মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৩৩৪০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٠٩) حضرت ابن عبید بن ابرص (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بن ابی طالب نے ارشاد فرمایا : بیشک ایک آدمی کو لایا گیا جو نصرانی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر وہ دوبارہ نصرانی ہوگیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا : تو اس نے آپ (رض) کو بتادیا۔ پھر حضرت علی (رض) اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری۔ پھر لوگ بھی کھڑے ہوگئے اور اس کو مارنے لگے یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا۔
(۳۳۴۰۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ ابن عَبِیدِ بْنِ الأَبْرَصِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّہُ أَتَی بِرَجُلٍ کَانَ نَصْرَانِیًّا فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ تَنَصَّرَ ، فَسَأَلَہُ عُمَرُ عَنْ کَلِمَۃٍ ، فَقَالَ لَہُ ، فَقَامَ إلَیْہِ عَلِیٌّ فَرَفَسَہُ بِرِجْلِہِ ، قَالَ : فَقَامَ النَّاسُ إلَیْہِ فَضَرَبُوہُ حَتَّی قَتَلُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٠) حضرت مخارق (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بن ابی طالب نے محمد بن ابی بکر کو مصر والوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ تو انھوں نے حضرت علی (رض) سے خط لکھ کر زنادقہ کے بارے میں سوال کیا۔ جن میں سے کچھ سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے۔ اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ چیزوں کی پرستش کرتے تھے اور کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے تھے ؟ حضرت علی (رض) نے ان کو خط لکھا ار زنادقہ کے بارے میں ان کو حکم دیا کہ جو تو اسلام کا دعویٰ کرے اس کو قتل کردو، اور باقی سب کو چھوڑ دو وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔
(۳۳۴۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَ عَلِیٌّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ أَمِیرًا عَلَی مِصْرَ فَکَتَبَ إلَی عَلِیٍّ یَسْأَلُہُ عَنْ زَنَادِقَۃٍ ، مِنْہُمْ مَنْ یَعْبُدُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ، وَمِنْہُمْ مَنْ یَعْبُدُ غَیْرَ ذَلِکَ وَمِنْہُمْ مَنْ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ فَکَتَبَ إلَیْہِ وَأَمَرَہُ فِی الزَّنَادِقَۃِ أَنْ یَقْتُلَ مَنْ کَانَ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ ، وَیَتْرُکَ سَائِرَہُمْ یَعْبُدُونَ مَا شَاؤُوا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١١) حضرت حارثہ بن مضرب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نکلا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر وہ بنو حنیف قبیلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا۔ اور اس میں نماز ادا کی۔ تو ان لوگوں کے امام نے مسیلمہ کذاب کے کلام کی تلاوت کی ! یہ شخص حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں آیا اور آپ (رض) کو اس بات کی خبر دی۔ آپ (رض) نے قاصد بھیج کر ان لوگوں کو بلایا۔ ان سب لوگوں کو لایا گیا ۔ پھر آپ (رض) نے ان سب سے توبہ کروائی۔ ان سب نے توبہ کرلی سوائے عبداللہ بن نوَّاحہ کے۔ آپ (رض) نے اس سے فرمایا : اے عبداللہ ! اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ “ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے۔ اے خَرَشہ ! اٹھو اور اس کی گردن مار دو ۔ پس خرشہ اٹھے اور انھوں نے اس کی گردن مار دی۔
(۳۳۴۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ یَطْرُقُ فَرَسًا لَہُ فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِی حَنِیفَۃَ فَصَلَّی فِیہِ فَقَرَأَ لَہُمْ إمَامُہُمْ بِکَلاَمِ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ ، فَأَتَی ابْنُ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَہُ فَبَعَثَ إلَیْہِمْ فَجَائَ بِہِمْ ، فَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابُوا إِلاَّ عَبْدَ اللہِ ابْنَ النَّوَّاحَۃِ فَأَنَّہُ قَالَ لَہُ : یَا عَبْدَ اللہِ لولا أَنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : لَوْلاَ أَنَّکَ رَسُولٌ لَضَرَبْت عُنُقَک ، فَأَمَّا الْیَوْمَ فَلَسْت بِرَسُولٍ ، یَا خَرَشَۃُ قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ فَقَامَ فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ (ابوداؤد ۲۷۵۶۔ احمد ۳۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٢) حضرت قیس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بیشک میں بنو حنیفہ قبیلہ والوں کی مسجد کے قریب سے گزرا۔ تو میں نے ان کے امام کو سنا کہ اس نے اس قرآن میں تلاوت کی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا۔ پھر میں نے اس کو سنا کہ وہ یہ کلمات پڑھ رہا ہے : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا ! ! ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ان کی طرف قاصد بھیجا۔ پھر ان لوگوں کو لایا گیا۔ ایک سو ستر آدمی مسیلمہ کے دین پر تھے۔ اور ان کا امام عبداللہ بن النواحہ تھا۔ آپ (رض) نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ پھر آپ (رض) نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہم ان کو قتل کر کے شیطان کو خوش نہیں کریں گے۔ ان سب لوگوں کو شام کی طرف لے جاؤ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کو طاعون کے ذریعے ختم فرما دیں۔
(۳۳۴۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إلَی ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: إنِّی مَرَرْت بِمَسْجِدِ بَنِی حَنِیفَۃَ فَسَمِعْت إمَامَہُمْ یَقْرَأُ بِقِرَائَۃٍ مَا أَنْزَلَہَا اللَّہُ عَلَی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتہ یَقُولُ : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا قَالَ : فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللہِ فَأَتَی بِہِمْ سَبْعِینَ وَمِئَۃَ رَجُلٍ عَلَی دِینِ مُسَیْلِمَۃَ إمَامُہُمْ عبْدُ اللہِ ابْنِ النَّوَّاحَۃِ ، فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ، ثُمَّ نَظَرَ إلَی بَقِیَّتِہِمْ ، فَقَالَ : مَا نَحْنُ بِمُجْزِرِی الشَّیْطَانِ ہَؤُلاَئِ ، سَائِرُ الْقَوْمِ رَحِّلُوہُمْ إلَی الشَّامِ لَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یفنیہم بِالطَّاعُونِ۔ (عبدالرزاق ۱۸۷۰۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٣) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا کہ یقیناً ایک آدمی نے ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرلیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے اس کے جواب میں خط لکھ کر فرمایا : اس سے توبہ طلب کرو پس اگر وہ اس سے توبہ کرلے تو اس کی طرف سے توبہ قبول کرلو، ورنہ اس کی گردن مار دو ۔
(۳۳۴۱۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : کَتَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلاً تَبَدَّلَ بِالْکُفْرِ بَعْدَ الإِیمَانِ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ عُمَرُ : اسْتَتِبْہُ ، فَإِنْ تَابَ فَاقْبَلْ مِنْہُ ، وَإِلاَّ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٤) حضرت عبید العامری (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ تھے جو روزینہ اور عطیات لیتے تھے۔ اور لوگوں کے ساتھ تو نماز پڑھتے اور پوشیدگی میں بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا۔ تو آپ (رض) نے ان کے مسجد میں یا قید خانہ میں ڈال دیا۔ پھر فرمایا : اے لوگو ! تمہاری کیا رائے ہے اس قوم کے بارے میں جو تمہارے ساتھ روزینہ اور عطیات لیتے ہیں اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : ان کو قتل کردیا جائے۔ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! لیکن میں ان کے ساتھ وہ معاملہ کروں گا جو انھوں نے ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا۔ پھر آپ (رض) نے ان کو آگ میں جلا ڈالا۔
(۳۳۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَیْدٍ الْعَامِرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ أُنَاسٌ یَأْخُذُونَ الْعَطَائَ وَالرِّزْقَ وَیُصَلُّونَ مَعَ النَّاسِ ، وَکَانُوا یَعْبُدُونَ الأَصْنَامَ فِی السِّرِ ، فَأَتَی بِہِمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَوَضَعَہُمْ فِی الْمَسْجِدِ ، أَوَ قَالَ فِی السِّجْنِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، مَا تَرَوْنَ فِی قَوْمٍ کَانُوا یَأْخُذُونَ مَعَکُمَ الْعَطَائَ وَالرِّزْقَ وَیَعْبُدُونَ ہَذِہِ الأَصْنَامَ ؟ قَالَ النَّاسُ : اقْتُلْہُمْ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ أَصْنَعُ بِہِمْ کَمَا صَنَعُوا بِأَبِینَا إبْرَاہِیمَ ، فَحَرَّقَہُمْ بِالنَّارِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٥) حضرت عبید اللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رض) نے ان لوگوں کے بارے میں خط لکھا جو عیسائی تھے پھر وہ مرتد ہوگئے تو آپ (رض) نے لکھا : ان سے توبہ طلب کرو۔ پس اگر توبہ کریں تو ٹھیک ورنہ ان کو قتل کردو۔
(۳۳۴۱۵) حَدَّثَنَا الْبَکْرَاوِیُّ ، عَنْ عُبیدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی قَوْمٍ نَصَارَی ارْتَدُّوا فَکَتَبَ أَنَ اسْتَتِیبُوہُمْ ، فَإِنْ تَابُوا وَإِلاَّ فَاقْتُلُوہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٦) حضرت مغیرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (رض) نے مرتد کے بارے میں ارشاد فرمایا : اس سے توبہ طلب کی جائے گی۔ پس اگر وہ توبہ کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔
(۳۳۴۱۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ فِی الْمُرْتَدِّ یُسْتَتَابُ ، فَإِنْ تَابَ تُرِکَ وَإِنْ أَبِی قُتِلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٧) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن دینار نے میرے سامنے اس شخص کے بارے میں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرلے حضرت عبید بن عمیر (رض) کا قول نقل فرمایا : کہ اس شخص کو قتل کردیا جائے گا۔
(۳۳۴۱۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَکْفُرَ بَعْدَ إیمَانِہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ : یُقْتَلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٨) حضرت ابن جریج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عطائ (رض) نے اس شخص کے بارے میں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرے یوں ارشاد فرمایا : اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی پس اگر وہ انکار کر دے تو اس شخص کو قتل کردیا جائے گا۔
(۳۳۴۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَائٌ فِی الإِنْسَاْن یَکْفُرُ بَعْدَ إیمَانِہِ : یُدْعَی إلَی الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ أَبَی قُتِلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤١٩) حضرت ابو بردہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور معاذ بن جبل (رض) کو یمن کی طرف بھیجا۔ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت معاذ (رض) میرے پاس آئے اس حال میں کہ میرے پاس ایک یہودی تھا جو مسلمان ہوا تھا پھر اسلام سے یہودیت کی طرف واپس لوٹ گیا۔ اس پر آپ (رض) نے فرمایا : میں ہرگز تمہارے ہاں نہیں اتروں گا یہاں تک کہ تم اس کی گردن مارو۔

حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت قتادہ (رض) نے مجھے بیان کیا کہ حضرت ابو موسیٰ نے اس یہودی کو چالیس دن تک دعوت دی تھی۔
(۳۳۴۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذٌ إلَی الْیَمَنِ ، قَالَ : فَأَتَانِی ذات یَوْمٍ ، وَعِنْدِی یَہُودِیٌّ قَدْ کَانَ مُسْلِمًا فَرَجَعَ عَنِ الإِسْلاَمِ إلَی الْیَہُودِیَّۃِ ، فَقَالَ : لاَ أَنْزِلُ حَتَّی تَضْرِبَ عُنُقَہُ قَالَ حَجَّاجٌ : وَحَدَّثَنِی قَتَادَۃُ أَنَّ أَبَا مُوسَی قَدْ کَانَ دَعَاہُ أَرْبَعِینَ یَوْمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٢٠) حضرت محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو آخری خطبہ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں ارشاد فرمایا : بیشک اس بستی میں یعنی مدینہ منورہ میں دو ملتیں نہیں رہ سکتیں۔ پس جو کوئی نصرانی اسلام قبول کرلے پھر وہ دوبارہ نصرانی بن جائے تو تم اس کی گردن مار دو ۔
(۳۳۴۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ شَیْبَانَ النَّحْوِیِّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِی آخِرِ خُطْبَۃٍ خَطَبَہَا : إنَّ ہَذِہِ الْقَرْیَۃَ ، یَعْنِی الْمَدِینَۃَ لاَ یَصْلُحُ فِیہَا مِلَّتَانِ ، فَأَیُّمَا نَصْرَانِیٌّ أَسْلَمَ ، ثُمَّ تَنَصَّرَ فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٢١) حضرت عمرو بن قیس (رض) اس شخص سے نقل فرماتے ہیں جس نے حضرت ابراہیم (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : مرتد سے توبہ طلب کی جائے گی جب بھی وہ ارتداد کرے۔
(۳۳۴۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ عَمَّنْ سَمِعَ إبْرَاہِیمَ یَقُولُ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ کُلَّمَا ارْتَدَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٢٢) حضرت مطرف (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت حکم (رض) نے ارشاد فرمایا : مرتد سے توبہ طلب کی جائے گی جب بھی وہ ارتداد کرے۔
(۳۳۴۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، قَالَ: حدَّثَنَا بَعْضِ أَصْحَابِنَا، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الحکم قَالَ: یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ کُلَّمَا ارْتَدَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
(٣٣٤٢٣) حضرت عبید اللہ ابن عتبہ (رض) فرماتے ہیں کہ بنو حنیفہ قبیلہ کے کچھ لوگ جو مسیلمہ کذاب کے ساتھ تھے وہ اس کی باتوں کو ظاہر کرتے تھے اور ان کی تلاوت کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے ان کو پکڑ لیا پھر ان کے بارے میں حضرت عثمان (رض) کو خط لکھ کر اطلاع دی۔ حضرت عثمان (رض) نے خط لکھ کر جواب دیا کہ ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دو ، پس ان میں سے جو تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقیناً محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ اور کفر کو چھوڑ کر ایمان کو اختیار کرلے تو تم ان سے ایمان کو قبول کرلو اور ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ اور اگر وہ انکار کردیں تو تم ان کی گردنیں مار دو ، پس حضرت ابن مسعود (رض) نے ان سے توبہ طلب کی۔ ان میں سے بعض نے توبہ کرلی اور بعض نے انکار کردیا ۔ تو آپ (رض) نے انکار کرنے والوں کی گردنیں اڑا دیں۔
(۳۳۴۲۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ابْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : کَانَ نَاسٌ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ مِمَّنْ کَانَ مَعَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ یُفْشُونَ أَحَادِیثَہُ وَیَتْلُونَہُ فَأَخَذَہُمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فکتب ابن مسعود إلَی عُثْمَانَ فَکَتَبَ إلَیْہِ عُثْمَان أَنَ ادْعُہُمْ إلَی الإِسْلاَمِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْہُمْ أَنْ لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاخْتَارَ الإِیمَانَ عَلَی الْکُفْرِ فَاقْبَلْ ذَلِکَ مِنْہُمْ وَخَلِّ سَبِیلَہُمْ ، فَإِنْ أَبَوْا فَاضْرِبْ أَعْنَاقَہُمْ، فَاسْتَتَابَہُمْ، فَتَابَ بَعْضُہُمْ وَأَبَی بَعْضُہُمْ، فَضَرَبَ أَعْنَاقَ الَّذِینَ أَبَوْا۔ (عبدالرزاق ۱۸۷۰۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مرتد کے بارے میں کہا : کہ کتنی مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی
(٣٣٤٢٤) حضرت عبد الرحمن (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس تستر کی فتح کی خبر لائی گئی ۔۔۔ تستر یہ بصرہ کا ایک علاقہ ہے ۔۔۔ آپ (رض) نے ان لوگوں سے پوچھا : دور دراز کی کیا خبر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مسلمانوں کا ایک آدمی تھا۔ جو مشرکین سے جا ملا۔ ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ آپ (رض) نے پوچھا : کہ تم نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم نے اس کو قتل کردیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تم نے اسے کسی گھر میں داخل کیوں نہ کیا اور پھر تم اس پر دروازہ بند کردیتے یعنی اس کو قید کردیتے اور تم اسے روزانہ تھوڑا سا کھانا دیتے پھر تین مرتبہ اس سے توبہ طلب کرتے پھر اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک ورنہ تم اسے قتل کردیتے ؟ ! پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے اللہ ! میں نہ ان پر گواہ ہوں اور نہ میں نے ان کو حکم دیا اور جب مجھے اس بات کی خبر ملی تو میں اس پر خوش نہ ہوا۔
(۳۳۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ :لَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ فَتْحُ تُسْتَرَ وَتُسْتَرُ مِنْ أَرْضِ الْبَصْرَۃِ سَأَلَہُمْ : ہَلْ مِنْ مُغَرِّبَۃٍ ، قَالُوا : رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ فَأَخَذْنَاہُ ، قَالَ : مَا صَنَعْتُمْ بِہِ ، قَالُوا : قَتَلْنَاہُ ، قَالَ : أَفَلاَ أَدْخَلْتُمُوہُ بَیْتًا وَأَغْلَقْتُمْ عَلَیْہِ بَابًا وَأَطْعَمْتُمُوہُ کُلَّ یَوْمٍ رَغِیفًا ، ثُمَّ اسْتَتَبْتُمُوہُ ثَلاَثًا فَإِنْ تَابَ وَإِلاَّ قَتَلْتُمُوہُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ لَمْ أَشْہَدْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إذَا بَلَغَنِی ، أَوَ قَالَ : حِینَ بَلَغَنِی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مرتد کے بارے میں کہا : کہ کتنی مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی
(٣٣٤٢٥) حضرت سلیمان بن موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : مرتد سے تین مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی۔
(۳۳۴۲۵) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلاَثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مرتد کے بارے میں کہا : کہ کتنی مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی
(٣٣٤٢٦) حضرت حیان (رض) فرماتے ہیں کہ امام زہری (رض) نے ارشاد فرمایا : مرتد کو تین بار اسلام کی طرف بلایا جائے گا پس اگر وہ انکار کر دے تو اس کی گردن مار دی جائے گی۔
(۳۳۴۲۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ حَیَّانَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : یُدْعَی إلَی الإِسْلاَمِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، فَإِنْ أَبَی ضُرِبَتْ ، عنُقُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مرتد کے بارے میں کہا : کہ کتنی مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی
(٣٣٤٢٧) حضرت عامر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : مرتد سے تین مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی۔
(۳۳۴۲۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلاَثًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں نے مرتد کے بارے میں کہا : کہ کتنی مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی
(٣٣٤٢٨) امام شعبی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : مرتد سے تین مرتبہ توبہ طلب کی جائے گی ۔ پس اگر وہ دوبارہ ایسا کرے گا تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔
(۳۳۴۲۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلاَثًا ، فَإِنْ عَادَ قُتِلَ۔
tahqiq

তাহকীক: