَ عَامِرًا عَلَی خَرَابٍ ، وَانْظُرَ الْخَرَابَ فَخُذْ مِنْہُ مَا أَطَاقَ وَأَصْلِحْہُ حَتَّی یَعْمَُرَ ، وَلاَ تَأْخُذْ مِنَ الْعَامِرِ إِلاَّ وَظِیفَۃَ الْخَرَاجِ فِی رِفْقٍ وَتَسْکِینٍ لأَہْلِ الأَرْضِ ، وَآمُرُک أَنْ لاَ تَأْخُذَ فِی الْخَرَاجِ إِلاَّ وَزْنَ سَبْعَۃٍ لَیْسَ لَہَا آس ، وَلاَ أُجُورَ الضَّرَّابِینَ ، وَلاَ إذابۃ الْفِضَّۃَ ، وَلاَ ہَدِیَّۃَ النَّیْرُوزِ وَالْمِہْرَجَانِ ، وَلا ثَمَنَ الْصُحُفِ ، وَلاَ أُجُورَ الْفُسُوحِ ، وَلاَ أُجُورَ الْبُیُوتِ ، وَلاَ دِرْہَمَ النِّکَاحِ ، وَلاَ خَرَاجَ عَلَی مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں نشانی اور علامت لگانے کا بیان تاکہ وہ پہچانے جا سکیں
(٣٣٣٩٠) حضرت ابن ابی نجیح (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد (رض) نے اللہ رب العزت کے اس قول { مُسَوِّمِینَ } کے بارے میں فرمایا : کہ نشان لگے ہوئے تھے۔ یعنی ان کے گھوڑوں کی دمیں کٹی ہوئی تھیں اور ان پر اون تھی۔
(۳۳۳۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ شِبْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ قَوْلَہُ {مُسَوِّمِینَ} مُعَلَّمِینَ مجزوزۃ أَذْنَابُ خُیُولِہِمْ عَلَیْہَا الْعِہْنُ وَالصُّوفُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں نشانی اور علامت لگانے کا بیان تاکہ وہ پہچانے جا سکیں
(٣٣٣٩١) حضرت ابن عون (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمیر بن اسحاق (رض) نے ارشاد فرمایا : غزوہ بدر کے دن صحابہ (رض) سے کہا گیا : تم کوئی نشانی اور علامت بنا لو۔ پس بیشک ملائکہ نے بھی نشانی لگائی ہوئی ہے۔ انھوں نے فرمایا : سب سے پہلے اسی دن اون کو نشانی بنایا گیا۔
(۳۳۳۹۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : قیلَ لَہُمْ یَوْمَ بَدْرٍ تَسَوَّمُوا فَإِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ قَدْ تَسَوَّمَتْ ، قَالُوا : فَأَوَّلُ مَا جُعِلَ الصُّوفُ لَیَوْمَئِذٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں نشانی اور علامت لگانے کا بیان تاکہ وہ پہچانے جا سکیں
(٣٣٣٩٢) حضرت حارثہ بن مضرب العبدی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : غزوہ بدر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی نشانی سفید اون تھی۔
(۳۳۳۹۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ الْعَبْدِیِّ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ سِیمَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ الصُّوفُ الأَبْیَضُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں نشانی اور علامت لگانے کا بیان تاکہ وہ پہچانے جا سکیں
(٣٣٣٩٣) حضرت ہشام بن عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن عباد (رض) نے ارشاد فرمایا : غزوہ بدر کے دن حضرت زبیر (رض) کے سر پر زرد رنگ کا عمامہ تھا جس کے پلہ کو آپ (رض) نے اپنے منہ سے لپیٹا ہوا تھا۔ پس ملائکہ اترے اس حال میں کہ ان کے سروں پر بھی زرد عمامے تھے۔
(۳۳۳۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَیْرِ ، یُقَالَ لَہُ : یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ : کَانَ عَلَی الزُّبَیْرِ یَوْمَ بَدْرٍ عِمَامَۃٌ صَفْرَائُ مُعْتَجِرًا بِہَا فَنَزَلَتِ الْمَلاَئِکَۃُ عَلَیْہِمْ عَمَائِمُ صُفْرٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں نشانی اور علامت لگانے کا بیان تاکہ وہ پہچانے جا سکیں
(٣٣٣٩٤) حضرت زبیر (رض) کے بارے میں مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۳۳۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَۃَ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بِنَحْوٍ مِنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٣٩٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ۔ اور ان کے دودھ اور پیشاب میں سے کچھ پیو پس انھوں نے ایسا کیا تو وہ صحت یاب ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ لوگ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور انھوں نے ان کو قتل کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند مویشی ہانک کرلے گئے اور اسلام لانے کے بعد انھوں نے کفر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا پس ان کو پکڑ کر لایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں کو داغا گیا اور انھیں حرہ کے مقام پر چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ یہ لوگ مرگئے۔
(۳۳۳۹۵) حَدَّثَنَا ہُشَیم ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ، قَالَ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَیْنَۃَ الْمَدِینَۃَ فَاجْتَوَوْہَا ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إلَی إبِلِ الصَّدَقَۃِ فَتَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا فَفَعَلُوا وَاسْتَصَحُّوا ، قَالَ : فَمَالُوا عَلَی الرُِّاعَاء فَقَتَلُوہُمْ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَفَرُوا بَعْدَ إسْلاَمِہِمْ ، فَبَعَثَ فِی آثَارِہِمْ فَأُتِیَ بِہِمْ فَقَطَّعَ أَیْدِیَہُمْ وَأَرْجُلَہُمْ وَسَمَلَ أَعْیُنَہُمْ وَتُرِکُوا بِالْحَرَّۃِ حَتَّی مَاتُوا۔ (مسلم ۱۲۹۶۔ ابویعلی ۳۹۸۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٣٩٦) حضرت انس (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
(۳۳۳۹۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ۔
(مسلم ۱۲۹۶۔ ترمذی ۷۲)
(مسلم ۱۲۹۶۔ ترمذی ۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٣٩٧) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو اپنے دین کو تبدیل کرے تو تم اس کو قتل کردو۔
(۳۳۳۹۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٣٩٨) حضرت حمید بن ھلال (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) حضرت ابو موسیٰ (رض) کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ (رض) کے پاس ایک یہودی آدمی تھا۔ تو آپ (رض) نے پوچھا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا : یہ یہودی اسلام لایا تھا پھر مرتد ہوگیا اور تحقیق حضرت ابو موسیٰ (رض) نے دو مہینہ اس کو توبہ کے لیے مہلت دی۔ اس پر حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : میں ہرگز نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فیصلہ ہے۔
(۳۳۳۹۸) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَی أَبَا مُوسَی ، وَعِنْدَہُ رَجُلٌ یَہُودِیٌّ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ، قَالَ : ہَذَا یَہُودِیٌّ أَسْلَمَ ، ثُمَّ ارْتَدَ ، وَقَدِ اسْتَتَابَہُ أَبُو مُوسَی شَہْرَیْنِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : لاَ أَجْلِسُ حَتَّی أَضْرِبَ عُنُقَہُ قَضَاء اللَّہُ وَقَضَاء رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٣٩٩) حضرت عاصم بن قرہ (رض) فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ، اپنے دین سے مرتد ہوگیا ۔ تو مسلمانوں نے اس سے قتال کیا۔ راوی کہتے ہیں : اس نے صلح کے لیے جھکنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس سے فرمایا : تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا سوائے رسوا کردینے والی صلح کے یا سخت جنگ کے۔ اس نے پوچھا : رسوا کردینے والی صلح سے کیا مراد ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : یہ کہ تم ہمارے مردوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں۔ اور یقیناً تمہارے مردے جہنم میں ہیں۔ اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے۔ تو ان لوگوں نے رسوائی والی صلح کا انتخاب کرلیا۔
(۳۳۳۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ ، قَالَ : ارْتَدَّ عَلْقَمَۃُ بْنُ عُلاَثَۃَ ، عَنْ دِینِہِ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَہُ الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : فَأَبَی أَنْ یَجْنَحَ لِلسَّلْمِ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : لاَ یُقْبَلُ مِنْک إِلاَّ سَلْمٌ مُخْزِیَۃٌ ، أَوْ حَرْبٌ مُجْلِیَۃٌ ، قَالَ ، فَقَالَ : وَمَا سَلْمٌ مُخْزِیَۃٌ ، قَالَ : تَشْہَدُونَ عَلَی قَتْلاَنَا أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ ، وَأَنَّ قَتْلاَکُمْ فِی النَّارِ ، وَتَدُونَ قَتْلاَنَا ، وَلاَ نَدِی قَتْلاَکُمْ ، فَاخْتَارُوا سِلْمًا مُخْزِیَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٠) حضرت طارق بن شھاب (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسد اور غطفان کے بڑے لوگوں کا وفد حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آیا اور ان لوگوں نے آپ (رض) سے صلح کا سوال کیا۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے رسوا کردینے والی صلح یا سخت جنگ کے درمیان اختیار دیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے۔ اس سخت اور صفایا کردینے والی جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا ۔ یہ رسوا کردینے والی صلح کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم تمام اسلحہ اور گھوڑے دو گے ، اور تم لوگوں کو چھوڑ دو گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں۔ یعنی جس کی مرضی پیروی کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ اور مسلمانوں کو ایسی بات دکھا دیں جس کی وجہ سے وہ تم لوگوں کو معذور سمجھیں اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے۔ اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں۔ اور جو چیز تم نے ہماری لی ہے وہ تم واپس لوٹاؤ گے اور ہم نے جو تمہارا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔
اس پر حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : تحقیق یہ آپ کی رائے ہے۔ اور عنقریب ہم آپ کو ایک مشورہ دیں گے۔ بہرحال وہ اسلحہ اور گھوڑے دیں گے تو یہ بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ اور مسلمانوں کو کوئی ایسی بات دکھلا دے جس کی وجہ سے وہ ان کو معذور سمجھیں یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور ہم نے جو ان کا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اور انھوں نے جو ہمارا مال لیا وہ ہمیں واپس لوٹائیں گے ۔ تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ان کے مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ہم ان کے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ ہمارے مقتولین کی دیت ادا کریں گے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ہمارے مقتولین اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں قتل کیے گئے تو ان کے لیے کوئی دیتیں نہیں ہوں گی۔ تو لوگوں نے اس بات پر ان کی موافقت کی۔
اس پر حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : تحقیق یہ آپ کی رائے ہے۔ اور عنقریب ہم آپ کو ایک مشورہ دیں گے۔ بہرحال وہ اسلحہ اور گھوڑے دیں گے تو یہ بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ اور مسلمانوں کو کوئی ایسی بات دکھلا دے جس کی وجہ سے وہ ان کو معذور سمجھیں یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور ہم نے جو ان کا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہوگا۔ اور انھوں نے جو ہمارا مال لیا وہ ہمیں واپس لوٹائیں گے ۔ تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ان کے مقتولین جہنم میں ہیں اور ہمارے مقتولین جنت میں ہیں تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ ہم ان کے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے تو یہ بھی بہت اچھی رائے ہے۔ اور یہ کہ وہ ہمارے مقتولین کی دیت ادا کریں گے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ہمارے مقتولین اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں قتل کیے گئے تو ان کے لیے کوئی دیتیں نہیں ہوں گی۔ تو لوگوں نے اس بات پر ان کی موافقت کی۔
(۳۳۴۰۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عْن طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : جَائَ وَفْدُ بُزَاخَۃَ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إلَی أَبِی بَکْرٍ یَسْأَلُونَہُ الصُّلْحَ ، فَخَیَّرَہُمْ أَبُو بَکْرٍ بَیْنَ الْحَرْبِ الْمُجْلِیَۃِ ، وَالسَّلْمِ الْمُخْزِیَۃِ ، قَالَ : فَقَالُوا : ہَذَا الْحَرْبُ الْمُجْلِیَۃُ قَدْ عَرَفْنَاہَا ، فَمَا السَّلْمُ الْمُخْزِیَۃُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَکْرٍ : تُؤَدُّونَ الْحَلْقَۃَ وَالْکُرَاعَ ، وَتَتْرُکُونَ أَقْوَامًا یَتْبِعُونَ أَذْنَابَ الإِبِلِ حَتَّی یُرِی اللَّہُ خَلِیفَۃَ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِینَ أَمْرًا یَعْذِرُونَکُمْ بِہِ ، وَتَدُونَ قَتْلاَنَا ، وَلاَ نَدِی قَتْلاَکُمْ ، وَقَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَکُمْ فِی النَّارِ ، وَتَرُدُّونَ مَا أَصَبْتُمْ مِنَّا وَنَغْنَمُ مَا أَصَبْنَا مِنْکُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَیْت رَأْیًا ، وَسَنُشِیرُ عَلَیْک ، أَمَّا أَنْ یُؤَدُّوا الْحَلْقَۃَ وَالْکُرَاعَ فَنِعْمَ مَا رَأَیْت ، وَأَمَّا أَنْ یَتْرُکُوا أَقْوَامًا یَتَّبِعُونَ أَذْنَابَ الإِبِلِ حَتَّی یَرَی اللَّہُ خَلِیفَۃَ نَبِیِّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِینَ أَمْرًا یَعْذِرُونَہُمْ بِہِ فَنِعْمَ مَا رَأَیْت وَأَمَّا أَنْ نَغْنَمَ مَا أَصَبْنَا مِنْہُمْ وَیَرُدُّونَ مَا أَصَابُوا مِنَّا فَنِعْمَ مَا رَأَیْت ، وَأَمَّا أَنَّ قَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ وَقَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ فَنِعْمَ مَا رَأَیْت ، وَأَمَّا أَنْ لاَ نَدِیَ قَتْلاَہُمْ فَنِعْمَ مَا رَأَیْت ، وَأَمَّا أَنْ یَدُوا قَتْلاَنَا فَلا ، قَتْلاَنَا قُتِلُوا عَنْ أَمْرِ اللہِ فَلاَ دِیَاتٍ لَہُمْ ، فَتَتَابَعَ النَّاسُ عَلَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠١) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ مرتد ہوگیا۔ تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس کی بیوی اور بیٹے کی طرف قاصد بھیجا ۔ اس کی بیوی نے کہا : اگرچہ علقمہ نے کفر کیا ہے لیکن میں نے کفر نہیں کیا اور نہ ہی میرے بیٹے نے ۔ آپ (رض) نے یہ بات امام شعبی (رض) کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو آپ (رض) نے فرمایا : اسی طرح مرتدین کے ساتھ معاملہ ہوگا۔
(۳۳۴۰۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : ارْتَدَّ عَلْقَمَۃُ بْنُ عُلاَثَۃَ فَبَعَثَ أَبُو بَکْرٍ إلَی امْرَأَتِہِ وَوَلَدِہِ ، فَقَالَتْ : إِنْ کَانَ عَلْقَمَۃُ کَفَرَ فَإِنِّی لَمْ أَکْفُرْ أَنَا ، وَلاَ وَلَدِی ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلشَّعْبِیِّ ، فَقَالَ: ہَکَذَا فَعَلَ بِہِمْ ، یَعْنِی بِأَہْلِ الرِّدَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٢) حضرت ابن سیرین (رض) سے مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے۔ پھر علقمہ بن علاثہ حضرت عمر (رض) کے زمانے میں صلح کے لیے جھک گیا اور اسلام لے آیا۔ پھر اس نے اپنی بیوی کی طرف رجوع کرلیا جیسا کہ وہ تھا۔
(۳۳۴۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ نَحْوَہُ وَزَادَ فِیہِ : ثُمَّ إِنَّہُ جَنَحَ لِلسَّلْمِ فِی زَمَانِ عُمَرَ فَأَسْلَمَ فَرَجَعَ إلَی امْرَأَتِہِ کَمَا کَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٣) حضرت ابراہیم (رض) فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے فرمایا اگر یہ لوگ مجھے اونٹ کی رسی دینے سے بھی رکیں گے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کرتے تھے تو میں ضرور ان سے جہاد کروں گا ۔ پھر آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : اور نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوائے رسول کے۔ اور تحقیق ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے۔ آیت کے آخرتک آپ (رض) نے تلاوت فرمائی۔
(۳۳۴۰۳) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ مُہَاجِرٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ، قَالَ : لَوْ مَنَعُونِی عَقَاْلاً مِمَّا أَعْطَوْا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَجَاہَدْتُہُمْ ، ثُمَّ تَلاَ : (وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ) إلَی آخِرِ الآیَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٤) حضرت ابن ابی ملیکہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر ابوبکر (رض) ہماری اطاعت کرتے تو ہم ایک صبح میں کفر کرلیتے۔ کیونکہ جب لوگوں نے ان سے زکوۃ میں کمی کرنے کا سوال کیا تو انھوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا اور فرمایا : اگر وہ مجھے ایک اونٹ کی رسی دینے سے بھی رکے تو میں ضرور ان سے جہاد کروں گا۔
(۳۳۴۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ أَطَاعَنَا أَبُو بَکْرٍ لَکَفَرْنَا فِی صَبِیحَۃٍ وَاحِدَۃٍ إذْ سَأَلُوا التَّخْفِیفَ من الزَّکَاۃِ ، فَأَبَی عَلَیْہِمْ ، وقَالَ : لَوْ مَنَعُونِی عَقَاْلاً لَجَاہَدْتُہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٥) حضرت طاؤس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : یہود و نصاریٰ تم لوگوں کو اپنے شہروں میں نہیں بسائیں گے۔ پس ان میں سے جو اسلام لایا پھر وہ مرتد ہوگیا تو تم اس کی گردن مار دو ۔
(۳۳۴۰۵) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لاَ یُسَاکِنُکُمَ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی فِی أَمْصَارِکُمْ ، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمْ ، ثُمَّ ارْتَدَّ فَلاَ تَضْرِبُوا إِلاَّ عُنُقَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٦) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے ارشاد فرمایا : قبیلہ بکر بن وائل کے کچھ افراد اسلام سے مرتد ہوگئے اور مشرکین سے جا ملے۔ پھر ان کو جنگ میں قتل کردیا گیا۔ پھر جب میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس تستر کی فتح کی خبر لے کر آیا۔ تو آپ (رض) نے فرمایا : قبیلہ بکر بن وائل کے لوگوں کا کیا معاملہ ہوا ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے آپ (رض) کے سامنے دوسری بات شروع کردی تاکہ میں آپ (رض) کو ان کے ذکر سے ہٹا دوں، لیکن آپ (رض) نے پھر پوچھا : قبیلہ بکر بن وائل کے گروہ کا کیا معاملہ ہوا ؟ میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! ان کو قتل کردیا گیا ۔ آپ (رض) نے فرمایا : اگر میں ان سے صلح کا معاملہ کرتا تو یہ بات میرے نزدیک اس سونا، چاندی سے زیادہ محبوب ہوتی جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! اگر آپ (رض) ان لوگوں کو پکڑ لیتے جو اسلام سے مرتد ہوئے اور مشرکین سے جا ملے تو ان کے قتل کے سوا کیا راستہ ہوسکتا تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : میں ان کے سامنے یہ بات پیش کرتا کہ وہ اسی دروازے میں داخل ہوجائیں جس سے وہ نکلے ہیں پس اگر وہ ایسا کرتے تو میں ان کی طرف سے یہ چیزیں قبول کرلیتا اور اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کردیتے تو میں ان کو جیلوں میں قید کردیتا۔
(۳۳۴۰۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَامِرٌ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَہُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَلَحِقُوا بِالْمُشْرِکِینَ فَقُتِلُوا فِی الْقِتَالِ ، فَلَمَّا أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِفَتْحِ تُسْتَرَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ النَّفَرُ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : قُلْتُ عَرَضْت فِی حَدِیثٍ آخَرَ لأَشْغَلَہُ عَنْ ذِکْرِہِمْ ، قَالَ : مَا فَعَلَ النَّفَرُ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَ: قُلْتُ: قُتِلُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، قَالَ: لَوْ کُنْتُ أَخَذْتہم سِلْمًا کَانَ أَحَبُّ إلَیَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ مِنْ صَفْرَائَ وَبَیْضَائَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، وَمَا کَانَ سَبِیلُہُمْ لَوْ أَخَذْتہمْ إِلاَّ الْقَتْلَ، قَوْمٌ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَلَحِقُوا بِالشِّرْکِ، قَالَ: کُنْتُ أَعْرِضُ أَنْ یَدْخُلُوا فِی الْبَابِ الَّذِی خَرَجُوا مِنْہُ، فَإِنْ فَعَلُوا قبِلْت ذَلِکَ مِنْہُمْ، وَإِنْ أَبَوْا اسْتَوْدَعْتہمَ السِّجْنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٧) حضرت عمار الدھنی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الطفیل (رض) نے ارشاد فرمایا : میں اس لشکر میں موجود تھا جس کو حضرت علی (رض) نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم پایا۔ پس ہمارے امیر نے ان کے ایک گروہ سے پوچھا : تمہارا معاملہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم عیسائی تھے اور ہم نے اسلام قبول کیا اور خود کو اسلام پر ثابت قدم رکھا۔ امیر نے کہا : تم الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے دوسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم عیسائی لوگ تھے۔ ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا لہٰذا ہم نے خود کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھا تو امیر نے کہا : تم بھی الگ ہو جاؤ۔
پھر امیر نے آخری گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھی پس ہم نے اسلام قبول کیا پھر ہم اسلام سے پھرگئے کیونکہ ہم نے اپنے دین سے افضل کوئی دین نہیں سمجھا اور ہم عیسائی ہوگئے ۔ امیر نے ان سے کہا : تم اسلام لے آؤ۔ انھوں نے انکار کردیا۔ تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیروں تو تم ان پر حملہ کردینا پس لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ پھر میں قیدی لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں آگیا۔ اور معقلہ بن ھبیرہ آیا اور اس نے ان قیدیوں کو دو لاکھ میں خرید لیا پھر وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی (رض) کے پاس آیا تو آپ (رض) نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ معقلہ اپنے دراہم لے کر واپس چلا گیا اور ان غلاموں کے پاس آیا اور ان سب کو آزاد کردیا اور حضرت معاویہ (رض) سے جا ملا۔ پھر حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا ؟ آپ (رض) نے وہ اولاد کیوں نہ لے لی ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔ پھر آپ (رض) نے ان سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔
پھر امیر نے آخری گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھی پس ہم نے اسلام قبول کیا پھر ہم اسلام سے پھرگئے کیونکہ ہم نے اپنے دین سے افضل کوئی دین نہیں سمجھا اور ہم عیسائی ہوگئے ۔ امیر نے ان سے کہا : تم اسلام لے آؤ۔ انھوں نے انکار کردیا۔ تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیروں تو تم ان پر حملہ کردینا پس لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ پھر میں قیدی لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں آگیا۔ اور معقلہ بن ھبیرہ آیا اور اس نے ان قیدیوں کو دو لاکھ میں خرید لیا پھر وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی (رض) کے پاس آیا تو آپ (رض) نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ معقلہ اپنے دراہم لے کر واپس چلا گیا اور ان غلاموں کے پاس آیا اور ان سب کو آزاد کردیا اور حضرت معاویہ (رض) سے جا ملا۔ پھر حضرت علی (رض) سے پوچھا گیا ؟ آپ (رض) نے وہ اولاد کیوں نہ لے لی ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔ پھر آپ (رض) نے ان سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔
(۳۳۴۰۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ حَیَّانَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو الطُّفَیْلِ ، قَالَ : کُنْتُ فِی الْجَیْشِ الَّذِینَ بَعَثَہُمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ إلَی بَنِی نَاجِیَۃَ ، فَانْتَہَیْنَا إلَیْہِمْ فَوَجَدْنَاہُمْ عَلَی ثَلاَثِ فِرَقٍ ، قَالَ : فَقَالَ : أَمِیرُنَا لِفِرْقَۃٍ مِنْہُمْ : مَا أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ نَصَارَی وَأَسْلَمْنَا ، فثبتنا علی إسلامنا ، قَالَ اعتزلوا ، ثم قَالَ للثانیۃ : ما أنتم ؟ قالوا نحن قوم من النصاری لم نر دینا أَفْضَلَ مِنْ دِینِنَا فثبتنا علیہ فقال اعتزلو ، ثم قَالَ لفرقۃ أخری : ما أنتم ؟ قالوا نحن قوم من النصاری فَأَبَوْا ، فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : إذَا مَسَحْت رَأْسِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشُدُّوا عَلَیْہِمْ فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبَوْا الذَّرَارِی ، فَجِئْت بِالذَّرَارِیِّ إلَی عَلِیٍّ وَجَائَ مِصْقَلَۃُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ فَاشْتَرَاہُمْ بِمِائَتَیْ أَلْفٍ فَجَائَ بِمِئَۃِ أَلْفٍ إلَی عَلِی ، فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَ ، فَانْطَلَقَ مِصْقَلَۃُ بِدَرَاہِمِہِ وَعَمَدَ إلَیْہِمْ مِصْقَلَۃُ فَأَعْتَقَہُمْ وَلَحِقَ بِمُعَاوِیَۃَ فَقِیلَ لِعَلِیٍّ : إِلاَّ تَأْخُذُ الذُّرِّیَّۃَ ، فَقَالَ : لاَ ، فَلَمْ یَعْرِضْ لَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٨) حضرت ابو علاقہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک لشکر بھیجا پس ان لوگوں نے مسلمانوں میں سے ایک آدمی پایا جو اسلام لانے کے بعد عیسائی ہوگیا ۔ تو انھوں نے اس شخص کو قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر (رض) کو اس کی خبر دی گئی آپ (رض) نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟ انھوں نے کہا : نہیں ! آپ (رض) نے فرمایا : یقیناً پھر تو میں اللہ کی طرف اس کے خون سے بری ہوں۔
(۳۳۴۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ أَبِی عُلاَقَۃَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ سَرِیَّۃً فَوَجَدُوا رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إسْلاَمِہِ فَقَتَلُوہُ ، فَأُخْبِرَ عُمَرُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ : ہَلْ دَعَوْتُمُوہُ إلَی الإِسْلاَمِ ، قَالُوا : لاَ قَالَ : فَإِنِّی أَبْرَأُ إلَی اللہِ مِنْ دَمِہِ۔
তাহকীক: